آج کا کالمتاریخ ہند

 کہانی اپنے ہندوستان کی: قسط (16) – خونِ شہیداں

رمیض احمد تقی    

          قصۂ آزادی اگربہت دل دوز ہے، تو بہت زیادہ پیچیدہ بھی ہے، کیونکہ قلم کاروں اور تاریخ نویسوں نے ہمارے سامنے اس کی  بڑی ہی گنجلک داستان پیش کی ہیں ؛کوئی خونِ شہیداں کو عصبیت کی ترازو میں تولتاہے، تو کوئی سرے سے ہی کسی کی قربانیوں کو فراموش کرتا نظر آتا ہے اوریہ ہماری ستم ظریفی ہی کہیے کہ ہم نے بھی ان کے خون کوکتنا ارزاں سمجھا، جو ان کو پڑھنے اور سننے کی بھی زحمت نہیں کی اور نوبت بایں جا رسیدکہ اب ہماری تاریخ کی نئی کتابوں میں ان مجاہدین کا تذکرہ بھی عنقا ہوگیا، جنہوں نے ذات برادری اور مذہب سے بہت اوپر اٹھ کر افقِ عالم پر ہندوستانی پرچم بلند کیا تھا، مگر صد افسوس کہ ہماری یہ تاریخی بساط اب صرف مولانا ابولکلام آزاد اور مولانا محمد علی جوہر تک ہی سمٹتی نظر آرہی ہے، جو یقینا ہماری کسل مندی اور تاریخی پیوند کاریوں کی واضح دلیل ہے۔

          اگرہم تاریخی پس منظر میں غور کریں، تو ہماری بدقسمتی کی یہ تاریخ بیس مئی 1498 سے شروع ہوتی ہے، جب واسکوڈیگامہ نے پرتگالیوں کو ہندوستانی ساحل کا پتہ دیا تھا، چنانچہ 1510 میں ہندوستانی تجارتی منڈیوں میں پرتگالی اور ڈچ  نے اپنی آمد درج کرائی، جبکہ 1601 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد پڑی۔ 1614 میں ’سر تھامس روئے‘ کی اگوائی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کومغل بادشاہ ’عالم گیر جہانگیر‘ کے دربارمیں رسائی ملی، جہاں اسے سورت میں تجارتی منڈی قائم کرنے کے ساتھ پورے ملک میں تجارت کرنے کی اجازت مل گئی اور 1698تک تو وہ ملک کے کئی بڑے صوبے میں اپنی تجارتی کمپنیاں اور کوٹھیاں قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی، تاہم اس نے ممبئی، کلکتہ اور مدراس کو اپنی تجارت کاعظیم مرکز بنایا۔

          ابتداء اً اس کو ہندوستان کی سیاست میں کوئی بہت زیادہ دلچسپی نہیں تھی، مگر جوں جوں ترقی اس کے قدم بوس ہوتی گئی، اس کے دل پر خیانت دستک دینے لگی، پھر اس نے انتہائی مکاری سے آہستہ آہستہ حکومتی اور سیاسی معاملات میں دلچسپی لینا شروع کردیا، یہاں تک کہ تین مارچ 1707 میں جب ’ اوررنگ زیب عالم گیر‘ کی وفات ہوئی، تو اس کے ساتھ ہی ضمامِ سلطنت پر خانوادۂ مغلیہ کی گرفت سست پڑنے لگی، صوبے کے جاگیردارایک ایک کرکے اپنی اپنی جگہ خودمختاری کا اعلان  کرناشروع کردیا، ایسے ماحول میں ایسٹ انڈیا کمپنی کوہندوستان میں اپنے پاؤں پھیلانے کا بہترین موقع ملا، چنانچہ کسی کا حلیف بن کر، تو کسی کا حریف بن کر اس نے ایک کو دوسرے کے خلاف ورغلانہ شروع کریا، یہاں تک کہ’ گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سیــ ‘، پورے ملک میں خانہ جنگی کی صورت پیدا ہوگئی، اب وہاں ہر کوئی اپنی جگہ سکندرِ آعظم تھا! اِدھرانگریزوں نے ان کے دلوں میں اپنا رعب ڈالنا شروع کیا، اُدھر ہندوستان کی آزادی ان کے قدموں میں ڈھیر ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ وہ خود کو ہندوستان کا موروثی حاکم اعلیٰ تصور کرنے لگے، اس کے نتیجہ میں کلکتہ اور مرشدآباد کے درمیان 23 جون   1757 کوپلاسی کے میدان میں بنگال کے ’نواب سراج الدولہ ‘اورروبرٹ کلائیو کی ماتحتی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان جنگ ہوئی، جس میں میر جعفر کی منافقت کی وجہ نواب کو شکست سے دوچار ہونا پڑا اوراس طرح کمپنی کو ہندوستان میں پہلی مرتبہ کسی بڑی فوج کے مقابلہ میں کامیابی حاصل ہوئی اور نواب سراج الدولہ اس غاصب حکومت کا پہلا مسلمان باغی قرارپایا، تودوسری طرف 1761 میں میسور کے راجہ کرشن راج  کے کمزور پڑ جانے کی وجہ سے جب حیدر علی کو وہاں کا حاکم بنادیا گیا، تو وہ بھی اس کی آنکھوں میں چبھنے لگا، کیونکہ سراج الدولہ کی طرح حیدر علی کوبھی کسی بھی قیمت پر انگریزوں کا اس طرح ہندوستان میں قدم جمانا گوارا نہیں تھا، لہذا اس نے اپنی ریاست کی شیرازہ بندی کی اور لوگوں کوکثیر تعداد میں فوج میں بھرتی دینے کے بعد 1767 میں انگریزوں کو للکارااورانہیں دعوتِ مبارزت دی، جب انگریز کو اس کی تیاروں کا پتہ چلا تواس نے نواب دکن نظام علی اورمراٹھا کے ساتھ مل کر حیدرعلی کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑنے کا معاہدہ کرلیا، مگریہاں حیدر علی کی جنگی فراست تو ملاحظہ کیجیے کہ اس موقع پر وہ کس قدرزیرک اور دوررس ثابت ہوا تھا؛اس نے درپردہ مراٹھا اور نظام سے مصالحت کرلی اورپھرانتہائی دیدہ وری سے انگریزوں کو ان کے خیمے میں ہی مرغ بسمل کرکے چھوڑ دیااورپھراپنے 22 سال کی حکومت میں انگریزوں کو ہندوستان میں کہیں بھی سر ابھارنے کا موقع نہیں دیا، مگر 1783 میں جب اس شیر دل حاکم نے اپنی آخری سانس لی، تو انگریزوں کی جان میں جان آئی اور اس نے کچھ سر اٹھانے کی جرأت کی، مگر حیدر علی کا بیٹا’فتح علی خان‘ (عرف ٹیپوسلطان) کسی شیرِ ببر کی طرح ان کی شہِ رگ پر آخر ی ضرب مارنے کے لیے تیار کھڑاتھااوربہت قریب تھا کہ انگریز اب ہمیشہ ہمیش کے لیے ہندوستان کو خیرآباد کہ دے، کہ 1799 میں اپنوں کی غداری کا نشتر اس کے دل میں بھی اتر گیا اور انگریزوں کے اجڑتے چمن میں امید کی کرنیں نظر آنے لگیں، چنانچہ اس شیر کی وفات پر ایک انگریز جرنیل نے یہ کہاتھا:’’آج ہندوستان کی آخری کڑی بھی ٹوٹ گئی، اب دنیا کی کوئی بھی طاقت ہندوستان کو ہمارا غلام بننے سے نہیں روک سکتی۔ ‘‘

          حقیقت بھی کچھ ایسی ہی تھی کہ پورے ہندوستان میں اب کوئی بھی ایسا نہیں تھا، جو ان کا راستہ روک کر مقابلہ کرسکے، کیونکہ اس وقت جتنے بھی حکمراں تھے، وہ یا تو ان کا حلیف بن چکے تھے، یا پھران کو اس قدر دبادیا گیا تھا کہ وہ اٹھنے کے قابل نہیں رہ گئے تھے، ان کے لیے دہلی تک کا راستہ بالکل صاف ہوچکا تھا، چنانچہ لارڈ لیک کی قیادت میں انگریزی فوج  1803میں ملک کی دارالحکومت دہلی پرحملہ کردیا، مرہٹوں کو ماربھگایا اوربادشاہ کے سارے اختیارات سلب کر لیے، البتہ یہ ان کی پالیسی تھی کہ بادشاہو کوجوں کا توں تخت پر باقی رہنے دیا جائے، مگر اس کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار نہ ہو، اسی لیے اس وقت لوگوں میں یہ بات بہت مشہورتھی:’’خلق خدا کی، ملک بادشاہ سلامت کا اور حکم انگریز بہادر کا۔ ‘‘

          اس وقت ہندوستان کا بادشاہ شاہ عالم ثانی تھا، جو 45سال تخت نشیں رہنے کے بعداٹھارہ سال تک نابینہ رہا اور پھراسی حالت میں راہیِ ملک بقا ہوا، اس کی وفات کے بعد اس کا سب سے بڑا لڑکا تخت نشیں ہوا اور اس نے اپنا لقب ’اکبر شاہ ثانی‘ رکھا اور جب 1837میں اس کی وفات ہوئی، تومرزا عبد المظفرسراج الدین محمد اس کے جانشیں مقرر ہوئے اور انہوں نے اپنا لقب بہادر شاہ رکھا اور یہی مغلیہ خانوادے کا آخری تاج دارا گذرا ہے۔

          یوں تو 1857 تک مغلیہ سلطنت کا چراغ روشن رہا، لیکن اب وہ چراغِ سحر ہوچکا تھا، اس کی بادشاہت میں کسی آفتاب کی آمد نہیں ہونے والی تھی، وہ بھی گہن آلود ہوچکا تھا، مگر ایک امید تھی جو اس بے نور آفتاب کو چکا چوند کردے اور وہ تھی ’عوام کا جذبہ ‘  لیکن یہ بھی سرد پڑچکا تھا، تاہم جوش وجنون کی روح پھونکنے کے بعدان میں حرکت ہوسکتی تھی، تواس وقت مذہبی رہنماؤں اور پیشواؤں نے جو کارہائے شیشہ وآہن انجام دیا، وہی درحقیقت آزادی کی اصل تاریخ ہے؛چنانچہ ائمہ مسجدوں میں، علما تعلیم گاہوں میں، صوفیا خانقاہوں میں لوگوں کو انگریزوں کے خلاف ورغلاتے، تو پنڈت مندروں میں بھجن گاتے اور لوگوں کو انگریزوں کے خلاف جمع کرتے اور اس طرح لوگ آتے گئے، کارواں بنتا گیا، ملک میں جگہ جگہ جنگی محاذ قائم کیے گئے، جن میں شاملی تھانہ بھون کا مرکزخاصہ اہمیت کا حامل تھا، اس کو محورِ اولیا حاجی امداداللہ مہاجر مکی اور آپ سے منسلک علما نے قائم کیا تھا، جن میں حجۃ الاسلام امام قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا فیض الحسن سہارنپوری، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا محمد منیری اور مولانا محمد یعقوب پیش پیش تھے اور 1857 کی پہلی جنگِ آزادی میں مسلم حریت پسندوں کی قیادت انہیں کے ہاتھوں میں تھی، جنہوں نے انگریزوں کو میرٹھ، مظفر نگر اور تھانہ بھون کے علاقوں سے بے دخل کرکے ان کے کئی توپوں پر قبضہ بھی کرلیا تھااور آزادی تک اسی جوش اور جذبے کا مظاہرہ کرتے رہے۔

          دراصل اس تحریک کی کڑی 1806 میں شاہ عبدالعزیز کے فتویٰ سے ملتی ہے، جنہوں نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا، ان کا فتویٰ مسلم عوام کے دلوں میں جہاد کی شمع روشن کرچکا تھا اور ہندو عیسائی پادریوں کے طریقِ تبلیغ سے اپنے مذہب کی رسوائی دیکھ رہے تھے اور عوام تو ان کے ظالمانہ رویوں سے اوب تو گئے ہی تھے، لہذا جونہی ان کے خلافٔ آزادی کی آگ جگائی گئی، ہندوستان کی عوام اپنے جان مال اور عزت وآبرو کی پرواہ کیے بغیر بے خطر اس آگ میں کود پڑے اور اس وقت تک اپنے آپ کو  جھلساتے رہے، جب تک انہوں نے اپنے ہی خون سے اپنے ملک کی تاریخ رقم نہ کردی اوراس طرح پندرہ اگست 1947 کو ہمارا ملک ہندوستان انگریز وں کی چیرہ دستیوں سے آزاد ہوگیا، مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس لڑائی کے محرک اور غلامی کی دہلیز پر فتح ونصرت کا عَلم لہرانے والے دراصل مسلمان ہی تھے اور یہ بھی جگ  ظاہر ہے کہ اس لڑائی میں سبھی مذہب اور ذات برادری کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے، مگر ان سب کے مقابلے میں مسلمانوں کی قربانیاں تصورات سے بہت پڑے ہیں اور یہ بات ظاہر بھی ہے کہ انگریزوں کی ہندوستان میں آمد سے پہلے یہاں کے حکمراں مسلمان  تھے اور جب کوئی ڈاکو کسی کے گھر پر ڈاکہ ڈالتا ہے، تو سب سے پہلے اہلِ خانہ ہی اس کے ہدف بنتے ہیں اور وہی خود پہلے دفاع بھی کرتے ہیں، تب جاکر کوئی پڑوسی آتاہے، اسی طرح جنگِ آزادی میں پہلے مسلمان ان کے ہدف بنے اور انہوں نے ہی سب سے پہلے ان کا دفاع کیاہے۔

ٓ       آپ ذرا عصبیت کی عینک ہٹاکر تاریخ کا مطالعہ کریں، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان انگریزوں نے مسلمان اور خصوصاً علما کے جذبات کے ساتھ کیسا کیسا گھنونا کھیل کھیلا ہے؛ صرف1857 کی جنگِ ازادی میں دولاکھ لوگ شہید کیے گئے، جن میں 51,200 توصرف علما تھے اوراس تحریک کے بعد تو علما ہی ان کے نشانہ پر تھے، اس کے لیے انہوں نے مدارس کو نشانہ بنایا، چنانچہ ایک برطانوی مؤرخ مسٹر لڈلونے سرکاری کاغذات کے حوالہ سے لکھاہے :’’ برطانوی حکومت سے قبل صرف بنگال میں اسی ہزار دیسی مدارس تھے، مگر 1601 تک ان میں کوئی بھی دینی ادارہ باقی نہیں رہا۔ ‘‘  اور1867 تک توصرف دہلی میں ہزاروں مدارس تھے اور آج اس کا حال دیکھیے کہ شاید ہی وہاں بیس مدرسے ہوں ! وہ جگہ جگہ مدارس پر ریڈ مارتے، پھر علما کو پکڑتے، انہیں یاتو قتل کردیتے، یا کال کوٹھری میں بھوکا پیاسا چھوڑدیتے، چونکہ یہی علما ان کی آنکھوں کا تنکا بنے ہوئے تھے، جن کی آواز پر ملک کے کونے کونے سے لوگ ان کی نخلِ تمنا پر بجلی گرارہے تھے، چنانچہ مشہور برطانوی مؤرخ ’ایڈواڈ تھامسن‘  1864 سے  1867 کے درمیان اپنی یادداشت میں رقم طراز ہے :’’ برطانوی حکومت نے پورے ہندوستان سے علما کو نیست ونابود کرنے کے لیے ایک انتہائی سخت اور ظالمانہ قانون کو تشکیل دیا، چنانچہ دہلی کے چاندنی چوک سے لے کر خیبر کے درمیان تقریباً 14000 علماء ِکرام کو پھانسی دی گئی، بلکہ اس درمیان شاید ہی کوئی ایسا درخت ہوجس پر کسی عالم کی گردن نہ لٹکی ہو، وہ مزید لکھتا ہے کہ لاہور کی شاہی مسجد میں ہرروز اسی علما کو پھانسی دی جاتی تھی، اس کے بعد ان کی لاشوں کو دریائے راوی میں پھینک دیا جاتا تھا، مسٹر تھامسن کا بیان ہے کہ ایک دن میں دہلی میں اپنے کیمپ سے باہر نکلا، تو باہر مجھے مردوں کو جلائے جانے کی بدبو محسوس ہوئی، تو میں نے اپنے کیمپ کے پیچھے دیکھا کہ وہاں سے دھواں اٹھ رہا ہے، پھر اچانک میری نگاہ کوئی چالیس پچاس برہنہ لوگوں پر پڑی جو سب مسلمان اور عالم لگ رہے تھے، جنہیں انگریز ی پولیس ہانکے لارہی تھی، میں بھی اس طرف نکل کھڑا ہوا، تاکہ پورا ماجرہ قریب سے دیکھ سکوں، میں نے دیکھا کہ ان میں سے ہر ایک کو زندہ آگ میں ڈال دیا گیا، پھراس کے بعد ایک اور جماعت کو حاضر کیا گیا، خیر سے یہ ملبوس تھی، تبھی ایک آفیسر ظاہر ہوا اور ان سے مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ اگر تم اپنا جرم قبول کرلیتے ہو، تو تمہیں بخش دیا جائے گا، ورنہ تمہارا حشر بھی ایساہی ہوگا، تھامسن کا کہنا تھا کہ مجھے میرے پروردگار کی قسم ان میں سے کسی ایک عالم نے بھی اپنی زبان نہیں کھولی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی آگ کے ایندھن بن گئے۔ ‘‘وہ جیلوں میں جب کسی عالم کو قید کرتے تھے، تو ان کی سزاؤں کا صرف تصور ہی ہمارے رونگٹے کھڑا کردینے کے لیے کافی ہیں، وہ ان کی شخصیات کے اعتبار سے سزا دیتے تھے، چنانچہ اسیرِمالٹا اور تحریکِ ریشمی رومال کے بانی شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کی جب وفات ہوئی، توجن لوگوں نے آپ کے جنازہ کو غسل دیا، انہوں نے دیکھا کہ آپ کی کمر کے پاس کی ہڈیاں بالکل دھنس گئی ہیں، وہاں گوشت اور چربی کا کوئی نام ونشان تک نہیں ہے، تو انہوں نے شیخ الاسلام حضرت مولاناحسین احمد مدنی سے جو ان کے تلمیذ اور خادمِ خاص تھے، اس کی وجہ دریافت کی، وہ رونے لگے اور کہاکہ حضرت کا یہ راز اب تک میرے سینے میں مدفون تھا، دراصل قید کے دوران انگریز سپاہی اقبالِ جرم پر آمادہ کرنے کے لیے گرم لوہے سے ان کی کمر کو داغتے تھے، جس کی وجہ سے کمر کی ساری چربی پگھل گئی تھی اور وہاں گوشت نہیں دکھتا تھا۔ یہ بدبخت انگریز صرف مسلمانوں کے جسموں کے ساتھ ہی کھیلواڑ نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کے جذبۂ ایمانی کو تکلیف پہنچانے کے لیے 1861 میں انہوں نے قرآن کریم کی تقریباً 300,000 کاپیاں نظر آتش کیں، اس کے علاوہ نہ معلوم کتنی مسجدوں کوشہید کیا، کتنے ہی خانما اجاڑدیے، تب جاکرآج ہم بڑی ہی شان سے یہ جشنِ یومِ آزادی منارہے ہیں اور منانی بھی چاہیے، لیکن خونِ شہیداں سے بغاوت کرکے نہیں، آپ شوق سے شہدائِ آزادی کو خراجِ عقیدت پیش کریں، لیکن اس محفل میں ان ناموں کی بھی شمع جلائیں، جنہوں نے ہر بار اس ملک کے گیسوئے برہم کو سنوارا اور سجایا ہے اورآپ مجھ کو خونِ شہیداں میں تفریق کا طعنہ نہیں دے سکتے، کیونکہ میں ان خون کو مقطر کررہاہوں، جن کو آپ کی گندی ذہنیت کے پیپ نے فاسد کردیا ہے۔

مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Back to top button
Close