آج کا کالم

کہیں ہم فسطائی ذہنیت کے اسیر تو نہیں ہوتے جا رہے ہیں؟ 

شاہد جمال فلاحی

ہندوستان کی موجودہ صورت حال کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ملک اگر ایک طرف سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کرتا نظر آرہا ہے تو وہیں دوسری طرف یہ تہذیبی اور اخلاقی زوال کا شکار ہوتا نظر آرہا ہے تعلیم، اقتصادیات ،معیشت، سیاست تقریباً تمام ہی شعبے میں یہ زوال عیاں ہے۔ آزادی سے لیکر اب تک اس ملک کی سیاسی زمام مختلف النوع ذہن کے سیاسی لیڈران کے ہاتھوں میں رہی ہے اور تقریباً سب نے اپنے اپنے انداز اور سیاسی تجربے و صلاحیت کی روشنی میں اس ملک کی خدمت کی ہے۔ کسی نے معیشت پر زور دیا تو کسی نے اقتصادیات پر، کسی نے خارجی امور پہ توجہ دی تو کسی نے داخلی امور پر ، مطلب یہ کہ ان تمام سیاسی رہنمائوں کے نزدیک اس ملک کی ترقی و خوشحالی کا کوئی نہ کوئی گوشہ ہمیشہ ہی موضوع بحث رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ان سیاسی رہنمائوں نے اپنے پورے سیاسی کریئر میں کوئی غلطی نہیں کی، یقیناً ان سے غلطیاں سرزد ہوئی ہونگی، ان کے کسی فیصلے نے اس ملک کی ترقی کی رفتار کو ضرور متاثر کیا ہوگا لیکن ان سب کے باوجود مجھے نہیں لگتا کہ اس ملک کے گزشتہ کسی وزیر اعظم نے یہاں کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ٹھیس پہنچایا ہو یا کسی خاص طبقے کے اندرعدم اطمینا ن و عدم تحفظ کی کیفیت پیدا کی ہو۔ بات محض کسی خاص طبقے کے اندر عدم اطمینان و عدم تحفظ تک ہی محدود نہیں ہے مزید برآں یہ کہ اس ملک نے اس سے قبل اتنے زبردست سیاسی بحران کا سامنا نہیں کیا جتنا کہ یہ ابھی کر رہا ہے۔ عدم اطمینان، عدم تحفظ، امن کا فقدان، فرقہ وارانہ فسادات، سیاسی بحران، بے روز گاری، غربت، جہالت و عدم صحت یہ وہ تمام صفات ہیں جو اس ملک کے نام منسوب ہیں۔
2014 کے عام انتخابات سے قبل ہندوستانی عوام ان تمام بحرانوں سے باہر نکلنا چاہتی تھی۔ انہیں ایسے ناخدا کی تلاش تھی جو اس ملک کے سفینے کو خوشحالی و امن کے اس ساحل تک پہنچا دے جس کے بعد خوف و دہشت کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہے۔ انہیں تلاش تھی ایک ایسے مسیحا کی جو اس ملک سے غربت، جہالت اور بے روزگاری جیسے سماجی نامور کو ہمیشہ ہمیش کے لئے ختم کر دے، انتخابات سے قبل بہت سے سیاسی رہنمائوں نے عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ ملک کو موجودہ صورتِ حال سے باہر نکالنے کیلئے ان سے بہتر اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ ہمیشہ کی طرح بڑے بڑے وعدے کئے گئے، روز گار و فلاح و بہبود کے سبز باغ دکھائے گئے۔
2014کے عام انتخابات سے قبل موجودہ حکومت نے ملک کی ترقی کے نام پر عوام کا اعتماد حاصل کیا اور نئی حکومت کی تشکیل عمل میں آئی لیکن افسوس صد افسوس کہ نئی حکومت کی تشکیل سے لیکر اب تک موجودہ حکومت کے کسی بھی عمل سے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ اس ملک کی ترقی و خوشحالی چاہتی ہے بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ موجودہ حکومت اس ملک کی ترقی تو دور اس ملک کو پستی و زبوں حالی کے اس دور کی طرف واپس لے جانا چاہتی ہے جس کے بارے میں سوچ کر روح کانپ جاتی ہے۔
آپ کو میری باتیں چند لمحے کیلئے حیرت میں ڈال سکتی ہیں لیکن اگر آپ میری باتوں کو سنجیدگی سے لیں تو شاید آپ بھی سمجھ جائیں گے میں کس پستی اور زبوں حالی کی بات کر رہا ہوں۔ نئی حکومت کی تشکیل سے لیکر اب تک اخبارات میں اور نیوز چینلز پر جو مسائل زیر بحث رہے ہیں کیا وہ اتنے اہم تھے؟ سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ کیا انہیں مسائل کہنا بھی درست ہے یا نہیں؟
لوجہاد، گؤکشی، تبدیلی مذہب، گھر واپسی، عدم رواداری، جنگ وجدال  وغیرہ وغیرہ کیا ملک کی ترقی کا راز انہیں مسائل میں پنہاں ہے؟ کیا یہ غربت، جہالت، بے روزگاری اور بدعنوانی جیسے مسائل سے زیادہ اہم ہیں؟ میں یہاں یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ نریندر مودی کی قیادت میں جس نئی حکومت کی تشکیل عمل میں آئی تھی، اسے ہندوستان کی محض1 3فیصد عوام کا اعتماد حاصل ہے، مطلب یہ کہ 69فیصد عوام نے سرے سے ہی اس قیادت اور حکومت کو تسلیم نہیں کیا، مزید یہ کہ جن 31فیصد عوام نے موجودہ حکومت کو اپنے قیمتی ووٹ دیئے تھے ان میں سے بھی زیادہ تر ایسے تھے جنہوں نے اس ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے موجودہ حکومت پر بھروسہ کیا تھا۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو اس لئے ووٹ نہیں کیا تھا کہ حکومت کی تشکیل کے بعد وہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا شیرازہ بکھیر دے، لغو اور فرسودہ نظریات و خیالات کے ذریعہ انسانی رشتوں میں زہر بھر دے، مذہب اور ذات پات کے نام پر ہندوستانی عوام کو تقسیم کیا جائے، اس ملک کی صورت حال کو اتنا محدود کردیا جائے کہ جس میں صرف ہندتوا کا وجود ہی سانس لے سکے بقیہ تمام دوسرے مذاہب اور اعتقادات کے ماننے والے لوگوں کا دم گھٹ جائے۔ نصابی کتابوں میں ایسے مواد ڈالے جائیں جن سے چھوٹے چھوٹے اور معصوم بچوں کے ذہن میں مذہبی رواداری کا وجود ہی باقی نہ رہے۔ ہندوستان کی موجودہ تاریخ کو جلا کر ایک ایسی تاریخ رقم کی جائے جس کی نہ کوئی بنیاد ہو اور نہ کوئی اساس ۔
تاریخ کا مطلب محض کہانیاں نہیں ہے۔ تاریخ تو مجموعہ ہے تہذیب و ثقافت کا مذہب و لسانیات کا ، فکر و نظر کا۔ ان فسطائی طاقتوں نے اس ملک کی تاریخ کو محض کہانیوں کا مجموعہ سمجھ رکھا ہے، جسے یہ اپنی گندی سیاست کے لئے تبدیل کرنا چاہتے ہیں، تو یہ اس ملک کے سنہرے ماضی کو تاریخ کے اوراق سے کیسے مٹا سکتے ہیں، اس ملک کی تہذیب وتقافت کو کیسے بدل سکتے ہیں؟ یہ کوئی نئی کاوش نہیں ہے بلکہ جب بھی اس ملک میں فسطائی طاقتوں نے حکومت حاصل کی ہے انہوں نے سب سے پہلا نشانہ تعلیم کو بنایا ہے درسی کتاب سے لیکر تعلیم کے ہر اس نقطے پر سوال اٹھایا ہے جو کثرت میں وحدت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان فسطائی طاقتوں کے حامی و سیاسی رہنمائوں کو نہ رام کی سمجھ ہے نہ رحیم کی، انہیں اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب سے محبت نہیں ہے، انہیں صرف محبت ہے اس گندی سیاست سے جو انہیں اسمبلی و پارلیمنٹ تک پہنچنے میں مدد کرتی ہے اور پھر جب ایسے لوگ اسمبلی و پارلیمینٹ میں پہنچتے ہیں تو پھر یہ وہی کرتے ہیں جو آج ہم اور آپ دیکھ رہے ہیں۔ تعلیمی نظام میں تبدیلی آتی ہے، درسی کتابوں کے مواد بدل دیئے جاتے ہیں، تکثیری پہلوئوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ غر ضیکہ مکمل تعلیمی ڈھانچے کو منصوبہ بند طریقے سے بدل دیا جاتا ہے۔
آج دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت فسطائی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جمہوریت اور فسطائیت دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ جمہوریت ملک میں امن اور کشادہ نظری کیلئے راہ ہموار کرتی ہے۔ جبکہ فسطائیت ملک کو بدامنی اور تنگ نظری کی طرف لے جاتی ہے۔ اس ملک کا شہری ہونے کی حیثیت سے مجھے ہمیشہ سے یہاں کی مذہبی و ثقافتی رنگارنگی پر رشک ہونے کے ساتھ ساتھ فخر بھی ہوتا ہے، لیکن اب دھیرے دھیرے یہ رشک و فخر فکرو تعجب میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
مجھے افسوس اس بات پر ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے اس ملک میں جمہوریت فسطائی طاقتوں کے ہاتھوں میں محض کھلونا بنی ہوئی ہے۔ کتنی آسانی سے جمہوری قدروں کو پامال کیا جا رہے ہے اور ایک ایسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں اختلاف و انتشار کا پیدا ہونا غیر یقینی بات نہیں ہے۔
میڈیا جسے جمہوریت کا چوتھا اور سب سے اہم ستون تصور کیا جاتا ہے، اس نازک وقت میں اس کا رول بھی پھیکا و منفی نظر آتا ہے۔ ملک کے اہم اور سنجیدہ مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے ان کے لئے غیر ضروری خبریں زیادہ اہم ہیں۔ ہندوستانی میڈیا تو وہ ہے کہ جب بچن فیملی میں ایک بچی پیدا ہوتی ہے تو تقریباً تمام ہی میڈیا کا کوریج اسے ملتا ہے لیکن ہزاروں مائیں، سڑک کے کنارے اپنے بچوں کو جنم دیتی ہیں اور صحیح طبی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے انکی اور انکے بچے کی جان چلی جاتی ہے پھر اس وقت یہ میڈیا کہاں ہوتی ہے؟ کیا یہ ملک محض بچن فیملی تک ہی محدود ہے یا یہ غریب اور بے سہارا مائیں اس ملک کا حصہ نہیں ہیں؟ یہاں میری مراد محض ان میڈیا سے ہے جن کیلئے خبریں صرف ذریعہ تجارت ہے جنہیں اس ملک کی ترقی و خوشحالی، امن و سلامتی سے کوئی سروکار نہیں۔ انہوں نے اپنی اپنی دکانیں کھول رکھی ہیں اور ان کے لئے ٹی آر پی کی شرح ہی سب کچھ ہے۔
میں اپنی اس تحریر کے ذریعہ اس ملک کے سیاسی رہنمائوں، ذمہ دار شخصیتوں اور صحافت کے میدان میں با اثر افراد سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس ملک کو درپیش مسائل کو سمجھیں اور اس سمت مثبت اقدامات اٹھائیں۔ اس ملک کو ضرورت ہے خوشحالی کی، ترقی کی، غربت سے نجات کی، اس ملک کو ضرورت ہے ایسے مخلص سیاسی و سماجی افراد کی جو عوام کی بنیادی ضرورتوں کو پوری کریں، بچوں کی تعلیم کا انتظام کریں، بدعنوانی ختم کریں اور نظم و نسق میں بہتری لائیں۔
آج اس ملک کو سب سے بڑا خطرہ فسطائی فکرو نظر سے ہے جو اس ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ملک کی موجودہ صورت حال کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ کثرت میں وحدت کا جو نایاب سرمایہ ہمارے آباء واجداد نے بہت ہی حفاظت کے ساتھ ہم تک پہنچایا تھا بہت جلد یہ سرمایہ ہمارے ہاتھوں سے چھین لیا جائے گا اور ہمارے ہاتھوں کو فسطائی زنجیروں میں جکڑ کر فسطائی فکرو نظر کا غلام بنا دیا جائے گا۔ میں جانتا ہوں کہ ہم میںسے کوئی بھی ایسا ہندوستان نہیں چاہتا جہاں ہمارے دلوں میں مذہب اور ذات پات کے نام پر دیواریں کھڑی ہوں لیکن اگر ہم ایسا ہندوستان نہیں چاہتے تو ہمیں اس کیلئے مضبوط و متحد ہونا ہوگا۔ ہمیں مضبوط و متحد ہونا ہوگا ان فسطائی طاقتوں کے خلاف۔ ہمیں اپنے قول و عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ ملک ہم سب کا ہے اور اس ملک کی آزاد فضا میں ہر کسی کو سانس لینے کا حق ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہویا کسی بھی طبقے سے اس کا تعلق ہوتب ہی ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب شرمندہ تعبیرہو سکے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

شاہد جمال فلاحی

شاہد جمال فلاحی جامعہ ملیہ سلامیہ سے ایم ایڈ کررہے ہیں۔ آپ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ آپ کی نگارشات معروف اردو اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتی ہیں۔ shahidjamal@mazameen.com

متعلقہ

Close