آج کا کالم

کیا دہلی کے دماغ میں کشمیر ہے؟

رويش كمار

وهاٹس اپ نے کشمیر پر جتنے پروفیسر کشمیر کے اندر پیدا کر دیئے ہیں، اس سے زیادہ کشمیر کے باہر پیدا کر دیے ہیں. وهاٹس اپ کے ذریعہ کشمیر کے ذریعہ جس طرح کے حقائق کو گڑھا جا رہا ہے، اس سے حالات بگڑ ہی رہے ہیں . وہی حال باقی بھارت میں بھی ہے. وهاٹس اپ یونیورسٹی کی وجہ سے ہر دوسرا آدمی کشمیر پر رائے رکھتا ہے. میں کشمیر نہیں جانتا. مجھے یہ کیمسٹری سے بھی ٹف لگتا ہے. لیکن باقی ایسا نہیں کہتے کیونکہ سب نے ٹرکوں پر لکھا وہ پیغام پڑھ لیا ہے- دودھ ماگوگے تو کھیر دیں گے، کشمیر ماگوگے تو چیر دیں گے. کھیر دیں گے اور چیر دیں گے اصول سے مسئلہ کشمیر کا کتنا حل ہوا، یہ تو ٹی وی چینلز کے مستقل ایکسپرٹ ہی بتا سکتے ہیں . بیچ بیچ میں جب ٹرک فارمولا فیل ہوتا ہے تو لوگوں کو واجپئی فارمولا یاد آتا ہے.

انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت – یہ کشمیر کے مسئلہ کی آیرویدک دوا ہے. جب ایلوپیتھك فیل ہو جاتی ہے تو اسے یاد کیا جاتا ہے. وزیر اعظم مودی بھی واجپئی کی اس دوا کا ذکر کرتے رہے ہیں. وزیر اعلی محبوبہ مفتی اچانک زور زور سے کہنے لگی ہیں کہ واجپئی جی کے وقت میں بھی بات چیت ہوئی، ایل کے اڈوانی ڈپٹی وزیر اعظم تھے تو حریت کے ساتھ بات ہوئی. ہمیں جہاں پر واجپئی جی چھوڑ گئے تھے، وہیں سے اس کو آگے لے جانا پڑے گا، ورنہ جموں و کشمیر کے حالات سدھرنے کا کوئی چانس نہیں ہے.

کوئی چانس نہیں ہے کا کیا مطلب ہے. کیا محبوبہ حریت یا علیح دگی پسندوں سے بات کرنے کے لئے کہہ رہی ہیں؟ انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کی ذمہ داری ان کی حکومت پر بھی تو ہے، کیا ان کی حکومت اس دوا کی تقسیم نہیں کر پا رہی ہے. نئے نئے حقائق گھڑے جا رہے ہیں ، ان کا مقابلہ ان کی حکومت کیوں نہیں کر پا رہی ہے. بھارت کے دوسرے حصے میں بھی وهاٹس اپ کے ذریعہ نئے نئے حقائق  گھڑے جا رہے ہیں . محبوبہ مفتی کو اس کا اقدام تلاش کرنے کے لئے لندن جانے کی ضرورت نہیں ہے. محبوبہ مفتی نے بات چیت کی بات کر ہی دی ہے تو کس سے بات ہو وہ بھی کر دینی چاہئے تھی. جس حریت کو لے کر ٹی وی چینلز اور سیاسی رد عمل میں پاکستان کا ایجنٹ بنا کر پیش کیا گیا، ہر رات آپ خون میں ابال پیدا کیا، کیا ہوتا اگر محبوبہ کہہ دیتی کہ حریت یا علیحدگی پسندوں سے بات ہونی چاہئے تب ساتھی بی جے پی کی کیا رائے ہوتی. کیا بی جے پی مان جائے گی. بندوق چلانے کی بات ہوتی ہے تو ٹی وی کے ایکسپرٹ سمجھا دیتے ہیں کہ کس پر براہ راست بندوق چلانی ہے. بات چیت ہو، بات چیت ہو کرنے والے یہی نہیں بتاتے کہ کس سے بات چیت ہو.

محبوبہ نے کہا کہ کب تک تم اپنے لوگوں کے ساتھ ایسا کریں گے. انہیں یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ اپنے لوگوں کے ساتھ اب ایسا کیا ہو رہا ہے. کشمیر کو لے کر کسی بھی بات چیت میں اس بات کو شامل کرنا ضروری ہے کہ ملک میں کشمیر کو لے کر کیا ہو رہا ہے. دراصل وہ رائے کشمیر کی رائے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے. اس صورت حال کو بنانے میں ایکسپرٹ اور اینكروں نے بہت محنت کی ہے. ان کے لیے پتھر چلانے والا دہشت گرد ہے اور فوج کا مجرم ہے، اس کے ساتھ اسی زبان میں کارروائی ہونی چاہیے. لیکن محبوبہ مفتی کے بیان کو توجہ سے سنا تو لگا کہ دو طرح کے پتتھرباز ہیں . سنگ باری کے لئے 2-3 وجوہات ہیں . ایک تو جو لڑکے ہیں جو خفا ہیں، دوسرے وہ جن جان بوجھ کر اکسایا جاتا ہے. اس پر ڈسکشن ہو گا تو کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا.

کیا یہ ‘ہمارے’ پتتھرباز اور ‘پرائے’ پتھرباز والا کوئی فارمولا ہے. محبوبہ کا یہ بیان فوج کے لئے ہے یا حکومت کے لئے. معاہدے کی جگہ تصادم کی پالیسی کس کی ہے، کیا محبوبہ مفتی اپنے اتحادی بی جے پی کی پالیسیوں پر تنقید کر رہی ہیں. کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا خميازا باقی بھارت میں پڑھنے نکلے کشمیری طالب علموں کو اٹھانا پڑ رہا ہے.

برلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیكنا لوجي، پلانی کے طالب علم ہاشم سوفی کو ان کے ہم جماعتوں نے دہشت گرد تک کہہ ڈالا. سوفي ادارہ چھوڑنے کی بات کر رہے ہیں. راجستھان کے ہی میواڑ یونیورسٹی کے آٹھ کشمیری طالب علموں کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑا. انہیں بھی دہشت گرد کہا گیا. پتھرباز کہہ دیا. میرٹھ میں ایک پوسٹر لگا دیا گیا جس میں لکھا تھا ہندوستانی فوج پر پتھر مارنے والے کشمیریوں کا بائیکاٹ، کشمیریوں یوپی چھوڑو ورنہ ….. پولیس نے قومی نرمان سینا کے قومی صدر امت جانی کو جیل بھیج دیا ہے. امت جانی نے ہی 20 اپریل کو پوسٹر لگا ئے تھے. میرٹھ کے ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی نے کشمیری طالب علموں سے ملاقات کی اور حفاظت کا وعدہ بھی کیا ہے.

اس سے پہلے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے تمام وزرائے اعلی سے کہا تھا کہ وہ کشمیری طالب علموں کو تنگ کئے جانے کے واقعہ کو روکیں. وزیر اعظم نے بھی وزرائے اعلی سے یہی اپیل کی ہے. اتوار کو پالیسی کمیشن کے اجلاس میں وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے تمام وزرائے اعلی سے کہا کہ کشمیری طالب علم بھی آپ کے اپنے بچے ہیں. یہ بچے کشمیر میں آپ ریاستوں کے رسول بن کر جاتے ہیں . آپ ان سے بات کیجیے. ان حال چال جمع. آپ کبھی کبھی انہیں بلا کر بات بھی کر سکتے ہیں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close