کیا جی ڈی پی میں بہتری کا دور شروع ہو گیا؟

رويش کمار

مرکزی اسٹیٹ اسٹكل آفس نے اس مالی سال کی دوسری سہ ماہی کا جی ڈی پی کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں. پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ درج ہوا ہے. اس کے پہلے 31 اگست کو پہلی سہ ماہی یعنی اپریل سے جون کی جی ڈی پی آئی تھی، اس بار جولائی سے ستمبر کی جی ڈی پی آئی ہے. پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح 5.7 فیصد پر آئی تو کافی ہنگامہ ہوا، حکومت پر تنقید ہوئی، حکومت کہتی رہی کہ نوٹ بندي اور جی ایس ٹی کی وجہ سے رفتار سست ہوئی ہے، مگر آنے والے مہینوں میں اس میں بہتری آتی چلی جائے گی. اسی تناظر میں اس بار کی جی ڈی پی کو دیکھا جا رہا ہے. 5.7 فیصد سے بڑھ کر جی ڈی پی 6.3 ہو گئی ہے. ایک بات کا خیال ركھیے گا. ان اعداد و شمار کے مقابلے اس سال کی پہلی سہ ماہی سے کی جائے گی اور گزشتہ سال کی دوسری سہ ماہی سے کی جاتی ہے.یہ دیکھنے کے لئے کہ ہم پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں کہاں ہیں اور گزشتہ سال کے اسی وقت کے مقابلے میں کہاں کھڑے ہیں.

سي ایس او کی ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال کی دوسری سہ ماہی میں بھارت کی کل جی ڈی پی 29.79 لاکھ کروڑ کی تھی، اس بار بڑھ کر 31.66 لاکھ کروڑ کی ہو گئی ہے. یعنی گزشتہ سال کے مقابلے میں 1 لاکھ 87 ہزار کروڑ بڑھ گئی ہے. جو بتاتا ہے کہ ترقی کی شرح 6.3 فیصد ہو گئی ہے. اب اس کے بعد دیکھا جاتا ہے کہ کس سیکٹر میں اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، کس سیکٹر میں کمی آئی ہے اور کس سیکٹر میں کوئی بہتری نہیں ہویی ہے. عام طور پر مینو فیکچرنگ کا تعلق روزگار سے شامل کیا جاتی ہے تو یہ سیکٹر ہر بار اہم ہو جاتا ہے.

2016-17 کی دوسری سہ ماہی میں مینو فیکچرنگ کی گروتھ ریٹ تھا 7.7 فیصد. 2017-18 کی دوسری سہ ماہی میں مینو فیکچرنگ کی گروتھ ریٹ ہے 7.0 فیصد. 2017-18 کی پہلی سہ ماہی میں مینو فیکچرنگ کی گروتھ ریٹ 1.2 فیصد پر آ گیا تھا. گزشتہ پانچ سال میں یہ ریکارڈ کمی تھی. کیونکہ اس کے پہلے سہ ماہی میں مینو فیکچرنگ کی گروتھ ریٹ 5.3 فیصد تھا اور 10.7 فیصد تھا. پہلی سہ ماہی کے 1.2 فیصد سے بڑھ کر اگر گروتھ ریٹ 7.0 فیصد ہوا ہے. مینو فیکچرنگ سیکٹر میں ایک سہ ماہی کے اندر اندر 5.8 فیصد اضافہ بہت اہم ہے. الیکٹریسٹی، گیس، پانی کی فراہمی اور دیگر خدمات میں بھی 7.6 فیصد اضافہ درج ہوا ہے. اس سیکٹر میں گزشتہ سال کی دوسری سہ ماہی میں ترقی کی شرح 5.1 فیصد تھی. تعمیری علاقہ بھی روزگار دینے والا سیکٹر سمجھا جاتا رہا ہے۔ تعمیری علاقے میں ترقی کی شرح پہلی سہ ماہی کے 2.0 فیصد سے بڑھ کر 2.6 فیصد درج ہوئی ہے. گزشتہ سال کی دوسری سہ ماہی میں یہ 4.3 فیصد تھی. یعنی تعمیری علاقے میں ترقی ریٹ کم ہوا ہے. اس علاقے میں سٹیل اور سیمنٹ کی کھپت گھٹ گئی ہے. ایک اور پیمانہ ہوتا ہے بینکوں کے قرض دینے کے گروتھ ریٹ کا. اس سے عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ کمپنیاں قرض لے کر سرمایہ کاری کرتی ہیں. ستمبر 2016 میں بینکوں کے قرض کی گروتھ ریٹ 10.1 فیصد تھا، اس بار 6.8 ہے. پہلی سہ ماہی کے وقت بینکوں کے قرض کی گروتھ ریٹ تھا 8.6 فیصد. پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں دوسری سہ ماہی میں بینک کریڈٹ گھٹ گیا ہے.

اسی طرح ٹریڈ، ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور مواصلات خدمات کا گروتھ ریٹ پہلی سہ ماہی کے 11.1 فیصد کے مقابلے میں گھٹ کر 9.9 فیصد پر آ گیا ہے، مگر یہ آپ کو 2016-17 کی دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں دیکھیں گے تو اس میں اضافہ ہوا ہے. گزشتہ سال کی دوسری سہ ماہی میں ان شعبوں کا گروتھ ریٹ تھا 7.7 فیصد تھا. زراعت کے سیکٹر سے اچھی خبر نہیں ہے. سي ایس او کے سربراہ ٹي سي اے اننت نے بھی کہا کہ کاشت میں ترقی کی شرح کی رفتار سست پڑ گئی ہے. زراعت، جنگلات و ماہی کا نمو ریٹ 1.7 فیصد ہی رہا ہے. پہلی سہ ماہی کے 2.3 فیصد سے گھٹ کر 1.7 فیصد پر آیا ہے. گزشتہ سال کی دوسری سہ ماہی کے گروتھ ریٹ 4.1 فیصد تھا.

آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کاشت میں گزشتہ سال کی دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں دو فیصد سے زیادہ کی کمی کا کیا اثر ہوتا ہے. شاید اسی کا اثر ہے کہ کسان سڑکوں پر نظر آتے ہیں، کھیتوں میں نہیں. وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ ہم صرف ایک بار 6 فیصد سے نیچے گئے ہیں. آپ کو یاد دلا دیں کہ 2016 کی دوسری سہ ماہی یعنی جولائی سے ستمبر کی جی ڈی پی 7.9 فیصد تھی. گزشتہ سال سے موازنہ کریں گے کہ تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابھر سکیں گے. اب بھی ہم 1 فیصد سے زیادہ پیچھے ہیں. اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جی ایس ٹی جیسے سدھاروں کی وجہ سے جو اڑچنے آئیں تھیں، وہ اب دور ہو رہی ہیں، ہم بہتری کی طرف بڑھنے لگے ہیں. تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں بڑھنے کے عمل بنی رہے گی. 28 فروری 2018 کو اکتوبر سے دسمبر سہ ماہی کے نتائج آئیں گے.

پہلی سہ ماہی کے نتائج آنے پر بی جے پی لیڈر یشونت سنہا نے کافی جارحانہ انداز سے تنقید کی تھی، حکومت نے اس کے بعد جی ایس ٹی کے طریقہ کار اور شرح میں بھی کئی تبدیلی کی تھیں. راہل گاندھی بھی گجرات کے انتخابات میں جی ایس ٹی اور جی ڈی پی کا مسئلہ اٹھا رہے ہیں. یشونت سنہا نے ٹویٹ کر کہا ہے کہ بھارت 8 سے 10 فیصد کی رفتار سے ترقی کرے گا، تبھی جاکر روزگار پیدا ہوں گے، لیکن حکومت کی عظیم کامیابی کے طور پر 6.3 فیصد کا ہی جشن منایا جائے. اب ہماری ساری مسائل ختم ہوتے ہیں. یشونت سنہا اب بھی اپنی تنقید پر قائم ہیں اور نئے اعداد و شمار سے مطمئن نہیں نظر آتے ہیں. کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے ٹویٹ کیا ہے کہ اچھی بات ہے کہ جولائی ستمبر کے درمیان جی ڈی پی کی شرح 6.3 فیصد رہی ہے. گزشتہ پانچ سہ ماہی سے ہو رہی موسم خزاں میں رکاوٹ آئی ہے. مگر ہم نہیں کہہ سکتے ہیں کہ اس کے آگے بھی بڑھنے کے آثار ہیں.

سارے اعداد و شمار آتے ہیں مگر یہ اعداد و شمار نہیں آئے کہ کتنی نوکریاں بڑھی ہیں، ملی ہیں یا ان کیے اعداد بدل گئے ہیں. شاید مستقبل میں اس کا کوئی بندوبست ہو۔ ساری سرگرمیاں جب روزگار کے اندازہ کے لئے ہوتی ہیں تو روزگار کے اعداد و شمار کیوں نہیں ہوتے ہیں. 5 مئی 2015 کو اكنومك ٹائمز کی خبر ہے جس میں وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ بھارت 9 سے 10 فیصد کی جی ڈی پی حاصل کر سکتا ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ رویش کمار

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

جی ہاں، مجھے معلوم ہے گجرات انتخابات کا نتیجہ!

مجھے گجرات انتخابات کا رزلٹ معلوم ہے لیکن میں 18 کو رزلٹ آنے کے بعد بتاؤں گا. میں چاہتا ہوں کہ پہلے دیکھ لوں کہ الیکشن کمیشن کا رزلٹ صحیح ہے کہ نہیں. میرے رزلٹ سے ملتا جلتا ہے کہ نہیں! اس وقت تک مجھ سے رذلٹ کے بارے میں نہ پوچھیں. کچھ صحافی ٹویٹر پر ڈول گئے ہیں. بیلنس کرنے یا دونوں ہی پوزیشن میں کسی ایک سائیڈ سے مستفید ہونے کے چکر میں اپنا پوسٹ تبدیل کر رہے ہیں، بیچ بیچ کا لکھ رہے ہیں.انتخابی سیاست بکواس ہو چکی ہے. صحافیوں نے مجموعی طور پر دس پانچ زاویہ ہی دکھائے، جبکہ انتخابات کے کئی زاویہ ہوتے ہیں جو صحافیوں کی نظر سے دور ہوتے ہیں. جن کی نظر میں ہوتے ہیں وہ لکھتے نہیں کیونکہ وہ بھی اس میں شامل ہوتے ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے