کیا جج بي ایچ لويا کی موت سے پردہ اٹھ سکے گا؟

رويش کمار

سی بی آئی کے اسپیشل جج برجگوپال هرموهن لويا کی موت کے بعد كیرواں میگزین میں جو سوال اٹھے ہیں، اس کے متوازی انڈین ایکسپریس کی اطلاع آ گئی ہے. کچھ جگہوں پر ایکسپریس کی اطلاع كیرواں کی رپورٹ کو کاٹتی ہے تو کچھ جگہوں پر ایکسپریس کی رپورٹ کو لے کر ہی نئے شک کھڑے ہو جاتے ہیں. اچھا ہوتا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ نوٹس لیتا اور ایسی جانچ کمیٹی بنتی جو سب سے پہلے جج لويا کے گھر والوں میں نظام اور معاشرے کے تئیں اعتماد پیدا کرے. خاندان کے لوگوں کو ہی سامنے آکر یہ خطرہ اٹھانا ہوگا کیونکہ بات انہی سے شروع ہوئی تھی. كیرواں میگزین نے ایکسپریس کی رپورٹ پر کچھ نہیں کہا ہے. حال ہی میں راجیش اور نپور تلوار کا معاملہ ہو یا ریئان اسکول کے بس کنڈکٹر اشوک کا معاملہ ہے، اس کا سبق یہ ہے کہ میڈیا ٹرائل سے گریز کیا جانا چاہئے. چونکہ میں نے پہلی بار كیرواں پر رپورٹ کی ہے تو مجھے ایک بار اور ایکسپریس کی رپورٹ کا خلاصہ آپ کے سامنے رکھنا چاہئے.

میرے پرائم ٹائم کا مقصد یہی تھا کہ اپنی بات کہنے سے کسی کو ڈرنا نہیں چاہئے. انڈین ایکسپریس کو بھی خاندان کے ارکان سے بات کرنے میں کامیابی نہیں ملی ہے. اس لئے ضروری ہے کہ ایسی جانچ کمیٹی بنے جس کے سامنے جانے میں خاندان کو بھروسہ ہو اور میڈیا ٹرائل بند ہو. سوال اٹھ گئے ہیں جن سے متعلقہ دستاویز اور سوالات کمیٹی کے سامنے ہی رکھیں جائیں ورنہ ایک ایک ثبوت کو لے کر ٹی وی پر بحث کریں گے تو وہی ثبوت کبھی صحیح لگے گا اور کبھی غلط. كیرواں کی پہلی رپورٹ 21 نومبر کو آئی ہے، انڈین ایکسپریس کی 27 نومبر کو. چھ دنوں کی بحث کے بعد اگر خاندان کھل کر بولنے کی ہمت نہیں جٹا پا رہا ہے تو فکر کی بات ہے. کیا وہ ڈرے ہوئے ہیں یا خاندان کے اندر اندر کوئی بات ہے. جو لوگ جانچ ایجنسیوں کی حرکتوں، طویل قانونی عمل سے گزریں ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس طرف جانے کے کیا انجام ہوتا ہے. لہذا ان کا خوف سمجھا جا سکتا ہے. مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ انہی کے درمیان عام سے عام لوگ نظام سے لڑتے ہیں اور انصاف بھی پاتے ہیں. كیرواں کے نرنجن ٹاكلے نے لکھا ہے کہ جج لويا کی موت کے 80 دنوں بعد جانچ کی مانگ کی تھی، 18 فروری 2015 کو لے کر منظور نہیں ہوئی. ایسا نہیں تھا کہ خاندان نے تین سال بعد خاموشی توڑی ہے، خاموش تو اب بھی ہے، بولنے کی ہمت نہیں جٹا پا رہا ہے.

جج لويا کی بیوی اور بیٹے نے كیرواں کے نرنجن ٹاكلے سے بات نہیں کی، لکھا ہے کہ انہیں جان کا ڈر ہے. ایکسپریس کے صوابدید دیش پانڈے اور موریا جاولكر سے بھی ماں بیٹے نے بات نہیں کی. اگر ماں بیٹے کسی خوف سے بات نہیں کر رہے ہیں تو یہ تشویش کی بات ہے. كیرواں میگزین کے نرنجن ٹاكلے نے جج لويا کے والد هركشن لويا سے نومبر 2016 میں ملاقات کی تھی. تب انہوں نے کہا تھا کہ 85 سال کا ہو چکا ہوں، موت کا ڈر نہیں، مگر بچیوں اور ان کے بچوں کی جان کی فکر ہے.

ایکسپریس نے لکھا ہے کہ هری كشن لويا، انورادھا بياي، سرتا مادھانے کا فون سوئچ آف تھا، وہ گھر پر بھی نہیں ملے. یعنی جن لوگوں نے كیرواں کے رپورٹر سے بات کی ان سے ایکسپریس کے رپورٹر رابطہ نہیں کر سکے. گھر میں نہیں ملے. انورادھا بياي نے ویڈیو بیان دیا ہے اور اس کیس میں وہی واحد آن ریکارڈ بیان ہے.

كیرواں کی اطلاع بہن انورادھا بياي، سرتا ماندھانے اور باپ هریكشن کے بیان پر مبنی ہے. ایکسپریس نے سرینواس لويا، هریكشن لويا کے بھائی، جسٹس لويا کے چچا سے بات کی ہے جو کہتے ہیں کہ ان کی بھتیجی انورادھا نے جج کی موت کو لے کر سوال اٹھائے ہیں وہ کافی اہم ہیں. چچا سرینواس لويا نے این ڈی ٹی وی سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہی بتایا گیا تھا کہ پوسٹ مارٹم ہو چکا ہے اور لاش کو باکس میں رکھ کر ناگپور سے بھیجا جا چکا ہے. ہم لاش کا انتظار کر رہے تھے اور جب پہنچا تو ایمبولینسوں کا ڈرائیور ہی تھا اور کوئی نہیں تھا. یہی بات انورادھا بياي نے کہی ہے. كیرواں اور ایکسپریس کی اطلاع میں پوسٹ مارٹم کے بعد لاش لینے کے لئے جس شخص نے دستخط کئے ہیں ان کا نام ڈاکٹر پرشانت راٹھی ہے. پرشانت راٹھی نے کیمرے پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے، ان سے این ڈی ٹی وی کے مانس اور سورو گپتا نے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی. پرشانت راٹھی نے مانس سے جو کہا اور ایکسپریس سے جو کہا اس میں ایک بہت بڑا فرق ہے.

پرشانت نے این ڈی ٹی وی کی مانس سے کہا کہ میرے انکل نے صبح چھ بجے کے قریب جج لويا کی موت کی اطلاع دی اور میں غم کے وقت میں خاندان کی مدد کے لئے فوری طور پر پہنچا. ڈاکٹر پرشانت راٹھی نے مانس سے کہا کہ یہ انکل اورنگ آباد میں رہتے ہیں اور جج لويا کے كزن ہیں. راٹھی نے مانس کو رشتہ نہیں بتایا کہ پھوپھا ہیں، انگریزی کا انکل اور كزن کا ستعمال کیا. نام بھی نہیں بتایا کہ کون ہیں.

یہی راٹھی ایکسپریس سے بات کرتے ہیں تو صاف صاف کہتے ہیں کہ موسا کا فون آیا اور ان کا نام ركمیش پننالال جاكوٹيا ہے. ان کا فون آتا ہے کہ ان  کے كزن جج لويا ہسپتال میں داخل ہیں اور مجھے لويا کی مدد کے لئے کہتے ہیں. جب میں ہسپتال پہنچتا ہوں تو ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ ان کی موت ہو چکی ہے. یہ بات میں اپنے انکل کو بتاتا ہوں. انکل مجھے اوپچارکتاوں پر توجہ رکھنے کے لئے کہتے ہیں.

ابھی آپ نے دیکھا کہ پرشانت راٹھی ایک رپورٹر سے کہتے ہیں کہ انکل کا فون آتا ہے کہ 6 بجے لويا کی موت ہو گئی ہے. ایک رپورٹر سے کہتے ہیں کہ لويا بھرتی ہیں، ان کی مدد کریں. ہسپتال جاکر پتہ چلتا ہے کہ لويا مر چکے ہیں. یہاں ایک اور سوال ہے. ناگپور میں ڈاکٹر پرشانت راٹھی ہی اکیلے تمام کام مینج کر رہے تھے تو کیا ان سے لويا کے خاندان کے کسی قریبی نے بار بار بات کی، جاننے کے لئے کہ کیا ہو رہا ہے، لاش کہاں لے جائی جایے گی. کیا ڈاکٹر راٹھی بتا سکتے ہیں کہ ان سے خاندان کے کس فرد نے کہا کہ لاش ممبئی نہیں، لاتور سے سٹا گیٹ گاوں جائے گی. ڈاکٹر پرشانت راٹھی نے کیمرے پر بات کرنے سے انکار کر دیا. یہ صاف نہیں ہے کہ راٹھی کے موسا جاكوٹيا جج لويا کے کتنے قریبی تھے، کیا وہ باپ سے بات کر رہے تھے، کیا انورادھا بياي سے بات کر رہے تھے؟ ڈاکٹر پرشانت راٹھی نے این ڈی ٹی وی کی مانس کو بتایا کہ انہوں نے جج لويا کی لاش کو نہیں دیکھا تھا. انہیں ایک چادر میں لپیٹا گیا تھا. بس انہوں نے سائن کر دیا.

كیرواں کی رپورٹ میں بہن انورادھا بياي ناگپور میں کسی رشتہ دار کی بات کرتی ہیں مگر نام نہیں بتاتی ہیں. ان کی بات چیت میں ركمیش پننالال جاكوٹيا کا کوئی ذکر نہیں ہے، نہ ہی جج لويا کے والد نے نام لیا ہے. پرشانت راٹھی نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سائن کرتے ہوئے خود کو میت کا کزن بتایا ہے. والد کے سائیڈ سے. مگر ان کے موسا جج لويا کو اپنا بھائی بتاتے ہیں. موسا کا بھائی تو موسا کے برابر ہوا. تو راٹھی نے خود کو لويا کا کزن کس طرح بتا دیا. اگر میں صحیح ہوں تو راٹھی لويا اور جاكوٹيا کے بھتیجا لگیں گے. کیا ركمیش پننالال جاكوٹيا جج لويا کی بیوی، باپ اور بہن انورادھا کے رابطے میں تھے.

ایکسپریس کی رپورٹ سے صاف نہیں ہوتا ہے کہ لاش ممبئی کی جگہ لاتور کے گیٹےگاوں بھیجنے کا فیصلہ کس کا تھا. بیوی شرمیلا لويا کو فون کیا گیا تھا تو کیا انہیں پتہ تھا کہ لاش گیٹےگاوں جائے گی، ممبئی نہیں آئے گی. ان کا خاندان لاتور کے آس پاس رہتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ یہ عملی فیصلہ ہو. مگر یہی نہیں پتہ چل رہا ہے کہ ناگپور سے گیٹےگاوں لے جانے کا فیصلہ کس کا تھا. یہ تبھی صاف ہو گا جب شرمیلا لويا خود میڈیا کے سامنے آکر اپنی پوزیشن صاف کریں گی.

كیرواں نے یہ تو لکھا ہے کہ موت کی معلومات فون پر بیوی کو بھی دی گی تھی، بہنوں کو بھی اور باپ کو بھی. بہن انورادھا یہ بتاتی ہیں کہ فون پر کوئی بارڈے تھے جو اپنے کو جج بتاتے ہیں، ان کا فون آیا تھا. بہن سرتا بھی بتاتی ہیں کہ بارڈے نام کے جج نے فون کیا تھا. انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں بارڈے نام صاف ہو جاتا ہے. وہ جج بارڈے ہیں. جج بارڈے کو ایکسپریس کی رپورٹ میں لوکل جج کہا گیا ہے اور ان کا پورا نام ہے جج وجے کمار بارڈے. ایکسپریس میں ہے کہ ہائی کورٹ کے ناگپور بنچ کے ڈپٹی رجسٹرار رپیش راٹھی اور بارڈے جسٹس لويا کو داڈے ہسپتال لے کر جاتے ہیں گاڑی میں. كیرواں میں لکھا ہے کہ دو جج آٹو میں جج لويا کو لے کر جاتے ہیں. ایکسپریس میں لکھا ہے کہ دو جج گاڑی میں جج لويا کو لے کر جاتے ہیں. جسٹس سنیل شكرے نے کہا ہے کہ جج بارڈے کار خود چلا رہے تھے.

ہمارے ساتھی سنیل سنگھ سے جسٹس گوي نے کہا کہ وہ اس وقت ناگپور میں سینئر اڈمنسٹریٹیو جسٹس تھے. ایکسپریس سے بھی وہی کہتے ہیں کہ سینئر انتظامی جج ہونے کے ناطے انہیں ہی فون کیا اور پھر وہ اپنے ساتھی جج سنیل شكرے کو لے کر میڈٹرنا اسپاتل پہنچے. آپ نے ڈرائیور کا بھی انتظار نہیں کیا. دونوں روی بھون سے ایک میل کے فاصلے پر رہتے تھے. جج کو لے کر ہسپتال لے جانے میں لوکل جج، ڈپٹی رجسٹرار، جج كلكري اور جج موڈك بھی تھے. جسٹس گوي نے سنیل سنگھ کو یہ بھی بتایا ہے کہ روی بھون میں کل پانچ کمرے بک تھے مگر رات میں تینوں نے ایک ہی کمرے میں رہنا ناپسند کیا. کیونکہ تمام کی واپسی کا ٹکٹ ایک ہی ساتھ تھا اور اگلی صبح ممبئی لوٹنا تھا. ممبئی سے گئے دونوں جج لاش کے ساتھ اس لیے نہیں گئے کیونکہ وہ دوست کی موت کے صدمے میں تھے.

كیرواں میں انورادھا بياي نے کہا ہے کہ دونوں جج ڈیڑھ ماہ تک خاندان سے نہیں ملے. اب آپ دیکھ رہے ہیں کہ جب جج لويا کی بہنوں نے سوال کیا تو جج صاحبان چپ تھے. اب خاندان کے لوگ خاموش ہیں تو جج صاحبان اپنی بات رکھ رہے ہیں. انکوائری کا اعلان ابھی تک نہیں ہوا ہے. جج لويا کے بیٹے نے اس کے بعد کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا کہ مجھے ڈر ہے کہ یہ لیڈر میرے خاندان کے کسی بھی رکن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں. میرے پاس ان سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے. ہماری زندگی خطرے میں ہے. ایک جج کا بیٹا چیف جسٹس کو خط لکھتے ہیں. موت کے 80 دن بعد. یہ خط كیرواں میگزین نے اپنے ویڈیو میں دکھایا ہے. اس خط کے بعد کیا خاندان کو تحفظ دیا گیا، کیوں نہیں دیا گیا؟

این ڈی ٹی وی کے مانس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ روی بھون میں کسی بھی جج کے لئے کوئی کار ڈیذگنیٹ نہیں تھی. یہ بات روی بھون کے کچھ عملے نے مانس کو نام نہ لینے کے شرط پر بتائی.

یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ واقعہ کے ارد گرد مہاراشٹر اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے والا تھا. کیا اس وقت روی بھون میں کوئی ایمبولینسوں تھی. یہ سب تحقیقات سے پتہ چلے گا، میڈیا ٹرائل سے نہیں. ایکسپریس میں لکھا ہے کہ جج لويا نے 4 بجے سینے میں درد کی شکایت کی لیکن گاڑی سے نكٹم ہسپتال پہنچنے میں پونے پانچ بج جاتے ہیں. صبح کے وقت تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں کیا 45 منٹ لگنا چاہئے. اس کا جواب معلوم نہیں ہے. اب سوال اٹھتا ہے کہ جج لويا کو سینے میں کب درد ہوا. اس کے الگ الگ ورزن ہیں.

كیروا میں نرنجن ٹاكلے نے لکھا ہے کہ ساڑھے بارہ بجے سینے میں درد ہوا. انورادھا بياي کے مطابق دونوں ججوں نے یہ بات خاندان کو بتائی تھی. كیرواں کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 4 بجے درد ہوا اور سوا 6 بجے موت ہوئی. انڈین ایکسپریس کو جسٹس بھوشن گوي نے بتایا کہ جج لويا کی قریب 4 بجے طبیعت خراب ہوئی. این ڈی ٹی وی سے جسٹس بھوشن گوي نے کہا ہے کہ ساڑھے تین بجے جج لويا کی طبیعت خراب ہوئی. جسٹس بھوشن گوي نے ہمارے ساتھی سنیل سنگھ سے بات کی ہے.

اس تناظر میں انورادھا بياي کا بیان اہم ہو جاتا ہے کہ دونوں ججوں نے بتایا کہ ساڑھے بارہ بجے سینے میں تکلیف ہوئی. مطلب جسٹس مودك اور جسٹس كلكرني نے. مگر جسٹس گوي کے مطابق تو دونوں صبح کے وقت جج لويا کو لے کر ہسپتال گئے تھے. پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کی اہمیت ہے مگر آپ جانتے ہیں کہ اس ملک میں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے ساتھ کیا کیا کھلواڑ ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کیس میں یہی ہوا ہے، میں صرف ریفرنس کے لئے بتا رہا ہوں. کون صحیح بول رہا ہے یہ تو تحقیقات سے ہی پتہ چلے گا. آپ بھی کسی پر بے وجہ شک نہ کریں. سنیل سنگھ نے جب جسٹس گوي سے بات کی تو ایک اور سوال کا جواب ملا. ان کے مطابق جسٹس مودك اور جسٹس كلكرني ہی جج لويا کے ساتھ گئے تھے. گوي کے مطابق پہلی بار وہ شادی میں جج لويا سے ملے تھے. ان کے مطابق تقریب سے نکل کر تینوں لوگ گوکل پیٹھ پان کھانے گئے تھے. تینوں کا مطلب جج لويا، جسٹس كلكرني اور جسٹس مودك پان کھانے گئے تھے.

جسٹس گوي کو صبح چھ بجے ڈپٹی رجسٹرار نے فون کر جج لويا کے موت کی اطلاع دی، اور پھر وہ میڈٹرنا ہسپتال گئے جہاں پر جسٹس مودك، جسٹس كلكرني، جج بارڈے اور ڈپٹی رجسٹرار موجود تھے. جسٹس گوي آئی سی یو میں گئے تھے اور ان کے جسم پر کہیں خون کے نشان نہیں تھے. موت کی اطلاع ہر جگہ چھ بجے ہیں. جج لويا کی ایک اور بہن سرتا نے كیرواں کے نرنجن ٹاكلے سے کہا ہے کہ پانچ بجے جج بارڈے کا فون آیا تھا کہ برجگوپال کی موت ہو چکی ہے.

کیا وقت میں فرق کو لے کر شک کیا جا سکتا ہے، کم سے کم میڈیا ٹرائل میں نہیں ہونا چاہئے. انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بعد ای سی جی کی شائع ہوئی تصویر کو لے کر تھوڑی محطاط ہو گئی. ای سی جی کی رپورٹ میں اوپر برجگوپال لوہیا لکھا گیا ہے اور نیچے کی تاریخ 30 نومبر ہے. جبکہ موت ایک نومبر کو ہوئی ہے. کیا ای سی جی مشین سے ایسی بھول چوک ہو جاتی ہے. ہسپتال نے اس بارے میں کہا ہے کہ 30 نومبر کی جو تاریخ نظر آرہی ہے، وہ تكنيكی خرابی ہو سکتی ہے. ہم ہر تین ماہ پر اپنی مشین کو ری كیلبریٹ کرتے ہیں تاکہ ایسی چوک نہ ہو، لیکن کبھی کبھار بیچ بیچ میں ایسی خرابی ہو جاتی ہے. ہم اپنے بیان پر قائم ہیں. ای سی جی دسمبر ایک تاریخ کو ہوئی تھی. ہسپتال نے بعد میں ایکسپریس کو بتایا ہے جسے ایکسپریس نے اپنی ویب سائٹ پر شایع کیا ہے. کیا اس روز بھی رپورٹ پر 30 نومبر کی تاریخ چھپی تھی، یہ سب تو تحقیقات سے ہی پتہ چلے گا.

کچھ لوگوں نے ای سی جی کو دیکھ کر کہنا شروع کر دیا کہ ای سی جی عام ہے. ہم نے دو ڈاکٹروں سے بات کی لیکن ایک انتباہ ذہن میں ركھے گا. بیماری کا پتہ ایک رپورٹ سے نہیں چلتا ہے، اور ایک رپورٹ سے بھی چلتا ہے. یہ ساری باتیں تفتیش کے دائرے میں ہونا چاہئے مگر اب كیرواں اور ایکسپریس نے الگ الگ ورژن چھاپے ہیں تو ہم نے دو ڈاکٹروں سے بات کر لی.

انورادھا نے كیرواں کو بتایا ہے کہ دانڈے هاسپيٹل کے ڈاکٹروں اور عملے نے کیا طبی علاج کیا گیا اس کا کوئی تفصیل دینے سے هاسپيٹل نے انکار کر دیا، وہیں دانڈے ہاسپٹل کے ڈائریکٹر پناك داڈے نے ایکسپریس سے بات کی ہے اور تفصیلات دی ہیں. آپ دیکھیں گے کہ زیادہ تر سوال موت کے بعد کی سرگرمیوں کو لے کر جو اطلاعات کے تبادلے ہو رہے ہیں، اس میں کئی جگہ مساوات ہے، کئی جگہ فرق ہے. کوئی بھی سوال اس بات کو ٹھوس طور پر اٹھتا نہیں دکھا کہ کیا جج لويا کا قتل کیا گیا ہوگا. پوسٹ مارٹم کے وقت کئی بڑے جج موجود تھے. اس کی تفصیل کئی طرح سے صحیح ثابت ہوتی ہے. ہم نے یہ سوال کیا تھا کہ پوسٹ مارٹم کا فیصلہ کس کا تھا، لیکن اس سوال کا جواب آپ کو قانون کے عمل سے ہی ملے گا. انورادھا بياي نے كیرواں کو بتایا ہے کہ ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے وہ جانتی ہیں کہ پوسٹ مارٹم کے دوران خون نہیں نکلتا اور بياي نے دوبارہ پوسٹ مارٹم کی مانگ کی تھی لیکن وہاں جمع لويا کے دوست اور سہکرمیوں نے انہیں حوصلہ شکنی کی کہ یہ کہتے ہوئے کہ معاملے کو اور پیچیدہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے. کئی افسران کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے وقت خون نہیں نکلتا لیکن ہمارے ساتھی مکیش سنگھ سانگر نے فورینزک ایکسپرٹ ڈاکٹر کے سی شرما سے بات کی. انہوں نے کہا کہ خاندان کو مطلع کئے بغیر بھی پوسٹ مارٹم ہو جاتا ہے. پوسٹ مارٹم ہونے کے بعد کئی بار کپڑوں میں خون لگ جاتا ہے جس کے بہت سے وجوہات ہیں.

ایکسپریس اور كیرواں میں ایک اور کردار ہے. خدا باهوتي. كیرواں میں اسے آر ایس ایس کا بتایا گیا ہے. ایکسپریس میں انہیں جج لويا کے دوست ڈاکٹر بهوتي کا بھائی بتایا گیا ہے اور جج لويا خدا بهوتي کے رابطے میں تھے. مگر بهوتي نے ایکسپریس اور كیروا سے بات نہیں کی ہے. کم سے کم انہیں میڈیا سے رابطہ کرنا چاہیے کہ ان کے پاس جج لويا کا فون کس طرح آیا، وہ موت کے تین چار دن بعد فون لے کر کس طرح خاندان کے پاس پہنچ گئے، کیا یہ صحیح ہے کہ فون سے ڈیٹا اڑا دیا گیا تھا، ایک ہی ایس ایم ایس بچا تھا. سپریم کورٹ کے وکیل سدیپ شریواستو نے کچھ سوال اٹھائے ہیں.

بہت طرح کے سوالات ہیں جو ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں. خاندان کے ارکان نے جو کہا ہے اس تحقیقات سے ثابت کیا جائے گا، یا پھر یکطرفہ ادھر سے یا ادھر سے بیان کے ذریعہ مسترد کر دیا جائے گا. موبائل ٹاور سے پتہ چل سکتا ہے کہ کون جج کہاں تک گئے تھے، کون کس سے بات کر رہا تھا، لويا نے کسے فون کیا، بیوی کو کس نمبر سے فون کیا. مگر یہ سب تو تحقیقات سے ہی سامنے آ سکے گا جب حقائق اور گواہوں کی پیشی ہوگی.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ رویش کمار

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

جی ہاں، مجھے معلوم ہے گجرات انتخابات کا نتیجہ!

مجھے گجرات انتخابات کا رزلٹ معلوم ہے لیکن میں 18 کو رزلٹ آنے کے بعد بتاؤں گا. میں چاہتا ہوں کہ پہلے دیکھ لوں کہ الیکشن کمیشن کا رزلٹ صحیح ہے کہ نہیں. میرے رزلٹ سے ملتا جلتا ہے کہ نہیں! اس وقت تک مجھ سے رذلٹ کے بارے میں نہ پوچھیں. کچھ صحافی ٹویٹر پر ڈول گئے ہیں. بیلنس کرنے یا دونوں ہی پوزیشن میں کسی ایک سائیڈ سے مستفید ہونے کے چکر میں اپنا پوسٹ تبدیل کر رہے ہیں، بیچ بیچ کا لکھ رہے ہیں.انتخابی سیاست بکواس ہو چکی ہے. صحافیوں نے مجموعی طور پر دس پانچ زاویہ ہی دکھائے، جبکہ انتخابات کے کئی زاویہ ہوتے ہیں جو صحافیوں کی نظر سے دور ہوتے ہیں. جن کی نظر میں ہوتے ہیں وہ لکھتے نہیں کیونکہ وہ بھی اس میں شامل ہوتے ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے