آج کا کالم

کہانی اپنے ہندوستان کی: قسط (13) – نیم حکیم

رمیض احمد تقی
قوم کی رفعت وعظمت کا تصور اس کے قائد سے ہوتا ہے اور کامیابی وکامرانی کا پیمانہ علم وعمل ہے،چنانچہ جس قوم کا قائد ورہبر ناخواندہ ہو اور اس کی عوام زیورِ علم سے آراستہ نہ ہو،تواس کی تعمیروترقی کا آفتاب بے نور ہونے لگتا ہے، ہمارا ملک ہندوستان جن گونا گوں خوبیوں سے مالا مال تھا، آج اس کو اقوام عالم کی فہرست میں سب سے اوپر ہونا تھا، مگر افسوس کہ اس کو کوئی بہترین قائد نہ مل سکا،بلکہ آزادی کے بعد بھی ملک بہ باطن تنزلی ہی کا شکار رہا، نہ سیاست کاروں نے تعلیم وتعلم کی طرف اپنی توجہات مبذول کیں اور نہ ہی عوام ہی کو اس سے کوئی سروکاررہا، چنانچہ (NORRAG, September, 2010) میں (Education Development Index-EDI) کے حوالہ سے ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی، جس میں 2001 سے 2009 تک دنیا کے تقریباً 182-122 ممالک کی تعلیمی درجہ بندی کا جائزہ لیا گیا تھا، تو آپ کو حیرت ہوگی کہ ان میں ہندوستان کا 105 واں مقام تھا اوریہ ایک حقیقت ہے کہ جب کوئی ملک تعلیم کے میدان میں اس قدر پیچھے ہو، تو اس سے ملک کے تمام شعبۂ حیات پرگہرا اثر پڑتا ہے ، کیونکہ جب عوام ہی ناخواندہ ہوگی، تو وہ سیاسی قائدین جو عوام کی طر ف سے منتخب ہوکر پارلیمنٹ میں ا ن کی ترجمانی کرتے ہیں، ان کا مبلغ علم بھی یقیناًلائقِ اعتنا نہیں ہوگا، چنانچہ ایسے ملک میں جہاں تقریباً 815 ملین ووٹرس ناخواندہ ہوں اور وہ اس حقیقت سے بالکل بھی آگاہ نہ ہوں کہ ان کے ترجمان کے لیے کتنا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے، تو ظاہر سی بات ہے کہ ان کے نزدیک انتخاب کا کوئی معیار نہیں ہوگااورچونکہ اس ملک میں عموماً ذات ،پات اور شخصی بنیاد پر بھی ووٹ دیے جاتے ہیں، بلکہ گاؤں سماج میں جس کا اثرو رسوخ تھوڑازیادہ ہوتا ہے،وہی کامیاب ہوتا ہے، خواہ اس کا ماضی کتنا ہی خراب اور اس کی قابلیت کتنی ہی کم کیوں نہ ہو،جس کی وجہ سے ہر کس وناکس ، ناخواندہ وکرمنل سیاسی عہدوں پر جلوہ افروز ہوجاتا ہے ، بسااوقات اپنے بعض سیاسی قائدین کا تعارف کراتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ وہ انگوٹھا چھاپ ہونے کے باوجود کیسے کرسیِ اقتدار پر فائز ہیں،چنانچہ اگرسولہویں پارلیمانی انتخاب میں منتخب ہونے والے اراکینِ  پارلیمنٹ کے علمی ، سیاسی اور سماجی چہروں کا جائزہ لیں، تو آپ کو بڑی حیرت ہوگی کہ 543 ممبران میں تقریباً 10  فیصد ممبر پارلیمنٹ دسویں پاس بھی نہیں ہیں، چنانچہ (India TV, News Desk- 05 Aug 2014,) کی رپورٹ کے مطابق وزیر برائے آبی وسائل اور جھانسی اترپردیش کے پارلیمانی حلقہ سے بی جے پی کی منتخب خاتون رکنِ  پارلیمنٹ ’ اوما بھارتی ‘ صرف چھٹی پاس ہیں،تو وہیں آر جے ڈی کی طرف سے حلقہ ارریا بہارسے مسلسل پانچویں مرتبہ منتخب رکنِ پارلیمنٹ ’تسلیم الدین ‘ کی بھی کوئی تعلیمی لیاقت مذکور نہیں ہے،اسی طرح بی جے پی کے نیتا’کنور سنگھ تنور‘ حلقہ امروہہ اترپردیش کے منتخب  رکنِ پارلیمنٹ ساتویں پاس ہیں، توبی جے پی ہی کے حلقہ سانبرکانٹھاگجرات سے منتخب  رکنِ پارلیمنٹ ’ راتھوڈ ڈپسنھ شنکرسنھ‘(Rathod Dipsinh Shankarsinh) آٹھویں پاس ہیں، ایل جے پی کی حلقہ مونگیر بہار سے منتخب پارلیمانی رکن’ وینا دیوی‘نویں پاس ہیں،جبکہ بی جے پی کے حلقہ سوریندر نگر گجرات کے منتخب رکن پارلیمنٹ’ فیتیپارا دیوی بھائی گوند بھائی‘(Fatepara Devjibhai Govindbhai) نے تو رکاڈ ہی قائم کردیا، یعنی وہ صرف تیسری پاس ہیں! حلقہ دادر نگر ہویلی سے منتخب بی جے پی کے ایک اور نیتا’ پٹیل ناتھو بھائی گومن بھائی‘ بھی صرف پانچویں پاس ہیں،تو چلاکوڈی کیرلاحلقہ سے ، آئی، ایل ڈی ایف کے منتخب رکنِ پارلیمنٹ’ انوسینٹ ‘ آٹھویں پاس ہیں، اسی طرح بی جے پی ہی کے شمالی ممبئی سے منتخب رکنِ پارلیمنٹ ’گوپال چنییا سیٹی‘صرف ساتویں پاس ہیں، تو’من شنکر نناما‘حلقہ بنسورا، راجستھان اور راجکوٹ گجرات کے بی جے پی ممبرپارلیمنٹ ’کوندریا موہن بھائی کوندریا‘ دونوں آٹھویں پاس ہیں،گرچہ حلقہ سکار راجستھا ن کی بی جے پی منتخب خاتون ممبرپارلیمنٹ ’سومیدھا نند سرسوتی‘نے اپنا کوئی تعلیمی رکارڈ ذکر نہیں کیاہے، تاہم ذرائع کے مطابق یہ بھی ناخواندہ ہی ہیں ، دمن اینڈ ڈیو اورگیا بہار سے منتخب بی جے پی کے نیتا ’پٹیل لالو بھائی بابو بھائی‘ اور’ ہری ماجھی‘بھی آٹھویں پاس ہیں، جبکہ ’وجے کمار ہنسدک‘ حلقہ راج محل، جھارکھنڈسے جے ایم ایم کے منتخب رکنِ پارلیمانی صرف پانچویں پاس ہیں،ان کے علاوہ تقریباً3فیصد دسویں پاس ہیں اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان معاملات میں دسویں کلاس سے کم پاس لوگوں کی اسناد عموماً فرضی ہوتی ہیں،تاہم ان تمام اراکینِ پارلیمنٹ میں سے 27 فیصد ممبرپارلیمنٹ نے اپنا پیشہ زراعت درج کروایا ہے، جبکہ 24 فیصد اراکین نے اپنے آپ کو سماجی وسیاسی کارکن کے طور پر ظاہر کیا ہے،تووہیں 20 فیصد اراکین  نے اپنے آپ کو تاجربتایا ہے۔ اگر ان کا موازنہ پندرہویں لوک سبھا کے اراکین سے کریں ،تو زراعت میں بعینہ 27 فیصد تھے، البتہ اس میں سیاسی وسماجی کارکن 28 فیصد تھے،جبکہ تاجر صرف 15 فیصد تھے، لیکن اگر ان کا موازنہ سب سے پہلے  اراکینِ لوک سبھا  سے کریں، تو ان میں22 فیصد زراعت کے پیشہ سے منسلک تھے، توصرف 12 فیصد ہی تاجر تھے، البتہ ان میں 36 فیصد فیصد وکلا تھے،گرچہ موجودہ منتخب اراکینِ پارلیمنٹ میں بھی تقریباً 75 فیصد گریجویٹس اور تقریباً 6 فیصد ڈاکٹرکی ڈگری کے حاملین ہیں، تاہم نتیجہ ہمیشہ ارذل کے تابع ہی ہوتا ہے اور یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ اب تک کی ہندوستانی تاریخ میں سب سے زیادہ ناخواندہ اراکینِ پارلیمنٹ موجودہ منتخب اراکینِ  پارلیمنٹ میں ہیں اوروہ بھی سب سے زیادہ بی جے پی میں، بلکہ خود ہمارے وزیر اعظم کی ان کی تعلیمی اسناد کو لے کر پوری دنیا میں تھو تھو ہورہی ہے اور کیایہ مضحکہ خیز بات نہیں ہے کہ جب ملک میں میٹرک پاس کوپکڑ پکڑ کر نوکری دی جاتی تھی، تو اس وقت مودی جی ایم اے پاس ہونے کے باوجود چائے بیچتے تھے!بلکہ ایک انٹر ویو میں خود مودی جی نے اینکر کے سوال کے جواب میں شرماتے ہوئے کہا تھا کہ’ تعلیم کے بارے میں کیا بتاؤں، بس وہی کوئی بارہویں پاس ہونگا‘، یہی نہیں بلکہ ان کی وزیر برائے ترقی انسانی وسائل’ اسمرتی ایرانی‘ بھی اپنی تعلیمی اسناد کو لے کر کافی شہرت حاصل کرچکی ہیں، چنانچہ کانگریس کے دہلی یونٹ کے سربراہ اجے ماکن نے تو مودی کابینہ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’مودی جی کی کابینہ کا کیا کہنا، ان کی وزیر برائے ترقی انسانی وسائل’ اسمرتی ایرانی‘گریجویٹ بھی نہیں ہیں‘‘، گرچہ بی جے پی نے اس کاجواب دیا تھا کہ وہ چونکہ اچھی طرح ہندی اور انگلش بول لیتی ہیں ، اس لیے مودی جی نے ان کو یہ عہدہ دیاہوا ہے، لیکن یہ جواب خود اپنے میں ایک مذاق معلوم ہوتا ہے، کیوں کہ اگر بات صرف زبان دانی کی ہو ، تو آج پورے ملک میں سیکڑوں انگوٹھا چھاپ ایسے بھی ہیں جو زناٹے کے ساتھ کئی زبانوں میں گفتگو کرلیتے ہیں، مگران کو کوئی گھاس نہیں ڈالتا، اس پر کریلا نیم چڑھا یہ کہ الیکشن میں ہاری ہوئی امیدوار کو ایسے عہدہ سے نوازنا، کچھ بات تو ہے جس کی پردہ داری ہورہی ہے، بہر کیف معاملہ جو بھی ہو ، مگر یہاں ایک سوال ذہن میں ضرور کلبلاتا ہے کہ اگر سیاست کی بنیاد جہالت پر ہو،تو اس کے معاشرہ پر کیا کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ تواس صورت میں انفرادی اور معاشرتی دونوں سطح پر لوگوں کی حق تلفی ہوگی، کیونکہ قائدورہبر جب لوگوں کے حقوق سے ناآشنا ہوں گے، تو ان کی بجاآوری کہاں ممکن ہوسکتی ہے؛ معاشرے میں جنگ وجدال، فحش گوئی، چوری ڈکیتی،بلکہ پورا معاشرہ ہی افراط وتفریط کا شکار ہو جائے گا، کیونکہ اس جہالت کے جہاں انفرادی نقصانات ہیں، وہیں اس کا معاشرے پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے، چنانچہ ایک ناخواندہ شخص کے اندر عام طور پر معاملہ فہمی ومعاملہ بینی کی صلاحیت نہیں ہوتی،بلکہ ایسا شخص بے روزگاری ،کم آمدنی،معاشرتی اور جسمانی اعتبار سے بھی کم درجے کا ہوتا ہے اور اس کا بظاہر اثر معاشرے پر بھی پڑتا ہے، کیوں کہ معاشرے کا تصور فرد سے ہوتا ہے اور جب کسی معاشرے میں اس کے ا فراد ہی کا کوئی اثر نہ ہو، تو پھر ملکی اور عالمی سطح پر اس معاشرہ اور سوسائٹی کاکیا اثرہوگا؟اس کی واضح مثال یہ ہے کہ آج اگر پارلیمنٹ میں کسی موضوع پر گفت وشنید ہوتی ہے، اس میں اگر کوئی بات کسی پارٹی کے خلاف ہوجاتی ہے ، گرچہ وہ عام جنتا کے دل کی آواز ہی کیوں نہ ہو، توپارلیمنٹ ہی میں ہمارے یہ سیاسی قائدین اس قدر واویلا مچانے لگتے ہیں، گویا کہ تاڑی وشراب کی دکان پر، بے ہوش اور باہوش شرابی پہلے شراب حاصل کرنے کے لیے مارنے مرنے پر اترجاتے ہیں اور جب رہنماؤں کا یہ حال ہوگا، تو ملک میں بدامنی کا کیا عالم ہوگا؛ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا، جب کسی کی عزت نہ لٹی جائے، کسی ماں کا بیٹا اغواوقتل نہ کیا جائے، کسی کا گھر نہ اجاڑا جائے اوریہ ایسا نہیں ہے کہ ایسا کرنے والے صرف چور اچکے ہی ہوتے ہیں، بلکہ ان سب میں ہماے بڑے بڑے سرکاری ملازمین اور یہ سیاسی قائدین بھی ملوث ہوتے ہیں اور پھر چور اچکے ہی سہی آخر ان کو اتنی آزادی کیونکر حاصل ہے، ظاہر ہے کہ جب ہمارے رہنماؤں کو اپنی ذمے داریوں کے بارے میں ہی پتہ نہیں ہوگا، تو وہ عوام کے درد کو کہاں محسوس کر سکتے ہیں ، آج تو بس ان کا کام ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانا رہ گیا ہے، چنانچہ کوئی کسی کی دیوی دیوتاؤں کو برابھلاکہتا ہے، تو کوئی سب سے عظیم انسانیت کی علم بردار شخصیت کی شان میں نازیبا کلمات کہہ کر اپنی عاقبت خراب کرتا ہے، یہ سب جہالت نہیں تو اورکیا ہے؟
القصہ یہاں ہمارے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب ہم کوئی تجارت کرتے ہیں، تو ہم کسی ہوشیار شخص کو اپنا مشیر رکھتے ہیں، تاکہ اس کے نتائج بہتر ہوں، جب ہم بیمار پڑتے ہیں، تو اس مرض کے اسپیشلسٹ کے پاس جاتے ہیں، تاکہ شفا یابی جلدی ممکن ہو،جب ہم کسی سرکاری معاملات میں پھنستے ہیں، تو ہم علاقے کے سب سے ماہر وکیل کی خدمت حاصل کرتے ہیں،تاکہ اس جھمیلے سے جتنا جلدی ہو چھٹکارا مل جائے، اسی طرح جب ہم اپنے بچے کو پڑھانا چاہتے ہیں، تو کسی اچھے اسکول اور ماہر استاتذہ کا انتخاب کرتے ہیں، تاکہ ہمارے بچے کا مستقبل روشن اور تابناک ہو،مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب ہم ملکی اور حکومتی معاملات میں کسی کو اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں ، تو اس میں ہم بہتر سے بہتر کی تلاش کیوں نہیں کرتے،تاکہ ہمارا معاشرہ ترقی کرجائے اور گہن آلود ہمارا معاشرہ افقِ عالم پر شمعِ علم وحکمت جلا ئے، مگر کوئی بھی وہ شمع جلانا نہیں چاہتا، اسی لیے تو آج ہمارا ملک تمام شعبۂ حیات میں تنزلی کاشکار ہے اور اب ہمارے لیے غم واندوہ کی خبر یہ ہے کہ صرف دو سالوں میں ہی ان جاہل سیاست کارون نے ملک کو کس قدر پیچھے دھکیل دیا کہ اس کا نام ترقی یافتہ ممالک کی فہرست سے خارج کرکے پس ماندہ ممالک کی فہرست میں شامل کردیا گیا ہے ،یہ لاریب حقیقت ہے کہ نیم حکیم خطرۂ جان ،نیم ملا خطرۂ ایمان اور جاہل حکمراں باعثِ ہلاکتِ ملک وملت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Close