آج کا کالم

کیا بدل سکتی ہے راجستھان کی ہوا؟

ٹکٹوں کی تقسیم سے پیدا ہوتی ناراضگی سے بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی پریشان ہیں۔

اکھلیش شرما

(اکھلیش شرما NDTV انڈیا کے سیاسی ایڈیٹر ہیں۔)

اب تک ہر ایگزٹ پول اور ہر سیاسی تجزیہ یہی کہہ رہا ہے کہ راجستھان ہر پانچ سال میں حکومت تبدیل کرنے کی روایت کو قائم رکھتے ہوئے کانگریس کو اقتدار سونپنے جا رہا ہے۔ لیکن کیا راجستھان میں ہوا کا رخ بدل سکتا ہے؟ یہ سوال اس لیے ہے کیوں کہ کانگریس کے اندر ٹکٹوں کے غلط بٹوارے اور صوبائی قیادت کے تیکھے اختلافات کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے اب پوری طاقت جھونکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی جے پی کو اب اپنے امکانات نظر آنے لگے ہیں۔ اب تک وزیر اعظم مودی چھ جلسے کر چکے ہیں۔ وہ ناگور، بھرت پور، بھیل واڑہ، باسواڑا، کوٹہ اور الور جا چکے ہیں۔ ان کے جلسوں میں آئی بھیڑ اور لوگوں کے جوش کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے اب ان کے اور زیادہ جلوس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ پانچ سے چھ اور جلوس کر سکتے ہیں۔ ان میں جودھپور، ہنومان گڑھ، سیکر اور جے پور پہلے سے ہی طے ہیں۔

بی جے پی صدر امت شاہ نے انتخاب تک راجستھان میں ہی ڈیرہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ راجستھان بی جے پی میں وزیر اعظم مودی اور وسندھرا راجے کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کا سب سے زیادہ مطالبہ ہو رہا ہے، لہذا پارٹی ان کے جلسوں کی تعداد بھی بڑھانے جارہی ہے۔ وہ مسلسل تین دنوں تک پرچار کر چکے ہیں اور ان کے جلسوں کے اثر کو دیکھتے ہوئے اب دیگر علاقوں میں بھی ان کی مانگ ہو رہی ہے۔ بیکانیر، باڑ میر اور جالور اضلاع میں ان کے ناتھ فرقے کے انويائيوں کی بڑی تعداد ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی جلسے مسلم اکثریتی علاقوں اور ناتھ فرقے کے اثر والے علاقوں میں کرائے جا رہے ہیں۔

آر ایس ایس کے رضاکاروں کو جنگی پیمانے پر تشہیر کرنے کے لئے کہہ دیا گیا ہے۔ بی جے پی اس الیکشن میں تُرپ کا اکّا مرکزی اور ریاستی حکومت کی یوجناؤں کے فائدہ اٹھانے والوں کو مان رہی ہے۔ بی جے پی کے مطابق ریاست میں ایسے تقریبا ایک کروڑ لوگ ہیں، جنہیں ان یوجناؤں کا براہ راست فائدہ پہنچا ہے۔ آج شام سے بی جے پی نے ’’کمل دیا ابھیان‘‘ شروع کیا ہے، جس میں بی جے پی کارکن ان یوجناؤں سے فائدہ اٹھانے والوں کے گھر دیے جلائیں گے اور ان سے بی جے پی کو ووٹ دینے کی اپیل کریں گے۔ بی جے پی انتخاب کے آخری دنوں میں پوری طاقت لگانے یعنی لاسٹ اوور میں کھل کر کھیلنے کے لیے جانی جاتی ہے اور راجستھان میں یہی دیکھنے کو مل رہا ہے، لیکن راجپوتوں کی ناراضگی اور وسندھرا کے رویہ سے خفا کارکن بی جے پی کے لیے اب بھی  ایک چیلنج ہے۔

ادھر، بی جے پی کی حکمت عملی میں تبدیلی کو دیکھتے ہوئے کانگریس محتاط ہو گئی ہے۔ اب اس کی پوری کوشش کسانوں کی قرض معافی کے وعدے اور وسندھرا حکومت کی ناکامیوں کو ہوا دینے کی ہے۔ اب راہل گاندھی بھی مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ سے نمٹنے کے بعد راجستھان پر اپنی طاقت لگا رہے ہیں۔ راہل گاندھی یکم دسمبر کو دوبارہ راجستھان جا رہے ہیں۔ وہ ادئے پور، بھیلواڑا، چتتوڈگڑھ اور ہنومان گڑھ میں جن سبھائیں کریں  گے۔ راہل نے اس مہینے صرف جیسل میر، جالور اور جودھپور میں جلسے کیے ہیں۔ پارٹی کی دقت یہ ہے کہ اس کی بادشاہی کے سب سے زیادہ سب سے دگج نیتا اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ ہی اپنے انتخابی حلقوں کے علاوہ دوسری سیٹوں پر پروپیگنڈے کر رہے ہیں۔ دونوں ابھی تک چوراسی(84) جلسے کر چکے ہیں۔ لیکن وزیر اعلی کے عہدے کے لیے کوئی چہرہ نہ ہونا بھی کانگریس کے لیے مشکل کھڑی کر رہا ہے۔ گہلوت کا یہ بیان کہ راجستھان میں پارٹی کے پاس سات سے زیادہ وزیر اعلی امیدوار ہیں، پارٹی کے خلاف گیا ہے۔

ٹکٹوں کی تقسیم سے پیدا ہوتی ناراضگی سے بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی پریشان ہیں۔ لیکن کانگریس میں اس کے خلاف مزاحمت زیادہ ہے کیونکہ ہر دعویدار یہ مان کر چل رہا تھا کہ پارٹی کی اقتدار میں واپسی طے ہے۔ وزیر اعلی کے عہدے کے زیادہ دعویدار ہونے کی وجہ سے بھی کانگریس میں اندرونی سازش کا ڈر ہے۔ اگرچہ کانگریسی لیڈروں کا دعوی ہے کہ وسندھرا حکومت اتنی زیادہ غیر مقبول ہے کہ عوام کے پاس سوائے کانگریس کو ووٹ دینے کے، کوئی اور چارہ ہی نہیں ہے۔ بی جے پی اسی دعوے کو جھٹلانے کے لیے اب اپنی پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اتر آئی ہے۔

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

متعلقہ

Back to top button
Close