آج کا کالم

کیا بھوپال انکاؤنٹر واقعی حقیقی تھا؟

رویش کمار

بھوپال انکاؤنٹر معاملے میں سوال نہ پوچھنے کے بیان کا احترام کرتے ہوئے دو سینئر پولیس افسروں کے بیان کو رکھنا چاہتا ہوں۔ منگل کو بھوپال کے انسپکٹر جنرل آف پولیس یوگیش چودھری نے ہمارے ساتھی شری نواسن جین کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے نفیس انگریزی میں کہا تھا کہ مفرور قیدیوں کے پاس 4-5 ہتھیار تھے۔ ان کے بیان سے واضح ہے کہ ان کے پاس دو 315 بور کے دیسی کٹے تھے اور دو 12 بور کے کٹے تھے۔

 منگل کے بعد ظاہر ہے بدھ ہی آتا ہے۔ بدھ کو ہمارے ساتھی شری نواسن جین نے اے ٹی ایس کے سربراہ سنجیو شمی سے بات کی۔ 1993 بیچ کے آئی پی ایس افسر سنجیو شمی سب سے پہلے انکاؤنٹر کے مقام پر پہنچنے والے افسروں میں سے تھے۔ شمی انتہائی ایماندار اور جنونی افسر مانے جاتے ہیں۔ اے ٹی ایس مطلب انسداد دہشت گردی اسكوائڈ۔ اے ٹی ایس ہی انکاؤنٹر کی قیادت کر رہی تھی۔ شری نواسن جین نے سنجیو صاحب کو کافی موقع دیا کہ وہ جو کہہ رہے ہیں اس پر وہ قائم ہیں یا نہیں۔ انہوں نے بار بار کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔ سنجیو شمی صاحب نے انگریزی میں کہا کہ دہشت گردی کے ملزم آٹھوں مفرور قیدیوں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ پولیس کہتی ہے چار بندوقیں تھیں۔ اے ٹی ایس کہتی ہے ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔

یوگیش چودھری آئی جی بھوپال ہیں۔ سنجیو شمی پورے مدھیہ پردیش اے ٹی ایس کے چیف ہیں۔ رینک میں دونوں انسپکٹر جنرل ہی ہیں۔ اس طرح کے معاملات میں سیاست نہ کرتے ہوئے آپ خود بھی سوچ سکتے ہیں کہ ایک آئی پی ایس افسر کیوں کہہ رہے ہیں کہ چار بندوقیں تھیں۔ ایک آئی پی ایس افسر کیوں کہہ رہے ہیں کہ کوئی بندوق نہیں تھی۔ ان دو مختلف چیزوں میں سے ایک تو سیاست کا حصہ نکل سکتا ہے، شاید اسی لئے اس طرح کے معاملات میں سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ اب ہم بڑھتے ہیں دوسرے مسئلے کی طرف جس سے جڑے لوگ چاہتے ہیں کہ ایسے معاملے میں سیاست ہونی چاہئے، بحث ہونی چاہیئے مگر ہو ہی نہیں رہی ہے۔

 20 لاکھ سروس سے وابستہ اور ریٹائرڈ مرکزی مسلح پولیس فورسز کے جوانوں کی تنظیم نے اپنے 17 مطالبات کو لے کر جنتر منتر پر تیسری بار دھرنا شروع کیا ہے۔ کچھ جوان نیم برہنہ حالت میں بھی اپنے مطالبات کو لے کر مارچ کرتے نظر آئے۔ ان کی پریس ریلیز میں لکھا ہوا ہے کہ ساتویں پے کمیشن میں مرکزی پولیس فورسز کے جوانوں کا موازنہ چپراسی اور کلرک سے کیا گیا ہے. یہ لوگ نیم عریاں حالت میں اس لئے آئے کیونکہ ان میں سے کچھ کو لگا کہ میڈیا کور نہیں کرتا ہے۔ جبکہ میڈیا کا زیادہ تر حصہ تو گزشتہ ایک ماہ سے حب الوطنی کو لے کر اوور ٹائم ڈیوٹی کر رہا ہے تاکہ لوگ اس کے نام پر سوال نہ کریں۔ شاید اسی لیے ہمارے مرکزی پولیس فورسز کے جوانوں کو کپڑے اتارنے پڑ رہے ہیں تاکہ میڈیا میں انہیں اپنا سوال رکھنے کا موقع مل سکے۔ آخر ہم جن جوانوں کی شہادت کے بدلے اپنی حب الوطنی ٹوئٹر پر ظاہر کرتے رہتے ہیں، انہیں پنشن اور تنخواہ کے لئے دھرنا کرتے ہوئے کس طرح دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن آپ دیکھنےکے لئےمجبور ہیں کیونکہ حب الوطنی کے سلسلے مٰیں میڈیا کے اس مظاہرے  کو اچھے اچھے پروفیسر نہیں سمجھ پائے۔

 اس تنظیم نے وزیر اعظم مودی کوشکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ آپ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے ہم جوانوں کے ساتھ سرحد پر دیوالی منائی ہے لیکن ہم ملک کے 20 لاکھ نیم فوجی خاندان آپ کی توجہ کابلٓ میں دیے گئے بیان کی طرف دلانا چاہتے ہیں جب آپ نے یہ کہا تھا کہ کیپ اٹ اپ. جناب اب وقت آ گیا ہے کہ آپ نیم فوجیوں کو اپ کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک کی 1500 کلومیٹر طویل سرحد پر بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، ایس ایس بی تعینات ہیں تو ہمیں پیراملٹري اسپیشل پے کیوں نہیں دی جا رہی ہے۔ جب فوج کے جوان کو حکومت 16000 فٹ ہائٹ پرتنخواہ کے طور پر  21000-31000روپے دے رہی ہے تو آئی ٹی بی پی اور برفیلے علاقوں میں رہ رہے بہادروں کو اس طرح کی تنخواہ کیوں نہیں دی جا رہی ہے؟ اسی طرح سی آئی ایس ایف کے جوانوں کو سال میں 30 دن کی چھٹی ملتی ہے جبکہ فوج، نیم فوجی فورسز کو 60 دن کی۔ اس وجہ سی آئی ایس ایف کے کئی جوان خود کشی کر لیتے ہیں۔

 مرکزی پولیس فورس صرف سرحد پر ہی نہیں نکسل متاثرہ علاقوں میں بھی مورچہ سنبھالے رہتی ہے۔ آئے دن اس محاذ پر ان کےجوانوں کی موت ہوتی رہتی ہے۔ میڈیا شہید لکھ دیتا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ ہمیں شہید کا درجہ نہیں ملتا ہے۔ پنشن کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

 آپ جانتے ہی ہیں کہ سرجیکل اسٹرائک کے بعد فوج اور بی ایس ایف کے جوان خوب محاز پر جا رہے ہیں۔ بی ایس ایف کے چیف نے دعویٰ بھی کیا ہے کہ پاکستان کے کئی پوسٹ کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔ 26 جون کو جموں کشمیر کے پمپور میں سی آر پی ایف کے آٹھ جوان ہلاک ہو گئے تھے اور 20 زخمی ہوئے تھے۔ ان کا قافلہ شرینگر جموں نیشنل ہائی وے سے گزر رہا تھا۔ سی آر پی ایف کی یہ ٹکڑی پٹھان کوٹ سے پمپور جا رہی تھی۔ تبھی دہشت گردوں نے حملہ کر دیا، 28 اکتوبر کو پاکستان کی جانب سے سيز فائر کی خلاف ورزی ہوئی تھی جس میں 10 شہری زخمی ہو گئے تھے اور بی ایس ایف کا ایک جوان مارا گیا تھا۔ حال فی الحال میں فوج کے چار جوان شہید ہوئے ہیں جو بی ایس ایف کے بھی چار جوانوں نے قربانی دی ہے. ان کے نام ہیں اس طرح ہیں …

– هيرانگر سیکٹر میں پاک گولہ باری میں گرنام سنگھ شہید (آرایس پورا)

– آرایس پورا سیکٹر میں سشیل کمار شہید (کروکشیتر)

– آر ایس پورا میں ہی جتیندر کمار شہید (موتیہاری)

– ماچھل سیکٹر میں کولی نتن سبھاش شہید (سانگلی)

 قربانی ایک، شہادت ایک ، مگر سہولیات اور انعام میں اتنا فرق کیوں؟ یہ ان کی شکایت ہے۔ دہشت گردی، انتہا پسندی اور سرحد پر دشمنوں کا سامنا ہے۔ مرکزی سیکورٹی فورس مرکزی وزارت داخلہ کے تحت آتی ہے۔ ان کا سربراہ ان کے کیڈر سے نہیں ہوتا ہے۔ ان سیکورٹی فورسز کے کمانڈنٹ اپنی فورس کے سربراہ نہیں بنتے۔ اس کے چیف آئی پی ایس افسر بنتے ہیں۔ ویسے عام بول چال میں ہم سبھی فورسز کو نیم فوجی فورس کہہ دیتے ہیں لیکن نیم فوجی فورس صرف ایک ہی ہے، وہ ہے آسام رائفلز۔ اس کا سربراہ فوج کا افسر ہوتا ہے۔ باقی سب مرکزی مسلح پولیس فورس ہیں۔ جیسے۔۔۔۔۔۔۔

 – مرکزی ریزرو پولیس فورس یعنی سی آر پی ایف

– سرحد سیکورٹی فورس یعنی کہ بی ایس ایف (پاکستان اور بنگلہ دیش سرحد پر تعینات)

– بھارت تبت سرحد پولیس یعنی کہ آئی ٹی بی پی (چین سے لگی سرحد پر تعینات)

– مرکزی اودھیوگك سیکورٹی فورس یعنی سي آئ ایس ایف

– مسلح سرحد فورس یعنی کہ ایس ایس بی (نیپال اور بھوٹان سرحد پر)

 ہم نے پریس کانفرنس بیورو کی ویب سائٹ سے وزارت داخلہ کی پریس ریلیز چیک کی۔ 15 اگست کے دن جاری ایک بیان میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے سی آر پی ایف کے ایک جوان کو شہید کہہ کر خطاب کیا ہے۔ تو کیا شہادت صرف خطاب میں ہے، حقوق کے معنی میں نہیں ہے۔ آج آپ کو ٹوئٹر اور فیس بک پر جا کر دیکھنا چاہئے، کہ کتنے ایسے میسج ہیں جو ان کے حق کی بات کرنے والے ہیں. شہادت کے وقت کی جذباتیت اچھی بات ہے۔ لیکن وہ جذباتیت تب ڈرامائی ہو جاتی ہے جب ہم فوجیوں کی طرح لڑنے والے نیم فوجیوں کو بھول جاتے ہیں۔ جمعرات کو ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے سابق فوجی رام كشن گریوال کے خاندان کو دس لاکھ کی امدادی رقم اور خاندان کے ایک رکن کو ملازمت دینے کا اعلان کیا لیکن کہا کہ رام كشن کو شہید کہنا ٹھیک نہیں ہے۔

ایک طرح سے کھٹر صاحب کی بات ٹھیک بھی ہے لیکن ان کی دوسری بات سے نیم فوجی دستوں کے جوان کو راحت مل سکتی ہے۔ کھٹر صاحب نے کہا کہ جو سرحد پر مرتا ہے وہی شہید ہے تو نیم فوجی فورسز کے جوان کیوں شہید نہیں مانے جاتے ہیں۔

 سابق فوجی رامكشن گریوال کی آخری رسم ان کے گاؤں میں ادا کی گئی۔ بھوانی ضلع کے باملا گاؤں میں ان کی آخری رسومات میں راہل گاندھی بھی شریک ہوئے۔ وہ صبح صبح رام كشن گریوال کے گاؤں پہنچے تھے۔ دہلی کے وزیر اعلی کیجریوال بھی وہاں پہنچے اور ایک کروڑ کی رقم دینے کا اعلان کیا۔ کانگریس لیڈر رنديپ سرجےوالا اور ديپیندر ہڈا نے رامكشن گریوال کے لاش کو کندھا بھی دیا۔ جیسے شیوراج سنگھ چوہان نے بھوپال میں رما شنکر یادو کو کندھا دیا تھا۔ ہریانہ میں کانگریس سرپنچ یا پنچایت کے انتخابات میں کسی کو پارٹی ٹکٹ نہیں دیتی ہے لیکن مرکزی وزیر وی کے سنگھ نے کہا کہ رام كشن گریوال نے کانگریس کے ٹکٹ پر سرپنچ کا الیکشن لڑا تھا۔ اس کی خودکشی بدقسمتی کی بات ہے۔ اس کا معاملہ بینک کا تھا۔ ون رینک ون پنشن کی وجہ سے نہیں تھا۔ اسے کس نے سلفاس کی گولی دی۔ وہ ہمارے پاس آتا اور ہم ہیلپ نہ کرتے تو ہمارا قصور ہوتا۔ وی کے سنگھ نے یہ بیان دہلی سے دیا۔ ان کا گاؤں رام كشن گریوال کے گاؤں سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہے۔ بی جے پی لیڈر سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ راہل گاندھی نے ون رینک ون پنشن کو لے کر کبھی کچھ نہیں کیا۔ ہم نے تو اس کی کمیوں کو دور کرنے کے لئے کمیٹی بھی بنائی ہے۔ بی جے پی کے ایم پی ستیہ پال سنگھ نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ دہلی پولیس نے اس مسئلے کو مناسب طریقے سے ہینڈل نہیں کیا۔ سابق فوجی کے خاندان سے ملنے میں کسی کو کوئی دقت نہیں ہے۔ شاہنواز حسین نے کہا کہ فوج کے اتنے جوان شہید ہوئے، ان کی آخری رسومات میں تو کانگریس لیڈر اور راہل گاندھی نہیں گئے۔ کسی نے خود کشی کی ہے تو سیاست کر رہے ہیں۔ شاہنواز کا نشانہ تھوڑا صحیح جگہ لگا ہے۔

بی جے پی لیڈر نلن کوہلی نے کہا کہ واقعہ افسوسناک ہے مگر یہ کانگریس کے لئے فوٹو اپورچینیٹی بن گیا ہے۔ مگر کانگریس بی جے پی کی اس تنقید کے بعد بھی اس معاملے کو لے کر فعال نظر آنے لگی ہے۔ عام آدمی پارٹی بھی کافی سرگرم ہے۔

 بھوانی سے لوٹ کر شام کو راہل گاندھی نے جنتر منتر پر کینڈل مارچ کی قیادت کی ہے۔ لیکن راہل گاندھی کو پولیس نے اپنی گرفتاری میں لے لیا۔ دو دن میں راہل گاندھی تیسری بار گرفتار کئے گئے ہیں۔ راہل گاندھی کو پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں لے جایا گیا، بعد میں تغلق روڈ تھانے لے جایا گیا۔ تغلق روڈ پر ہی ان کا گھر ہے۔ کانگریس ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے۔ تیواری نے کہا کہ اگر سیاسی لوگ ہمدردی کا اظہار نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا۔ ویسے جنتر منتر پر موم بتی مارچ سے پہلے حراست میں لینے کا کیا جواز ہے۔ ایک دلیل یہ ہے کہ اس مظاہرے کی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ کانگریس کہتی ہے اجازت لی گئی تھی۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close