آج کا کالم

کہانی اپنے ہندوستان کی: قسط (12) – مظلوم بہشت

برفانی چوٹیوں سے گھرا ہوا،دولاکھ بائیس ہزار دوسو چھتیس مربع کلومیٹر پرمحیط وادیِ گل پوش ’’کشمیر‘‘خدائی دست کاری کابہترین مظہر ہے ، جس کو’ بہشتِ ارضی‘بھی کہا جاتا ہے؛ہر طرف سرسبز باغات، لہلہاتے پیڑ پودے،قوسِ قزح کے ہفت رنگوں میں رنگا رنگ پھولوں کی نکہت وعطر بیزی،تو عشوہ گر نازنین کی طرح دریاؤں کا خرامِ ناز، وادیوں اور جھیلوں کی کھلکھلاتی کلکاریاں ، سیب، آخروٹ اورچنارجیسے خوبصورت درختوں کی زیبائی ورعنائی، اونچے اونچے پہاڑاور برفانی چوٹیاں،اس کے اوپر مختلف خیالی جسم و ہیولیٰ کے ساتھ رقصاں بادل ، تو نشیب میں صاف وشفاف آبشار اور جھرنیں دم بہ دم کیا ہی دلکش نظارہ پیش کرتے ہیں، ہر دور میں بے شمار قلم کار اور مصنفوں نے اس وادیِ گل کو اپنے قلم کی جولان گاہ بنایااور اس کے فطری حسن کا ادیبانہ دلکش نقشہ کھینچا ہے ، تاہم ہر قصیدہ خواں ایک جگہ قلم روکنے پر مجبور ہواکہ اس کاحسن تو انسانی تصورات وخیالات سے فزوں تر ہے۔ انیسویں صدی کے وسَط میں کشمیر کااطلاق جبلِ ہمالیہ اور جبلِ بیر بنجال کے درمیان واقع صرف وادی پر ہوتاتھا، مگر آج وہ تین ممالک؛ ہندوستان، پاکستان اور چین کے درمیان منقسم حصوں کے لیے بولا جاتا ہے، ان میں سے 101385مربع کلومیٹر ہندوستان کے قبضے میں ہے، جبکہ پاکستانی کشمیر کا رقبہ78114مربع کلومیٹر ہے اور چین کے زیرِ نگرانی کشمیر کا رقبہ 42735مربع کلومیٹر ہے۔ہندوستانی کشمیر کی آبادی تقریباً13,991,468 کروڑ ہے، جن میں وادی کشمیر کی آبادی چار ملین ہے،جس میں مسلمان95.6 فیصدہیں اورتقریباً چار فیصدغیر مسلم ہیں، جبکہ جمو کی آبادی تین ملین ہے ،جس میں70 فیصد غیر مسلم ہیں جبکہ مسلمان صرف تیس فیصد ہیں اور چین سے ملحق لداخ کی آبادی دولاکھ پچاس ہزار ہے، جن میں پچاس فیصدبودھسٹ اور46 فیصد مسلمان اورسناتنی کے علاوہ غیر مسلم کی آبادی چار فیصد ہے ، پاکستانی کشمیر کی آبادی 2.6 ملین ہے ،جن میں مسلمان تقریباً سو فیصد ہیں ، البتہ مجموعی اعتبار سے جمو و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔
کشمیرکی تاریخ چارہزار سال قبل مسیح پرانی ہے ،مگر یہ اس کی ستم ظریفی رہی ہے کے تاریخ نے ہردور میں یہاں قتل وخون کی ہی داستان رقم کی ہے،ظہورِ اسلام سے قبل اس پر کمبوجاز اور بودھ مذہب کی بالادستی قائم تھی ،تقریباً ساتویں صدی میں مسلمان حکمرانوں کی اس پر نظر پڑی، مگر 1339 میں میر شاہ کی شکل میں ان کا وہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوا، اس کے بعد 1819 تک مسلم حکمراں بشمول افغان و مغل نے یہاں حکومت کی ، مگر 1820 کے اوائل میں رنجیت سنگھ کی قیادت میں سکھوں نے کشمیر پر قبضہ کرلیا اور پھر 27 سال تک مسلسل دس سکھ گورنروں نے کشمیر میں قتل وغارت گری مچائی ،مگر 1846 میں جب انگریزوں نے امرتسر میں سکھوں کو شکست دیا اور راجہ رنجیت سنگھ کی موت کی وجہ سے اس کا قصر سلطنت متزلزل ہونے لگا، تب اس کا ایک ملازم گلاب سنگھ ڈوگرہ نے اس کی حکومت کوسہارا دیا اور اسی نے انگریزوں کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کرکے ایک معمولی عوض کے بدلے کشمیر اور کشمیری عوام کا سوداکیااور ’مان نہ مان میں تیرا مہمان‘ کشمیر کا حکمراں بن گیا، اس کے بعد ڈوگرائی خاندان نے کشمیر میں شب خوں مارنا شروع کردیا اور انہوں نے کشمیری مسلمانوں کے خلاف جس انسانیت سوزی کا مظاہر کیا ہے ، اس کو لکھتے لکھتے خود تاریخ کی آنکھیں بھی نم ہوجاتی ہیں،مگر ان کشمیریوں کی حالتِ زار کی کہانی ابھی بھی ختم نہیں ہوئی، 1947 میں ہمارا ملک انگریزوں کی چیرہ دستیوں سے آزاد توہوگیا، مگر کشمیری عوام ہنوز غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور رہی؛آزادی کے بعد بد قسمتی سے تقسیم ہند کا واقعہ پیش آیا، تواب 650 رجواڑے کا مسئلہ ہر ایک کے لیے درد سر بن گیاکہ کون کس ملک میں جائے ،البتہ قانونی طور پر ہر صوبے اور رجواڑے کو یہ حق دیا گیا کہ وہ چاہیں تو غیر جانب دار رہیں، یا پھرہندوستان وپاکستان میں سے کسی ملک کے تابع ہوجائیں ، اس وقت کشمیر کا راجہ گلاب سنگھ کا بھتیجا ہری سنگھ تھا ، کئی حکمرانوں کی طرح یہ بھی غیر جانب دار رہنا چاہتا تھا ، مگر جب کشمیری حریت پسندوں نے اس کے خلاف اپنی آزادی کا مطالبہ کیا ،تو اس نے اپنی مدد کے لیے ہندوستان کو پکارا، یہاں اس نے بھی اپنے چچا کے طریقۂ کار پرعمل کرتے ہوئے کشمیر اور اس کی عوام کو ہندوستان کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا اور یہ پاکستان کو کب گوارا تھا،وہ جیتی بازی ہاررہا تھا اورپھر یہی ہندوستان اور پاکستان کے لیے ایک متنازع قضیۂ لاینحل بن گیا ، جس کی وجہ سے ان دونوں ملکوں کے درمیان1947-48 اور 1965 میں دو مشہور جنگیں ہوئیں ،گرچہ 1948 میں ہندوستان کی پشت پناہی میں شیخ عبداللہ کشمیر کا ہنگامی وزیرِ آعظم بھی بنے ، مگریہ وہ لٹو ثابت ہوئے جس کی ڈور ہندوستان کے ہاتھ میں تھی،ہمارا ملک ہندوستان بھی کشمیر کو نعمتِ غیر مترقبہ سمجھ کر اس کو کسی بھی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا تھا، خواہ اس کے لیے اسے کتنی ہی سفاکیت کو انجام کیوں نہ دینا پڑے ، تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان نے خواہ مخواہ پاکستانی اور دیش دروہی کے نام پر بے شمار کشمیری نوجوانوں کو تہِ تیغ کیا، عورتوں کو بے آبرو کیا اور بچوں کو گولیاں کا نشانہ بنایا ،کشمیریوں کی ستم ظریفی کا غلام نبی خیال نے اپنے ایک تحقیقی مضمون ’’ اقبال اور تحریکِ آزادیِ کشمیر ‘‘ میں اس طرح رونا رویا ہے :’’ کشمیر کی حسین وادی پر جب بھی کسی کی نظر پڑی، اس میں ملک گیری کی ہوس اور حرص زیادہ کارفرما رہی ہے ، اس طرح سے یہ ہمیشہ جارحوں، غاصبوں، لٹیروں اور ملک گیروں کے ہتھے چڑھتا رہا اور اس کا فطری حسن اور سادہ لوح مکینوں کی روح کو بیرونی غاصب صدیوں سے اپنے پاؤں تلے روندتے رہے ہیں،بلکہ یہ اس کی ستم ظریفی کہیے کہ اس ملک کی تاریخ ہر موڑ پر مسلح افواج کے ہاتھوں بہتے ہوئے انسانی خون سے رقم ہوئی ہے‘‘۔
یہ لاریب حقیقت ہے کہ ہندوستان اور پاکستان مسئلہ کشمیر کو لے کر کبھی سنجید ہ نہیں ہوئے، حق تو یہ تھا کہ یہ دونوں ممالک صدیوں سے لگے کشمیریوں کے زخم کو حمیت وخیرخواہی کے آنسو سے صاف کرتے ، مگر نہیں، اپنی انا کی چادر کو مزید دراز کرنے کے لیے ان کے زخموں کو اور گہرا کردیا،حالانکہ یونائٹیڈ نیشن نے بھی ان دونوں ملکوں کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ ان کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیاردیا جائے اور’ ریوٹر نیوز‘کے سروے سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ متحدہ کشمیر کی تقریباً 95 فیصد عوام ان دونوں ممالک سے دست بردار ہوکر آزاد رہنا چاہتی ہے، مگرچونکہ یہ ان دونوں ممالک کی ناک مسئلہ ہے،یہ ان کو کہاں قبول ہوسکتا ہے، پوری تاریخِ انسانی میں دوقوم فلسطین اورکشمیر بہت زیادہ مقہورو مظلوم رہی ہے،تاریخ ہر دور میں یہاں کے ظالم حکمرانوں کے ظلم وبربریت کے عجیب وغریب قصے بیان کرتی ہے؛اگر صرف کشمیریوں کے مظالم کا تذکرہ کیا جائے، تو ہمارے حکمرانوں کی صورت انتہائی سفاک نظر آتی ہے،چنانچہ حکومتی راز ہائے سربستہ کی گرہ کھولنے والی مشہور ویب سائٹ وکی لیکس (Wikileaks) کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (، International Committee of the Red Cross, ICRC) نے ہندوستان میں موجود امریکی حکام کو مختصراً یہ بتایا کہ ہندوستانی حکومت متاثرین کے ساتھ براسلوک اور ان کا جنسی استحصال کرتی ہے، آئی سی آر سی نے ہندوستانی حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ہم نے کل 1296 قیدیوں کا انٹرویو لیا،جن میں 681 ملزمین کوخوب زود کوب کیاگیا تھا ، جبکہ ان میں سے 304 ملزمین نے جنسی تشدد اور بد سلوکی کی شکایت کی، تو وہیں حقوقِ انسانی کے لیے آواز بلند کرنے والی مشہور تنظیم ہیومن رائٹس اور دیگر اس جیسی تنظیموں نے حکومتِ ہند پر یہ الزام لگا یا ہے کہ 1990 سے 1999 تک 4,501کشمیری کی ہلاکت کے ذمہ دار ہندوستانی مسلح افواج ہیں اوررپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ 1990 سے 1999 تک کشمیر میں سات سے ستر سال کی عمر کی تقریباً 4,242 عورتوں کی عصمت دری کا معاملہ پیش آیا، جس میں یہی فوجی اہلکار ملوث تھے،ہیومن رائٹس واچ نے ہندوستانی سیکورٹی فورسز پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ وہ کشمیری بچوں سے جاسوسی اورپیغام رسانی کا کام کرواتے ہیں ، تو وہیں نامہ نگاروں، صحافیوں اور حقوقِ انسانی کے کارکنوں کو بھی اپنے ہدف کا شکار بناتے ہیں، بلکہ بسا اوقات مقامی آبادی کو خوف زدہ کرنے کے لیے بہ یک وقت 200 سے زیادہ عورتوں کی عزت بھی لوٹ لیتے ہیں ،چنانچہ 11نومبر 2011 کو مشہور تعلیمی ادارہ ’ایشیا سوسائٹی ‘نے مسئلۂ کشمیر کو حل کرنے میں ناکام ہندوستانی حکومت کے حقائق اور واقعات پر روشنی ڈالنے کے لیے ایک پروگرام کا انعقاد کیا ، جس میں ارون دھاتی رائے، پنکج مشرا اور انتھروپولوجی کا طالب علم، محمد جنید سمیت ملک کے کئی مصنفین اور تجزیہ نگاروں نے شرکت کی ، جس کو(The Hindu American Foundation (HAF)) اخبار نے (Fiction and the Facts) کے عنوان سے شائع بھی کیا تھا، گرچہ اخبار نے ان کے بیان کا تجزیاتی جائزہ لیا ہے، تاہم ارون دھاتی رائے نے اپنے بیان میں ’کانگریشنل ریسرچ سروس‘ کے حوالہ سے کہاکہ جب 2008 میں عراق میں امریکہ نے حملہ کیا تو اس کی فوج کی تعدادتقریباً 157,800 تھی ، جبکہ صوبۂ جمو و کشمیر میں ہندوستانی فوجیوں کی تعداد 700,000 ہے،کشمیر میں ہندوستانی فوجیوں کے حوالہ سے امریکی اخبار ’ Defense News‘ اوربی بی سی نیوز کی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ کشمیر میں 350,000 فوج اور 200,000 پیرا ملیٹری فورسز ہیں ، اس کی تصدیق کثیر لسانی امریکی اخبار’ وائس آف امریکہ‘ بھی کرتا ہے :’ گرچہ ہندوستانی حکومت فوجیوں کی تعداد چھپاتی ہے تاہم ایک اندازے کے مطابق کشمیر میں تین لاکھ سے نصف ملین تک ہندوستانی فورسز تعنیات ہیں،چنانچہ ہر گلی کوچے اور ہر نکڑ میں اسلحہ بردار فوجی اہلکار کی کئی کئی ٹولیاں گشت کرتی رہتی ہیں اور پھر جہاں کوئی حرکت ہوئی دھڑا دھڑ گولیاں چلنے لگتی ہیں اور جو بھی نشانے پر آتا ہے ، یاتو موت کو گلے لگا لیتا ہے یا پھر بستر مرگ پر بے دم اپاہیج وللہا بن جاتا ہے، پھر دھرنے اور مظاہرے کا سلسلہ چلتا ہے ،اس میں ہزاروں لوگ مارے جاتے ہیں،بلکہ گشتی کے دوران بسا اوقات ہماری فوج کسی کے گھر میں گھوس جاتی ہے ، پھر کسی بچے کے ہاتھ میں بندوق تھماکر اس پر جبر کرتی ہے کہ وہ ان پر نشانہ سادھے، پھر اس کی تصویر لے کر اس کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردیتی ہے، بالکل ایسا ہی قصہ سن 2010-11کے جمعیت علمائے ہند کے قاسم پورہ جلسہ میں ایک کشمیری باپ نے اپنے بیٹے کا سنایا،ارون دھاتی کے بیان کے مطابق وہ فوجی اہلکار جو کنٹرول لائن کے پاس تعینات ہیں ، وہ کسی قانون وضابطہ کے پابند نہیں ہوتے اور یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص قانون کا پابند نہیں ہوگا، تو پھر اس کے لیے کسی کی زندگی اور عزت کوئی معنی نہیں رکھتی اور یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ کوئی کسی کی ماں، بہن اور بیٹی کے گوہرِ عصمت کو تار تار کرے اور وہ خاموشی سے تماشہ دیکھتا رہ جائے،آج جو کوئی کشمیری نوجوان جذباتیت کے شکار ہیں، اس کے پیچھے دراصل یہی حقیقت پوشیدہ ہے،کیونکہ ہم نے ہی انہیں جذباتی بننے پر اکسایاہے، آج کنان پھوسپورہ گاؤں کا نوجوان پولیس کے خلاف لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے پرکیوں فخر محسوس کرتا ہے، کیا کبھی ہم نے اس کے پس پردہ جھانکنے کی جرأت کی ہے، کہ23-24 فروری 1991 کی رات اس گاؤں والوں کے لیے کس قدر بھیانک خواب لے کر وارد ہوئی تھی،کہ اس تاریک رات میں ہندوستانی اسپیشل فورسز کاچار خصوصی دستہ سرچ آپریشن کے مشن پر کنان پھوسپورہ گاؤں میں داخل ہوئے ،گاؤں کے تمام مردوں کو گاؤں سے باہر نکال دیا ،تفتیش کے دوران بربریت کی حد تک ان کو جسمانی اور جذباتی تشدد کا نشانہ بنایا، ادھر گاؤں کی عورتوں کے ساتھ بندوق کی نوک پر بلاقید عمر سب کی عصمت دری کی ، ان میں سے کئی حاملہ بھی ہوگئیں ، یہی نہیں ان عورتوں کو ان کے بچوں کے سامنے ننگا کیا گیااوران کی عفت وعصمت کا قیمہ بنایا گیا۔ (یوتھ کی آواز 28 نومبر 2013)، بلکہ 19 مارچ 2013 کو ایک برطانوی اخبار ‘The Independent’ ‘ نے (‘Indian villages tell of mass rape by soldiers’) کے عنوان سے ایک کشمیری خاتون کی سرگزشت کو شائع کیا،اس خاتون نے نامہ نگار کو بتایا:’’ یکے بعد دیگرے چھہ ہندوستانی فوجیوں نے میری عزت لوٹی، جبکہ میراپانچ سالہ لڑکا بستر کے بغل میں چیخ چیخ کر رورہا تھا ،کیونکہ پولیس والے اس پر جبر کررہے تھے کہ وہ ان کی حرکتوں کو دیکھے، خاتون کا بیان تھا کہ تقریباًگاؤں کی ساری عورتوں کی عزت لٹ گئی، جس کی وجہ سے کئی مہینوں تک گاؤں میں ماتم کا ماحول بنا رہا۔ آج اس گاؤں کی حالت یہ ہے کہ اس گاؤں کی خواتین اس بچے پر فخر کرتی ہیں جو فوجیون کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوجاتا ہے‘۔
یہ تو ایک چھوٹے سے گاؤں کی ایک ناتمام کہانی تھی ، ورنہ آئے دن وادی میں اس طرح کے بے شمار واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں،2002 میں ایک سترہ سالہ لڑکی کی اجتماعی آبروریزی کے واقعہ نے پوری وادی میں سنسنی پھیلا دیا، تو ابھی گذشتہ مہینہ کی بات ہے کہ ایک نابالغ لڑکی سے فوجی اہلکار کے ذریعہ چھیڑچھاڑ کے بعدوادی میں مظاہرات کا طوفان برپا ہوگیا اور یہ اب کوئی نئی بات نہیں رہی، کشمیریوں کی عفت وعصمت کی نیلامی اور ان کا خون تو معمولی شئی بن کر رہ گیا ہے۔ اکتوبر 2011 میں جمو و کشمیر کے چیف منسٹرکو1400 عصمت دری کے متاثرین کے نام اور پتہ ظاہر کرنے کے سلسلہ میں میں لوگوں سے معافی ما نگنی پڑی، البتہ اس کی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں کہ یہ کارنامے سیکورٹی فورسز نے انجام دیے تھے، یا پھر وہ جرم کا حصہ تھے، تاہم ایک کشمیری مصنف’ لیاقت علی خان‘ نے یہ کہاکہ کشمیر میں ان زیادتیوں کے بارے میں کسی سرکاری منظوری کی ضرورت نہیں، بلکہ طاقت اور قانون کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے اس کا ارتکاب کرناآسان ہوجاتا ہے، قانون کی طرف سے گاؤں گاؤں اور مضافات میں سرچ آپریشن چلانا سکیورٹی فورسز کا ضیاع ہے، حکام دہشت گردتنظیموں سے متاثرین کا تعلق جوڑ کر ان کو بدنام کرتے ہیں اور سیکورٹی فورسزکئی معاملات میں حقوقِ انسانی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں،انہوں نے ہیومن رائٹس کمیشن صوبۂ جموں کشمیر کی تحقیقاتی کمیٹی کے حوالہ سے لکھا کہ تحقیقات کے دوران شمالی کشمیر میں 38 مقامات پر گمنام قبروں میں 2730 لاشیں برآمد ہوئیں، ان میں تقریباً 574 لاشوں کی مقامی ہونے کے طور پر شناخت ہوئی، اُف!!!
آج ہم ،ہماری حکومت اور بے لگام میڈیابڑی آسانی سے کشمیریوں کو شدت پسند اور دہشت گرد گردان جاتے ہیں، لیکن کیا کبھی ہم نے ان کے کاری زخموں پرمرحم ڈالنے کا سوچا ہے،یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی انسان کبھی تلوار نہیں اٹھاتا اور دہشت گردنہیں بنتا، بلکہ حالات اسے متشدد بننے پر مجبور کردیتے ہیں، حالانکہ بارہویں صدی میں سرزمین کشمیر کے سب سے اولین مورخ پنڈت کلہن اپنی راج تنگنی میں یہ لکھ گئے ہیں کہ ’’ کشمیر وہ ملک ہے جسے روحانی اوصاف سے فتح کیا جاسکتا ہے مسلح افواج سے نہیں۔‘‘ کاش کہ ہم کلہن کے اس آفاقی پیغام کو سمجھتے اور اس کو نرم خوئی سے حل کرتے، تو شاید آج کشمیر کا حسن کچھ اور ہی جلوہ بکھیر رہا ہوتا اور خالقِ کائنات نے اس کو جن خوبیوں سے سجایا ہے ،اگر ہم ان کا احترام کرتے ، تو شاید ہندوستان وپاکستان کی معیشت کا نصف سے زائد مسئلہ کا حل کشمیر کی سیرو سیاحت سے ہوجاتا، اے کاش ہمارے حکمراں عقل وخرد سے کام لیتے!!!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Close