آج کا کالم

کیا فرقہ وارانہ تشدد عام بات ہے؟

رویش کمار

فرقہ وارانہ تشدد کو ہم ایک طے شدہ فریم میں دیکھنے لگے ہیں-  نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نئے واقعے کو بھی پہلے ہو چکا واقعہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، کیونکہ ایسے ہر ایونٹ میں بحث کے جتنے بھی پہلو ہیں، وہ تقریبا طے ہو چکے ہیں- کون سا سوال ہوگا، کون سا جواب ہوگا، کون سا پہلو ہوگا، اس وجہ سے بھی آپ یا ہم فرقہ وارانہ تشدد کی خبروں کو لے کر نارمل رہنے لگے ہیں- ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا ہے کہ آہستہ آہستہ ان عام فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی تعداد سینکڑوں سے اب ہزاروں میں ہونے لگی ہے- یہ صحیح ہیکہ فساد جیسے بڑے واقعات نہیں ہو رہے ہیں. تاہم کئی مقامات پر بڑی تعداد میں دکانیں جلی ہیں، لوگ زخمی ہوئے ہیں- مگر ہزاروں کی تعداد میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی نوعیت معمولی جھگڑے کی ہوتی ہے، جن سے وبال ہوتا ہے- پھر مقامی علاقے میں طرح طرح کی بحث ہوتی ہے- ہندو ایسے ہوتے ہیں، مسلمان ایسے ہوتے ہیں کہ باتیں چلنے لگتی ہیں- ہمیں اب واقعی فکر کرنی چاہئے کہ ہم کب تک اپنے سماجی تانے بانے کو اس طرح کمزور کرتے رہیں گے- اس سیاست سے اقتدار مل سکتی ہے، لیکن یہ بھی تو پوچھيے کہ اس اقتدار سے آپ کو کیا مل رہا ہے؟ کیا آپ کو پڑوس میں جھگڑا چاہئے؟

 انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز نے اتر پردیش میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے پولیس ریکارڈ کا مطالعہ کیا ہے- ایک مہینہ لگا کر اپو استھوس سریش نے تمام ریکارڈس کی چھان بین کی ہے اور 17 اور 18 اکتوبر کے روز ایک طویل سلائڈنگ شائع کی ہے- تیسرا حصہ 19 اکتوبر کو بھی شائع ہوگا- اپو نے بتایا ہے کہ 31 جولائی 2014 کے آس پاس اتر پردیش کے ایک نہیں بلکہ نو اضلاع میں ایک ساتھ فرقہ وارانہ تشدد کے معاملات درج کئے گئے ہیں، یعنی آج سے دو سال پہلے-

 آج ہم اپوسے ہی بات کریں گے، لیکن ان کی رپورٹ کی خاص باتوں کو آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں- 75 اضلاع کے ریکارڈس دیکھ کر میں بھی چونک گیا. کیا ہم اتنے لاچار ہو گئے ہیں کہ اس طرح ہزاروں کی تعداد میں فرقہ وارانہ واقعات ہوتے رہیں گی اور سب کچھ سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دیا جائے گا، جن کی دلچسپی اس سے فائدہ اٹھانے میں ہی زیادہ ہوتی ہے- معاشرے کے اندر سے کب آواز اٹھے گی- بہر حال اپو کی ریسرچ بتاتی ہے کہ

 یوپی میں جنوری 2010 سے 2016 کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کے 12000 واقعات ہوئے ہیں-

سال کے حساب سے ہر سال 2000 فرقہ وارانہ واقعات.

دن کے حساب سے ہر روز پانچ سے زیادہ فرقہ وارانہ واقعات.

صرف ایک دن کوئی فرقہ وارانہ تشدد درج نہیں ہوئی ہے اور وہ ہے 25 دسمبر 2014.

سال 2016 میں جنوری سے اپریل کے درمیان 1262 فرقہ وارانہ واقعات درج ہوئے ہیں.

2015  میں 3708 معاملے درج ہوئے ہیں اور 2014 میں2884.

 فرقہ وارانہ تشدد کے ان چھٹپٹ واقعات میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے- 12000کی تعداد سننے کے بعد بھی کیا ہمیں ان واقعات کو چھٹپٹ کہنا چاہئے- اپو نے ان واقعات کے لئے جو انٹینسٹي کمیونل لفظ کا استعمال کیا ہے- مقامی سطح پر یہ کشیدگیاں ہوتی ہیں- فسادات میں تبدیل ہونے سے پہلے پولس قابو پا لیتی ہے- یہ اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ فرقہ وارانہ واقعات کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے- مگر شاید یہ بھی بتا رہے ہیں کہ پولس قابو بھی کر پا رہی ہے- ورنہ ان میں سے کسی کے بھی بڑے جھگڑے میں تبدیل ہونے کے امکان سے آپ انکار نہیں کر سکتےہیں- لیکن کیا پولیس کا قابو پانا ہی کافی ہوگا- ان معاملات میں تحقیقات اور قانونی مقدموں کے انجام کی کہانی بھی پولس کی مستعدی کو سوالات کے گھیرے میں لا سکتی ہے- اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ سیاسی ایجنسیاں فرقہ وارانہ کشیدگی کے ان واقعات کو ایک حکمت عملی کے تحت انجام دے رہی ہیں- لوگ جب جانتے ہیں تو لوگ تقسیم ہو کیوں رہے ہیں- اپو نے گرافکس کے ذریعہ اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ

 گائے کے گوشت یا گوهتيا کو لے کر ہونے والے فرقہ وارانہ واقعات کی تعداد کس طرح بڑھ رہے ہیں

2010 میں اس سلسلے میں صرف 130 کیس درج ہوتے ہیں، جو 2014 میں 458 ہو جاتے ہیں-

2015  میں درج 3708 واقعات میں سے 696 واقعات گائے کے گوشت یا گوهتيا کو لے کر ہوئے ہیں-

اسی طرح قبرستان کو لے کر جھگڑا، مندر مسجد اور مذہبی واقعات کا بھی کردار رہا ہے- اپو نے ان سب کو مذہبی عدم برداشت کی فہرست  میں شامل کیا ہے-

 2010 میں مذہبی عدم برداشت کی وجہ سے 592 فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں سے 98 واقعات ہوئے ہیں-

 2014 میں 2884 میں سے 715 واقعات مذہبی عدم برداشت کی وجہ سے ہوئے ہیں-

2015 میں3708واقعات میں سے 905 واقعات مذہبی عدم برداشت کی وجہ سے ہوئے ہیں-

 ابھی ہم نے بتایا کہ 2015 میں یوپی میں فرقہ وارانہ تشدد کے 3708واقعات درج ہوئے ہیں- ان میں سے 1600 واقعات گائے کے گوشت یا مذہبی عدم برداشت کو لے کر ہوئے ہیں- ان کا مقصد صاف ہے کہ کشیدگی ہو مگر بڑے سطح پر فساد نہ بھڑکے- کشیدگی ہوتی یہ ہے کہ مقامی علاقے میں شدید ترین بحث ہونے لگتی ہے کہ وہ ایسے ہیں- یہ ایسے ہیں- بحث کرتے کرتے لوگوں کی آپسی فرقہ وارانہ خیمہ بندی ہونے لگتی ہے- روٹی کپڑا اور کام کے سوال کو چھوڑ آپ ان سوالات کی بنیاد پر سیاسی پسند بنانے لگتے ہیں- جبکہ ان واقعات کی وجہ سے دیکھیں تو عام عوام سے امید کی جانی چاہئے کہ وہ خوب ہنسے اور کہے کہ معلوم ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہے، مگر ہم جھگڑا نہیں کریں گے-

 اپو کی طرح ایک اور صحافی ہیں ناصرالدين حیدر خان- انہوں نے youthkiawaz.com پر ایک مضمون لکھا ہے- انگریزی اور ہندی کے 13 اخبارات اور ویب سائٹ پر شائع ہونے والےفرقہ وارانہ تشدد کی خبروں کی تالیف کی ہے، جنہیں ہم چھٹپٹ تشدد کہتے ہیں- اسی 11 سے 15 اکتوبر کے درمیان اتر پردیش اور بہار میں درگا مورتی وسرجن اور تعزیہ کے جلوس کے دوران تصادم کے اتنے واقعات ہوئے ہیں کہ آپ شاید چونکے بھی نہ، کیونکہ ہم اور آپ عادی ہو چکے ہیں- ناصرالدين نے لکھا ہے کہ

 گونڈا میں درگا مجسمے کے وسرجن کے دوران پتھراؤ کا الزام لگا- کشیدگی بڑھی تو تعزیہ کمیٹی نے تعزیہ نہیں نکالا-

مئو میں بھی مجسمہ وسرجن اور تعزیہ توڑے جانے کو لے کر کشیدگی کی خبر ملی-

علی گڑھ میں قبرستان کی زمین پر راون جلانے کو لے کر کشیدگی پھیلی-

مرادآباد میں بلاری علاقے میں محرم کے دوران ایک جلوس نکالنے کو لے کر کشیدگی کی اطلاع ملی-

13، 14 اور 15 اکتوبر کو گونڈا کے موتي گج،  بہرائچ کے فخرپور میں کشیدگی کی خبر ملی- بہرائچ میں کئی مقامات پر ایسے واقعات ہوئے ہیں- ناصر نے لکھا ہے کہ مہاراج گنج، کشی نگر، بلیا، بلرام پور، بریلی، سیتاپور اور رائے بریلی میں بھی جلوس کے راستے کو لے کر کشیدگی ہوئے ہیں- بہار میں تو انتخابات بھی نہیں ہونے والے ہیں، لیکن وہاں یہ کشیدگی کیوں ہو رہی ہے-

بہار کے مشرقی چمپارن کے تركوليا میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ گئٰ ہے-

یہیں کے سگولی میں بھی اسی طرح کا معاملہ ہوا.

مغربی چمپارن کے بیتیا کے ایک محلے میں بھی کشیدگی ہوئی-

گیا، مدھے پورا، بھوجپور، پيرو، گوپال گنج، سیتامڑھی سے بھی ایسی خبریں آئیں ہیں-

 سال اور جگہ بدل جانے کے بعد بھی کشیدگی کی وجوہات میں غضب کی مماثلت ہے- کیا واقعی ہم ان وجوہات کو نہیں سمجھتے ہیں یا جو لوگ منظم انداز میں دونوں طرف سے ان معاملات کو انجام دیتے ہیں، انہیں لوگوں کو مکمل اعتماد ہے کہ لوگ بھڑكیں گے ہی- انہیں وجوہات سے لوگ 1940 میں بھی بھڑکے تھے، 1960 میں بھی بھڑکے اور 2016 میں بھی بھڑكیں گے. کیا سب کچھ اتنا طے شدہ ہو سکتا ہے. ہمارے آج کے مہمان صحافی ساتھی نے گزشتہ سال بہار سے ایک ایسی ہی رپورٹ شائع کی تھی- دو ماہ لگا کر اپو نے 38 اضلاع کے پولس ریکارڈس دیکھے تھے- تب وہ انڈین ایکسپریس میں تھے اور اب ہندوستان ٹائمز میں ہیں- اپو نے بتایا تھا کہ

 جون 2013 کے انتخابات سے پہلے کے مہینوں تک بہار میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی تعداد بڑھ کر 667 ہو گئی ہے-

جون 2010 سے 2013 کے درمیان ایسے واقعات کی تعداد 226 تھی-

 ان واقعات میں ایک پیٹرن بھی دکھائی دے رہا ہے کہ کئی جگہوں پر مقامی میڈیا انہیں کوریج نہیں دیتا- قومی میڈیا بھی نظر انداز کرتا ہے- جیسا کہ بنگال میں اسے لے کر بحث ہو رہی ہے کہ اس کا فائدہ اٹھا کر فرقہ وارانہ گروہ افواہ پھیلانے لگتے ہیں کہ میڈیا کسی ایک کمیونٹی کا موقف لے رہا ہے- اب دیکھنا ہوگا کہ میڈیا کا یہ فیصلہ عقلمندی کی بنیاد پر ہے یا کوریج نہ کرنے کا فیصلہ فرقہ وارانہ حکمت عملی سے میل کھاتا ہے تاکہ اس کا فائدہ اٹھا کر افواہ پھیلانے کا موقع ملے- کئی مقامات پر افواہ پھیلانے میں میڈیا کا براہ راست کردار سامنے آیا ہے- آپ کو انٹرنیٹ پر اس سے متعلق بہت سے تخقیقی مضامین مل جا ئیں گے-

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close