آج کا کالم

کیا تین طلاق پر پابندی سے نا انصافی ختم ہو جایے گی؟

رويش کمار

ہندو عورتیں ہوں یا مسلم عورتیں ہوں.. آئینی، سماجی، سیاسی اور مذہبی اداروں سے وہ اپنے حقوق کے لئے آج بھی لڑ رہی ہیں. کہیں تین طلاق کا مسئلہ ہے تو کہیں پیٹ میں بیٹی مار دیے جانے کا مسئلہ ہے. لہذا یہ سمجھنے کی بھول نہ کریں کہ مسلم عورتوں کی لڑائی نہ تو تین طلاق کے خاتمے سے ختم ہوتی ہے اور نہ ہی شروع ہوتی ہے. بنیادی طور پر عورتوں کی لڑائی اپنے مذہب سے کم، مردوں سے زیادہ ہے. کارپوریٹ کمپنیوں کا کون سا مذہب ہے، جہاں عورت سی ای او کو مرد سی ای او سے کم تنخواہ دی جاتی ہے اور ہم اخبار میں یہ خبر پڑھ کر سو جاتے ہیں.آج بھی کیرالہ کے سبريمالا مندر میں عورتوں کو رجسولا کے وقت اندر جانے کی اجازت نہیں ہے. اس کے خلاف ینگ لواری ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ میں عرضی ڈالی ہے کہ ایسے پابندی ہٹائی جائے.

اس معاملے میں سپریم کورٹ نے 20 فروری کو اپنا فیصلہ ریزرو کر لیا تھا. آج تک ہندوستان میں مندروں میں دلتوں کے داخلے کو لے کر تحریک چل رہی ہیں. مئی 2016 میں اتراکھنڈ کے ایک مندر میں دلتوں کے داخلے کو لے کر بی جے پی رہنما ترون وجے نے جب تحریک چلایی تو ان پر جان لیوا حملہ ہو گیا، لیکن وہیں کئی سال پہلے پٹنہ کے ہنومان مندر میں دلت پجاری کو بٹھایا گیا تو لوگوں نے قبول بھی کر لیا. مذہبی گروہوں نے اس جنگ کا آغاز نہیں، orgasm دیسائی نام کی بے شرم مرد نے کیا. مطلب عورتوں کو اپنی مذہبی اداروں اور آئینی اداروں سے لڑنا ہی پڑے گا، بغیر لڑے مرد انہیں ایک کرسی تک نہیں دینے والے ہیں. حاجی علی کا بھی ایسا ہی معاملہ تھا.

مدھیہ پردیش اور راجستھان میں دلت دولہوں کو پتھر سے مارنے کی خبریں آج بھی آتی ہیں، جب وہ گھوڑی چڑھتے ہیں یا گاڑی سے جاتے ہیں. اس لیے کہا کہ معاشرے کو تبدیل کرنے کی جنگ طویل ہے. 11 مئی سے سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بنچ نے شاعرہ بانو کی درخواست پر روزانہ سماعت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ فوری طور پر فیصلے پر پہنچا جا سکے. گزشتہ سال شاعرہ نے تین طلاق، حلالہ اور تعدد ازدواج کو چیلنج کیا ہے. اسی پیر یعنی 9 مئی کو الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ …

پرسنل لاء کے نام پر مسلم عورتوں کے آئینی حق کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی ہے.

دسمبر 2016 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیا تھا.

آج تک تین طلاق کافی بحث میں ہے تو آپ سمجھیں گے کہ عدالتیں بھی فعال ہو گئی ہیں. 2 مئی 2002 کو بامبے ہائی کورٹ کی تین رکنی اورنگ آباد بنچ نے دگگھو پٹھان بمقابلہ رحیم بی دگگھو پٹھان معاملے میں فیصلہ دیا کہ مسلم جوڑوں کو عدالت میں باقاعدہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے درمیان طلاق ہو چکا ہے اور اس سے متعلق شریعت قانون کی تمام شرائط پوری کی گئی ہیں. دوسری صورت میں کسی بھی قسم کی کے زبانی یا تحریری بیان طرف طلاق کو عدالت نہیں مانے گی.

شیبا نے اس فیصلے پر 2002 کے سال میں ہی هیڈلاین پلس میں لکھا تھا کہ یہ فیصلہ 1981 کے آسام ہائی کورٹ کے فیصلے پر مبنی ہے. 2002 میں شمیم ​​پہیلی بمقابلہ اترپردیش حکومت کیس میں سپریم کورٹ نے بھی تین طلاق کو غلط ٹھہرا چکا ہے … تو آپ نے دیکھا کہ 1981، 2002، 2017 کسی بھی سال کسی بھی قانون نے تمام عدالتوں کو تین طلاق کو غیر آئینی کہنے سے نہیں روکا. 2007 سے ہندوستانی مسلمان عورت تحریک بھی مسلم خواتین کے حقوق کو لے کر جدوجہد کر رہا ہے. یہ بھی اس لئے بتایا تاکہ سامعین کے درمیان الجھن نہ پھیلے کہ یہ جنگ ہمارے لیڈر کسی سماجی بہتری کے مقصد سے سپورٹ کر رہے ہیں. اگر وہ واقعی شعری ہوتے تو پارلیمنٹ میں اسے ہٹانے کا قانون لے آتے. اب رہا یہ سوال کہ جب بہت سے فیصلوں میں تین طلاق کو غیر آئینی سمجھا گیا ہے تو سپریم کورٹ میں غیر آئینی قرار دیے جانے کو لے کر سماعت کیوں ہو رہی ہے.

فیضان مصطفی نے اس مسئلہ پر ٹربیون، دی وائر اور انڈین ایکسپریس میں کئی مضامین لکھے ہیں. ان کے کچھ نقاط ہیں.

2011 کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق، مسلم خواتین میں طلاق 0.56 فیصد ہے.

2011 کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق، ہندو خواتین میں طلاق 0.76 فیصد ہے.

یہ اعداد و شمارسے یہ غلط فہمیدور ہو جاتی ہے کہ ساری مسلم عورتیں تین طلاق سے پریشان ہیں اور مسلم معاشرے میں صبح شام طلاق دینے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہوتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تین طلاق کی گذاش چھوڑ دی جائے. ایک ہی مسلم عورت کا حق اس سے مارا جاتا ہے، تو اسے ختم کرنے کا مطالبہ مکمل طور جائز ہے اور آئینی ہے. بھارتی مسلم خواتین نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرح اپنا کورٹ بنایا ہے. اسے شریعت کورٹ کہتے ہیں، جہاں کئی معاملے باہمی بیچ بچاؤ سے نپٹایے جاتے ہیں. اس کورٹ کے سامنے آئے 525 طلاق کے معاملات میں صرف.

0.2 فیصد طلاق کے معاملے فون سے ہویے ہیں.

0.6 فیصد طلاق معاملے ای میل سے ہویے ہیں.

1 طلاق ایس ایم ایس سے ہوا ہے.

پھر بھی کوئی ای میل سے طلاق دے سکتا ہے اس کے حق میں آپ آج کے بھارت میں کسی کو نہیں سمجھا سکتے. اس طرح کی ہر امکان کو ختم کر دینا چاہئے. بھارتی مسلمان عورت تحریک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زیادہ تر طلاق وکیل، جج، مولوی اور خاندان کے ارکان کے ذریعہ ہوتے ہیں. بلکہ 40 فیصد معاملات میں خواتین نے بھی طلاق کا مطالبہ کیا ہے. فیضان صاحب نے دس ریاستوں سے فتوی جاری کرنے والی تنظیم دارالعلوم افتا سے کچھ اعداد و شمار جمع کئے ہیں. آپ کو بتا دیں کہ فتوی فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ آپ کسی چیز کو لے کر كنفیوز ہیں تو اس پر رائے مانگتے ہیں. نیوز چینلز میں فتوی کے لیے فرمان کی طرح پیش کیا جاتا ہے جو کہ غلط ہے. فیضان صاحب نے آپ کے مطالعہ کی بنیاد پر بتایا ہے کہ …

3،40،206 فتوو میں صرف 6.50 فیصد فتوے تین طلاق کو لے کر تھے.

یعنی بہت پست معاملات میں تین طلاق کو لے کر رائے مانگی گئی.

33 دارالعلوم قضا کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ان کے یہاں تین طلاق نہیں دیا گیا.

طلاق تبھی دیا گیا جب بیچ بچاؤ سے لے کر ساری عمل مکمل ہوئی.

دارالعلوم قضا ایک طرح کا کورٹ ہے جس پر پابندی لگانے سے سپریم کورٹ نے بھی انکار کر دیا تھا.

2002 کے بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے یہی تو کہا تھا کہ تین طلاق یا طلاق کو عدالت میں ثابت کرنا ہوگا اور اس کے لئے پورے عمل پر عمل کرنا ضروری. تب مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس کی مخالفت کی تھی اب جاکر بورڈ نے کہا ہے کہ تین طلاق صحیح نہیں ہے. اس کے پہلے آٹھ مرحلے کا ہونا لازمی ہے. یہ بڑا فیصلہ تو ہے، لیکن کیا اس سے تین طلاق ختم کرنے والے مطمئن ہوں گے. یہ مسئلہ ٹی وی کے لئے مہینوں سے تماشا بھی بنا ہوا ہے. بہت مولانا تین طلاق کے حق میں عجیب عجیب دلیل دے رہے ہیں، جنہیں ٹی وی پر نہ آنے والے کئی مولانا انتہائی اعتراض سے دیکھ رہے ہیں. مہاراشٹر میں تعلیمی ادارے چلانے والے اور اطہر بلڈ بینک چلانے والے سید شہاب الدین سلفي فردوسي کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ انسانیت کا ہے، قوم کا نہیں ہے. انسانیت کہتی ہے کہ عورتوں کے ساتھ ناانصافی اسلام کے خلاف ہے. جو لوگ تین طلاق دیتے ہیں وہ مذہب کا مذاق اڑاتے ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close