آج کا کالم

کیا سپریم کورٹ نے ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کو کمزور نہیں کیا ہے؟

رويش کمار

مترجم: محمد اسعد فلاحی

آزادی کے بعد دلت سیاست کا ایک اچھا کام بغیر تشدد کے آندولن کرنے کا رہا ہے، آج وہ ٹوٹ گیا. تشدد کس نے کیا، کیسے ہوا؟ اس کا سرکاری ڈیٹا آتا رہے گا مگر تصاویر میں جو دکھ رہا تھا، وہ دلت آندولن کا حصہ کبھی نہیں رہا. ایس سی / ایس ٹی ایکٹ میں ایف آئی آر درج کرنے کے عمل کے تناظر میں سپریم کورٹ کے نئے فیصلے کے خلاف شمالی بھارت کے کئی مقامات پر تشدد ہوئے ہیں. اس تشدد میں 7 افراد ہلاک اور کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں. بڑی تعداد میں سرکاری اور پرائیویٹ املاک کو نقصان پہنچا ہے. کسی بھی طور پرتشدد کی حمایت نہیں کی جا سکتی ہے. ایک بھیڑ جب تشدد کا سہارا لیتی ہے تب وہ اپنے آندولن سے کنٹرول کھو دیتی ہے. ٹھیک ہے کہ دوسری طرح کی بھیڑ اکثر تشدد کا سہارا لیتی ہے، مگر دلت آندولن کی تاریخ آئینی راستوں پر چلنے کی رہی ہے. تو کیا یہاں سے کوئی نیا موڑ آ گیا ہے. سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف رائے رکھی جا سکتی ہے، مگر پر تشدد آندولن کرنے کا طریقہ اسی آئین کے خلاف ہے، جس کی حفاظت کے لئے کئی مقامات پر لوگ سڑکوں پر اترے تھے.

آخر ٹی وی چینلز پر نظر آتا پستول چلانے والا شخص کون ہے جو دیوار کے سہارے سے نکلتا ہے اور پیچھے سے بھیڑ کے اوپر گولی چلا دیتا ہے. گوالیر کے اس شخص کی شناخت ابھی تک کیوں نہیں ہو سکی ہے. اس کے بارے میں سوشل میڈیا میں کئی طرح کی باتیں ہو رہی ہیں. ویڈیو سے پتہ نہیں چل رہا ہے کہ گولی چلانے کی وجہ کیا رہی ہے، پیچھے سے گولی کیوں چلائی جارہی ہے. اس چیک شرٹ والے نوجوان کے ہاتھ میں بندوق کہاں سے آئی، بندوق لے کر آندولن میں آنے کی اجازت کس نے دی. مدھیہ پردیش میں گوالیر، بھنڈ اور مرینا میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں. یوپی کے اعظم گڑھ میں دو بسوں میں آگ لگائی گئی ہے. درجنوں بسوں میں توڑ پھوڑ ہوئی ہے. ان بسوں میں غیر ملکی سیاح بھی تھے. مظفرنگر میں بینک کے اے ٹی ایم میں آگ لگا دی گئی. بینک کے افسروں کی گاڑیاں بھی جلا دی گئی ہیں. میرٹھ میں بھی تصادم ہوا لیکن یہاں پولیس لوگوں کو گھر سے نکال کر مارتی نظر آئی. میرٹھ میں ایک شخص کو گولی بھی لگی ہے، جسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے. صحافیوں کے بھی کیمرے توڑ دیے گئے ہیں. گاڑیوں کو آگ لگائی گئی ہے. گھروں سے نکال کر بھی پولیس مارتی نظر آئی ہے. کمال خان نے بتایا کہ مغربی اتر پردیش میں اس کا اثر زیادہ ہے. فیروز آباد، جھانسی میں آندولن جارحانہ ہو گیا ہے. راجستھان کے الور میں بھی تشدد ہوا ہے. دو جگہوں پر فائرنگ ہوئی ہے. انٹرنیٹ سروس بند کرنی پڑی ہے. الور میں بھی دو لوگوں کی موت ہوئی ہے. سیکر میں بھی دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے. بہار کے کئی اضلاع میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں. لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر سپریم کورٹ کے نئے فیصلے کے خلاف اترے تھے. مگر تشدد کی ان تصاویر نے آندولن کی بحث کسی اور سمت میں موڑ دی ہے. يمنانگر میں پولیس مظاہرین کو پیٹتی نظر آئی ہے. تو دونوں تصویریں ہیں. ایک طرف عام لوگوں کے تشدد کی تصاویر ہیں تو دوسری طرف پولیس کی طرف سے طاقت کے استعمال کی تصاویر بھی ہیں. پولیس نے انہیں مارا پیٹا بھی ہے. کئی مقامات پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا ہے.

آندولن کے بعد تشدد کی مذمت اور آندولن سے پہلے تشدد نہ کرنے کی اپیل کے بعد بھی تشدد نہیں ٹلا. مگر بہت سی جگہوں پر آندولن پرامن بھی رہا. انتظامیہ کی حالت دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اس کی تیاری بالکل نہیں تھی. کئی مقامات پر پولیس کی جارحیت بھی نظر آئی. ویسے یہ جارحیت ’كرنی فوج‘ کے وقت کہیں نہیں نظر آئی تھی یا ان جگہوں پر تو بالکل نہیں جہاں فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے کے مقصد سے جلوس نکالے جاتے ہیں. کئی مقامات پر بھیڑ بھی پولیس پر حملے کر رہی تھی. عام خریداروں پر بھی حملہ ہوا.

اس آندولن کے دو رخ تھے. ایک جو اپنے ساتھ ہوئی ناانصافی کے لئے لڑ رہے تھے تو وهاٹس اپ یونیورسٹی میں اسے ذات کا زہر بتا کر اناپ شناپ باتیں پھیلا رہے تھے. یہ وہی لوگ ہیں جو دیگر ایام میں مذہبی منافرت پھیلانے والے میسیج بھیجتے رہتے ہیں. ایک ایکٹ کی فراہمی میں تبدیل کرنے کی لڑائی کو وهاٹس اپ یونیورسٹی میں آرکشن بچاؤ بمقابلہ آرکشن مٹاو میں بدل دیا گیا. یہ کھیل اندر اندر کھیلا جا رہا تھا مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ حکومت مضبوطی سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کے لئے بڑھ چکی تھی. حکومت کا ہر حصہ سپریم کورٹ کے حکم سے اختلاف جتا رہا تھا. پرکاش امبیڈکر نے کہا، ‘کس نے بھارت بند کا اعلان کیا کسی کو پتہ نہیں لیکن سوشل میڈیا پر لوگوں کا اس حکم کے تئیں اتنا غصہ تھا کہ لوگ اپنے آپ سڑکوں پر آ گئے.’

سپریم کورٹ کے اس حکم نے بھارت کی سیاسی جماعتوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے. ایک طرف پاسوان حکومت کی طرف سے مورچہ لے رہے تھے تو دوسری طرف راہل گاندھی کہہ رہے تھے کہ دلتوں کو سماج کے سب سے نچلے نمبر پر رکھنا آر ایس ایس اور بی جے پی کے ڈی این اے میں ہے، جو اس سوچ کو چیلنج دیتا ہے، اسے تشدد سے دباتے ہیں. مگر پاسوان کی یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ رام ولاس پاسوان پرکاش امبیڈکر سے اتنے ناراض کیوں ہیں.

سچائی یہ ہے کہ معاشرے میں ہم اتنی سطحوں پر منقسم ہو چکے ہیں کہ ایک دوسرے کے خلاف اتنے طرح کی تصورات پال کر رکھتے ہیں کہ کب کون سی چنگاری آگ میں بدل جائے، کہا نہیں جاسکتا. ذات کو لے کر علیحدگی پسندی آج بھی اسی طرح ہے جیسی پہلے تھی. ہمارے ادارے اگر واقعی اچھے ہوتے تو سماجی طبقوں کے درمیان غیر یقینی کی کیفت اتنی گہری نہ ہوتی اور نہ ہی ذات کے نام پر تشدد کرنے کی کسی کی ہمت ہوتی.

ان سب کے بیچ ملک بھر کے دلت اپنے مسائل کو صاف صاف دیکھ رہے تھے کہ ان کے خلاف نسلی تشدد جو ابھی تک جاری ہے، اس کے خلاف جو بھی قانونی تحفظ ہے، وہ کمزور کیا جا رہا ہے. خود سے پوچھئے کہ کیا معاشرے میں چھوا چھوت موجود نہیں ہے، آپ کے آس پاس یا آپ کے رویے یا سماجی تجربات میں جھانک کر دیکھئے تو اس کی تصویر نظر آجائے گی. اس حقیقت سے بھاگتے بھاگتے مذہب کی آڑ میں چھپنے سے کچھ نہیں ہونے والا ہے. ہر جرم کا تعلق ذات سے نہیں ہے، مگر کیا یہ سچ نہیں ہے کہ دلتوں کے ساتھ ذات کی وجہ سے بھی جرم کیا جاتا ہے. گھوڑا خرید لیا تو مار دیا گیا. شادی کے لئے گھوڑی پر چڑھ گیا تو مار دیا گیا. آئے دن ذات پات کو لے کر تشدد کی خبریں آتی رہتی ہیں. اتوار کے انڈین ایکسپریس میں ایک خبر تھی، آپ کو پڑھنی چاہئے. ہاتھرس میں ایک دلت نوجوان سنجے کمار نے علاقے کے ایس ایچ او سے لے کر ڈی جی پی سے لے کر وزیر اعلی سے لے کر  مقامی اخبارات تک سب کو خط لکھا ہے کہ اسے ٹھاکر اکثریتی گاؤں سے اپنی بارات لے جانے کی اجازت دی جائے. 15 مارچ کو سنجے نے الہ آباد ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی ہے. آپ حیران ہو جائیں گے نے ایس پی نے پورے روٹ کی جانچ پڑتال کی اور یہ بھی پتہ لگایا کہ گزشتہ 20 سال میں کسی جاٹَو نے شاہی طریقے سے شادی کی ہے یا نہیں.

بھارت میں گھڑی چوری کی ایف آئی آر کرانے جائیں تو پسینے چھوٹ جاتے ہیں. تحقیقات کی کیا ساکھ ہے اس پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں. لہذا وهاٹس اپ یونیورسٹی کے حقائق پر انحصار کرنے سے سے پہلے نیشنل کرائم برانچ بیورو کے اعداد و شمار دیکھ لینا چاہئے. 20 مارچ کو انڈین ایکسپریس نے ایس سی / ایس ٹی ایکٹ کے معاملات پر طویل رپورٹ شائع تھی، این سي آربي کے اعدادوشمار کے مطابق 2010 سے 2016 تک آئی پی سی کے تحت ایس سی کے خلاف جرائم میں 10٪  اضافہ رہا ، ایس ٹی کے خلاف 6٪. ان سالوں میں سپریم کورٹ کے مقدمات میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 78 فیصد سے بڑھ 91٪ ہو گئی اور شیڈول کاسٹ کے مقدمات میں زیر التوا مقدموں کی تعداد 83 فیصد سے بڑھ کر 90 فیصد ہو گئی. جبکہ 2007-17 کے درمیان دلتوں کے خلاف 66٪ جرائم بڑھے. گزشتہ دس سال میں دلت خواتین کی عصمت دری تقریباً دوگنی ہو گئی.

اس کا مطلب سزا کی شرح کم ہو گئی ہے. فیصلہ آنے میں دیری بڑھتی جارہی ہے. جن معاملوں میں ٹرائل پورا ہوا ان میں بھی ملزمان کے چھوٹنے کی شرح زیادہ ہے. اس کا واحد مطلب یہ ہوا کہ یہ نہیں بلکہ الزام جھوٹے تھے. آخر کیا ہوا کہ ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت 2010 میں سزا کی شرح 38 فیصد تھی جو 2016 میں 10 فیصد ہو گئی. اتنی کمی کیوں آئی. 1996 کے بتھاني ٹولا قتل سانحہ کے 23 رنویر فوج کے ملزمان کو پٹنہ ہائی کورٹ نے 2012 میں بری کر دیا. 1997 کے لكشمن پور باتھے قتل سانحہ کے 26 رنویر فوج کے ملزمان کو پٹنہ ہائی کورٹ نے 2013 میں بری کر دیا.

ان دونوں سانحوں میں 79 دلتوں کی موت ہو گئی تھی، سب کے بری ہونے کے بعد کیا مان لیں کہ مقدمہ فرضی رہا ہوگا. کیا آپ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ کن طاقتوں کو کن لوگوں نے بچایا. کمزوری پولیس انتظامیہ میں ہے تو سزا معاشرے کو کیوں ملے. ویسے بھی اگر آپ کے خلاف کوئی جھوٹا مقدمہ کرتا ہے، تو اس کے خلاف بھی مقدمہ کرنے کے قوانین ہیں. اسے سزا ہو گی اور آپ کو معاوضہ ملے گا. اس معاملے میں ہر پارٹٰی وکٹم ہے کیونکہ بھارت کا نظامِ انصاف واقعی تھکا دینے والا ہے. اگر کسی نے غلط ثبوت دیے ہیں تو اسے تعزیرات ہند کی دفعہ 193 کے تحت سات سال کی سزا ہو جاتی ہے. جھوٹا مقدمہ درج کرنے پر تعزیرات ہند کی دفعہ 182 اور 211 کے تحت سزا بھی ہو سکتی ہے. قاعدے سے عدالت کو اس کا ریکارڈ دیکھنا چاہئے. سوال ہے کہ اگر ایس سی / ایس ٹی ایکٹ میں ایف آئی آر کے لئے ایس ایس پی سے اجازت لینی ہوگی، اس کے لئے ایس ایس پی کو وجہ بتانی ہوگی اور مجسٹریٹ ان وجوہات کی تحقیقات کرے گا. اگر یہی طریقہ ہے تو پھر ہر معاملے میں یہ طریقہ ہونا چاہئے کیونکہ غلط استعمال تو وہاں بھی ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close