آج کا کالم

کیا بینکوں میں دکھتا ہے سوچھ بھارت ابھیان؟

رویش کمار

بھلے ہی آپ مجھے نہ دیکھیں لیکن ٹی وی کم دیکھئے. بہت سے لوگ اب سوشل میڈیا پر ان چینلز کی کرتوت کو لے کر لطیفے بنا رہے ہیں. ایک تو پہلے سری دیوی کی المناک موت ہوئی اس کے بعد ہر چینل نے سری دیوی کو اپنے اپنے حساب سے مارا اور اسے دیکھنے والے تمام ناظرین نے لطیفہ بنا کر اپنے اپنے حساب سے مارا. آپ سمجھ تو رہے ہی ہوں گے کہ ٹی وی کے پاس آپ کی حساسیت ختم کرنے کی کتنی طاقت ہے. یہ کوئی پہلا موقع تو نہیں ہے، اس طرح سے نیوز چینل ہزار بار کر چکے ہیں اور آگے بھی کرتے رہیں گے. پر ایک سوال آپ خود سے پوچھئے کیا واقعی آپ نے طے کر لیا ہے کہ خود کو اور معاشرے کو برباد کر دینا ہے.

اگر آپ نے طے کر لیا ہے تو پھر آپ کو یہ جان کر خوشی ہونی چاہئے کہ کئی ریاستوں میں آپ کے بچوں کے پڑھنے کے لئے ڈھنگ کا ایک کالج تک نہیں ہے. ان کالجوں میں استاد نہیں ہیں اور جو ٹھیکے پر پڑھا رہے ہیں انہیں دس بارہ ہزار روپے دیے جا رہے ہیں. اگر آپ والدین ہیں تو اپنے بچوں کو کہیے کہ ہم نے تمہاری بربادی کا انتظام کر دیا ہے چلو مل کر ٹی وی دیکھتے ہیں. اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں صحیح نہیں کہہ رہا تو ndtv.in پر جاکر یونیورسٹی سیریز کے تمام 27 ایپی سوڈ دیکھ لیں اور پھر اپنے بچے کو دكھايے کہ ہم تمہیں اس کالج میں برباد ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن اب چلو ٹی وی دیکھتے ہیں. موت کا باتھ ٹب ہیں. تنقید کے بعد بھی چینلز کی بے شرمی پر کوئی اثر نہیں پڑا. آگے بھی نہیں پڑے گا. کیا اس میں آپ کی رضامندی نہیں ہے، یہ جاننے کے لئے آپ کو فیس بک اور وهاٹس اپ کے میسج چیک کریں کہ آپ کیا پڑھ رہے ہیں، کیا لکھ رہے ہیں اور کیا شیئر اور لائک کر رہے ہیں.

انہی چینلز کو کچھ دن بعد بہترین چینل کا ایوارڈ مل جائے گا، کوئی اینکر فاتح ہو جائے گا اور پھر سب مبارکباد کے پیغامات کے ساتھ ٹھیک بھی ہو جائے گا. ٹی وی کم دیکھئے. اس پر یا تو جھوٹ کا پروپیگنڈہ چلتا ہے، نیتا کی نیتاگري چل رہی ہے، آپ کو یا آپ کے بچے کو انسانی بم میں تبدیل کرنے کے لئے ہندو مسلم ڈبیٹ چلایا جاتا ہے.

26 فروری کو ہم نے پرائم ٹائم کی سیریز میں کچھ بینکوں کے ٹوائلٹ کا حال دکھایا تھا. اثر یہ ہوا ہے کہ الہ آباد بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، سنڈیکیٹ بینک اور انڈین بینک حرکت میں آئے ہیں. ان سب نے سرکلر بھیج کر خواتین کے لئے ہر برانچ میں سو فیصد ٹوائلٹ کا بندوبست کرنے کا اعلان کیا ہے. آپ کی اسکرین پر جو لکیریں چل رہی ہیں انہی سرکلر کی ہیں. پٹنہ کے پنت بھون میں انڈین بینک کی شاخ میں ٹوائلٹ کے انتظام کو لے کر خوب میٹنگ ہوئی. الہ آباد بینک نے تو 9 جنوری کے اپنے سرکلر کا بھی ذکر کر دیا مگر یہ نہیں بتایا کہ ایک ماہ کے درمیان ان سركلروں کا کیا ہوا. الہ آباد بینک کا سرکلر کہتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں کے لئے ٹوائلٹ اور پینے کے پانی کا بہترین انتظام ہونا چاہیے. ریاستی اسٹیٹ بینک آف انڈیا کا کہنا ہے کہ این ڈی ٹی وی خواتین ملازمین کے بیت الخلا کی سہولت پر سروے کر رہا ہے، مگر ہلکے سے متنبہ کر دیا گیا ہے کہ تصویر کو نقصان نہ پہنچے یعنی بینکر مجھے کچھ نہ بتائیں. اب بہت دیر ہو چکی ہے.مجھ تک بہت ساری معلومات پہنچ چکی ہیں. ہم نے کئی میسج ایسے بھی دیکھے ہیں جن میں ریجنل ہیڈ سے اوپر کے افسران شاخوں کے منیجر سے نازیبا زبان میں بات کرتے ہیں. وہ ایسا کرنا فوری بند کر دیں ورنہ ان گالیوں کو ٹی وی پر دکھائیں گے.

بینک اپنے اشتہارات پر کتنا خرچ کرتے ہیں. تین تین سال تک سوچھتا ابھیان (حفظان صحت) کا بینر ٹاںگے رہے، تب انہوں نے ہر شاخ میں خواتین یا مردوں کے لئے الگ الگ اچھے ٹوائلیٹ کیوں نہیں بنائے. ویسے اب جب بن جائے گا تو بینکوں کو پرائم ٹائم کے ناظرین سے افتتاح کرانا چاہئے، کیونکہ یہی وہ ناظرین ہیں جو سری دیوی کی المناک موت پر چینلز کی نوٹنکی چھوڑ کر ایک زیرو ٹی آ رپی اینکرز کی بینکوں پر سیریز دیکھ رہے تھے. آپ تمام ناظرین کو آدھی مبارک باد. مکمل مبارکباد تب دوں گا جب ٹوائلیٹ بن جائیں گے. نیرومودی سے سانس ملی تو بینک سیریز کا یہ 9 واں ایپی سوڈ ہے ویسے بنک كے  اندر اندر جو حالت زار ہے اس کے حساب سے یہ چھٹا ایپی سوڈ ہونا چاہئے.

اس ٹوائلیٹ کو دیکھ کر آپ دل نہ چھوٹا نہ کریں بس پیٹ پر کنٹرول کرنے کی قوت بڑھالیں. یہ پنجاب کے کسی بینک کے کسی ٹوئلیٹ کا ہے. بھیجنے والے سے وعدہ ہے کہ نام نہ بتاؤں تو نبھا کر رہا ہوں. دروازے میں کنڈی نہیں ہے تو باہر کوئی کھڑا رہتا ہے. خاتون ملازم فی الحال نہیں ہیں مگر جب تحقیقات کے لئے یا کیشر کے ساتھ آتی ہیں تو اسی ٹوائلٹ کا استعمال کرنا پڑتا ہے. باہر کوئی کھڑا رہتا ہے. کموڈ کے سوا کرسی کیوں رکھی ہے اس پر آپ بھی کچھ دماغ لگايے. ضرور کچھ گر رہا ہو گا، جسے روکنے کے لئے کرسی ٹکا دی گئی ہو گی. سوچئے کہ جب یہ کرسی یہاں آ گئی ہے تو جہاں یہ تھی وہاں کیا رکھا ہوگا.

شاید یہی کرسی ٹوئلیٹ میں رکھی ہے تبھی یہاں کھٹیا رکھ دی گئی ہے. کھٹیا پر بیٹھ کر کام ہوتا ہے. اس طرح سے کھانا گرم کرنے کی مشین رکھی ہوئی ہے. آپ کا بینکر ان حالات میں کام کر رہا ہے. اس دوسری تصویر کو دیکھئے. کبھی یہاں ٹوالیٹ ہوا کرتا تھا، جگہ نہیں ہے تو فائلیں رکھ دی گئی ہیں. بڑی تعداد میں بینک کی شاخوں سے گاہکوں، رپورٹرز اور متاثرہ فریق نے فیڈ بیک بھیج دیئے ہیں. کسی بھی حکومت کے لئے یہ فیڈ بیک سونے کے انڈے ہیں. چاہے تو ٹھیک کر دو دن میں واہ واہی لوٹ سکتی ہے. ایسا ہو جائے تو مجھے بھی جولائی تک یہ سیریز نہیں کرنی پڑے گی. اس طرح مسلسل تو نہیں مگر بیچ بیچ میں کرتا رہوں گا.

بینکوں کے جو بڑے افسر ہیں  بڑے چالاک ہوتے ہیں. جب ٹوائلیٹ کی حالت دکھائی تب انہیں ہوش آیا. جب میں نے کہا کہ دیوالی تک یہ سیریز کروں گا تو بہت سے بینکوں نے اپنے برانچ کی خبر لینی شروع کر دی ہے. یہ ہماچل پردیش کے ایک دیہی بینک کے ٹوائلیٹ کا حال ہے. اس کی تصویر دیکھ کر آپ کو پتہ چل جائے گا کہ بینک اپنے ملازمین کا کس طرح خیال رکھتے ہیں. یہ ويڈو کانپور کے پنجاب نیشنل بینک کی شیام نگر برانچ کا ہے. یہاں ایک ہی ٹوائلیٹ ہے جو بینک کے باہر ہے. وہ بھی اس حالت میں ہے. یہاں ایک خاتون ملازم بھی کام کرتی ہیں. مرد اور عورت دونوں کے لئے ایک ہی ٹوائلیٹ ہے. وجہ اور بہانے میں میری دلچسپی نہیں ہے، میری دلچسپی  ہے اسے دکھانے میں ہے.

مرکزی حکومت کی خواتین کو 180 دن کے لیے زچگی کی چھٹی ملتی ہے. ساتھ میں مائیں دو سال تک بچہ کی دیکھ بھال کے لیے رخصت لے سکتی ہیں. یا تو ایک ساتھ لے سکتی ہیں یا پھر 18 سال ہونے تک ٹکڑوں ٹکڑوں میں. اس دو سال کی چھٹی لے سکتی ہیں. مگر اسی مرکزی حکومت سے کنٹرول سرکاری بینکوں میں خواتین کو زچگی کی چھٹی صرف 6 مہینے کی ملتی ہے. اتنا فرق کیوں ہے. کیا چیئرمین صاحب لوگ ایک دن میں عورت بینکاروں کو زچگی کی چھٹی كے حکومت میں کام کرنے والی خواتین کے برابر نہیں کر سکتے ہیں. یہ فرق ابھی تک کس طرح ہے. ہمارے این ڈی ٹی وی میں تو ہم مردوں کو 15 دن کا پترتو ریسس ملتا ہے. مرد حکام کا بھی حال برا ہے. جو سب سے اوپر کے دو فیصد افسر ہیں ريجنل ہیڈ ٹائپ ان کی کافی موج ہے، مگر ذیلی منیجروں کو رات کے نو نو بجے تک بینک میں رکنا پڑتا ہے. آخر بینکاری جیسا کام کوئی صبح کے دس بجے سے لے کر رات کے دس بجے تک کس طرح کرتا ہے. اس کی زندگی کیا ہوئی پھر. ہم بینک ملازمین کی بیماریوں پر بھی الگ سے اس سیریز میں بحث کرنے والے ہیں. میں یہ سب ایک دو شکایات کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا. یقین کیجیے. ہزاروں میسج پڑھے ہیں. اس کے بعد یہ رائے تیار کی ہے جو میں آپ کو اور حکومت کو دے رہا ہوں.

ہماری سیریز کے تین چار فرنٹ ہیں. سیلری تو ہے ہی، اس سے زیادہ جبرا لون دلوانا، کسٹمر کے بھروسے کا استعمال کرکے خراب انشورنس پالیسی بكوانا. تیسری ہے ٹرانسفر. آپ میں سے بہت سے لوگ ہوں گے جنہیں پتہ چل گیا ہوگا کہ بغیر آپ کی معلومات کے ہی انشورنس پالیسی بیچ دی گئی ہے.

آپ بہت اچھے دوست ہیں اور صحیح معنوں میں گاندھی جی کی آزادی کی قدر کرتے ہیں. آپ کی بات صحیح لگی کہ آپ کا نام بتانے سے نہیں ڈرتے. ہمیں سوچنا ہوگا کہ کام ہمیں زندہ رکھنے کے لئے ہے یا مارنے کے لئے. ہمارے پیشے میں بھی کافی کشیدگی ہے. کم کشیدگی نہیں ہے، لیکن بینکاری جیسا مشکل کام کوئی 10 بجے صبح سے رات کے نو بجے تک کیوں کرے گا. ایسا کون سا کام ہے جو آٹھ گھنٹے میں ختم نہیں ہو سکتا. جب سے بینک افسروں اور ملازمین سے انشورنس بكوايا جا رہا ہے، باہمی فنڈز بكوايا جا رہا ہے، ٹارگیٹ نے ان کی زندگی ختم کر دی ہے. کسی کو اسی بات کی آڈٹ کرنی چاہئے کہ بینک میں لوگ کتنے گھنٹے کام کرتے ہیں. ہم کراس سیلنگ کے لئے جو ٹارگیٹ کا آتنک ہے اس پر الگ سے سیریز کریں گے، لیکن بینکوں کے اندر اندر غلامی کی زندگی پر بات بہت ضروری ہے.

اس سے دو باتیں معلوم چلتی ہے. ایک کہ ہمیں چھوٹے بچوں سے بھی اچھا سلوک نہیں کرتے ہیں. دوسرا کہ سینکڑوں کی تعداد میں مرد اور عورت کے بینکاروں نے کام کی کشیدگی کی شکایت کی ہے. دباؤ ڈال کر لون پاس کروایا جا رہا ہے. اس سیریز سیلری بڑھانے کی بات سے شروع ہوئی تھی مگر اس کے تمام پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ یہ معیشت کہنے کو ہی ادار ہے، اس کے اندر اندر انسان کو غلام بنا کر رکھنے کا مکمل انتظام ہے. ایک بینکر کلرک نے بتایا کہ نوٹ بندي کے دوران اتنا دباؤ تھا کہ نوٹ گننے میں غلطی ہو گئی. ڈھائی لاکھ کم ہوئے تو اسے اکیلے لون لے کر تلافی کرنی پڑی. اگر سارے بینکر یہی سچ بول دیں کہ نوٹ بندي کے دوران واقع ہوئی غلطیوں، سڑے گلے نوٹوں اور جعلی نوٹوں کے بدلے کس کس نے کتنا جرمانہ بھرا تو اس کی تعداد کئی کروڑ میں پہنچ سکتی ہے.

ایک کلرک ڈھائی لاکھ روپے اپنی جیب سے دے تو اس کی کیا حالت ہوگی. جبکہ ان کی سیلری 20،000 بھی نہیں ہوتی ہے. یہ ساری باتیں بینکاروں نے خود بتائی ہیں. وہ بول نہیں سکتے تو ان کی باتوں کو فیڈ بیک کے طور پر پیش کر رہا ہوں. آپ اسے باہر پرنٹ لے کر اوپر کے دو فیصد والے افسروں سے نہیں باقی 98 فیصد بینکاروں سے پوچھئے ایک ایک بات پر ہاں کہیں گے. کہیں گے کہ یہی صحیح ہے.

مےهل چوکسی کا ابھی تک پتہ نہیں چلا کہ وہ کس ملک کا احترام بڑھا رہے ہیں. ان کے وکیل سنجے ایبوٹ نے بتایا ہے کہ مےهل کو حوالگی ڈائریکٹوریٹ کا سمن تو ملا ہے مگر پاسپورٹ منسوخ ہونے کی وجہ سے سفر نہیں کر سکتے ہیں. تو کیا حکومت نے ان کا پاسپورٹ اس لیے منسوخ کیا ہے کہ یہ بھارت نہ آ سکیں. یہ خبر خشبو نارائن اور سداف مودك کی ہے. انڈین ایکسپریس میں چھپی ہے. نیرَو مودی جی بھی ہندوستان زمین پر ابھی تک نازل نہیں ہوئے ہیں. پنجاب نیشنل بینک نے پیر کو اسٹاک ایکسچینج سے کہا ہے کہ نیرو مودی اور مےهل چوکسی نے 1322 کروڑ کا ایک اور فراڈ کیا ہے. اب ان دونوں کے فراڈ کی وجہ سے پنجاب نیشنل بینک کو جو چونا لگا ہے اس کی رقم 12،600 کروڑ ہو گئی. 11،400 کروڑ سے بڑھ کر600 12،  کروڑ ہو گئی ہے مگر نیرو مودی جی نہیں آئے ہیں. چوکسی جی کی چوکی کہاں لگی ہے کسی کو پتہ نہیں ہے. لائومنٹ پر ایک خبر ہے کہ نیرو مودی کی کمپنی فايرسٹار ڈائمنڈ نے بینكرپٹ گھوشت ہونے کے لئے درخواست کی ہے. اس کی وجہ بتائی ہے کہ سپلائی چین میں دقت ہو رہی ہے. بہت دنوں سے میچ یکطرفہ چل رہا تھا تو از اكول ٹو کرنے کے لئے سبھولي چین میل کے چیئرمین گرمیت سنگھ مان، ذیلی منیجنگ ڈائریکٹر گرپال سنگھ اور دیگر کے خلاف 97.85 کروڑ کے فراڈ کا کیس درج ہوا ہے.

گرپال سنگھ پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امرندر سنگھ کے داماد ہیں. کانگریس پارٹی نے سی بی آئی کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے ٹویٹ کیا پھر بعد میں ڈلٹ کر دیا. کیپٹن امریندر کا کہنا ہے کہ گرپال سنگھ صرف 12.5 فیصد حصص کے حصہ دار ہیں. ان کے داماد کو سیاست کے تحت نکالا جا رہا ہے. پھر بھی 12،600 کروڑ کے فراڈ گرفت میں نہ آئے اور اس کے بدلے 97 کروڑ کا فراڈ کرنے والے پکڑا جائے تو وہ بھی ٹھیک ہے. کم از کم یہ تو رہے گا کہ کسی کو بخشا نہیں جا رہا ہے. بڑے والے کو پکڑا نہیں جا رہا تو کیا ہوا، چھوٹے والے کو بخشا نہیں جا رہا ہے.

وزارت خزانہ نے تمام بینکوں سے کہا ہے کہ وہ 50 کروڑ سے اوپر کے تمام این پی اے اکاؤنٹس کی جانچ کرے، دیکھیں کہ ان میں کیا فراڈ ہوا ہے اور سی بی آئی کو اطلاع دیں. سی بی آئی کا کام بھی بڑھ گیا لیکن اگر یہ ہوا تو اگرچہ نیرو مودی اور مےهل چوکسی اب گرفت میں نہیں آ رہے ہیں مگر ایک بار بھانڈا پھوٹے تو ہر پارٹی کے کل جماعتی بااثر لوگ شکست جائیں گے لیکن کیا ایسا ہوگا. جب تک یہ ہوتا ہے آپ اونا کے اس بینک کی تصویر دیکھئے. سیاہ جیسا دکھائی دے رہا ہے. یہ کھلی جگہ ہے. اس بینک میں ٹوائلیٹ نہیں ہے. اسٹیٹ بینک آف انڈیا کا ہے. ایک گاہک نے بھیجا ہے. اس کا کہنا ہے کہ بینک کے ملازمین کے لئے ٹوائلٹ نہیں ہے. بینک اسے نگیٹو فیڈ بیک کے طور پر نہ لیں. بڑے بڑے گھوٹالے کے بعد بھی بینکوں کی تصویر خراب نہیں ہوتی تو فکر نہ کریں، ٹوائلیٹ نہ ہونے اور ایسی جگہ شوچ کرنے کی تصویر سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا ہے. اگر یہاں ٹوائلیٹ بن جائے گا تو الٹا لوگ بینک کی تعریف کریں گے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close