آج کا کالم

کہانی اپنے ہندوستان کی: قسط(17) گوشت خور

رمیض احمد تقی
اب تو تقریباً یہ سن سن کر ہمارادل بھی پتھر ہوگیا ہے کہ فلاں شہر میں ایک مسلمان کو گائے کا گوشت پکانے کے جرم میں لوگوں نے اس کو پتھر مار مار کر مار ڈالا ،تو فلاں اسٹیشن پر ایک مسلم خاتون گائے کے گوشت کے ساتھ پکڑی گئی اور لوگوں نے اسے مار مار کرزندہ لعش بنا دیا اور فلاں کمپنی کے کچھ لوگوں نے مل کر ایک مسلم نوجوان کو صرف اس شک میں اس کا گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیاکہ اس نے بھی بقرعید کے موقع پر گائے کا گوشت کھایاہوگا اور آج کل ہمارے اخبارورسائل کی شہ سرخیاں انہی خبروں سے رنگین رہتی ہیں۔ طرفہ کی بات یہ ہے کہ نہ ہی سرکاری حکام کو اس سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی حکومت کو اس میں کوئی دلچسپی ،غضب بالائے غضب یہ کہ ایک صوبہ کے بعد دوسرے صوبہ میں اس تعلق سے عجیب وغریب قسم کے سخت قانون نافذ کرنے کی وکالت ہوتی ہے ، لیکن ان حادثات میں انسانی قتلِ عام پر کسی کی پیشانی پرسلوٹیں نہیں پڑتیں!
یہاں میری طرح ہر کسی کے ذہن میں یہ سوال ضرور کلبلاتاہوگا کہ کیا حقیقت میں گائے کا ذبیحہ ہندو مذہب میں ممنوع ہے ؟ یا پھر یہ ان کی اپنی ہی مذہبی تعلیم سے بغاوت اورجہالت کے باوصف کسی مذہب یا فرقہ کے لوگوں کو بے جا پریشان کرناہے؟کیونکہ اس روئے زمین پر جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ کسی نہ کسی درجہ میں انسان کے تابع ہیں اور انہیں صرف اور صرف اس کی ہی نفع رسانی کے لیے پیدا کیا گیا ہے، ان مخلوقات میں سے بعضے کو انسان اپنے کام کاج اور بعضے کو غذا کے طور پر استعمال کرتا ہے ، اس کا ثبوت دنیا کے تمام مذاہب میں یکساں ملتا ہے ،نیز عقلی اور طبی نقطۂ نظر سے بھی یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے اور یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ انسان کی تخلیق دیگرتمام حیوانات سے بہت مختلف ہے، اس لیے اس کی غذا بھی ان کے مقابلہ میں مختلف ہونی چاہییے؛چنانچہ انسان اپنی فطری مضبوط قوتِ ہاضمہ کے باوصف گوشت اور سبزی دونوں قسم کی غذا ؤں کو ہضم کرلیتاہے ،جبکہ دیگر حیوانات میں یہ خوبی ودیعت نہیں کی گئی ہے۔ ان کی غذا یا تو صرف گوشت ہوتی ہے،یا صرف نباتات۔ بہت کم ہی جانور ایسے ہیں جو دونوں قسم کی غذاؤں کو برداشت کرلیتے ہیں۔مثلاً شیر اور اس قسم کے دوسرے درندوں کی خوراک صرف گوشت ہے،ان کا ہاضمہ سبزی وغیرہ کو کبھی برداشت نہیں کرتا، یہی کیفیت گائے، بیل ،بھینس بکری اور اس جنس سے متعلق دیگرجانوروں کی ہے کہ ان کی غذا صرف سبزی ہی ہے۔ اگر ان کے سامنے گوشت پیش کیا جائے، تو اس کو کھانا تو دور کی بات اس میں وہ منہ تک نہیں لگاتے۔نیز گوشت کے اندر اعلیٰ قسم کی پروٹین ہوتی ہے، جو زمین کے کسی بھی نباتات کے اندر نہیں پائی جاتی اور جسمانی قُوَ یٰ کے لیے ایک اعلیٰ قسم کی پروٹین کی کتنی زیادہ اہمیت ہے اس کا احساس توعلم طب پڑھنے کا بعد ہی ہوسکتا ہے ۔نیز اگر تمام انسان سبزی خور ہوجائیں، تو پوری دنیا میں صرف گائے کی ہی اتنی بہتات ہوجائے گی کہ لامحالہ اس کی نسل کشی کرنی پڑے گی ، یا پھر وہ ہماری عدمِ توجہات کا شکار ہوں گی، اس کی ایک چھوٹی سی مثال راجستھان ہنگونیا گؤ شالہ کی ہے، جہاں 6اگست 2016 ’دَ ٹربیون‘ انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس سال جنوری سے اکتیس جولائی کے درمیان بیماری کی وجہ سے ہر مہینے میں 1,053 گائے کے حساب سے 8,122 گائیوں کی موت ہوچکی ہے ،بلکہ ابھی گذشتہ صرف دس دنوں میں پانچ سو سے زاید گائیں اس حادثاتی موت کاشکار ہوئی ہیں اور پورے ملک کے گؤ شالہ اور شخصی گؤ پالک میں مرنے والی گائیوں کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔
’ٹائمس آف انڈیا‘ کی ایک خبر کے مطابق سوسال پہلے ہندوستانی جنگلات میں چالیس ہزار ٹائیگر تھے، جبکہ ابھی ان کی تعداد تقریباًبیس ہزار ہے، یعنی گذشتہ سو سالوں میں ہر سال دوسو ٹائیگرکے حساب سے بیس ہزار ٹائیگر حادثاتی موت کے شکار ہوئے ، اسی لیے یہ گمان کیا گیا کہ اگر ٹائیگروں کے شکار پر روک نہیں لگائی جاتی،تو شایدآج تک پورے ہندوستانی جنگلات سے ٹائیگروں کا خاتمہ ہوچکا ہوتا۔اس کے بر خلاف ہر سال کروڑوں کی تعداد میں گائے ذبح اور قربان کیے جاتے ہیں ، بلکہ بیف سپلائی میں ہندوستان پوری دنیا میں برازیل کے بعددوسرے مقام پر ہے۔ یہاں چھہ بہت بڑے سلاٹر ہاؤس ہیں، جن میں چار ہندوؤں کے ہیں، جو کثیر تعداد میں دیگر بڑے جانوروں کے ساتھ گائے بھی سپلائی کرتے ہیں ، تو پورے سال میں صرف دوسو ٹائیگر کے شکارہوجانے سے اس کی تعداد گھٹنے لگی ، لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ ہرسال کروڑوں کی تعداد میں گائے ذبح کرنے سے اس کی تعداد میں کوئی فرق نہیں آیا؟اس سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قدرت نے اس کو انسانوں کے لیے حلال قراردیا ہے ،اس لیے کہ انسان جس چیز کو کثرت سے استعمال کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی پیداوار میں فراوانی پیدا کردیتے ہیں، اب اگرصرف گائے، یا مزید اس کے جنس سے متعلق جتنے بھی چھوٹے بڑے جانور ہیں، ان کے ذبیحہ پر پابندی لگادی جائے تو ان کی اتنی بہتات ہوجائے گی کہ اس کو سنبھالنا خود حکومتِ وقت کے لیے بھی دشوار ہوجائے گا!
البتہ بعض حقیقت ناشناسوں کا یہ خیال ہے کہ گوشت کھانا ہندو مذہب میں ممنوع ہے ، یہ سراسر اس مذہب پربہتان ہے ؛ اس لیے کہ گوشت کھانا ہندو مذہب میں نہ صرف جائز ہے بلکہ عظیم عبادت ہے۔اس مذہب کی مقدس کتا بوں کے مطالعہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ بعض موقع پر گوشت کھانا فرض ہے ،یہاں تک کہ اگر کوئی اس موقع پر گوشت کھانے سے انکار کردے تو وہ سیدھے نرک(جہنم) میں جائے گا ؛ چنانچہ’ وِشنو دھرموتر پوران‘ جلد :1، پارہ: 140 اور شلوکہ 50-149میں مذکور ہے کہ’ جو شخص شرادھ میں گوشت نہیں کھائے گا وہ نرک میں جائے گا‘۔ بلکہ ہندو مذہب کی دوسری کتاب ’مانو سمورتی‘ نے اسی بات کو ذراسخت انداز میں یوں بیان کیا ہے کہ’ اگرکسی نے شرادھ کیا اور اس نے گوشت نہیں کھایا،تو وہ اکیس سالوں کے پُنہ جنموں میں بَلی کا جانور بنا کر پیدا کیا جائے گا‘۔(مانو سمورتی: پارہ5، شلوکہ35)،اسی طرح ’مہابھارت انوشاشن پَرو‘ پارہ: 88 میں یودھشتھرا اور پِتما بھشماکے مکالمے کو ذکر گیا ہے کہ شر ادھ میں کیسا کھانا ہونا چاہیئے کہ مرنے والے کی آتما کو خوب اور لمبا سکون حاصل ہو ، چنانچہ یودھشتھرا نے بھشما سے سوال کیا کہ گُرو جی! مجھے بتایئے کہ شَرادھ میں کس قسم کا کھانا پیش کرنے سے ہمارے پُروجوں کی آتما کو دائمی سکون حاصل ہوگا؟ تو بھشما نے جواب دیا کہ ائے یودھشتھر میری بات سن!’ اگرشرادھ میں راجمہ، چاول، جَو،دَلیا، پانی اوردیگر میوہ جات پیش کیے جائیں، تو اس سے اس مہینہ تک اس کی آتما کو شانتی ملتی رہے گی، مچھلی سے دو مہینے تک ، مَٹن کی وجہ سے تین مہینے تک، خرگوش کے گوشت سے چار مہینے تک، بکری کے گوشت سے پانچ مہینے تک ، کم عمر خنزیر کے گوشت سے چھہ مہینے تک ، چڑیوں کے گوشت سے سات مہینے تک ، ہرن کے گوشت سے آٹھ مہینے تک،جوان عمر ہرن کے گوشت سے نو مہینے تک اور عمررسیدہ کے گوشت دس مہینے تک، بھینس کے گوشت سے گیارہ مہینے تک، گائے کے گوشت سے تمام سالوں تک ، جوان عمر بیل کے گوشت سے بارہ سال تک‘۔ نیز ’مانوسمورتی‘ کے پارہ: 5 اور شلوکہ30میں یہ مذکورہے کہ’ جانوروں کا گوشت کھانے میں کوئی بُرائی نہیں ہے ، اس لیے کہ اِشور(اللہ تعالیٰ) نے بذات خود بعض کو آکل اور بعض کو ماکول بنایا ہے‘ ۔گوشت کھانے کی حلت ، بلکہ اس کا حکم ویدوں میں بھی موجود ہے، جوکہ ہندومذہب کی انتہائی مقدس کتابوں میں شمار کی جاتی ہیں؛چناچہ’ رِگ وید‘ جلد:1، پارہ 27 اور شلوکہ2 میں یہ مذکور ہے کہ’ جب میں اپنے پیروکاروں کو ناستکوں پر فتح عطا کروں توان کے لیے گھروں پر کڑیل بیلوں سے ضیافت کرو‘۔نیز ریگ وید10،85،13میں یہ مذکور ہے کہ’ لڑکیوں کی شادی کے موقع پر بیل اور گائے ذبح کرنا چاہیے ‘ور اسی رِگ وید کے جلد:1، پارہ 6 اور شلوکہ 17 میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ ’ہندو مذہب کے اوتار شری اندرا گائے، بچھڑا، گھوڑا اور بھینس کا گوشت کھایا کرتے تھے‘۔ اور ’مانوسمورتی‘کے پارہ تین، شلوکہ226 اور 227 میں یہ مذکور ہے کہ’ ان(پیروکاروں) کو چاہیئے کہ وہ اپنے پنڈتوں کے سامنے موسم کے پھل ،جوس، میوہ جات، دودھ، دہی، خالص مکھن ،شہد اور مختلف اقسام کے وہ کھانے جن کوتفکہ کے طور پرکھایا جاتا ہے، نیز پھل پھُلیری ، مزے دار گوشت اور خوشبودار پانی پیش کریں‘۔ ان کے علاوہ ’ مہابھارت شانتی پرو‘ پارہ: 29میں رانتی دیو نامی ایک بادشاہ کی کہانی بیان کی گئی ہے جو بہت زیادہ مالدار اور فیاض تھا، وہ روزانہ ہزاروں لوگوں کی دعوت کیاکرتاتھا، اس کے بارے میں لکھاہے کہ رانتی دیو کے محل میں ہر قسم کے برتن اور پلیٹ جن میں کھانا پیش کیا جاتا تھا، اسی طرح تمام لوٹے ، پاندان، کھانے کے پلیٹ اور پیالے سب کے سب سونے کے بنے ہوئے تھے، ان ایام میں جب مہمان رانتی دیو کے محل میں قیام پذیر ہوتے تھے ،تووہ ان کی ضیافت کے لیے بیس ہزار ایک سو گائے ذبح کرواتاتھا اور یہ بھی بسا اوقات کم پڑجاتا تھا‘ اور آج بھی بہت سے ہندو ، بلکہ پنڈت بڑے شوق سے اور مزے مزے لے لے کر بڑے کا گوشت تناول فرماتے ہیں۔
چنانچہ ان حقائق وشوہدات اور واقعات کی روشنی میں جبکہ یہ ان کی مذہبی روایات کے اعتبار سے صحیح بھی ہیں تو مذہب کو بنیاد بناکر اس کی آڑ میں بڑے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرنا اور اس کی پاداش میں کسی کو موت کے گھاٹ اتار دینا کہاں کی دانش مندی ہوگی؟ اورویسے بھی ہندو مذہب کی کسی بھی مذہبی کتاب میں یہ مذکور نہیں ہے کہ گائے مذہبی جانور ہے اور اس کو ذبح کرکے کھانے والا نرک میں جائے گا، چنانچہ ایک مرتبہ کسی اسکول کے دورہ پر کچھ طلبا نے ہندوستان کی سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی جی سے گائے کے ذبیحہ کے متعلق سوال کیا ، تو انہوں نے جواب دیا کہ دراصل قدیم زمانے میں ہندوستانی کسانوں کی پوری کاشت گائیوں پر موقوف تھی؛اس لیے بعد کے زمانے میں اس کو محترم سمجھا جانے لگااور یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے کہ گائے اس زمانے میں ہندوستانی خاندان کے نان شبینہ کا بہترین ذریعہ تھا، بلکہ ہندوستانی زراعت کی بنیاد ہی گائیوں پر ٹکی ہوئی تھی، بلکہ آج بھی گاؤں دیہات میں کئی لوگ ٹریکٹروں کے بجائے بیلوں سے سقائی وسینچائی اور جوتائی کا کام کرتے ہیں اور ہندو دھرم میںیہ عجیب المیہ ہے کہ جس چیز میں انہیں فائدہ نظر آتا ہے، وہ انہیں عقیدت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں، پھر وہی ان کی عبادت بن جاتی ہے اور یہ ایسا ہی ہے کہ اگر کسی کو لیمن بہت پسند آگیا ،وہ اسے عبادت کی جگہوں میں استعمال کرنے لگا، اب اگر وہ یہ کہے کہ لیمن میرا مذہبی پھل ہے، اس لیے کوئی اس کو نہ کھائے ورنہ ہم اس کے خلاف اعلانِ جنگ کریں گے ، اب آپ ہی بتائیے کہ کیا کوئی کم عقل انسان بھی اس فیصلے کو درست کہے گا،نیزہندو مذہب کے عظیم مبلغ سوامی ویویک آنند نے لکھا ہے کہ’ ایک انسان اس وقت تک اچھا ہندو نہیں ہوسکتا جب تک وہ بڑے کا گوشت نہ کھائے ‘(The Complete Works of Swami Vivekananda, vol.3, p. 536)۔ یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ ہمارے ملک میںآج گائے کے نام پر کس بے دردی سے انسانیت کا قتلِ عام ہورہا ہے، یہ یقیناًہمارے لمحۂ فکریہ ہے کہ اگر ہم یونہی کاٹکتے اور کٹتے رہے، تو پھرجہاں میں انسان ہی کہاں رہ جائیں گے اور ویسے بھی ذرا آپ اپنے جذبات پر قابو رکھیں، ورنہ ’کالی مائی‘ ،’درگامائی‘، ’گائے ماتا‘، ’گنگامیا‘؛ اس ملک کی ہر چیزقابل حرمت بن جائیں گی اور بالآخر آپ بھی کبھی نہ کبھی اس کی حرمت کے پامالی کے مرتکب ہون گے!!!
Mob:9205805298

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Close