آج کا کالم

کیا جی ایس ٹی سے ٹیکس کا نظام بہتر ہو گا؟

رويش کمار

تاریخ  تو بن رہی ہے ، مگر کلاس تاریخ کی نہیں ہے. نصاب تو کامرس، ٹیكسیسن کا ہے. اخبارات میں جی ایس ٹی کو لے کر مختلف سیکٹرس کی پریشانیوں کی خبریں بھی شائع ہو رہی ہیں، لیکن ان سب کو چھوٹی موٹی دقتیں بتاتے ہوئے حکومت اپنی مقررہ منزل پر پہنچ چکی ہے. 1/ جولائی سے جی ایس ٹی نظام نافذ ہو رہا ہے. حکومت کے لئے یہ موقع اتنا بڑا ہے کہ وہ اسے آزادی کے لینڈ مارک کی طرح پیش کرنا چاہتی ہے، ٹیکسٹائل تاجروں کو چھوڑ کر باقی زیادہ تر تجارتی تنظیمیوں کے اعتراضات کو آندولن سے بچاتے ہوئے ظاہر کر رہی ہے. لہذا سمجھنا اور دعوی کرنا مشکل ہے کہ ان کی پریشانی کتنی جائز اور بڑی ہے. جب بتانے والا ہی ہمت نہیں دکھائے گا تو کیا کیا جا سکتا ہے. ایک بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ جی ایس ٹی حقیقت ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم جیسے اینكروں سے یہ توقع کرنا کہ جی ایس ٹی کی تفصیلات کو پیش کرنے کی عام قابلیت بھی رکھتے ہیں، مناسب نہیں ہوگا. کوشش کی مگر کم سمجھ پایا. لیکن آج کے دن جی ایس ٹی پر پروگرام نہ کرتا تو تاریخ کے اوراق میں میرا نام درج نہیں ہوتا. هیڈلان کی جگہ تو پہلے سے ہی چھیک لی گئی ہے. شکر ہے اجمیر کے بياور میں رہنے والے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سدھیر هالاكھڈي نے جی ایس ٹی پر ہندی میں کتاب لکھ دی ہے. آج ہی ان کے بارے میں پتہ چلا اور ان کی اجازت سے ہندی میں لکھی ان کی کتاب کے اقتباس کا ہم استعمال کریں گے. آپ سب کو جی ایس ٹی مبارک.

سدھیر هالاكھڈي کا دعوی ہے کہ انہوں نے جی ایس ٹی کی 100 سے زائد فرہنگ کو ہندی میں سمجھایا ہے. جی ایس ٹی مطلب چیز اور خدمت کر. سدھیر هالاكھڈي نے ہندی میں یو ٹیوب پر 30 آڈیو کلپ اپ لوڈ کیے ہے. gst by sudhir halakhandi کے نام سے سرچ کرکے سن سکتے ہیں. www.halakhandi.com پر سدھیر جی کی ہندی والی کتاب بھی دستیاب ہے. یہ کتاب ای بک میں دستیاب ہے. سدھیر نے لکھا ہے کہ اسے کوئی بھی پرنٹ کر اسٹاک کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ کتاب کی قیمت نہیں وسولے گا، ان کا نام چھاپےگا اور مصنف کو اس کی دو کاپی بھیجے گا. سدھیر جی نے ہندی کے لئے اتنا سوچا، ہم ان کے شکر گزار ہیں. جس زبان میں روزگار پاتا ہوں، اس زبان کے تئیں کسی سي اے نے اتنی محنت کی ہے تو شکریہ کہنے میں حرج نہیں ہے. تھینكيو سدھیر هالاكھڈي جی. حکومت جو کام لاکھوں کروڑوں خرچ کر کے کر رہی ہے، وہی کام آپ اپنی طرف سے فری میں کر رہے ہیں.

عام عوام کو جی ایس ٹی کے بارے میں سستی مہنگی کے فریم میں سمجھایا جا رہا ہے. بھارت کا میڈیا بجٹ کے ساتھ بھی یہی کرتا ہے اور بجٹ میں درج پالیسی چالاكياں یا خوبیاں عوام تک نہیں پہنچ پاتی ہیں. دو طرح کی جی ایس ٹی، ایک اسٹیٹ جی ایس ٹی، جو ریاست کے اکاؤنٹ میں جمع ہو گی، دوسرا سینٹر جی ایس ٹی جو سینٹر کے اکاؤنٹ میں جمع ہو گی. مان لیں جے پور کے تاجر رمیش چند اسی شہر کے ڈیلر سریش چند کو 10 لاکھ میں اپنا مال فروخت کرتے ہیں. فرض کریں 9 فیصد اسٹیٹ اور 9 فیصد سینٹر جی ایس ٹی ہے. اس حساب سے رمیش 90،000 ٹیکس اسٹیٹ جی ایس ٹی کے طور پر لے لیتے ہیں اور 90،000 سینٹر جی ایس ٹی کے طور پر. یہ پیسہ رمیش دونوں خزانے میں جمع کرا دیتے ہیں. ابھی سریش جی اس مال کو جودھپور کے مہیش چند کو 10.50 لاکھ میں فروخت کرتے ہیں. جو جس کو بیچے گا وہ اس سے جی ایس ٹی وصولےگا. تو سریش جی 94،500 اسٹیٹ جی ایس ٹی اور 94،500 سینٹر جی ایس ٹی مہیش جی سے وصولی لے لیتے ہیں. اب سوال آتا ہے کہ کیا سریش جی بھی 94،500 روپے اسٹیٹ جی ایس ٹی میں جمع کرے گا. جواب ہے نہیں. چونکہ سریش جی 90،000 اسٹیٹ اور 90،000 سینٹر جی ایس ٹی کے طور پر رمیش جی کو دے چکے ہیں، اس لئے یہ پیسہ وہ پہلے دی گئی جی ایس ٹی سے کم کر دیں گے. یعنی دونوں جگہوں پر 94،500 میں سے 90،000 مائنس ہو جائے. اس طرح سے وہ 4500 روپے اسٹیٹ جی ایس ٹی کے اکاؤنٹ میں جمع کرے گا اور اتنا ہی سینٹر جی ایس ٹی کے اکاؤنٹ میں جمع کرے گا.

امید ہے کہ آج میرے اسکول کے ریاضی کے استاد ‘پرائم ٹائم’ نہیں دیکھ رہے ہوں گے، ورنہ انہیں صدمہ لگ سکتا ہے کہ جو لڑکے ریاضی میں فسڈی تھا وہ ٹی وی پر ملک کو جوڑ گھٹاؤ کیسے سمجھا رہا ہے. ان کے لئے بتا دوں کہ میں نے سدھیر جی کی کتاب ٹيپ لی ہے، اپنا کوئی دماغ نہیں لگایا ہے. جی ایس ٹی کے ساتھ پرانے کر ختم ہو جائیں گے مگر ایک ریاست سے دوسری ریاست کے درمیان کارگو لے جانے پر ایک نیے حکم سے گزرنا ہوگا جس کا نام ہے انٹیگریٹڈ گڈس اینڈ سروس ٹیکس. اس دوران روڈ پرمٹ ٹیکس بھی دینا ہوتا ہے، جو ابھی نہیں ہٹا ہے. سریش هالاكنھڈي مانتے ہیں کہ روڈ پرمٹ ٹیکس تو دینے ہوں گے. تو کیا یہ جی ایس ٹی کے علاوہ ہے. اگر ایسا ہے تو پھر جی ایس ٹی ایک ‘کر’ کس طرح ہے.

انٹگریٹڈ جی ایس ٹی کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے بلکہ نیا طریقہ کار ہے. اس کے ذریعہ دو ریاستوں کے درمیان تجارت پر نظر رکھی جایے گی. کہا جا رہا ہے کہ اس سے طریقہ کار تھوڑے پیچیدہ ہو جائیں گے. کس طرح پیچیدہ ہوں گے، جب میں اسے پڑھنے لگا تو چکر آ گیا. پھر چحوڑ دیا باقی آپ جو اشتہارات میں چھپا ہے اسے دیکھ کر سمجھ لیں. ویسے سریش جی نے کافی آسان طریقے سے سمجھا دیا ہے لیکن ٹی وی پر سميابھاو اور جگهابھاو کی وجہ سے ہم اسے چھوڑ رہے ہیں. تاریخ بن رہی ہے تو تھوڑی محنت آپ بھی کیجیے.

ابھی آتے ہیں رٹرن پر. ہر ماہ تین رٹرن بھرنے ہوں گے جو ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے. GSTR-1،  ماہانہ فروخت کی تفصیلات ہو گی، جو اگلے ماہ کی دس تاریخ تک جمع کرنا ہوگا. GSTR-2  ماہانہ خریداری کی تفصیلات ہو گی جو اگلے ماہ کی 15 تاریخ تک جمع کرنا ہوگا. 10 تاریخ سے پہلے جمع نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کو دس تک فروخت کی تفصیلات جمع کرنا ضروری، لہذا آپ کو خریدنے کی تفصیلات 10 کے بعد ہی 15 تاریخ تک جمع کرنے ہوں گے. GSTR-3 یہ ماہانہ ٹیکس ریٹرن ہے جو اگلے ماہ کی 20 تاریخ تک جمع کرنا ہوگا . GSTR-9 یہ سالانہ ریٹرن ہے جو مالی سال کے اختتام کے بعد 31/ دسمبر تک جمع کرنا ہوگا. اس طرح پورے سال میں 37 ریٹرن بھرنے ہوں گے. یہ رٹرن حکومت نے جو جي ایس ٹی نیٹ ورک بنایا ہے وہاں جاکر بھرنے ہوں گے. آپ نے پہلے بھی وی اے ٹی وغیرہ لائن ہی بھر رہے تھے.

سدھیر هالاكھڈي نے لکھا ہے کہ اس سے منسلک دفعات کے عمل کے لئے کافی محنت کرنی پڑے گی، بلکہ وقت کی مشکل حدوں کا بھی سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ جب تک پہلی بیچنے والا رٹرن نہیں بھرے گا، اس وقت تک اس سے خریدنے والا اپنا ریٹرن نہیں بھر سکے گا. ایسا ہوتے ہی پوری زنجیر میں بریک آجائے گا اور سسٹم کو پتہ چل جائے گا. اس فرق کو ٹھیک کرنے کے لئے صرف دو ماہ کا وقت دیا گیا ہے. اگر پہلے ڈیلر نے واپسی نہیں بھرا، دکان بند کر غائب ہو گیا تو جو جی ایس ٹی آپ نے اسے دی ہے، اتنی ہی رقم آپ دوبارہ بھریں گے. اگر پہلے والے کا خیال بدل گیا اور اس نے بھر دیا تو آپ کو وہ رقم مل جائے گی. اب آپ کہیں گے کہ ہمیں کس طرح معلوم کہ جس مال خرید رہے ہیں وہ ڈیلر بھروسے مند ہے. تو اس کے لئے جی ایس ٹی کی ویب سائٹ پر ڈیلروں کی ریٹنگ دی جائے گی. ہر تاجر دوسرے تاجر کی درجہ بندی تلاش سکے گا جو جي ایس ٹي کی ویب سائٹ پر ہوگی.

ابھی آتے ہیں بل پر. 1 جولائی کو آپ اپنی دکان پر جاتے ہیں. گاہک کو سامان فروخت کریں گے تو پہلا جی ایس ٹی بل کیسے کاٹیں گے. جی ایس ٹی کے تحت آپ کے کمپیوٹر کے علاوہ آپ کی بل بک بھی شائع کرا سکتے ہیں. مان لیں کہ آپ کپڑے کے تاجر ہیں. ہفتہ کو آپ کی دکان پر کوئی گاہک پہنچتا ہے اور 100 شرٹ خریدتا ہے تو بل کس طرح بنائیں گے. کل 15 قسم کی معلومات ہونا چاہئے آپ کے پاس. بیچنے والے اور خریدار کا نام، پتہ اور جي ایس ٹي نمبر ضرور ہونا چاہئے. بل جاری کرنے کی تاریخ، اس کا سیریل نمبر بھی ہونا چاہئے. مال کی تفصیلات، مقدار اور کل قیمت آپ کو درج کرنا ضروری. ڈیلر کے دستخط لازمی ہیں. ہر بل کی تین کاپی ہو گی. ایک آپ رکھیں گے، دوسرا خریدار کے پاس اور تیسرا ٹرانسپورٹر کے لئے. اسے آپ کو چھپوا کر رکھ لینا چاہئے.چھپوانے کی لاگت ہر تاجر کو خود اٹھانی پڑے گی. جی ایس ٹی کے تحت سزا کا بھی انتظام ہے. کیا جی ایس ٹی کے تحت گرفتاری کا بحی امکان ہے. کیا اس سے چھوٹی موٹی نادانی آپ کو جیل میں پہنچا دے گی، یہ خدشہ ہے یا واقعی ایسا ہے. یہ بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں.

سریش جی نے ہندی میں لکھا ہے کہ جی ایس ٹی کی دفعہ 69 میں گرفتاری کے سنکیت دیئے گئے ہیں. اگر کسی نے 132 کے تحت جرم کیا ہے تو گرفتار ہو سکتا ہے. سي جي ایس ٹي افسر گرفتاری کرے گا اور حکم کمشنر کا ہوگا. کچھ جرم غیر ضمانتی ہیں اور کچھ ضمانتی. بغیر کمشنر کے حکم کے گرفتاری نہیں ہو سکے گی. بغیر بل کا مال سپلائی کریں گے، ٹیکس چوری کے ارادے سے. بغیر جی ایس ٹی بل جاری کرنے پر جیل جا سکتے ہیں. جی ایس ٹی لے کر تین ماہ تک جمع نہیں کرنے پر جیل جائیں گے. اگر 2 کروڑ سے زیادہ کی چوری ہے تو گرفتاری ہو سکتی ہے. یعنی 2 کروڑ سے کم کی ٹیکس چوری پر جیل جانے سے بچ سکتے ہیں. درمیان اور چھوٹے زمرے کے ڈیلر کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے. مگر آپ دو بار جی ایس ٹی کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو جیل جا سکتے ہیں. تب یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ 2 کروڑ کی ٹیکس چوری کا الزام ہے یا نہیں.

0 فیصد، 5 فیصد، 12 فیصد، 18 فیصد اور 28 فیصد ٹیکس ہیں جی ایس ٹی کے تحت. ضروری اشیاء جی ایس ٹی سے باہر رکھا گیا ہے تو کئی چیزیں ایسی ہیں جو پہلی بار ٹیکس کے دائرے میں آئیں گی.

 مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. یہ ایسی بھول بھلیا والی کہانی جس کے سمجھنے میں دماغ خرچ کرنا بیکار ہے

متعلقہ

Close