آج کا کالم

کیا صحافی کو ووٹ دینا چاہئے؟

اس بار بہت انتخابات کے بعد ووٹ ڈالنے کا موقع ملا. ورنہ ہر بار ووٹ یہاں ہوتا تھا اور ہم کہیں اور رپورٹنگ کی ڈیوٹی پر ہوتے تھے. میں خود بھی اپیل کرتا رہا ہوں کہ بڑی تعداد میں ووٹ کریں. لہذا یہ بات كچوٹتي بھی تھی کہ ووٹنگ نہیں کیا. پہلے سوچتا تھا کہ جوانوں کی طرح صحافیوں کو بھی پوسٹل بیلٹ سے ووٹنگ کی اجازت ملے تاکہ وہ ڈیوٹی پر رہتے ہوئے ووٹ دے سکیں. لیکن اب میری رائے بدل رہی ہے.

گھر سے پولنگ مرکز کے لئے نکلتے ہوئے اور پولنگ بوتھ کے اندر اندر جاتے وقت یہی سوچتا رہا کہ کیا صحافی کو ووٹ دینا چاہئے؟ کسی پارٹی کے لئے بٹن دبائیں وقت کیا اس کے فی مخلص نہیں جاگتی ہوگی؟ گہری نہیں ہوتی ہوگی؟ آپ کہیں گے کہ ہزار تعداد وجوہات سے صحافیوں کی وفاداری مشکوک ہے تو اسے ووٹ سے محروم کیوں کیا جائے؟ بات ٹھیک ہے مگر پھر بھی مجھے ووٹ کرتے ہوئے اچھا نہیں لگا. پےشاگت مخلص اور مت کے درمیان جھگڑا سا ہو گیا. ووٹ ڈالنے کے بعد دماغ اور بھی بے چین ہو گیا. جب آپ کسی کو ووٹ کرتے ہیں تو وہ محض جسمانی عمل نہیں ہوتی ہے. نظریاتی اور اس سے بھی زیادہ نفسیاتی عمل ہوتی ہے. پولنگ مراکز پر جاکر صحافیوں کا پارٹيكر گہرا ہی ہو جاتا ہے گا. ظاہر ہے وہ جس انتخابات کی رپورٹگ کر رہے ہیں، اسی دوران جسے ووٹ کیا ہے، اس کی جیت کی خواہش بھی کرتے ہوں گے. میں اس تضاد کو جھیل نہیں پایا، پتہ نہیں باقی صحافی کس طرح برداشت لیتے ہیں.

مگر یہ سوال صرف اتنا بھر نہیں ہے. میری بات اتنی ہے کہ کسی کو ووٹ کرتے وقت صحافی جس نفسیاتی عمل سے گزرتا ہے، اس سے اس بچنا چاہئے. جب تک وہ کسی اخبار، ویب سائٹ یا ٹی وی کی نوکری میں ہے، تب تک صحافی کو ووٹ نہیں کرنا چاہئے. اس بات پر شاید ہی کوئی آسانی سے متفق ہو لیکن میں نے یہ بات رکھنا چاہتا ہوں. چاہتا ہوں کہ اس پر بحث ہو. ویسے بھی ہر انتخابات میں بیس سے چالیس فیصد ووٹر ووٹ نہیں کرتے ہیں. چند ہزار صحافی ووٹ نہیں کریں گے تو جمہوریت کا نقصان نہیں ہوگا بلکہ ان غیر جانبداری بچی رہنے سے فائدہ ہی ہوگا.

میں نوٹا کی وکالت کرتا رہا ہوں. یہ ہم جیسوں کے لئے ایک اچھا انتخاب ہے مگر آپ اسے یقین نہیں کر سکتے کہ صحافیوں کو نوٹا پر ہی ووٹ کرنا ہوگا پھر نوٹا کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا. اب آپ کہیں گے کہ صحافیوں کی پولنگ نہ کرنے سے ان پارٹيكر کا امکان ختم ہو جائے گی؟ شاید نہ ہو لیکن اس کے روکنے کے اقدامات پر ہم بات تو کر ہی سکتے ہیں. ضرور اس سوال کے تار میڈیا ہاؤس کی ملکیت اور ان کی سیاسی وفاداری یا کنٹرول سے جڑے ہوئے ہیں. پھر بھی بحث ہو سکتی ہے کہ کیا صحافیوں کو ووٹ کرنا چاہئے؟ کیا ووٹ کرکے وہ اس الیکشن کی سیاسی عمل کا حصہ نہیں ہو جاتا ہے جسے غیر جانبداری سے رپورٹ کرنے کی جوابدہی ان کی ہے.

اسی کے ساتھ ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں. بڑی تعداد میں ایسے ووٹر ملتے ہیں جو امیدوار کا نام تک نہیں جانتے. بس ذات اور مذہب کی وجہ سے پارٹی کا نام یا سمبل جانتے ہیں. ووٹ ڈالنے والا ہر ووٹر بیدار ہوتا ہے، ضروری نہیں ہے. اس تک اطلاعات پہنچنے سے روکا جاتا ہے اور کئی وجوہات سے وہ بھی اطلاعات تک نہیں پہنچ پاتا ہے.

آپ یوپی میں بی جے پی کے بل بورڈز دیکھئے. وزیر اعظم کا چہرہ ہے. نعرے لکھے ہیں مگر اس پر مقامی امیدوار کا چہرہ نہیں ہے. جہاں مقامی امیدوار نے اپنے پوسٹر لگائے ہیں ان میں پچاس اور چہرے ہوتے ہیں. باقی جماعتوں کے بھی پوسٹر اسی پیٹرن پر ہوتے ہیں. چونکہ بی جے پی کے ہی بل بورڈز زیادہ نظر آتے ہیں اس لئے مثال کے طور پر ذکر کیا. کمیشن نے پوسٹر کی حد تو باندھ دی ہے مگر پوسٹر نہیں ہونے سے ووٹر تک صحیح معلومات نہیں پہنچ رہی ہے.

ظاہر ہے خرچ کی حد کی وجہ سے امیدوار ایک رینج کے تحت ہی پوسٹر لگا سکتا ہے. دوسرا الیکشن کمیشن ہر درو دیوار پر پوسٹر لگانے بھی نہیں دیتا ہے. تو کوئی کمیشن سے پوچھے کہ ووٹر کس طرح جانے گا کہ کس پارٹی کا کون سا امیدوار میدان میں ہے اور وہ لگتا کیسا ہے. کیا کمیشن کی اس سختی کی وجہ سے ووٹر کچھ بنیادی باتوں کو جاننے سے محروم نہیں ہو جاتا ہے. امیدواروں کے پوسٹر کم لگنے سے ووٹر پارٹی سمبل پر ہی ووٹ دینے کے لئے حوصلہ افزائی ہوتی ہے. یہ درست نہیں ہے.

کمیشن کے پاس کئی راستے ہیں. ایک تو وہ امیدواروں کے لئے طے کر دے کہ آپ کو اپنے حلف نامے کے چھ ڈٹیل کے ساتھ پوسٹر لگانے کی اجازت دے گا. جس تعلیمی قابلیت، مجرمانہ ریکارڈ اور جائیداد کی تفصیلات گے. مجرمانہ ریکارڈ میں عصمت دری یا عورت مخالف تشدد کی ایک مختلف کالم ہو. پھر امیدوار ایسے پوسٹر ہر گاؤں میں بیس بیس لگا سکتے ہیں تاکہ لوگوں کو پولنگ سے پہلے حلف نامے کی بھی معلومات ہو. ورنہ یہ معلومات کس کے لئے جٹائی جاتی ہے.

 اخبارات اور چینلز تک رسائی حاصل تمام ووٹر تک نہیں ہوتی ہے. تمام امیدوار چینلز میں اشتہارات دینے کی حیثیت بھی نہیں رکھ پاتے ہیں. پوسٹر کی کردار سب سے بڑی ہوتی ہے اور اسی کی تعداد کم کر دی گئی ہے. اس وجہ سے جب اخبار کسی پارٹی کی طرف لیتے ہیں تو کئی امیدواروں کو برابر موقع نہیں مل پاتا ہے. کمیشن پوسٹروں کو روک کر امیدواروں کو پابند کرتا ہے کہ وہ اخبارات پر انحصار رہے اور پیڈ نیوز کے لئے مجبور کیا جائے.

ایک راستہ اور ہے. کمیشن اپنی طرف سے امیدواروں کے پوسٹر شائع کرا کر اہم مقامات اور بستیوں میں لگوا دے. تین چار جماعتوں کے امیدواروں کے سنگل پوسٹر لگیں گے تو اس پرامكتا پر کوئی شک نہیں کرے گا. کمیشن صرف ووٹنگ کی تعداد کو حوصلہ افزائی کرتا ہے، اس کی معیار کو کم. یہ کام بغیر ہیرا پھیری کے کمیشن ہی کر سکتا ہے. کمیشن کم پڑھے لکھے ووٹروں کے لئے ویڈیو وین بھی بنوا سکتا ہے جس میں ویڈیو کے ذریعہ امیدواروں کی معلومات دی جائے. اس لیے صحافیوں کے فرنچائز اور پوسٹر کے حقوق کے سوالات پر چاہتا ہوں کہ بحث ہو.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close