آج کا کالم

کیا ایف ڈی آئی کا دائرہ وسیع کرنے سے بدلے گی حالت؟

رویش کمار

جے رام کہتے ہیں کہ رگھو رام سے توجہ ہٹانے کے لئے مرکزی حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فیصلوں کا اعلان کیا ہے. ہندوستان کی تعداد میں چھوٹی مگر سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کی جانب سے یہی تنقید آئی ہے اور جے رام رمیش نے کہا ہے کہ پیر کو تفصیلی رد عمل آئے گا. جب ہندوستان کی اہم اپوزیشن پارٹی فیصلے کے دن تنقید پیش نہیں کر سکتی تو یہ بتائیے کہ دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کی حکومت ایک ساتھ کئی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فیصلے لے تو کیا آٹھ گھنٹے کے اندر نیوز اینکر ان فیصلوں کا سیر حاصل جائزہ پیش کر سکتا ہے. اپوزیشن آج کے دن پوچھ سکتا تھا کہ کوئی ایسا سیکٹر بچا ہوا ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے نہیں کھلا. پریس انفارمیشن بیورو کے انگریزی میں جاری پریس ريلیج میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو مکمل طور پر وسیع تر بنا دیا ہے تاکہ ہندوستان میں روزگار پیدا ہو سکے. حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان تبدیلیوں کے ساتھ ہندوستان دنیا کی سب سے کھلی معیشت ہو گیا ہے. اسی کے ساتھ دفاعی علاقے میں 100٪ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی اجازت ہوگی، ابھی تک 49٪ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی کھلی اجازت تھی. اس سے اوپر 100 فیصد تک FDI کے لئے حکومت کی اجازت ضروری تھی اور وہ بھی صرف جدید ٹیکنالوجی کے معاملے میں ہی ایسے سرمایہ کاری کی اجازت مل سکتی تھی. اب ایڈوانس ٹیکنالوجی یعنی State of Art لفظ کو ہٹا دیا گیا ہے اور اس کی جگہ Modern یعنی جدید یا Other reasons الفاظ شامل کر دیا گیا ہے.

ایڈوانس ٹیکنالوجی اور جدید ٹیکنالوجی میں کیا فرق ہوتا ہے. کیا جدید ٹیکنالوجی ایڈوانس نہیں ہوتی، یا ایڈوانس ٹیکنالوجی جدید نہیں ہوتی. سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے ان فیصلوں کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا ہے. ویسے ان کے وقت بھی ایسے فیصلے ہوئے ہیں. دفاعی مبصر اجے شکلا نے فوری جواب پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دفاع میں سو فیصد سرمایہ کاری الفاظ کا کھیل ہے. یو پی اے کے وقت سے ہی اسٹیٹ آف آرٹ ٹیک کی بنیاد پر اجازت دی گئی تھی. اب جاکر اسے جدید ٹیکنالوجی کے روٹ سے اجازت دی گئی ہے. اجے شکلا کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع کے پاس جدید یا اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی کی کوئی تعریف نہیں ہے. لہذا اس فرق کو دفاعی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری اصلاح کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے.

اجے شکلا نے 9 جون 2014 کو بزنس اسٹینڈرڈ اخبار میں لکھا تھا کہ 2006 سے ہی الگ الگ معاملے میں دفاعی شعبوں میں 100 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت ہے. تب انہوں نے کہا تھا کہ بنیادی سامان مینوفیکچررز کے لئے یہ سب 2006 سے کیا جا رہا ہے لیکن ایک بھی پروجیکٹ نہیں آیا. میں نے ایک متبادل رائے بتا دی لیکن ضروری ہے کہ ہر شعبے پر ٹھوس معلومات کے بعد ہی رائے بنائی جائے. بہر حال مرکزی حکومت نے آج 9 شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے. وزیر اعظم نے اسے نومبر 2015 کے بعد دوسری بڑی اصلاح کہا ہے. بہر حال اشیاء خورد ونوش تیار کرنے میں حکومت کی اجازت سے 100 فیصد کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہونے لگے گی. ہندوستان میں پیداواری اور تیار شدہ کھانے کی اشیاء کے ای- کامرس میں بھی 100 فیصد کی اجازت دی گئی ہے. براڈ کاسٹنگ جیسے ڈی ٹی ایچ، کیبل نیٹ ورک، موبائل ٹی وی کے میدان میں 100 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو سرکاری کاروائیوں سے آزاد کر دیا گیا ہے.

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ 2015 کے مالی سال میں 55 ارب ڈالر سے زیادہ کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی ہے. یہ کسی بھی ایک مالی سال میں ریکارڈ ہے. ہندوستانی حکومت نے کہا ہے کہ روزگار بڑھانے کے لئے پیر کو اتنا بڑا فیصلہ لیا گیا. ہم یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ 2014 سے 2016 تک جو ریکارڈ غیر ملکی سرمایہ کاری آیا ہے اس سے کتنا روزگار پیدا ہوا ہے یا ہونے جا رہا ہے. فرسٹ پوسٹ کی ویب سائٹ پر سندھو بھٹاچاریہ نے 15 اپریل 2016 کو مضمون لکھا کہ مودی حکومت کے دو سال میں آٹھ شعبوں میں روزگار کی رفتار دھیمی ہوئی ہے. یہ معلومات حکومت ہند کے لیبر بیورو کی رپورٹ پر مبنی ہے.

ٹیکسٹائل کی صنعت، چمڑے کی صنعت، معدنیاتی صنعت، آٹوموبل،  ہیرے وجواہرات، نقل و حمل اور آئی ٹی اور بی پی او، ہینڈ لوم پاور لوم ان آٹھ شعبوں میں مزدوروں کی کافی ضرورت پڑتی ہے. اور انہی آٹھ شعبوں میں دو سال میں تقریبا پانچ لاکھ ملازمتیں ہی پیدا ہو سکیں. 2009 کے مقابلے میں یہ 10 گنا کم ہے. کم ہوا یا زیادہ ہوا یہ الگ سوال ہے لیکن روزگار پیدا ہونے کے کوئی ٹھوس اور مستند اعداد و شمار نہیں ہیں جو  تمام شعبوں کی تصویر پیش کر سکیں. فی الحال حکومت کہہ رہی ہے کہ نئے فیصلے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے.

اب بڑھتے ہیں اگلے سیکٹر کی طرف. دوا کمپنیوں کے میدان میں گرین فیلڈ فارما براؤن فیلڈ فارما میں 100 فیصد سرمایہ کاری کر دی گئی ہے. گرین فیلڈ فارما مطلب جب غیر ملکی سرمایہ کاری سے کسی نئی کمپنیوں کی نئی شروعات ہوتی ہے. لیکن جب پہلے سے موجود کسی کمپنی میں سرمایہ کاری کی جائے تو اسے براؤن فیلڈ فارما کہتے ہیں. براؤن فیلڈ فارما میں سرمایہ کاری سے اکوائر اور ضم کا عمل آسان ہو جائے گا. گرین فیلڈ اور براؤن فیلڈ میں 74 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری ہی اٹومیٹك روٹ سے ہوگی. اس کے آگے حکومت کی اجازت ضروری ہوگی.

10 جون کو کئی اخبارات میں خبر شائع ہوئی تھی کہ حکومت دوا کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی تجویز پر غور کر رہی ہے. اس معاملے میں تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ غیر ملکی کمپنیاں ہندوستانی کمپنیوں کو اکوائر یا ضم کر لیں گی تو جینیرك ادویات کی صنعت پر خطرہ آ جائے گا. جینیرك یعنی بغیر برانڈ کی دوائیں مہنگی ہو جاتی ہیں. اس فیصلے پر فارما کمپنی بايوكان لمیٹڈ کی کرن مزوم دار شا نے ٹویٹ کیا ہے کہ فارما سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو خود کار منظوری کے راستے کے دائرے میں لانا خوش آئند قدم ہے. اسے بہت پہلے ہی کر دیا جانا چاہیے تھا کیونکہ اس سیکٹر کو بہت سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے. مرکزی حکومت نے حال ہی میں نئے ایوی ایشن پالیسی کا اعلان کیا ہے. اس سیکٹر میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کو آسان بنا دیا گیا ہے. اس کے تحت ایئر پورٹ بنانے کے لئے نئے پروجیکٹ میں 100 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری اٹومیٹك روٹ سے ہو سکی گی. پرانے پروجیکٹ میں 74 فیصد سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے پر حکومت کی اجازت لینی ہوگی. جو ایئر پورٹ ابھی چل رہے ہیں انہیں جدید بنانے اور مسافروں کے دباؤ کو آسان بنانے کے لئے 100 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری ہو سکی گی. براون فيلڈ ایئر پورٹ پروجیکٹ یعنی جہاں پہلے سے کام چل رہا ہو وہاں حکومت سے اجازت کی کوئی ضرورت نہیں ہے.

پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسی کے شعبے میں بھی 49 سے 74 فیصد سرمایہ کاری حکومت کی اجازت سے کی جا سکے گی. پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ کی داستاں یہاں سناون گا تو آپ  رو دیں گے. ان کی تنخواہ، کام کی خراب سہولت. یہ سب کیا ٹھیک ہو پائے گا. کیا حکومت ان کی خدمت کی شرائط اور حالات کو بہتر کرنے کے لئے بھی کچھ کر سکتی ہے.

اگلا سیکٹر ہے گلہ بانی، جل كھیتي، ماہی گیری، مدھو مكھي پالن ، ان میں 100 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی ہے. پہلے کچھ شرائط کے ساتھ اٹومیٹك روٹ سے سرمایہ کاری ہو سکتی تھی. حکومت نے ان چند شرائط کو ہٹا دیا ہے. ماہی گیری تو ٹھیک ہے لیکن ٹھنڈے دماغ سے ایک سوال تو بنتا ہے کہ مدھومکھی پالن میں بھی ہمیں غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے. دیہی صنعت بھی نہیں بچی تو کیا بچی. لیکن یہ جاننے کی آپ  کوشش کیجئے گا کہ کیا معلوم کہ اس شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے وسیع امکانات کھل جائیں.

اب آتے ہیں نویں نمبر کے سیکٹر میں. سنگل برانڈ ریٹیل. اس میں بھی الٹرا ماڈرن ٹیکنالوجی کے بہانے مراعات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے. مقامی کمپنی پر خریداری کی شرط کو تین سال تک کے لئے کر دیا گیا ہے. یو پی اے کے وقت سے ہی سنگل برانڈ ریٹیل میں کچھ شرائط کے ساتھ سو فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری کر دی گئی تھی. 2012-13 کے سال میں اس سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو لے کر خوب مخالفت ہوتی تھی. تب بتایا جاتا تھا کہ غیر ملکی خوردہ کمپنیاں آئیں گی تو دیسی خوردہ تاجر برباد ہو جائیں گے. دلیل دی جاتی تھی کہ بی جے پی اس لئے مخالفت کر رہی ہے کہ تجارتی کمیونٹی اس کا روایتی ووٹ بینک رہا ہے. جیسے تاجروں کا زمرہ سنگل برانڈ ریٹیل میں ہے ہی نہیں. اگر آپ  غیر ملکی سرمایہ کاری کے مسئلے پر پرانے سیاسی بیانات کا ملاپ ان فیصلوں سے کریں گے تو كتركو کا پیٹرن ہی نظر آئے گا.

تب بی جے پی غیر ملکی سرمایہ کاری کی مخالفت کرتی تھی. بی جے پی یہ بھی کہتی تھی کہ کانگریس بھی تو مخالفت کرتی تھی. جب یو پی اے غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھولتی تھی تو میڈیا تنقید کے لئے بی جے پی کی طرف دیکھتا تھا. بی جے پی مایوس بھی نہیں کرتی تھی. این ڈی اے کی حکومت آتی ہے تو ایسے فیصلوں کے وقت میڈیا کانگریس کی طرف نہیں، آر ایس ایس سے منسلک ہندوستانی مزدور سنگھ اور سودیشی جاگرن منچ کی جانب دیکھنے لگتا ہے. یہ دونوں تنظیمیں مایوس نہیں کرتیں. مرکزی حکومت نے جب دفاع، انشورنس اور ریلوے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو لے کر اپنے اصلاحات کا اعلان کیا تھا تب سودیشی جاگرن منچ نے خوب مخالفت کی بھی تھی. اب لگتا ہے کہ مودی حکومت اقتصادی معاملات میں سنگھ کے دباؤ سے بھی آگے جا چکی ہے. سودیشی جاگرن منچ کے طریقہ کار میں ایک دلچسپ موڑ یہ آیا ہے کہ سودیشی جاگرن منچ کے دھن راج بھڑے نے دفاعی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیا ہے مگر گلہ بانی کے میدان میں سرمایہ کاری کو لے کر ناراض ہو گئے اور اسے ملک مخالف فیصلہ بتا دیا بلکہ ملک سے باغی کہہ دیا .

2013 سے ٹیلی کام سیکٹر میں سو فیصد سرمایہ کاری کی اجازت ہے. اس سیکٹر کی حالت بہت اچھی تو نہیں ہے. گزشتہ سال اس کا ریوینیو گروتھ 6.5 فیصد تھا جو 2010 کے بعد سب سے کم ہے. 30 مئی 2016 کو ٹائمز آف انڈیا میں یہ چھپا ہے. پہلے اس سیکٹر کی آمدنی کا اضافہ دو ہندسوں میں ہوا کرتا تھا. کیا ہم جانتے ہیں کہ سو فیصد سرمایہ کاری کی اجازت جن سیکٹروں میں ہے وہاں کس سطح کی پیش رفت ہوئی ہے. اعداد و شمار کی اتنی سخت کمی ہے کہ ساری بحثیں تصورات کے حساب کتاب میں ہی ختم ہو جاتی ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close