آج کا کالم

کیا باباؤں کو وزیر مملکت بنانا صحیح ہے؟

رويش کمار

مترجم: محمد اسعد فلاحی

کبھی فرصت ملے تو سوچیے گا کہ انتخابات آتے ہی نیتا آشرموں اور باباؤں کے یہاں دورے کیوں کرتے ہیں، کیا انتخابات کے بعد یہ بابا لوگ آپ کے کام سے لے کر تعلیم کے مسئلے کو لے کر پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں پر آواز اٹھاتے ہیں. میل ملاقات کے لئے آنا جانا تو ٹھیک ہے لیکن کیا یہ فارمولا بن گیا ہے کہ آپ کا تعلق جن باباؤں سے ہے، ان کے اشارے پر ہی آپ کسی کو ووٹ دیں گے. اگر ایسا ہے تو مسئلہ آپ کے ساتھ ہے. آپ عوام ہونے کے اپنے حق کو گنوا رہے ہیں.

انتخابات کے وقت آپ کو فیصلہ کرنا ہے، نہ کہ آپ کے بدلے کسی بابا کو. مناسب طریقے سے سوچیں گے تو دیکھ پائیں گے کہ آپ ووٹ کو ٹھیکے پر دیتے جا رہے ہیں. جب جنتا نہیں رہی گی تو کیا ہوگا، اس کا نظارہ آپ نے مختلف مواقع پر دیکھا ہوگا کہ آپ اپنی مانگ کو لے کر چیخ رہے ہیں، چلا رہے ہیں، سڑکوں پر پولیس کی لاٹھیاں کھا رہے ہیں مگر کوئی بابا آپ کے لئے نہیں آتا ہے. ہر علاقے میں دو چار آشرم ہوتے ہیں، ان آشرموں میں باباؤں کے ذریعہ لوگوں تک سیاسی پہنچ بنانے کا مطلب ہے کہ نیتا اتنے بار آپ سے جھوٹ بول چکے ہیں کہ اب ان باباؤں کے سہارے آپ کے درمیان آ رہے ہیں. سیاست کو سیاست کے راستے آنا چاہئے، وہ بھی سامنے سے نہ کہ کبھی بابا کے بہانے، تو کبھی ترنگا کے بہانے، تو کبھی فوجیوں کے بہانے. آپ سوچیں گے تو بات سمجھ آجائے گی، نہیں سوچیں گے تو بھی کوئی بات نہیں. اگر آپ اپنی ذاتی شناخت اور سیاسی فیصلے میں فرق نہیں کر سکتے ہیں تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے. تھوڑا سوچئے اس پر. نہیں سوچ پا رہے ہیں تو بابا کے آشرم میں ہی جا کر رہنے لگ جائیے. وہیں وزیر اعظم اور حزب اختلاف کے نیتا بابا کے پیروں میں بیٹھے ہوئے مل جائیں گے، اپنے مطالبات کی پرچی پکڑا دیجئے گا.

بات بحث کی نہیں ہے، بات ہے کہ آپ عوام ہیں تو آپ کا نمائندہ کون ہے؟ یہ انتخابات آپ خود کریں گے یا کوئی بابا آپ کے بدلے کر دے گا؟

مدھیہ پردیش حکومت نے پانچ باباؤں کو وزیر مملکت بنا دیا ہے. آپ افسوس کر سکتے ہیں کہ انہیں کیبینیٹ کیوں نہیں بنایا گیا. وزیر مملکت بن کر یہ عوام کا کام کریں گے یا عیش سے رہیں گے، نہیں جانتے. بھيو مہاراج، يوگیند مہنت، نرمداند مہاراج، هرهرند مہاراج اور کمپیوٹر بابا. کسی بابا نے کمپیوٹر ایجاد نہیں کیا مگر کمپیوٹر کے نام سے بابا ضرور ہوئے ہیں. اچھی بات ہے. مدھیہ پردیش حکومت نے باباؤں کو وزیر مملکت کا درجہ دیا ہے. اب اس بحث کو سنیں گے تو پتہ چلے گا کہ کیوں دیا گیا ہے. وزیر مملکت کے طور پر ان باباؤں کو 7500 روپے سیلری ملے گی، گھر کے لئے 15000 کرایہ ملے گا، گاڑی ملے گی، 1000 کلومیٹر کا ڈیزل ملے گا.  3000 سرکاری بھتہ ملے گا. بابا لوگ اسٹاف اور پی اے رکھ سکیں گے. حیرانی ہوئی کہ کسی بھی بابا نے اقتدار کو تیاگ (قربانی) نہیں دیا.

بہت سارے کارکنان ایمانداری سے کسی پارٹی میں اپنی زندگی جھونک دیتے ہیں. ہر الیکشن میں ترس کر رہ جاتے ہیں کہ ٹکٹ ملے گا اور وہ بھی نمائندگی کا موقع پا سکیں گے، انہیں بھی اقتدار کا سکھ مل جائے گا، ایسے کارکنوں کو کیسا لگتا ہوگا. بیس بیس سال کسی پارٹی میں لگانے سے تو اچھا تھا کہ وہ بابا بن جاتے اور کسی بھی پارٹی سے پارلیمنٹ سے لے کر وزیر مملکت کے عہدے تک پہنچ جاتے. اگر آپ سیاست میں کارکنوں کی اہمیت کو سمجھتے ہیں تو اس طرح سے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ پانچ وفادار کارکنوں کے خلوص کو ٹھوکر مار کر پانچ باباؤں کو وزیر مملکت کا درجہ دیا گیا ہے. ابھی کارکن بھی سوال نہیں کرتے ہیں، مخالفت نہیں کرتے ہیں تو ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ ٹھیک ہی ہو رہا ہے. کیا پتہ انہیں اس میں کچھ غلط ہی نہ لگتا ہو.

وجہ بھی عجیب ہے. نرمدا کنارے کے علاقوں میں پودے، پانی کی صفائی اور حفظان صحت کے موضوع پر عوامی بیداری مہم چلانے کے لئے ایک کمیٹی بنی ہے. ان تمام کو اسی میں شامل کیا گیا ہے. اس کے بعد وزیر مملکت کا درجہ دے دیا گیا. ان میں سے ایک ہیں کمپیوٹر بابا جنہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ ’نرمدا بچاؤ‘ کے کام میں بدعنوانی کو سامنے لانے کے لئے نرمدا گھوٹالہ رتھ یاترا نکالنے والے ہیں. اب وہ وزیر مملکت بن گئے ہیں. پہلے سیاسی بیانات کو فوری طور پر نمٹا دیتے ہیں پھر آتے ہیں اصلی بات پر.

پربھات جھا نے کہا کہ سنت کو ہی وزیر بنایا ہے، ڈاکو کو نہیں. عام طور پر ایک نظریہ کا ایک ڈھانچہ ہوتا ہے. اس طرح کی باتوں کو پیش کیا جاتا ہے جس سے آپ کو لگے کہ بابا کے وزیر مملکت بنانے کی مخالفت کرنا، مذہب کی مخالفت کرنا ہے. پھر فوری طور پر مثال دی جائے گی کہ فلاں کی حکومت میں کسی مولوی کو بھی وزیر مملکت کا درجہ دیا گیا تھا. جیسے یوپی میں توقیر رضا خان کو وزیر مملکت کا درجہ دیا گیا تھا. اس وقت بھی تنقید ہوئی ہی ہوگی، کہا گیا ہوگا کہ منھ بھرائی ہے.

بابا کو وزیر مملکت کا درجہ دیا جانا کیا ہے. پہلے کے غلط کے سہارے آج کے غلط کو صحیح بتایا جا رہا ہے. ایک خبر بزنس اسٹینڈرڈ میں چھپی تھی. 29 مئی 2013 کی یہ خبر بتاتی ہے كہ یو پی میں توقیر رضا خان کو ٹیکسٹائل صنعت کے سیکشن کے مشیر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا. انہیں وزیر مملکت کا درجہ دیا گیا. تب بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس کی مخالفت کی تھی. خبر کے مطابق شري پتی سنگھ اور کے پی سنگھ کو بھی وزیر مملکت کا درجہ دیا گیا تھا مگر بی جے پی نے اتحادے ملت کونسل کے صدر توقیر رضا خاں کو وزیر مملکت کا درجہ دیے جانے کی مخالفت کی تھی. تب کے گورنر بی ایل جوشی سے ملاقات کی تھی. سپا حکومت سے فیصلہ بدلوانے کی بات کی تھی. بی جے پی کے ریاستی صدر لکشمی کانت واجپئی وفد لے کر گورنر سے ملے تھے. کہا تھا کہ یہ اقلیتی تشٹی کرن ہے. اگر توقیر رضا کو وزیر مملکت کا درجہ دیا جانا اقلیتی تشٹی کرن ہے تو پانچ باباؤں کو وزیر مملکت کا درجہ دیا جانا کون سا منھ بھرائی ہے. اس نقطہ پر آپ سوچ سکتے ہیں.

ابھی آتے ہیں کمپیوٹر بابا پر. بابا کے نام پر. فیس بک پر ایک پروفائل ہے، سنکٹ موچن سنت شری کے نام سے ہے. اس پر کمپیوٹر بابا سے متعلق بہت سے ویڈیوز ہیں. اسی میں ایک ویڈیو 8 مارچ کو پوسٹ کیا گیا ہے، جس میں بابا نرمدا کے کنارے درخت لگانے کے نام پر ہوئے گھوٹالے کو بے نقاب کرنے کے لئے ایک اپریل سے یاترا نکالنا چاہتے ہیں. اس ویڈیو کی طرف فوٹو جرنلسٹ راج پاٹيدار نے ہماری توجہ دلائی. راج پاٹيدار 20 سال سے فوٹو جرنلزم کر رہے ہیں. اس وقت رائٹرز سے جڑے ہوئے ہیں. ایک پوسٹر بھی بنا ہے جس میں لکھا ہے کہ 45 ضلعوں کی پینتالیس روزہ یاترا نکلنے جارہی ہے. اس میں کل سادھو سنت سماج نرمدا گھوٹالہ کے لیے رتھ یاترا نکالنے جا رہے ہیں. اس کی قیادت کمپیوٹر بابا کر رہے تھے اور کنوینر تھے پنڈت يوگے مہنت.

پوسٹر میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی کے مطابق 6 کروڑ پودے لگائے گئے، جس کا کہیں کوئی نام و نشان نہیں ہے. اس بڑے گھوٹالے کے قصورواروں کو سزا دی جائے. نرمدا ندی میں ہو رہی غیر قانونی کھدائی پر فوری طور پر روک لگے. ہر پنچایت میں گؤشالہ تعمیر کی جائے اور اس کے تحفظ کا ذمہ سادھو سنتوں کو دیا جائے. صوبہ کے آشرموں اور مندروں کے تمام مسائل کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے. مجموعی طور پر نو(9) نقطہ ہیں اس پوسٹر میں.

ایک اپریل سے لے کر 15 مئی تک چلنے والی یہ مہم  کیا وزیر مملکت کے عہدے کے لالچ سے بدل گئی. جو بابا لوگ گھوٹالے کا الزام لگا رہے تھے، کہہ رہے تھے کہ وزیر اعلی کا 6 کروڑ پودے لگانے کا دعوی جھوٹا ہے، وہ اسی وزیر اعلی سے وزیر مملکت کا عہدہ لے لیتے ہیں، اس سے سیاست کی ساکھ گرتی ہے یا مذہب کا استعمال کرنے والے ان باباؤں کی سیکھ گرتی ہے. پریس نے خوب پوچھا کہ آپ تو نرمدا گھوٹالے کا الزام لگا رہے تھے، اب وزیر بن گئے.

آپ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ باباؤں کا وزیر مملکت بنانا کتنا صحیح ہے. کیا ان کی مخالفت کو روکنے کے لئے وزیر مملکت بنایا گیا. کیا نرمدا کے کنارے پودے کے گھوٹالے کو سامنے آنے سے روکنے کے لئے ان باباؤں کو وزیر بنایا گیا. اب تو ٹی وی میں رپورٹنگ کم ہوتی ہے ورنہ پانچ رپورٹ پانچ گھنٹے کے اندر اندر شوٹ کرکے بتا سکتے تھے کہ 6 کروڑ پودے جو لگائے تھے ان کی کیا حالت ہے. فی الحال آپ کو ٹی وی پر اسی موضوع پر بحث تو دیکھیں گے مگر حقیقت کبھی نہیں جان پائیں گے۔ کیونکہ بحث اب ہندو باباؤں کے وزیر بنائے جانے پر احتجاج اور مولوی وزیر بنانے پر خاموشی جیسے مثالیں لے کر ہونے لگیں گی. آپ یہ کبھی نہیں جان پائیں گے کہ 6 کروڑ پودے کہاں گئے.

19 جولائی 2017 کو ہمارے ساتھی انوراگ دواري نے ایک رپورٹ فائل کی تھی. وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے نرمدا سیوا مہم شروع کی تھی، اس کے لئے بھارت ہی نہیں، غیر ملکی اخبارات میں بھی اشتہار دیے گئے تھے. اس اشتہار پر ریاستی حکومت نے 33 کروڑ 7 لاکھ 40 ہزار اور 344 روپے خرچ کیے تھے. اسمبلی میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں حکومت نے ہی یہ معلومات دی تھی. اس مہم کی وجہ سے ٹی وی چینلز کو اشتہارات کے طور پر 13 کروڑ 23 لاکھ روپے ملے تھے اور اخبارات کو 10 کروڑ 77 لاکھ. آپ کو پتہ ہوگا کہ مدھیہ پردیش میں 11 دسمبر 2016 سے 15 مئی 2017 کے درمیان ’نمامے دیوی نرمدے یاترا‘ نکالی گئی تھی. ہر دن صرف یاترا کے اشتہار پر 15 لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے. تب حکومت نے کہا تھا کہ 33 کروڑ کی رقم زیادہ نہیں ہے.

گزشتہ سال 2 جولائی کو وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے 6 کروڑ پودے لگانے کا ہدف رکھا تھا. عالمی ریکارڈ بنانے کا مقصد تھا. جس کے لئے باقاعدہ ٹریننگ دی گئی، تیاری کی گئی. اس کے بعد بھی حالت یہ ہے کہ اس کا گھوٹالہ اجاگر کرنے کا اعلان کچھ بابا کرتے ہیں اور انہیں وزیر بنا دیا جاتا ہے. معاملہ یقین اور ایمان کا نہیں ہے، اس سوال پر پردہ ڈالنے کا ہے، جو 6 کروڑ پودوں کی تلاش کر رہے ہیں.

کمپیوٹر بابا اپنے بارے میں دعوی کرتے ہیں کہ ان کا دماغ کمپیوٹر جیسا ہے. اپنے ساتھ لیپ ٹاپ لے کر گھومتے ہیں. اندور کے اهليانگر میں ان کا خوبصورت آشرم ہے. بھارت میں کمپیوٹر ایجاد نہیں ہوا، مگر اس کے نام سے بابا ہوئے جو آگے چل کر وزیر مملکت بنے. اس کی پیشین گوئی نیسترودمس یا سسٹیو جاب یا بل گیٹس نے نہیں کی تھی. ان کا اصلی نام ہے ادئے دیشمکھ. یہ اکثر مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کے رسوخ دار لوگوں کے ساتھ نظر آتے ہیں. شان اور شوکت ان کی پہچان ہے … ہمیشہ گاڑیوں کا قافلہ ساتھ چلتا ہے. بھيوجي مہاراج کو سیاسی طور پر طاقتور سنتوں میں شمار کیا جاتا ہے، ان کے والد مہاراشٹر میں کانگریس کے لیڈر رہے ہیں. انا ہزارے کی بدعنوانی مخالف تحریک کے دوران ان کا نام زیر بحث تھا آیا جب انا ہزارے کو منانے کے لئے یو پی اے حکومت نے ان سے رابطہ کیا تھا.

نرمداند مہاراج ہنومان جینتی اور رام نومي کے موقع پر سفر کی وجہ سے بحث میں رہتے ہیں. نرمدا کی صفائی کے لئے بھی سرگرم رہتے ہیں. نرمدا کے کنارے پودے لگانا، پانی کا تحفظ اور حفظان صحت کے موضوعات پر کام کرنے کے لئے انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا ہے. ڈنڈوري سے آتے ہیں. یہاں ان کا آشرم بھی ہے. مدھیہ پردیش کے مہاكوشل علاقے میں ان کے کافی حامی ہیں.

اندور کے یوگیندر مہنت کانگریس اور بی جے پی کے اعلی رہنماؤں کے ساتھ نظر آتے تھے. حکومت کے خلاف نرمدا گھوٹالہ رتھ یاترا کے کنوینر تھے. عالمی برہمن سماج یونین کے قومی صدر بھی ہیں. وہ دعوی کرتے ہیں کہ 35 سال سے مذہبی، سماجی اور تعلیمی میدان میں کام کر رہے ہیں.

پودے کہاں گئے. اس کی اصلی رپورٹ تو تبھی ملے گی جب رپورٹر نرمدا کنارے پودوں کا جائزہ لیں گے جس پر ریاستی حکومت نے کئی کروڑ روپے خرچ کئے ہیں. پتریکا اخبار نے مدھیہ پردیش کے کٹنی سے رپورٹ شائع کی ہے. اس خبر کی هیڈلائن دیکھئے – حال ہی میں بنے ورلڈ ریکارڈ کا مٹا نام و نشان، افسروں کی ان دیکھی سے ہو گیا یہ حال. کٹنی کی خبر ہے یہ. ہر پلانٹ کی دیکھ بھال کے لئے ہر پنچایت اور گرام نگر میں پودھوں کی حفاظت کے لیے تقرری کی گئی. کچھ لوگوں کو ٹریننگ بھی دی گئی. لیکن ان کی تقرری کی معلومات کسی کو نہیں ہے. پودوں کا نام و نشان نہیں ہے. مہم کے ساڑھے پانچ ماہ گزر جانے کے بعد پتریکا نے خبر کی تھی. پتریکا کی ہی ایک خبر ہے ہوشنگ آباد کی ہے. یہ اسی 23 مارچ کی خبر ہے. لکھا ہے کہ گزشتہ سال 2 جولائی کو سوهاگ پور بلاک میں دس سے زیادہ نرمدا گھاٹوں پر پودے لگانے کو لے کر  افسروں اور تنظیموں نے واہ واہی تو لوٹ لی مگر ان پودوں کو کوئی بچانے نہیں آ رہا ہے. ملازم سمجھتے ہیں کہ بلاک میں لگائے گئے ڈھائی لاکھ پودوں میں سے پچاس فیصد ہی پنپ پائے ہیں. پودے لگانے کی اس مہم  کی کامیابی 50 فیصد سے گھٹ کر 20 سے 25 فیصد تک ہی رہ جائے گی.

هردا اور نرسنھ پور میں پودے لگانے کے بعد وہ سوکھ گئے ہیں. هردا کا هانڈيا گاؤں نرمدا کے کنارے ہے. یہاں پودے سوکھ گئے ہیں کہیں کہیں باقی بھی ہیں. نرسنه پور ضلع کے برمان گاؤں میں دس ہزار پودے لگانے کا دعوی کیا گیا مگر اب یہاں پودے نہیں بچے ہیں. صرف نام  کے ہی ہیں.

شک ہوتا ہے کہ جو بابا پودے لگانے کے گھپلے کو اجاگر کرنے کے لئے مہم  چلانے والے تھے، انہیں وزیر مملکت کیا اس لئے بنایا گیا کہ وہ خاموش ہو جائیں. مذہب خاموش ہو جائے. ہماری سیاست اب ایسی ہی ہوتی جا رہی ہے. اپنے گاؤں میں ایک آشرم بنوا لیجئے، گاؤں میں نیتا تو نہیں آئیں گے، آشرم میں ضرور آئیں گے پھر وہاں گھیر کر پوچھے گا.

کرناٹک کے لنگايت آشرم میں راہل گاندھی بھی جا رہے ہیں، امت شاہ بھی جا رہے ہیں. سیاست کی اس کمزوری کی طرف نہ جانے کتنے لوگ اشارہ کرتے ہیں پھر بھی جب الیکشن آتا ہے تو کام کی بات کم، آشرم، بابا، مزار، مولوی ہونے لگتا ہے. کوئی گنگا کا اوتار ہو جاتا ہے تو کوئی شیو کا پجاری. میری رائے میں جانا تو چاہئے ہر جگہ مگر وہ ووٹ کے لئے جایا جا رہا ہے، عوام کے سوالوں سے توجہ ہٹا کر عوام کو ختم کرنے کے لئے جایا جاتا ہے. یہ جو آپ نے کہانی دیکھی، وہ سیاست کی نہیں، آپ کے ختم ہونے کی کہانی ہے. نیتا کو یہ بات معلوم ہے، بس آپ کو پتہ نہیں چل پاتا ہے. یہ بھارت کی سیاست ہے. عوام کہاں ہیں یہاں ہے … عوام ہر دن لاچار ہوکر میڈیا کو تلاش رہی ہے، میڈیا نے عوام کو تلاش کرنا بند کر دیا ہے.

مغربی بنگال میں کچھ طالب علم ریاستی انتخاب کمیشن کے سامنے بینر لے کر کھڑے ہیں. ان کے لئے نہ تو کوئی بابا آتا ہے نہ کوئی مولوی نہ کوئی نیتا؟ ایک سکول نے لکھا ہے کہ کولکتہ میں WBPSC Office کے سامنے طالب علم دھرنا دے رہے ہیں. پریس کو بلایا گیا مگر کوئی نہیں آیا. 2016 میں جونیئر انجینئر کے امتحان ہوئے، سول اور میڈیکلل انجینئرز کے لئے.سول کی لسٹ میں 1356 طالب علموں کا نام آیا اور ان میں سے 1082 کو پوسٹنگ دے دی گئی. مگر 274 طالب علم اب بھی جواننگ کا انتظار کر رہے ہیں. سکول نے بتایا کہ مسئلہ تو بہتوں کا ہے مگر اپنے ہی حق کے لئے 30-35 لوگ ہی آئے ہیں.

عوام جب عوام نہیں رہ جاتی، وہ سیاست میں عوام کے علاوہ کچھ اور ہو کر پناہ مانگتی ہے تو اس کی یہ حالت ہو جاتی ہے. میڈیا کے لئے بھی یہ عوام نہیں ہے. آپ آزاد ہیں باباؤں کے وزیر بنائے جانے پر خوش ہونے کے لئے. آپ اب مدھیہ پردیش میں پودے لگائے جانے کے بارے میں کچھ کچھ جان گئے ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close