کیا راہل کی تاجپوشی نسل پرستی کی مثال ہے؟

رويش کمار

راہل گاندھی کانگریس کے صدر بن گئے ہیں. ان کی نامزدگی کی مخالفت میں کسی بھی کانگریسی لیڈر نے اميداواري کا دعوی نہیں کیا. کنبہ پروری کا الزام راہل گاندھی کا پیچھا کر رہا ہے. سونیا گاندھی کا بھی پیچھا کر رہا تھا، راجیو گاندھی اور اندرا گاندھی کا بھی پیچھا کرتا رہا ہے. 1998 کے بعد 2001 میں سونیا گاندھی جب صدر بننے والی تھی تب جتندر پرساد نے اپنا نامانکن کیا تھا. اور ان کے ساتھ بہت سے کانگریس لیڈر بھی کھڑے ہوئے. جتندر پرساد ہار گئے مگر سونیا گاندھی کو پہلی بار انتخابات کا سامنا کرنا پڑا. 2001 سے 2017 تک سونیا گاندھی کے خلاف کوئی انتخابات نہیں ہوا. 2017 میں راہل گاندھی کو کسی انتخابات کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے، ان کے خلاف کوئی میدان میں نہیں اترا، ماں کے بعد بیٹے کو صدر بنایا جا رہا ہے. نہرو گاندھی خاندان کی بات ہوتی ہے لیکن یہ راجیو گاندھی کے بعد سے زیادہ واضح ہوتی ہے. ہمیں آج اور آزادی کی لڑائی کے وقت میں کودے خاندانوں میں فرق کرنا ہوگا، مگر اس فرق کے ساتھ کہ وہ جنگ میں ملک کی آزادی کے لئے کودے، یہ اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لئے صدر یا وزیر بن رہے ہیں.

جواہر لال نہرو کو مہاتما گاندھی نے وزیر اعظم بنایا تھا. آزادی کی جنگ کے دوران نہرو 9 سال جیل میں رہے تھے. نہرو کی بیوی کملا نہرو خود مجاہد آزادی تھیں. نہرو کے والد موتی لال نہرو بھی آزادی کے ہیرو تھے. نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت مجاہد آزادی تھیں. نہرو کی زندگی میں ہی 1959 میں اندرا گاندھی کانگریس صدر بن گئی تھیں. 1960 میں نیلم سنجیو ریڈی صدر بن گئے تھے. 1969 میں سنڈیکیٹ سے لوہا لیتے ہوئے اندرا گاندھی نے اپنی پارٹی بنائی.

اندرا گاندھی کو زیادہ ثابت کرنا پڑا سیاست میں. ہاری اور جیتتی رہیں وہ مختلف کہانی ہے. اندرا گاندھی کے وقت میں کنبہ پروری کی بنیاد پڑی. راجیو گاندھی وزیر اعظم بنے مگر سونیا گاندھی صدر کے عہدے پر ہی رہیں، منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے. بی جے پی الزام لگاتی رہی ہے کہ اقتدار سونیا کے پاس ہے، منموہن کٹھ پتلی ہیں. اس کے بعد بھی منموہن سنگھ کے وزیر اعظم رہتے کانگریس نے 2009 میں انتخابات جیتا تھا. سونیا گاندھی صدر تھیں مگر وہ انتخابات منموہن سنگھ کا تھا. منموہن سنگھ 2014 میں ہار گئے.

سردار پٹیل کا بھی خاندان سیاست میں رہا ہے. وٹھل بھائی پٹیل سردار ولبھ بھائی پٹیل کے سگے بڑے بھائی تھے. انہوں نے سی آر داس، موتی لال نہرو کے ساتھ سوراج پارٹی بنا لی تھی. وٹھل بھائی پٹیل 1925 میں مرکزی لیجیسلیٹیو کیلئےعام اسمبلي کے صدر اور اسپیکر تھے. انہی کے چھوٹے بھائی سردار ولبھ بھائی پٹیل وزیر داخلہ بنے. پٹیل کی شناخت وٹھل بھائی کے چھوٹے بھائی سے نہیں، باردولی کے کسان تحریک سے تھی. سردار پٹیل کی موت کے بعد نہرو نے 1952 میں ان کی بیٹی منی بین کو لوک سبھا کا ٹکٹ دیا. تنازعہ ہونے پر نہرو نے کہا کہ وہ بیٹی ہیں مگر 1930 سے آزادی کی لڑائی میں شامل ہیں. 1957 میں پٹیل کی بیٹی منی بین پٹیل اور بیٹے ديابھاي پٹیل دونوں لوک سبھا کا انتخاب لڑے، جیتے. بعد میں منی بین پٹیل راجیہ سبھا کی رکن بھی ہوئیں مگر اس کے بعد پٹیل خاندان سنائی نہیں دیا.

آج پٹیل خاندان کا اس ورثے پر کوئی دعوی نہیں ہے. ان کی کوئی پارٹی نہیں ہے. لال بہادر شاستری کے خاندان بھی سیاست میں آیا مگر اتنے ایماندار اور سادہ رہنما کے بیٹوں کو خاص سیاسی فائدہ نہیں ملا. جبکہ ایک کانگریس میں رہے اور دوسرے بی جے پی میں. بیجو پٹنائک کے بیٹے نوین پٹنائک بھی اسی کی مثال ہیں. ہندوستان کی سیاست میں خاندانوں کے دائرے سے باہر ایک سے ایک لیڈر بھی پیدا ہوئے جنہوں نے سیاست کو تبدیل کر دیا مگر ان کی بنائی پارٹی بھی کنبہ پروری کی گود میں چلی گئی. راہل گاندھی بہت دنوں تک اس خاندان کو لے کر سنکوچ میں رہے مگر اب لگتا ہے کہ اس تنقید سے نکل گئے ہیں، مگر یہ سوال ان کا پیچھا کرتا رہے گا. لوک سبھا انتخابات کے وقت راہل گاندھی نے ٹائمس ناؤ کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ‘میں اپنے خاندان کا بار بار نام نہیں لیتا ہوں، ایک یا دو بار ہی لیا ہوگا۔ اصلی مسئلہ یہ ہے کہ اس خاندان میں میں پیدا ہوا یہ میرا انتخاب نہیں تھا. میں نے دستخط نہیں کئے تھے کہ میں اس خاندان میں پیدا ہونا چاہوں گا. میں نسل پرستی کے تصور کے خلاف ہوں.’

راہل سے بھی پوچھا جانا چاہئے اور یہی سوال ادئے ٹھاکرے، آدتیہ ٹھاکرے، پرکاش سنگھ بادل، سکھبیر بادل، محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، ملائم سنگھ یادو، اکھلیش یادو، لالو یادو، تیجسوی یادو، کروناندھی، اسٹالن، رام ولاس پاسوان ، چراغ پاسوان سے بھی پوچھا جانا چاہئے. جواب کوئی نہیں دیتا ہے. کیا بی جے پی میں کوئی ایسا اصول ہے کہ جن کے والد وزیر اعلی، وزیر یا ایم پی رہے ہیں وہ کبھی پارٹی صدر یا وزیر اعظم نہیں بنیں گے، کیا بی جے پی نے ایسا کہا ہے. کیا جن پارٹیوں میں صدر کسی خاندان کا نہیں بنتا ہے، وہاں زیادہ اندرونی جمہوریت ہے، جواب ہے نہیں. کیا وہاں صدر کے عہدے کا جمہوری روح کے مطابق الیکشن ہوتا ہے، جواب ہے نہیں. 2014 کے ایک پرائم ٹائم میں اسی موضوع پر میں نے پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر آشوتوش سے بات کی تھی تب انہوں نے کہا کہ جیسے مغل بادشاہ اپنے اقتدار کی توسیع کے لئے راجپوت بادشاہوں سے شادیاں کیا کرتے تھے ویسے ہی پنجاب میں کانگریس اور اکالی اگرچہ مختلف ٹیم ہیں مگر ان بڑے لیڈر آپس میں ساس، بہو، بیٹا، داماد، بیٹی اور سالہ اور ساڑھو لگتے ہیں. آشوتوش نے پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ گرميت کور کے ایم اے میں لکھے نسخے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پرکاش سنگھ بادل کے کابینہ وزیر آدیش پرتاپ سنگھ ان کے داماد ہیں. آدیش پنجاب میں دس سال تک کانگریسی وزیر اعلی رہے پرتاپ سنگھ کیروں کے بیٹے ہیں. کیپٹن امریندر سنگھ کی بیوی، سمرن جيت سنگھ مان کی بیوی اور بے انت سنگھ کے بعد کانگریس کے وزیر اعلی هرچر سنگھ برار کی بہو آپس میں بہنیں ہیں. اسی طرح مجیٹھیا خاندان کو کانگریسی مانا گیا لیکن سرجیت سنگھ مجیٹھیا کے بیٹے وکرم سنگھ مجیٹھیا ابھی اکالی میں ہیں. ان کی بہن کی شادی ڈپٹی سی ایم سکھبیر سنگھ بادل سے ہوئی ہے. وکرم خود بھی اکالی سے رکن اسمبلی اور کابینہ کے وزیر ہیں.

ہندوستانی سیاست میں کنبہ پروری کو لے کر پیٹرک فرانسیسی نے مطالعہ کیا ہے. پیٹرک نے 15 ویں لوک سبھا کے 545 ممبران پارلیمنٹ کی خاندانی پس منظر کا مطالعہ کیا تو 156 ایم پی خاندانی پس منظر سے متعلق تھے. پیٹرک فرانسیسی نے دکھایا تھا کہ 15 ویں لوک سبھا میں راشٹریہ لوک دل 100 پرسینٹ خاندانی تھی. اس کے تمام رہنما خاندانی ہیں. سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ، اجیت سنگھ اور ان کے بیٹے جینت چودھری. اس وقت 16 ویں لوک سبھا چل رہی ہے. کںچن چندرا کی ایک کتاب ہے، democratic dynasties، state party and family in contemporary indian politics، كیمبريج یونیورسٹی پریس سے شائع یہ کتاب 7645 روپے کی ہے. اس کتاب کے مطابق پي ایم كے، سی پی آئی میں 100 فیصد رہنما پریواروادي ہیں. کانگریس کے 47.73 فیصد رہنما پریواروادي ہیں. بی جے ڈی میں 40 فیصد ممبران پارلیمنٹ پریواروادي ہیں. این سی پی میں 33 فیصد ممبران پارلیمنٹ پریواروادي ہیں. بی جے پی میں 14.89 فیصد پرواروادي ہیں.

ان جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ 2009 ء میں 30.07 فیصد رہنما پریواروادي تھے، ان کا فیصد 2014 میں گھٹ کر 21.92 فیصد رہ گیا. پیٹرک فرانسیسی اور کنچن چندرا دونوں کے تحقیق سے یہی نکلا ہے کہ بی جے پی میں کنبہ پروری تو ہے مگر کئی اہم جماعتوں کے مقابلے میں کم ہے. کلیان سنگھ گورنر ہیں، ان کے بیٹے راجویر سنگھ ایٹہ سے ممبر پارلیمنٹ ہیں اور نواسی سندیپ سنگھ رکن اسمبلی ہیں. راجناتھ سنگھ کے بیٹے پنکج سنگھ بھی رکن اسمبلی ہیں. قیصر گنج کے ایم پی برج بھوشن سنگھ کے بیٹے پرتیک بھوشن، لال جی ٹنڈن کے بیٹے آشوتوش ٹنجن رکن اسمبلی ہیں. یوگی کابینہ میں وزیر ریتا بہوگنا جوشی بھی کنبہ پروری کی مثالیں ہیں. جینت سنہا، انوراگ ٹھاکر، پیوش گوئل سمیت کئی لیڈر خاندانی پس منظر سے آتے ہیں. کنبہ پروری کی وجہ سے انہیں موقع ملا لیکن کیا ان میں سے بہت سے اسی خوبی کی وجہ سے سیاست میں ٹکے رہے؟ ورون گاندھی کی اپنی سیاسی شناخت ہے، اس شناخت میں سنجے گاندھی کے والد ہونے کے اتفاق کے علاوہ اور کیا ہے. کیا ورون گاندھی نے سلطان پور میں 1 لاکھ 80 ہزار ووٹ سنجے گاندھی کے نام پر پایا ہوگا یا اپنے کام پر. عوام کیوں ووٹ دیتی ہے، خاندان کا نام دیکھ کر. کیا عوام سے سوال نہیں ہے.

آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو کے بیٹے نارا لوکیش بھی ٹی ڈی پی کے جنرل سکریٹری ہیں، والد کی کابینہ میں وزیر ہیں. تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر کے بیٹے کے ٹی رماراو بھی والد کی کابینہ میں وزیر ہیں.

کیا بی جے پی کنبہ پروری کے خلاف اپنے اتحادیوں کے خلاف بھی جارحانہ ہے؟ بی جے پی نے ادھو ٹھاکرے، سکھبیر بادل اور چراغ پاسوان کے خلاف کنبہ پروری کی مہم کیوں نہیں چلائی. راہل گاندھی کے صدر بننے کو لے کر بی جے پی کانگریس پر جارحانہ ہے، جواب میں کانگریس پوچھ رہی ہے کہ امت شاہ نامزدگی سے صدر بنے تھے یا انتخابات سے، بی جے پی اس کا جواب نہیں دے رہی لیکن یہ سوال پوچھ کر کانگریس بھی بی جے پی کے سوال کا جواب نہیں دے رہی ہے. سوال یہ ہے کہ پارٹیوں کے اندر اندر اندرونی جمہوریت ہے، کیا وہاں ہے جہاں پریوارواد ہے، کیا وہاں ہے جہاں پریوارواد نہیں ہے. اگر راہل گاندھی کے انتخاب پر ایمانداری سے بحث کرنی ہے تو اس سوال پر ٹکے رہنا ورنہ کوئی فائدہ نہیں. بہترین مثال آپ کو ہندوستان سے نہیں ملے گی. لندن کی سیاست سے مل سکتی ہے. جیسے لیبر پارٹی کی ہی مثال لیتے ہیں.

كوربن اور ان کا گروہ لیبر پارٹی میں 30 سال سے حاشیے پر تھا. كوربن پارٹی کے کارکنوں کے ووٹ سے ممبر پارلیمنٹ بنتے رہے. جبکہ پالیسیوں کو لے کر ان کی پارٹی قیادت سے براہ راست مخالفت میں ہے. لیبر پارٹی کے دو دو وزیر اعظم ہوئے، جن سے ان کی مخالفت رہی. مقامی سطح پر کارکنوں کے ووٹ سے جیتتے رہے.

برطانیہ میں کارکن مقامی سطح پر امیدوار کا انتخاب کرتے ہیں، اس کے لئے 25 پونڈ فیس دے کر ممبر بنتے ہیں. کارکن ہی رہنما اور وزیر اعظم کا امیدوار منتخب کرتے ہیں. امیدوار بننے کے لئے رہنما باقاعدہ پارٹی کے اندر اپنی پالیسیوں کو لے کر کارکنوں کے درمیان منادی کرتے ہیں، تقریر کرتے ہیں جو بھارت میں نہیں ہوتا ہے. اس کے بعد بھی برطانیہ اور امریکہ میں کنبہ پروری کی طرح دوسری طرح کا واد پنما دولت اور كلينتا کا. برطانیہ میں بہت سے وزیر اعظم ایک ہی اسکول یا کالج کے پڑھے ہوئے بنتے رہے. یہ بھی اپنے آپ میں ایک طرح کا كلين واد ہے. پھر بھی بھارت کے نظام سے یہ کہیں بہتر ہے کہ پارٹی کا امیدوار کون ہوگا کارکن طے کریں گے نہ کہ سنگھ پریوار نہ ہی گاندھی خاندان.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ رویش کمار

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

جی ہاں، مجھے معلوم ہے گجرات انتخابات کا نتیجہ!

مجھے گجرات انتخابات کا رزلٹ معلوم ہے لیکن میں 18 کو رزلٹ آنے کے بعد بتاؤں گا. میں چاہتا ہوں کہ پہلے دیکھ لوں کہ الیکشن کمیشن کا رزلٹ صحیح ہے کہ نہیں. میرے رزلٹ سے ملتا جلتا ہے کہ نہیں! اس وقت تک مجھ سے رذلٹ کے بارے میں نہ پوچھیں. کچھ صحافی ٹویٹر پر ڈول گئے ہیں. بیلنس کرنے یا دونوں ہی پوزیشن میں کسی ایک سائیڈ سے مستفید ہونے کے چکر میں اپنا پوسٹ تبدیل کر رہے ہیں، بیچ بیچ کا لکھ رہے ہیں.انتخابی سیاست بکواس ہو چکی ہے. صحافیوں نے مجموعی طور پر دس پانچ زاویہ ہی دکھائے، جبکہ انتخابات کے کئی زاویہ ہوتے ہیں جو صحافیوں کی نظر سے دور ہوتے ہیں. جن کی نظر میں ہوتے ہیں وہ لکھتے نہیں کیونکہ وہ بھی اس میں شامل ہوتے ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے