آج کا کالم

کیا رام ناتھ كووند اتفاق رائے سے منتخب کیے جائیں گے؟

رويش کمار

بی جے پی صدر امت شاہ، یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ  اور مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے دلت پس منظر کو بہترین انداز سے اجاگر کر دیا ہے ، تاکہ وہ صرف دلت ہونے کی وجہ سے، اپنے وسیع تجربات ہوتے ہویے، گورنر، راجیہ سبھا اور دوسری جگہوں میں دیگر لوگوں سے پیچھے نہ رہ جاییں ۔ پیر کو بی جے پی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ بہار کے گورنر رام ناتھ كووند صدر کے لئے این ڈی اے کے امیدوار ہوں گے. رام ناتھ كوندو کی پیدائش 1 اکتوبر 1945 کو کانپور کے ایک گاؤں پروكھ میں ہوا. انہوں نے کانپور یونیورسٹی سے کامرس اور ایل ایل بی کی تعلیم حاصل کی.

موصوف کو سولہ سال تک دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں پریکٹس کرنے کا تجربہ حاصل ہے. تین بار یو پی ایس سی کی کوشش کی مگر آئی اے ایس میں نہیں ہوا تو آپ نے ایلاایڈ سروسز چھوڑ وکالت کا راستہ اپنا لیا. 1977 میں اس وقت کے وزیر اعظم مرارجی دیسائی کے پرائیویٹ سکریٹری بنے، اسی دوران بی جے پی کی قیادت کے رابطے میں آئے. 1990 میں بی جے پی کے ٹکٹ پر گھاٹم پور لوک سبھا سے انتخابات بھی لڑے مگر ہار گئے. 1994 میں یوپی راجیہ سبھا کے لئے منتخب کیا اور 2006 تک ہاؤس کے رکن رہے. 2007 میں کانپور دیہات کی بھوگن پوري اسمبلی سے انتخاب لڑے مگر بی ایس پی کے امیدوار سے ہار گئے. اگست 2015 میں بہار کے گورنر بنائے جانے سے پہلے وہ یوپی بی جے پی کے جنرل سکریٹری تھے. آل انڈیا کولی سماج کے صدر رہ چکے ہیں اور بی جے پی دلت مورچہ کے بھی صدر رہے ہیں .

بھارت کی سیاست میں دو چار ہی بڑے ماسٹر اسٹروک ہیں . عورت، مسلم، دلت اور پسماندہ. سینٹ کارڈ کم ہی چلتا ہے. ہو سکتا ہے نائب صدر کے عہدے کے لئے بچا کر رکھا گیا ہو. 2017 کی طرح 1997 میں ایک ایسا ہی ماسٹر اسٹروک کانگریس نے چلا تھا جب کے آر نارائنن کا نام صدارتی امیدوار کے طور پر اعلان ہوا تھا. بی جے پی سے لے کر متحدہ محاذ تک نے ان امیدواری کی حمایت کی تھی. کیا کانگریس اب بی جے پی کو واپسی گفٹ دے گی. وہ ایک تاریخی گھڑی تھی، پہلی بار کوئی دلت بھارت کے صدر جمہوریہ کی کرسی چوٹی پر بیٹھ کر جا رہا تھا.

نارائنن کے خلاف کسی بھی بڑی پارٹی نے مہم نہیں کی، شیوسینا کو چھوڑ کر جس نے ٹی این شیشن کو اپنا امیدوار بنایا تھا. اس وقت کے آر نارائنن کو صدر کے لئے پڑنے والے کل 1154604 ووٹوں میں سے 929056، ووٹ ملے تھے. یہ اس وقت کا ریکارڈ تھا.

کے آر نارائنن نے عدلیہ کے سامنے ایسے سوالات اٹھا دیے جسے لے کر اب تک خاموشی تھی اور صدر راج کی سفارشات پر اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سے ٹکرا گئے. 25 جولائی 1999 کے انڈیا ٹوڈے میں خداوند چاولہ کی ایک رپورٹ آپ انٹرنیٹ پر پڑھ سکتے ہیں . نومبر 1998 میں صدر نارائنن نے ججوں کی تقرری کی فائل پر آن ریکارڈ تبصرہ کر دا تھی کہ سپریم کورٹ اور قبیلے کے قابل امیدوار ہوتے ہوئے بھی عدلیہ میں ان کی نمائندگی کیوں نہیں ہے. تب خوب بحث ہوئی تھی. آٹھ سال بعد یعنی 2006 میں کے جی بالكرشن بھارت کے پہلے دلت چیف جسٹس بنتے ہیں . گوپال گاندھی جن امیدواری کی بات تھوڑی دیر کے لئے اس سال چلی تھی، وہ صدر کے آر نارائنن کے سیکرٹری تھے. انہوں نے صدر کی جانب سے كولیجيم کی فائل پر لکھا تھا کہ جج تبادلے سے لے کر اپنے تمام فیصلوں کے بارے میں اعتراض یا رضامندی تحریری طور پر درج کریں .

اکتوبر 1998 میں اٹل بہاری واجپئی کابینہ نے بہار میں صدر راج لگانے کی سفارش کر دی، نارائنن نے 80 گھنٹے تک غور کرنے کے بعد یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ حکومت دوبارہ غور کرے کیونکہ انہیں نہیں لگتا کہ بہار میں کوئی آئینی بحران ہے. اب اس قدم کے مقابلے آپ اتراکھنڈ اور اروناچل پردیش میں صدر راج کی سفارش پر موجودہ صدر پرنب مکھرجی کے دستخط سے کر لیجئے. دونوں ہی فیصلے عدالتوں سے مسترد ہو گئے بلکہ اتراکھنڈ کی ہائی کورٹ نے یہاں تک تبصرہ کر دی کہ صدر کوئی بادشاہ نہیں ہوتا کہ اس کے فیصلے کا جائزہ  نہیں لیا جایے گا. پرنب مکھرجی کے نام کا اعلان ہوتے وقت بھی کہا گیا تھا کہ وہ سیاسی اور آئینی امور کے تجربہ کار ہیں . شکر ہے ان سب کے درمیان پرتیبھا پاٹل یاد ہی نہیں آتیں ، وہ بھی پہلی خاتون صدر کے طور پر ماسٹر اسٹروک تھیں .

نارائنن کو کانگریس دوسری بار بھی امیدوار بنانا چاہتی تھی مگر حکومت بی جے پی کی تھی اور اس کے پاس اب ایک نیا ماسٹر اسٹروک تھا اے پی جے عبدالکلام. دلت کے سامنے مسلمان علامت تھا. بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ گجرات فسادات کے دوران فوج کی مداخلت کے اقدامات کرنے کی وجہ نیا آئکن لایا گیا. رڈف ڈاٹ کوم نے 8 مارچ 2005 کو کے آر نارائنن کا ایک انٹرویو شائع کیا ہے جو انہوں نے ملیالم کی ماہانہ میگزین ‘مانو سنسکرتی’ کو دیا تھا. اس میں انہوں نے کہا ہے کہ گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات میں حکومت اور انتظامیہ کی مکمل  حمایت تھی. میں نے اس معاملے میں وزیر اعظم واجپئی کو بہت سارے خط لکھے مگر انہوں نے کچھ نہیں کیا.

کے آر نارائنن دلت صدر تھے مگر وہ علامتی صدر نہیں تھے. کیا رام ناتھ كووند کو صرف علامات اور ماسٹر اسٹروک تک محدود کرنا صحیح ہوگا. جبکہ بہار کے گورنر کے طور پر وہ خود کو ثابت کر چکے ہیں . وزیر اعلی نتیش کمار ان کی تعریف کر رہے ہیں . انہوں نے شاہی محل کو دہلی کی طرح سیاست کا اڈہ نہیں بننے دیا. رام ناتھ كووند نے بہار انتخابات سے پہلے 8 اگست 2015 کو گورنر کے طور پر حلف اٹھا لیا اور 18 اگست کو Jigsaw کی اس ریلی میں حاضر تھے جہاں وزیر اعظم نے بہار کو سوا لاکھ کروڑ دینے کی بات کہی تھی. یہ پروگرام سرکاری تھا مگر گورنر کا تعارف تھوڑا انتخابی ہو گیا تھا.

بی جے پی دوبارہ انہی مترادفات خصوصیات کا استعمال کر رہی ہے. بہار میں اسے انتخابی فائدہ تو نہیں ہوا مگر اس بہانے بہار کو ایک اچھا گورنر ملا. مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے کہا ہے کہ كووند دلت ہیں اورجو ان کی مخالفت کرے گا وہ دلت مخالف ہوگا. اس دلیل سے تو کسی کو پاسوان جی کے خلاف الیکشن ہی نہیں لڑنا چاہیے یا بی ایس پی کے خلاف کسی کو امیدوار ہی نہیں ہونا چاہئے. رام ولاس پاسوان اس خیمے میں کیا کر رہے ہیں جہاں شیوسینا ہے جس نے بھارت کے پہلے دلت صدر کی امیدواری کی مخالفت کی تھی اور ٹی این شینش کو امیدوار بنایا تھا.

یہ بات صحیح  ہے کہ موجودہ  وقت میں دلتوں کے درمیان ایک قسم کی بے چینی نظر آرہی ہے. اونا کے واقعہ کی مخالفت ہو یا روہت ویمولا کی خود کشی کے بعد سیاسی ہنگامہ. سہارنپور کے واقعہ کے بعد بھیم آرمی کا جنتر منتر پر دو دو بار چل کر آنا. کہیں جگنیش ہیں تو کہیں چندرشیکھر ہیں ، کہیں رتن لال ہیں تو کہیں چدربھان پرساد ہیں . اس کے بعد بھی بی جے پی نے کسی دلت چہرے کو یوپی انتخابات میں سامنے نہیں کیا پھر بھی تاریخی کامیابی ملی. رام ناتھ كووند کے پس منظر سے زیادہ وزیر اعظم کی سیاسی داؤ کی بحث ہونی چاہئے. کہ کہیں انہوں نے اس نام سے اپوزیشن کو بکھیر تو نہیں دیا.

بہت سے لوگوں کو لال کرشن اڈوانی کے لئے ہمدردی پیدا ہورہی ہے. ابھی اڈوانی جی کے لئے دوسرے کیوں بولیں ، وہ خود بھی تو بول سکتے ہیں . ہر بار تو نہیں مگر کئی بار سیاست میں ہمدردی کے لئے بولنا پڑتا ہے اور عہدے کے لئے خاموش رہنا پڑتا ہے. فی الحال كووند جی کا استقبال کیجیے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close