آج کا کالم

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو، گر توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

ڈاکٹر سلیم خان

دارالعلوم دیوبند کے ایک بیان میں کہا گیا  کہ طلاق لاء اور یکساں سول کوڈ عدالت میں زیر غور اور حکومت کا ہدف ہیں اس کے باوجود منفی ایجنڈا کے حامل ٹیلیویژن چینلس کنفیوژن کا ماحول بناکر امت کو بدنام کررہے ہیں ۔ اس لیےعلماء ومشائخ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان مباحث میں شرکت نہ کریں  جو مسلمانوں کے ان مسائل سے متعلق ہوں ۔ان  کا واحد مقصد شریعت میں مداخلت ہے۔  ان مباحث میں جید علماء کو نہیں شریک کیا جاتااس لیےدیگر لوگوں کو  اس سے دور رہنا چاہیے کیونکہ اس کے نتیجے میں شریعت کی غلط تشریح اور امت کی بدنامی ہوتی ہے۔ فی زمانہ ذرائع ابلاغ میں شریعت کے نام پر جو طوفان بدتمیزی برپا ہے اس کے تناظر میں یہ ایک عارضی حل تو ہوسکتا ہے لیکن اس طرح کے مسائل کا مستقل سدباب نہیں ہے۔ اس حدتک تویہ بات درست ہے کہ اگر کسی گاڑی کے ڈرائیور کو ہوائی جہاز چلانے کی دعوت دی جائے تو اسے معذرت کرلینی چاہیے اس لیے کہ اس کا ایسا کرنا خود اسکی ذات، دیگر مسافروں ،  راہگیروں اور جہاز کے حق میں مضر ہے مگراس تیز رفتار سواری مکمل مقاطعہ خودکشی ہے۔ اس  میدان میں مہارت حاصل کرکے فتح  درج کرانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ذرائع ابلاغ کی حیثیت تلوار کی سی ہے بقول نوجوان شاعر  ابوعبیدہ اعظمی ؎

قلم میں ہاتھ میں تلوار کی ضرورت کیا

 پڑھے لکھے ہیں سلیقے سے قتل کرتے ہیں

اس  تلوارکے استعمال میں اگر ملت مہارت حاصل کرلے تو وہ بھی بڑے سلیقے سے باطل افکار و نظریات کی دھجیاں اڑا سکتی ہے۔اپنی کمزوری کو دور کرنے کے بجائے   اس عظیم نعمت سے راہِ فرار اسلام اور مسلمانوں  کے حق میں زہر ہلاہل سے کم نہیں ہیں ۔ اگر ہم نے کنارہ کشی اختیار کرلی تو میڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کرے گا کہ ہم لوگ خوف کے مارے میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں ۔ اسی کے ساتھ اس کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلط فہمی پھیلانےکی کھلی چھوٹ مل جائیگی۔ اس  کام کو نحسن و خوبی کرنے کے لیے تیاری شرط اول  ہے اور اہم  ضرورت مخالفین کے ذہن کو سمجھنا۔ ان کے متوقع اعتراضات  کی بھرپور تیاری کرکے مباحثوں میں حصہ لینا لازم ہے۔ اس بابت علم و فضل، زبان و بیان اور حاضر جوابی کی بھی اہمیت ہے لیکن وہ یکایک نہیں آئیگی ۔ یہ اوصاف  تجربہ ،تربیت ، محنت وریاضت سے پیدا ہوں گے ۔

سونو نگم سے متعلق ایک مباحثے میں شریک ہونے کا موقع ملا ۔ اس بابت جو تجربات حاصل ہوئے وہ دیگر حضرات کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتے ہیں ۔  اس مباحثے  میں غیر مسلمین کی جانب سےمندرجہ ذیل سوالات و  اعتراضات سامنے آئے:

  • کیاسونونگم واقعی پریشان ہے یا محض  تشہیر کی خاطر یہ کررہا  ہے؟
  • مسجدوں کی اذان اورمندروں کی گھنٹیوں کی آواز   سے عوام کو زحمت کیوں دی جاتی ہے؟
  • جدید ذرائع وسائل کی روشنی میں نماز کی خاطر بلانے کے لیے موبائل کا استعمال کیوں نہیں کیا جاتا؟
  • سپریم کورٹ کے قانون کی عمل بجاآوری پر عملدرآمد میں مسلمانوں کی دہشت گردی کیسے مانع ہوتی ہے؟
  • ہندوسماج اصلاح پذیر ہے جبکہ مسلمان معاشرہ اڑیل ہے؟

اس بابت پہلا سوال ازخود ہمیں اپنا موقف ظاہر کرنے کا موقع دیتا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سونونگم چونکہ شہرت سے محروم ہوگیا ہے اس لیے اس نے اپنے ویڈیو کی فروخت بڑھانے کے لیے یہ شوشہ چھوڑا ہے۔سونونگم کی بلند عمارت کے ائیرکنڈیشنڈ کمرے میں  اذان کی آواز کا جانا ممکن نہیں ہے بلکہ جن لوگوں کو اذان سننا ہوانہیں  کھڑکی کھلی رکھنی پڑتی ہے  ۔ آواز  بھی ہوا ،پانی ، زمین کی طرح ایک  ماحولیاتی آلودگی ضرور ہے لیکن اپنی ضرر رسانی کے اعتبار سے کمترین درجہ پر  ہے لیکن اگر سونونگم یا اس جیسا کوئی شخص ہوایا پانی کی آلودگی پر صدائے احتجاج بلند کرے تو نہ ذرائع ابلاغ اس کی جانب متوجہ ہوگا اور ہندو جاگرن منچ کے لوگ اس کی حمایت میں آئیں گے اس لیے وہ سب سے کم اہم شئے کو اچھال کر ہیجان پیدا کرتاہے۔ذرائع ابلاغ ایک غیر اہم موضوع پرپر بحث کراکےاپنا ٹی آر پی بڑھاتا ہے اور ہندو جاگرن کے لوگ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ ویسے یہ اصولی موقف بھی رکھا جاسکتا ہے کہ اذان یا گھنٹی سے اگر اطراف کے لوگوں کو بڑے پیمانے پراعتراض  تو اسے دور کرنے کی کوشش ہونی چاہیے لیکن محض چند لوگوں کہنے پر باقی لوگوں کو ان کی ضرورت سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ سچ تو یہ کہ اذان پر  مسلمانوں تو کجا عام ہندو  عوام کو بھی اعتراض نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی بابت یہ کہا جاسکتا ہے کہ رات دس سے 6 کے درمیان 2 منٹ کی اذان ضرور ہوتی ہے لیکن ہوائی جہاز، ریل گاڑی اور موٹر گاڑیوں کا شورشب بھر جاری رہتا ہے ۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے بہانے ریل ،جہاز اور ٹرافک کو تو روکا نہیں جاسکتا۔  یوروپ کے کئی  ایسے شہروں میں جہاں ہوائی اڈے شہر کے اندرہیں رات دس بجے کے بعد ہوائی جہاز نہیں اڑتے مگر ممبئی جیسے شہر کے ہوائی اڈے دن میں ویران اور رات میں مصروف رہتے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے چند مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں مثلاً بابری مسجد کی شہادت کے وقت حلف نامہ داخل کرنے کے باوجود خود صوبائی حکومت سے کوتاہی سرزد ہوئی۔ ستلج جمنا نہر کے معاملے میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی نے اسے ماننے سے صاف انکار کردیا۔ ان دونوں حکومتوں میں بی جے پی شامل تھی۔جلی کٹو کے تہوار کو لے کر تمل ناڈو کے لوگ سپریم کورٹ کے خلاف میدان میں اتر آئے اور حکومت کو ان کے آگے جھکنا پڑا۔آدھار کارڈ کو سپریم کورٹ کے منع کرنے کے باوجود مرکزی حکومت نے لازم قرار دے دیا۔  اس طرح مسلمانوں کو قانون شکن بناکر پیش کرنے کی کوشش کو بہ آسانی ناکام کیا جاسکتا ہے۔

ہندو سماج کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ اپنی غلطی کو تسلیم کرکے اصلاح کرلیتا ہے ایک کھوکھلا دعویٰ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے رہنما پاکھنڈی ہیں ۔ وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کراتے کچھ اور ہیں۔ مسلمانوں سے یہ نہیں ہوتا۔ ممبئی میں گوکل اشٹمی کے موقع عدالت کی پابندی پروزیراعلیٰ نے کہا کسی کو قانون توڑنے کی اجازت نہیں دی جائیگی لیکن کھلے عام پامالی ہوئی  ۔ دکھانے کے لیے جو گرفتاریاں تو ہوئیں مگر سارے ملزم  چھوڑ دیئے گئے کسی کو سزا نہیں ہوئی۔  ہندو سماج  پہلے گنیش کے وسرجن میں ڈھول تاشے بجاتاتھا جس کا شور موجودہ  ڈولبی میوزک پر بجنے والے پاپ بھجن سے بہت کم ہوتا تھا اس لیے شور کے معاملے میں  اصلاح  کے بجائے انحطاط ہوا ہے۔ نئے وسائل کے استعمال کا مشورہ دینے والوں  سے پوچھا جاسکتا ہے  کہ اگر گنیش وسرجن کے جلوس میں شریک جم غفیر کو ائیرفون دے دیا جائے اور وہ موبائل کے ایف ایم پر بھجن کیرتن سن لیں تاکہ آواز کی آلودگی کے عدالتی حکمنامہ پر عملدرآمد ہو تو کیااسے بجا طور پر ایک غیر عملی تجویز کر  مستردنہیں  کیا جائیگا؟ اس طرح کی مثالوں سے  اپنا موقف رکھا جاسکتا ہے۔

ہندو جاگرن کے لوگ ہندو عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کو پولس کی دشمن دہشت گرد قوم بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ اس لیے اگر ناظرین کو دادری سے لے کر الور تک کے واقعات یاد دلاکر بتایا جائے کہ مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت کا شکار ہیں نیز زعفرانی دہشت گردی کا شکار روہت ویمولا اور کنہیاکمار جیسے ہندو لوگ بھی ہیں ۔ ہندو وں نے ڈومبیولی میں مورتی کے بجائے پولس کو غرقاب کرنے کی کوشش کی تھی۔ نکسلوادی حملوں میں حفاظتی دستوں کے قاتل مسلمان نہیں  بلکہ ہندو سماج کے لوگ ہیں تو ہندو احیاء پرستوں کی بولتی بند ہوسکتی ہے ۔ یہ کام آسان نہیں مگر ناممکن بھی نہیں ہے۔ اگر ہمیں اعتراضات کا اندازہ ہو، اس پر خاطر خواہ  تیاری کرکےٹھنڈے لب و لہجے میں سلیقے سے بات رکھی جائے تو کامیابی قدم چوم سکتی ہے  ورنہ  بقول عباس تابش ؎

بس نہیں چلتا زمانے  پہ اگر،بال ہیں سر پر انہیں نوچا کریں

ڈھونڈتے تو ہم بھی ہیں راہِ فرار،سوچتے تو ہم بھی ہیں اب کیا کریں

اس دنیا میں مسلمان صرف ایک مسابق قوم  نہیں بلکہ داعی امت بھی ہے اس لیے صرف الزام تراشی سے ہمارا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ عام طور پر ہم اپنے اوپر لگنے والے الزام کے جواب میں حریف کے عیوب و نقائص گنانے لگتے ہیں ۔ اس سے وہ خاموش تو ہوجاتا ہے مطمئن نہیں ہوتا اور اسلام کے متعلق مزید نقائص کی کھوج بین میں جٹ جاتا ہے تاکہ اپنی رسوائی کا انتقام لے سکے۔ ناظرین سوچتے ہیں دونوں میں خرابیاں ہیں ایک میں کم دوسرے میں زیادہ۔ اس کے برعکس اگر ہم جوابی  الزام کے بجائے یہ سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں کہ  اسلام کامذکورہ  پہلو  زحمت نہیں بلکہ رحمت ہے۔ دین کے محاسن اگرناظرین  پر ظاہر ہوجائیں تو ان کے اور اسلام کے درمیان کی دوری کم ہوسکتی ہے اوروہ اسلام سے قریب آسکتے ہیں ۔ اس لیے ضرورت راہِ فرار اختیار کے بجائے ذرائع ابلاغ  کا بھرپور استعمال کرنے کی ہے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close