آج کا کالم

کیا رام مندر کو لے کر بی جے پی اور آر ایس ایس میں کھچڑی پک رہی ہے؟

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو سَنت سماج سے رام مندر کی تعمیر میں ہو رہی تاخیر کو لے کر کڑوی باتیں سننی پڑی ہیں۔

اکھلیش شرما

کیا ایودھیا میں رام مندر کو لے کر بی جے پی اور آر ایس ایس کی اعلیٰ قیادت میں کھچڑی پک رہی ہے؟ یا پھر صرف انتخابات قریب دیکھ کر ایک بار پھر بیانات کی گرمی نظر آرہی ہے؟ ویسے تو یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور بی جے پی کہتی آئی ہے کہ وہ رام مندر بنانے کے حق میں ہے، لیکن ایسا تمام فریقوں کی باہمی رضامندی سے یا پھر عدالت کے حکم کے بعد ہی ہوگا۔ لیکن پیر کو ایودھیا میں ہوئی سنت کانفرنس میں بھگوا دھاری وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو سَنت سماج سے رام مندر کی تعمیر میں ہو رہی تاخیر کو لے کر کڑوی باتیں سننی پڑی ہیں۔

اس کے بعد آج وہ صرف سنگھ کی اعلی قیادت سے ملنے کے لئے دہلی آئے تھے۔ وہ سنگھ کے سیکرٹری جنرل بھياجی جوشی اور سینئر لیڈر کرشن گوپال سے ملے اور اس کے بعد لکھنؤ واپس چلے گئے۔ وزیر اعلی کی رہائش گاہ پر بھی سنگھی نیتاؤں سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ مانا جا رہا ہے کہ سنگھی لیڈروں کے ساتھ یوگی کی میٹنگ میں مندر کی تعمیر میں تاخیر کو لے کر سنت سماج کی ناراضگی کا ذکر بھی ہوا ہوگا۔ اگرچہ یوگی فی الحال تو اس تاخیر کو سازش بتا کر اس کے لیے کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل کا نام لیے بغیر ان کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

ایودھیا کے اس سنت کانفرنس میں حصہ لینے آئے کئی سادھو سنت مندر کی تعمیر میں ہوئی تاخیر سے ناراض نظر آئے۔ ان میں سے کئی پوچھتے بھی ہیں کہ جب مرکزی اور ریاستی دونوں جگہ بی جے پی کی اپنی اکثریت کی حکومت ہے تو مندر بنانے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ بی جے پی کے نیتا رہ چکے اور رام جنم بھومی ٹرسٹ کے رکن رام ولاس ویدانتی نے تو یوگی کی موجودگی میں ہی کہہ دیا کہ 2019 کے انتخابات سے پہلے رام مندر بن کر رہے گا۔ ان سنتوں کو سادھنے کا ذمہ وشو ہندو پریشد پر رہتا ہے۔ اس ایگزکیٹو کونسل کی دہلی میں ہوئی میٹنگ میں بھی رام مندر کا مسئلہ چھایا رہا۔ اجلاس میں توقع ظاہر کی گئی کہ عدالت جلد ہی فیصلہ سنائے گی۔ لیکن یہ وہی وی ایچ پی ہے جو بی جے پی کے اپوزیشن میں رہنے پر رام مندر کے معاملے پر سب سے زیادہ جارحانہ ہوتی ہے۔ یہی وی ایچ پی اس معاملے پر پارلیمنٹ کے قانون یا پھر آرڈیننس کی بات کرتی تھی۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر خاموش ہو گئی۔ جیسے سنگھ پریوار میں سب کو کہہ دیا گیا ہو کہ رام مندر کے معاملے کو طول دے کر مودی حکومت کو پریشانی میں نہ ڈالا جائے۔

رہی بات سپریم کورٹ کی، تو آپ کو بتا دیں کہ گزشتہ آٹھ سال سے یہ معاملہ وہاں چل رہا ہے۔ 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا کہ ایودھیا میں متنازعہ زمین کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل ہوئی۔ بی جے پی توقع کر رہی ہے کہ شاید اس سال سپریم کورٹ کا فیصلہ آئے۔ بی جے پی کا مشن 2019 کا اس فیصلے پر بڑی حد تک انحصار ہے۔ کئی بی جے پی لیڈر مانتے ہیں کہ اگر مندر کے حق میں فیصلہ آئے گا تو اس سے یوپی سمیت کئی ریاستوں میں ماحول کو تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔ یوپی بی جے پی کے لیے فی الحال بڑا سر درد ہے۔ گزشتہ انتخابات میں 80 میں سے 73 سیٹیں جیتیں، لیکن ریاست میں حکومت بننے کے ایک سال کے اندر ہی وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ کی سیٹیں ہی ہار گئے۔ رہی سہی کسر ایس پی اور بی ایس پی کے ساتھ آنے سے پوری ہو گئی، جنہوں نے کیرانہ میں بھی بی جے پی کو دھول چٹاكر اپوزیشن اتحاد کی بڑی تصویر سامنے رکھ دی۔

اب بی جے پی کے مشن 2019 کی راہ میں ’اپوزیشن اتحاد‘ چٹان بن کر کھڑا ہے۔ یوگی کو کمان ہندوتوا کا مسئلہ گرمانے کے لئے دی گئی تھی۔ مگر فی الحال وہ بے اثر نظر آ رہے ہیں۔ شاید سنگھی نیتاؤں سے ان کی ملاقات میں انہیں کچھ گھٹی بھی پلائی گئی ہو۔ بہرحال سوال یہی ہے کہ کیا رام مندر کے بہانے ہندوتو کا مسئلہ اچھال کر بی جے پی اپوزیشن اتحاد کی دیوار کو پھاند پائے گی؟ کیا مودی، یوگی اور شاہ کی تگڑی یوپی میں بی جے پی کے لیے 2014 کا کرشمہ دوہرا پانے کرنے میں کامیاب ہو گی؟

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

متعلقہ

Close