آج کا کالمنقطہ نظر

کیا آدھار کارڈ لازمی ہونے سے بدعنوانی پر لگام لگے گی؟

رويش کمار

1 /فروری کو لوک سبھا میں وزیر خزانہ نے مالی بل 2017 پیش کیا تھا، جس پر 21 مارچ اور 22 مارچ کو بحث ہوئی اور اس میں تجویز کردہ ترمیم اور دفعات کو قانونی شکل دی گئی. اس کے تحت جو ترمیم پاس ہوئی ہیں، اسے لے کر پارلیمنٹ سے باہر سوال کیا جا رہا ہے. dailiyo.in ایک ویب سائٹ ہے، اس پر میگھناتھ ایس نام کے رسرچر نے لکھا کہ کس طرح میڈیا نے عوام سے جڑے اس اہم بل کے بارے میں مناسب طریقے سے رپورٹنگ نہیں کی. پارلیمنٹ کی رپورٹنگ کرنے والوں نے بھی ضروری نہیں سمجھا کہ اس کے بارے میں لوگوں تک معلومات پہنچائی جائے. میگھناتھ نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا. 21 مارچ کو جب فاینانس بل پر بحث چل رہی تھی، بحث میں شامل کئی جماعتوں کے 9 ایم پی دھن چکے تھے. اس وقت تک کسی بھی ٹی وی چینل نے اس بحث کے کسی بھی نشانات کو دکھانا ضروری نہیں سمجھا.

میگھناتھ لکھتے ہیں کہ جیسے ہی مالی بل پر ہی بولنے کے لئے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی اٹھے، چینلز نے اس تقریر کو دکھانا شروع کر دیا. جس وقت بول رہے تھے، اسی وقت لوک سبھا ٹی وی پر نیچے کی پٹی میں معلومات چل رہی تھی کہ بل پر بحث چل رہی ہے. وزیر اعلی نے اپنی تقریر کا آغاز ہی اس بات سے کیا کہ صدر جی میں بہت شکر گزار ہوں، آپ نے مجھے بل پر دو الفاظ کہنے کا موقع فراہم کیا ہے. لیکن ان کی تقریر کو آپ بھی لوک سبھا کی ویب سائٹ پر جا کر دیکھئے. تبھی آپ جان پائیں گے کہ ان کی تقریر کا کون سا حصہ فاینانس بل کی دفعات سے متعلق ہے. مجھے تو ایک بھی حصہ نہیں لگا، پھر بھی آپ کو خود سے بھی دیکھنا چاہئے. جس موضوع پر یوگی جی کو بولنا تھا، اس موضوع پر انہوں نے کیا بولا اس کی کوئی رپورٹنگ نہیں ہوئی. ان سے پہلے نو رہنماوں اور یوگی جی کے بعد چھ ممبران پارلیمنٹ نے بولا اس پر بھی نہیں ہوئی. اس رات آپ کو یاد کریں ٹی وی پر یوگی جی ہی چھائے ہوئے تھے. میگھناتھ کے مضامین کا مسودہ یہی ہے کہ میڈیا نے آخر کس طرح اتنے بڑے مسئلے کو یوگی جی کی تقریر سے کم اہم سمجھا.

اس مالی بل میں بہت سی  ترمیمات آخری وقت میں پیش کی گئیں، جن کا تعلق سیاست سے ہے، تمام محکموں کے تنازعات کے حل کے لئے بنایا ٹربیونل اور ان کی تقرری کے عمل سے ہے. اسی کے تحت نقدی لین دین کو تین لاکھ سے کم کرکے دو لاکھ کر دیا گیا ہے. ان سب پر علیحدہ بحث ہونی چاہئے، مگر ہم آج کے موضوع کو بنیاد سے متعلق ہی رکھنا چاہتے ہیں.

ایک جولائی 2017 سے انکم ٹیکس ریٹرن بھرنے اور پین نمبر کے لئے بنیاد نمبر دینا لازمی ہو جائے گا. بغیر بنیاد کے ابھی انکم ٹیکس ریٹرن نہیں بھرا جا سکے گا. جس کسی کے پاس پین کارڈ ہے اسے ایک جولائی تک آدھار نمبر دینا ہوگا. اگر ایسا نہیں کریں گے تو پین کارڈ غیر قانونی ہو جائے گا. تصور کیا جائے گا کہ آپ کے پاس پین کارڈ یا پین نمبر نہیں ہے.

انکم ٹیکس فارم اور پین نمبر کو لازمی کئے جانے سے کئی سوال دوبارہ اٹھے ہیں . 2009 سے لے کر 2017 کے درمیان آدھار بنایے جانے  کو لے کر، اس کے لیک ہونے سے لے کر لازمی کئے جانے کے خطرے کو لے کر کئی بحثیں سنیں، پچاسوں مضامین پڑھے. دوسری طرف ہم نے معاشرے میں دیکھا کہ بنیاد کو لے کر غضب کا جوش ہے. بیشتر سیاسی پارٹی کے کارکن آدھار کارڈ کو ووٹر شناختی کارڈ کی طرح بنوانے میں لگے رہتے ہیں . اکثر کہا جاتا ہے کہ اس سے ہماری آپ پرائیویسی کو خطرہ ہے. یاد کیجئے، جب آپ کا آدھار کارڈ بنانے گئے تو کیا کسی نے آپ کو بتایا تھا کہ اسے کس طرح سنبھال کر رکھنا ہے، کسے دینا ہے کسے نہیں دینا ہے، اگر یہ لیک ہو گیا تو کیا ہو گا. کیا آپ نے پوچھا تھا. میں غلط ہو سکتا ہوں مگر پھر بھی آپ سے کچھ سوالات ہیں.

کیا آپ پرائیویسی یعنی پرائیویسی کا مطلب سمجھتے ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس کی رازداری بنی رہنی چاہئے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی ہر بات حکومت جانے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا آدھار نمبر پرائیویٹ کمپنیوں کے پاس بھی ہو؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ آدھار نمبر لیک ہو گیا تو کیا ہو گا؟

جمہوریت کو خطرہ تو تب بھی ہے جب آدھار نہیں ہے، آدھار ہونے کے بعد اس کی اطلاع کسی سیاسی پارٹی، کمپنی کے پاس جانے کے بعد آپ کو کس طرح کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ کیا آپ اس سوال کی قدر کرتے ہیں؟ مجھے لگتا ہے کی آدھار کو لے کر آپ میں سے زیادہ تر بالکل پریشان نہیں ہیں. تبھی تو 112 کروڑ ہندوستانیوں نے پورے جوش و خروش کے ساتھ آدھار کارڈ بنوایا. ایسا نہیں کہ اس تنقید یا خطرے کو لے کر اخبارات میں مضامین نہیں چھپے. ٹی وی پر کم ہی سہی مگر تھوڑی بہت بحث تو ہوئی ہے. آدھار کو لازمی بنائے جانے کے ناقدین کی ایک چیز کے لئے تعریف کرنا چاہتا ہوں . یہ تب بھی تنقید کر رہے تھے جب آدھار کی آمد ہو رہی تھی اور اب بھی ہورہی ہے، جب سو کروڑ سے زیادہ ہندوستانیوں نے آدھار نمبر لے لئے ہیں . دوسری طرف حکومت ہمیشہ آدھار کو لے کر بے فکر نظر آتی ہے. اگر ناقدین کی بات میں دم ہے تو کیوں نہیں تمام سیاسی جماعتیں اس کے خلاف بولتی ہیں. پارلیمنٹ میں ہی کیوں بولتے ہیں. پارلیمنٹ سے باہر آپ کے درمیان آکر کیوں نہیں بولتے ہیں . ایک سوال خود سے اور عام لوگوں سے ہے. کیا ہمیں شناخت کے نام پر کوئی بھی دستاویز نفسیاتی سیکورٹی دیتا ہے اور اپنی اس کی حفاظت کے لئے ہم وہ تحفظ بھی گنوانے کے لیے تیار ہیں جس کا احساس ہمیں نہیں ہے، کسی اور کو ہے. پین کارڈ، راشن کارڈ ڈرائیونگ لائسنس، ذات سرٹیفکیٹ، پیدائش کا سرٹیفکیٹ، ووٹر شناختی کارڈ وغیرہ وغیرہ پہچانوں کے کئی خطوط والے اس ملک کے شہریوں کو آدھار نمبر میں ایسا کیا دکھا.

سپریم کورٹ نے کئی بار کہا ہے کہ آدھار کو لازمی نہیں بنایا جانا چاہئے. مگر حکومت اسے کف سیرپ کے طور پر تمام منصوبوں میں شامل کرتی جا رہی ہے. پنشن، اسکالر شپ، راشن کارڈ، ڈرايوگ لائسنس، موبائل نمبر، مڈ ڈے میل، پین نمبر، ٹیکس ریٹرن، زمین خرید فروخت. کیا واقعی جہاں جہاں آدھار پہنچا ہے، وہاں وہاں سے بدعنوانی ختم ہویی ہے. یو پی اے جب اس کی تعریف کر رہی تھی، تب بی جے پی اسے عوام سے اسے  دھوکہ بتا رہی تھی. اب بی جے پی اسے کئی چیزوں میں لازمی کر رہی ہے، تو ایوان کے اندر اندر کانگریس آدھار کے خطرے گنا رہی ہے. ڈرائیونگ لائسنس، موبائل نمبر، پین کارڈ، انکم ٹیکس ریٹرن سب میں آدھار لازمی ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close