آج کا کالم

کہیں یہ وعدہ کسان آندولن روکنے کے لئے تو نہیں؟

رويش کمار

مترجم: محمد اسعد فلاحی

ملک میں بھلے چاہے جتنی پریشانی ہو، ہمارے لیڈروں کو کوئی پریشانی نہیں ہے. وہ آرام سے اچھے کپڑے پہن رہے ہیں، ان کے سوٹ کیس نئے نئے سے لگتے ہیں. چشمہ بھی مہنگ ہی ہوتا ہے، اس پارٹی سے ٹکٹ نہیں ملتا ہے تو اس دَل سے لے آتے ہیں. آپ جمہوریت پر بحث کرتے رہئیے، آپ کے سارے تنازعات کا فائدہ وہ لوگ اٹھا لے جاتے ہیں جو کسی جدوجہد میں نہیں ہوتے ہیں، کسی سڑک پر نہیں نظر آتے ہیں اور آرام سے ٹکٹ لے کر پارٹی تک خرید لیتے ہیں. جب بھی آپ نیتاؤں کی طرف دیکھیں گے تو خود پر ہی شک ہونے لگے گا کہ خواہ مخواہ ہم پریشان ہیں. اکبر الٰہ آبادی کا شعر ہے:

 قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ

رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

عوام کے لئے جمہوریت خطرے میں ہے کیونکہ اس کی آواز سنی نہیں جاتی، نیتا کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے. اسی لیے آپ کسی نیتا کو سڑک پر جدوجہد کرتے نہیں دیکھ سکیں گے، وہ اسٹیج پر آتا ہے اور چلا جاتا ہے.

کسان نہ تو راجیہ سبھا کا ٹکٹ خرید سکتے ہیں نہ لوک سبھا کا. وہ نہ تو دَل بدل سکتے ہیں اور نہ ہی کپڑے بدل پا رہے ہیں. ناسك سے ممبئی تک پیدل مارچ کرنا پڑتا ہے. 180 کلومیٹر کے اس سفر میں کسانوں نے اپنی تکلیف کو پھر سے جيا ہوگا، پھر وہ اپنی آواز اور ارادے کو دھار دے پائے ہوں گے. ان سب کامیابیوں کو حاصل کرتے ہوئے جب ممبئی آتے ہیں تب کیمروں کی نگاہ ان کے پاؤں کے چھالوں پر پڑتی ہے. لاگت سے ڈیڑھ گنا دام مل نہیں رہا ہے، اعلان ہی ہو رہا ہے، یقین دہانی ہی مل رہی ہے. پنشن مانگ رہے ہیں پر مل نہیں رہی ہے. قرض معافی مانگتے ہیں، جس کا اعلان تو ہوتا ہے مگر پورا نہیں ہوتا ہے. پرامن ریلی کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت نے زیادہ تر مطالبات مان لیے ہیں. 30 جون 2017 تک کے قرض معاف ہوں گے. آپ کو یاد ہوگا کہ مہاراشٹر میں 24 جون 2017 کو قرض معافی کا اعلان ہوا تھا. ڈیڑھ لاکھ تک کے زرعی قرض کے معاف کئے جانے کا اعلان کیا گیا تھا. دعوی تھا کہ 89 لاکھ کسانوں کو فائدہ ہو گا. ریاستی حکومت کے خزانے پر000 34،کروڑ کا بوجھ پڑے گا. لیکن لوگ بتاتے ہیں کہ ابھی تک سب کو قرض معافی نہیں ملی ہے. اب ایک نیا اعلان ہوا ہے کہ 30 جون 2017 تک کے قرض معاف ہوں گے. آل انڈیا کسان جنرل اسمبلی کے بینر تلے ان کسانوں نے اپنا سفر مکمل کر حکومت پر دوبارہ اثر ڈالا ہے کہ پہلے کا وعدہ بھول جانے پر وہ دوبارہ واپس آسکتے ہیں. دوبارہ بھول جانے پر تبارا واپس آسکتے ہیں.

9 مارچ کو ممبئی میں آیا، آندولنوں کے ساتھ ریاستی حکومت نے بات چیت کی. جو ان کی مانگیں تھیں ان میں سے قریب قریب ساری مانگیں منظور کر لی ہیں. 90 فیصد سے زیادہ بے زمین آدی باسی تھے. ان کا مطالبہ تھا انہیں جنگل کی زمین کا پٹّا ملنا چاہئے، حکومت نے یقین دہانی کی ہے کہ چھ ماہ میں ایسے سارے دعووں کو منظور کریں گے. قانون میں جتنی زمین کی اجازت ہے وہ انہیں دی جائے گی.

15 دسمبر 2006 یعنی 11 سال پہلے ایک قانون پاس ہوا تھا. ہوا یہ تھا کہ جو آدی باسی صدیوں سے اپنی زمین پر رہ رہے تھے، انہیں اتی كرمن كاري کے طور پر دیکھا جانے لگا تھا. جنگل میں رہنے والے قبائلیوں کو اپنی ہی زمین اور جنگل پر حق نہیں تھا. فوریسٹ افسر سمجھتا تھا کہ وہی جنگل کا مالک ہے، قبائلی نہیں. 11 سال پہلے پاس ہونے کے بعد اس قانون کے تحت بڑی تعداد میں قبائلیوں کو زمین کی پٹّے ملے ہیں. مہاراشٹر کے آدی باسی کسان پارلیمنٹ کے پاس بنائے گئے اپنے قانون کے مطابق حق مانگ رہے ہیں. گڑھ چرولي اور ندربار میں 2006 کے حساب سے زمین تو ملی ہے، مگر باقی اضلاع میں نہیں ملی ہے. 11 سال پہلے پاس ہوئے اس قانون کا یہ ریکارڈ ہے کہ دو ہی ضلع میں کچھ ڈھنگ سے لاگو ہوا ہے، باقی اضلاع میں حال بہت اچھا نہیں ہے. کیا مہاراشٹر حکومت چھ ماہ کے اندر آدی باسی کسانوں کو ان کا حق دلا سکتی ہے. اسی 6 مارچ 2018 کی ہندو کی خبر ہے. حکومت ہند کے آدی باسی کیس کے وزیر نے ریاست کے چیف سیکرٹریوں کو ہدایت دی کہ جنگل حقوق کے قانون 2006 کے تحت جتنے بھی دعوے کئے گئے ہیں انہیں فوری طور پر نمٹایا جائے.

اس سال 30 جنوری تک 20 ریاستوں میں قریب 1 لاکھ 40 ہزار دعوے کئے گئے. ان میں سے328 64، یعنی 46 فیصد زمین کی شناخت کر لی گئی. مدھیہ پردیش سے سب سے زیادہ دعوی کیا گیا275 27،. اس کے بعد چھتیس گڑھ 161 14، اڈیسا 5964 اور مہاراشٹرا 5748.

کسانوں نے بورڈ کے طالب علموں کا خیال رکھا. انہیں صبح دقت نہ ہو تو وہ رات کو ہی چل کر ممبئی آ گئے. بدلے میں ممبئی والوں نے بھی کسانوں کا خوب خیال رکھا. کوئی چائے لے کر آیا، کوئی کھانا لے کر تو کوئی چپل لے کر آ گیا.

اگر یہ تبدیلی ہے تو اچھا ہے. کب تک کسانوں کو نظر انداز کیا جائے گا. نیرَو مودی ہزاروں کروڑ لے کر بھاگ جاتا ہے مگر کسان ڈیڑھ لاکھ کے قرض کے لئے پھانسی چڑھ جاتا ہے. ہر بجٹ میں آپ سنتے ہوں گے کہ کسانوں کے لئے قرض کی رقم اس وقت 10 لاکھ کروڑ ہوگی. کیا وہ رقم انہیں ملتی ہے. آپ جانتے ہیں کہ اس بار کے بجٹ میں زرعی قرضوں کا ہدف گزشتہ سال کے 10 لاکھ کروڑ سے بڑھا کر 11 لاکھ کروڑ کر دیا گیا ہے. پی سائناتھ نے بی بی سی ہندی سے کہا ہے کہ نابارڈ کی 2017 کی ممکنہ لنک کریڈٹ پلان کے تحت جتنا قرض دیا گیا ہے اس کا 53 فیصد حصہ ممبئی اور اس کے مضافات کو دیا گیا ہے. جبکہ ممبئی میں کون کسان ہے آپ سمجھ سکتے ہیں. ان دنوں بینک سیریز کے دوران سینکڑوں بینکروں نے ہمیں بتایا ہے کہ کسان جب قرض لینے آتا ہے تو اسے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ فصل انشورنس بھی لے اور دوسری انشورنس پالیسی بھی لے. اکثر انشورنس کا پریمیم اس قرض کے سود سے زیادہ ہو جاتا ہے. اب یہ بات کئی اقسام کی رپورٹ میں آ چکی ہے کہ کسانوں کو بتائے بغیر ان کے قرض سے انشورنس کی پریمیم رقم لے لی جا تی ہے.

کسان بے صبر ہو رہے ہیں. دہلی یا ریاستوں کے دارالحکومتوں سے کئے جا رہے ایک ایک وعدے اور دعوے پر ان کی نظر ہے. اسی لیے جب یوپی میں وعدے کے مطابق آلو کے دام نہیں ملے تو کسان لکھنؤ کی سڑکوں پر آلو پھینک آئے. آپ کو یاد ہوگا گزشتہ سال اپریل مہینے میں تمل ناڈو کے کسان آئے تھے. وہاں سو سال میں سب سے شدید خشک سالی پڑی تھی. ان کسانوں نے میڈیا اور حکومت کی توجہ پر قبضہ کے لئے کیا کیا نہیں کیا. سڑک پر دال چاول رکھ کر کھایا. ننگے بدن ہو گئے، گلے میں خود کشی کرنے والے کسانوں کا نرمڈ لٹکا لیا. جنازہ تک نکالا. اس کے بعد بھی کسی پر کچھ اثر نہیں پڑا. وہ دوبارہ آئے انہی مطالبات کو لے کر کہ لاگت کا ڈیڑھ گنا دام ملے، پنشن ملے اور قرض معافی ہو. 100 دن تک کی کارکردگی کرنے کے بعد یہ دلی سے چنئی لوٹ گئے. آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ کسان غائب ہو گئے ہیں. لیکن نہیں. یہ کسان تمل ناڈو کے کنیا کماری سے چنئی تک مارچ پر ہیں. راستے میں پڑنے والے گاؤں میں جاتے ہیں، کسانوں سے ملتے ہیں، انہیں اپنے مسئلے کے بارے میں سمجھاتے ہیں تاکہ کسانوں میں بیداری پھیلے. راستے میں ہی سوتے ہیں. ان کسانوں نے ابھی تک ہمت نہیں ہاری ہے. 1 مارچ سے 22 کسان بس میں سوار ہو کر تمل ناڈو کے دیہات میں گئے ہیں. دہلی کو خبر بھی نہیں ہے. یہ لوگ ہر ضلع میں تین دن تک رکتے ہیں. ابھی تک 4 اضلاع کا دورہ کر چکے ہیں. وہ تمل ناڈو کے 32 اضلاع میں جائیں گے.

آپ کو یاد ہوگا گزشتہ سال جون کے مہینے میں 1 سے 10 جون تک کسان مدھیہ پردیش کے مندسور میں قرض معافی اور لاگت کا ڈیڑھ گنا حاصل کرنے کے لیے آندولن چلا رہے تھے. ہم اور آپ سوامی ناتھن کمیشن کی سفارش کے بارے میں نہ جانیں مگر ہندوستان کا کسان سوامی ناتھن کمیشن کی سفارش کے بارے میں جان گیا ہے. آپ لاگت کا ڈیڑھ گنا نہیں دے کر کسانوں کو بیوقوف نہیں بنا سکتے ہیں. 2019 کی یہی بڑی کامیابی ہوگی کہ کسان لاگت کا ڈیڑھ گنا لے لے گا. جس طرح سے وہ ہر لڑائی ہارنے کے بعد واپس آرہا ہے، اس سے یہی لگتا ہے کہ ایک دن وہ یہ دام لے لے گا.

انہی مطالبات کو لے کر کسانوں نے راجستھان کے سیکر میں 1 ستمبر 2017 سے 13 ستمبر 2017 تک آندولن کیا. یہ آندولن اتنا ڈسپلن تھا اور غیر متشدد تھا کہ اس میں ضلع اور آس پاس کے وہ لوگ بھی آ گئے جو کبھی کسانوں کے آندولن میں شریک نہیں ہوئے تھے. پیاز، مونگ فلی کے دام نہیں مل رہے تھے، لاگت بڑھ گئی تھی. آل انڈیا کسان سبھا نے ہی سیکر میں آندولن تیار کیا تھا. سیکر سے سی پی ایم کے دو سابق ممبر اسمبلی امرا  رام اور پریما رام اسے لیڈ کر رہے ہیں. اس آندولن میں خواتین کی شرکت مردوں سے زیادہ تھی. کسان مطالبہ کر رہے تھے کہ بچھڑوں کی بکری پر روک ہٹائی جائے. آوارا جانوروں کا مسئلہ حل ہو اور 2017 میں جانوروں کی فروخت پر لگی پابندی کا قانون واپس ہٹے. یہ ساٹھ سال کے کسان کے لئے پانچ ہزار کا ماہانہ پنشن بھی مانگ رہے تھے. سیکر کے کسان آندولن کی خوبی یہ تھی کہ اس میں آٹو ڈرائیور یونین، پرائیویٹ ٹیکسی یونین، ایمبولینسوں والے، آرا مشین یونین نے بھی ریلی نکالی ہے یا آندولن کو حمایت دی ہے. سب کا کہنا تھا کہ کسان کے پاس پیسے نہیں ہیں تو ان کے کاروبار پر بھی اثر پڑتا ہے. تب حکومت دباؤ میں آئی اور معاہدہ کیا کہ000 50،تک لون معاف کرے گے. کسانوں کو 2000 روپے پنشن ملے گی. حکومت کو لگا کہ کسان بھول گئے. اب دوبارہ نہیں لوٹیں گے لیکن جب راجستھان حکومت کا بجٹ پیش ہوا تو سارے کسانوں کا لون معاف نہیں ہوا. صرف کوآپریٹیو سوسائٹی سے لون لینے والے کسانوں کا000 50،کا لون معاف ہوا. لہذا 22 فروری 2018 کو دوبارہ سیکر میں آندولن شروع ہوا اور جے پور چلو کا نعرہ دیا گیا. سیکر، ناگور، جھنجھنو اور کوٹہ کے کسان جے پور کی طرف بڑھنے لگے. ان کی گرفتاری ہوئی مگر حکومت کو کسان لیڈروں کو چھوڑنا پڑا. سمجھوتہ ہوا مگر لاگو ہوتا نہیں دیکھ کسان پھر 1 مئی کو اپنے ضلع ہیڈ کواٹر کا گھیراؤ کرنے والے ہیں. جے پور میں کسانوں کو نہیں گھسنے دیا گیا تو کسانوں نے طے کیا ہے کہ وہ ان وزراء کو دیہات میں نہیں گھسنے دیں گے.

بہار کے کئی اضلاع میں مکئی کی کاشتکاری کرنے والے کسان پریشان ہیں. مَکَا کی فصل میں دانا ہی نہیں آیا ہے. کئی علاقوں میں مَکَا میں دانا نہیں آیا ہے. کسانوں کا پیسہ کافی ڈوب گیا ہے. پتہ چل رہا ہے کہ انہیں ناقص بیج فروخت کیا گیا ہے. بہار کی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 1732 ایکڑ میں مَکاَ کی فصل میں دانا نہیں آیا ہے. جاگرَن اور پربھات کی خبر کی خبروں کے مطابق موکاما میں 500 ایکڑ میں لگی فصل برباد ہو گئی. کسانوں کا سرمایہ ڈوب گیا ہے. کسانوں نے اچھی پیداوار کے لئے ہائی بريڈ بیج خریدا، جس کے لئے قیمت ادا کی 1500 روپے فی کلو. بیج کمپنی نے دعوی کیا تھا کہ ایک بیگھے میں 40 کوئنٹل مَکَا اوگے گی. کسانوں کو کچھ ہاتھ نہیں لگا. ایک بیگھے میں بیج پر ہی کسانوں کے 6000 روپے لگ گئے اور برباد ہو گئے. سرکار کے وزیر نے اسمبلی میں کہا ہے کہ کسانوں کے نقصان کی تلافی کی جائے گی. بیج کمپنیوں سے دھوکہ کھانے پر کسانوں کو بھی پتہ نہیں رہتا کہ کہاں جائیں، کیا کریں. ان کے ووٹ لے کر کپڑوں اور دن رات پارٹی تبدیل والے لیڈروں کو بھی پتہ نہیں رہتا ہے کہ وہ ان معاملات میں آواز اٹھائیں. آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ سال مہاراشٹر کے یوت مال محل میں کیٹناشک سے 21 کسانوں کی موت ہو گئی تھی. کمپنیوں کے خلاف کچھ نہیں ہوتا ہے.

اسی 6 مارچ کو وزیر زراعت نے لوک سبھا میں کہا کہ چار سال میں مہاراشٹر میں کیٹناشک سے 272 کسانوں کی موت ہوئی ہے. یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں. 272 کسان ایسے ہی مر گئے، ان کی قیمت ہوتی تو لیڈر خود ہی ہنگامہ کرتے. پر کیا آپ نے لیڈروں کو فکر کرتے دیکھا ہے. اسی لیے آپ جتنے بھی بحران میں ہوں، ہمارے ملک کے لیڈر موج میں ہیں. اب واپس لوٹتے ہیں ممبئی آئے کسانوں پر. نيوذمنٹ کی ارپنا كارتكين نے ایک اچھا مضمون لکھا ہے کہ جب کسان کسی آندولن  میں آتے ہیں تو پیچھے کتنا نقصان ہوتا ہے.

ہر دن 30 سے 35 کلومیٹر پیدل چلنے والے ان کسانوں کے بارے اس طرح سے دیکھا جانا چاہئے. ہم نے کئی بار ان کے پردرشن کی لاگت کا دھیان نہیں رکھتے ہیں. یہ وہ کسان ہے جو اپنے کھیت میں خود کام کرتے ہیں. کھیت سے ایک دن بھی دور رہنا ان کے لئے خسارے کا سودا ہے. آندولن کرنے والے جانتے ہیں کہ واپس جاکر کئی دنوں تک بھوکا رہنا ہوگا. تمل ناڈو کے کسانوں کو تآندولن کے بعد 20 ہزار سے لے کر000 30،روپے تک کا نقصان ہوا. کسانوں کے پیچھے ان کے جانور بھی بیمار پڑ جاتے ہیں. دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ہے. بہت سے کسان کھیت میں مزدور ہوتے ہیں. وہ ایک دن نہیں كمائیں گے تو ان کے خاندان کا خرچ نہیں چلے گا. بھوکے سونا پڑے گا. ظاہر ہے حکومت کو سوچنا چاہئے کہ کب تک فصل کی لاگت کا ڈیڑھ گنا نہیں دے گی، کب تک کسانوں کو پنشن نہیں دے گی، آج نہ سہی کل دینا ہی ہوگا، بہتر ہے دے دیا جائے.

ورنہ کسان ممبئی آئے ہیں، کل دہلی آنے لگیں گے، اپنے ریاستوں کے دارالحکومتوں میں آنے لگیں گے. بھارتیہ کسان یونین کے رہنما نے فون کیا تھا کہ وہ بھی دہلی آنے والے ہیں. ان کسانوں کا مطالبہ بھی مہاراشٹر، تمل ناڈو، مدھیہ پردیش کے کسانوں سے مختلف نہیں ہے. لاگت کا ڈیڑھ گنا دیا جائے. پرو رمیش چندرا کمیٹی کی رپورٹ لاگو ہو.خود کشی کرنے والے کسانوں کے اہل خانہ کی بحالی کی قومی پالیسی بنے. موجودہ انشورنس پالیسی کسانوں کے فائدے میں نہیں ہے. اس سے صرف انشورنس کمپنی کو فائدہ ہو رہا ہے. کھیتی کو عالمی تجارتی تنظیم سے باہر کیا جائے. گنے کی بقایا ادائیگی فوری طور پر کی جائے.

ان مطالبات کو دیکھ کر یہی لگتا ہے. یا تو وزیر زراعت لوگ کوئی کام نہیں کرتے ہیں یا پھر وہ اتنا کام کرتے ہیں کہ اس کے بعد بھی مسائل ختم نہیں ہوتے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close