آج کا کالم

کیا قرض معافی پر سنجیدگی سے عمل ہو گا؟

رويش کمار

جیسے ہی کسان آندولن سے ہٹتے ہیں سب کی نظروں سے ہٹ جاتے ہیں. لیڈروں کی اوڑھي ہوئی حساسیت غائب ہو جاتی ہے اور پھر کسانوں کے سارے سوال اگلے کسی بڑے بحران تک ملتوی کر دیے جائیں گے. کسانوں کی قرض معافی کی خبریں آ تو رہی ہیں، مگر معافی کی شرائط کی تفصیلات میں حقیقی کھیل پوشیدہ  ہے. مدھیہ پردیش میں ہی جب کسان تحریک شروع ہوئی ہے، اس وقت سے 16 کسانوں کی خودکشی کی خبر ہے. اگرچہ وہاں کے کوآپریٹیو وزیر مملکت دعوی کر رہے ہیں کہ ایک بھی کسان نے قرض کی وجہ سے خودکشی نہیں کی ہے. شکر ہے انہوں نے یہ نہیں کہا کہ کسان نے خودکشی نہیں کی. صرف اتنا کہا کہ قرض کی وجہ سے نہیں کی. اگر قرض کی وجہ سے خودکشی نہیں کی تو بھی ایک حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ دیکھے کہ دس دن کے اندر اندر 16 کسانوں کے خود کشی کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟

حکومتوں کے موسمی حساسیت کی انتظامیہ پر بھی اثر پڑتا ہے ورنہ جس کسان کے لیے وزیر اعلی سے لے کر وزیر تک اپواس پر بیٹھ جاتے ہیں، اس کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے بعد گھر لے جانے کے لئے آٹو میں پلنگ ڈال کر نہیں لے جانا پڑتا. آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایمبولینسوں کیوں نہیں دیا گیا. سی ایم او نے بتایا کہ میت کسان کے ساتھ بہت سے لوگ آ گئے تھے وہ سب کے سب ایمبولینسوں میں نہیں آ سکتے تھے اس لئے انہوں نے یہ آٹو کر لیا. سی ایم او نے کہا کہ پاس کی بات ہوتی تو بندوبست کر دیتے مگر کافی دور کے ہیں. ودیشا میں ضلع ہسپتال ہے اور جہاں سے یہ لاشیں لایی گییں تھیں وہ کافی دور نہیں بلکہ محض ساٹھ کلومیٹر دور تھا. خیر جو لوگ ایمبولینسوں میں نہیں آسکتے تھے وہ اس آٹو میں آ گئے. ویسے پولیس کی گولی سے مرے چھ کسانوں کے گھر وزیر اعلی کو جانا تھا تب سات ہیلی پیڈ بنائے گئے تھے، بارش ہو گئی تو ایک کا ہی استعمال ہوا، وزیر اعلی باقی جگہوں پر گاڑی سے گئے.

35 سال کے جیون سنگھ مینا ودیشا ضلع کے كرريا تھانے کے ایک گاؤں بامورا کے رہنے والے تھے. ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے. پیر کی صبح انہوں نے پھانسی لگا کر خود کشی کر لی. جیون نے علاقائی دیہی بینک سے سوا لاکھ اور سہکاری بینک سے تین لاکھ کا لون لیا تھا. لون نہیں چکا سکے تو اگلی بوائی کے لئے لون نہیں ملا، جس سے وہ کھاد اور بیج نہیں خرید سکے. رشتہ داروں نے بتایا کہ وہ بہت پریشانی میں تھے. کچھ دن پہلے اپنی زمین بٹايدار کو دی اور پیر کے دن بیوی اور تین بیٹیوں کو چھوڑ کر لگا لی.

پوسٹ مارٹم رپورٹ تو یہی کہتی ہے کہ جیون سنگھ کی موت دم گھٹنے سے ہی ہوئی یعنی پھانسی لگانے سے. نیشنل کرائم برانچ بیورو کی رپورٹ کے مطابق 2015 میں مدھیہ پردیش میں 581 کسانوں نے خود کشی کی تھی.

جیون سنگھ کے بعد اب جگراج سنگھ کی کہانی. جگراج سنگھ پنجاب کے بھٹنڈا ضلع کے جھڈوكے گاؤں کے رہنے والے تھے. ان کے اوپر بینک اور اڑھت والوں کا لاکھ بقایا ہو گیا تھا. جگراج نے آڑھتي سے 24٪ سالانہ سود پر ایک لاکھ روپیہ قرض لیا تھا جو بڑھ کر تین لاکھ روپے ہو گیا تھا. جگراج کو دیہی بینک کا سات لاکھ روپیہ چکانا تھا. اس نے ایک پرانا ٹریکٹر بھی لیا تھا قرض پر، لیکن قرض نہ چکا پانے کی وجہ ٹریکٹر فروخت کرنا پڑا. حکومت سے قرض معافی کی امید ٹوٹ چکی تھی. جمعہ کی رات وہ جب کھیت سے کام کر واپس آیا تو اس نے کنڈی لگا کر کمرہ بند کیا اور پھانسی لگا لی. گزشتہ سال اس نے کھیتوں میں کپاس لگائی تھی لیکن فصل خراب ہو گئی تھی. 62 سال کی عمر میں کوئی خودکشی کیوں کرے گا؟

پنجاب کے وزیر اعلی نے 20000، کروڑ سے زیادہ کی قرض معافی کا اعلان کیا لیکن جب بجٹ پیش ہوا تو اس میں کہیں000 20، کروڑ کی رقم ہی نظر نہیں آئی. وزیر اعلی نے کہا تھا کہ تمام چھوٹے اور مارجن کے کسانوں کے دو لاکھ تک کے لون معاف کر دیے جائیں گے. یہ بات ذہن میں ركھيےگا کہ کسانوں پر دو ملین سے زیادہ کا قرض ہے. لون معافی کے بعد بھی کسان لون سے آزاد نہیں ہو رہے ہیں. ان کا پورا قرض معاف نہیں ہو رہا ہے، جبکہ انتخابی تقریروں میں کل قرض معافی کی بات کرتے تھے.

وزیر اعلی نے بجٹ سے پہلے کہا تھا کہ دس لاکھ کسانوں کو فائدہ ہو گا. دعوی تھا کہ قریب 56 فیصد کسانوں کو اس سے فائدہ ہو گا. اس حساب سے000 21، کروڑ کی قرض معافی کا حساب بنتا ہے، مگر بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ من پریت بادل نے محض 1500 کروڑ کا انتظام کیا ہے. وزیر اعلی نے کہا کہ تمام معمولی کسانوں کو پورے دو لاکھ روپے تک کی قرض معاف کر دی جائے گی چاہے ان پر کتنا بھی قرض کیوں نہ ہو. اگر اسے شامل کر لیں تو 30000، کروڑ کے قریب حساب بیٹھتا ہے. بجٹ میں اس طرح نہیں کہا گیا ہے جیسے بجٹ سے پہلے وزیر اعلی نے اعلان کیا تھا. یہی نہیں پانچ ایکڑ سے زیادہ زمین والے کسانوں کا کوئی لون معاف نہیں کرے گا. وزیر اعلی نے یہ بھی کہا کہ خودکشی کرنے والے کسانوں کے جتنے بھی لون باقی ہوں گے، وہ حکومت چكايےگي. خودکشی کرنے والے کسانوں کو پانچ لاکھ روپے تک کی مالی مدد دی جائے گی.

جگراج سنگھ اگر 20 جون تک زندہ ہوتے تو ان کا دس لاکھ کا قرض اس منصوبہ کے تحت معاف نہیں ہوتا، اب پھانسی لگا لی ہے تو شاید ریاستی حکومت ان کا لون چکا دے گی. پنجاب حکومت نے پنجاب کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 1961 کے سیکشن 67 اے کو بھی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے. ابھی کسانوں کی زمین نہ تو نیلام ہو گی اور نہ ضبط. اس فیصلے سے کسانوں کو راحت مل سکتی ہے کیونکہ لون نہ ادا کرنے  پر زمین چھن جانے کا ڈر نہیں رہے گا. پنجاب زراعت کے لحاظ سے ایک ترقی یافتہ ریاست ہے. یہاں ہر طرح کے بنیادی ڈھانچے موجود ہیں. اس کے بعد بھی یہاں کے قریب 86 فیصد کسان قرض سے دبے ہیں. جتنی خود کشیاں ہو رہی ہیں، ان میں سے 90 فیصد میں لون کی وجہ بتایی جا رہی ہے.

ہمارے ساتھی نکھل کی رپورٹ ہے کہ پنجاب کے 33.26 فیصد کسان غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہیں. یعنی پنجاب کا ہر تیسرا کسان غربت کی لکیر سے نیچے ہیں. مہینے میں 2500 روپے سے بھی کم کماتا ہے. پنجاب کے کسان خاندان پر اوسطا ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ قرض ہے. پنجاب یونیورسٹی کی ایک رپورٹ میں یہ معلومات سامنے آئی ہے. اس پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر گیان سنگھ کا کہنا ہے کہ معمولی کسان، غریب کسان، نیم غریب کسان اور بے زمین کسانوں کی قرض ادا کرنے کی صلاحیت صفر ہو چکی ہے. وہ چکا ہی نہیں سکتے ہیں. پٹیالہ کے سوہنا گاؤں کے کسان پال سنگھ کی عمر 55 سال ہے. وہ 2000 مہینہ بھی نہیں کما پاتے ہیں اور قرض ہے آٹھ لاکھ. ظاہر ہے پال سنگھ کی قرض ادا کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے.

یہی وجہ ہے کہ کھیتی سے تمام نقل مکانی کر رہے ہیں. آپ سوچیں ہریانہ کے مہرشی دیانند یونیورسٹی، روہتک میں چپراسی کے 92 عہدے کے لئے 22000 درخواست آئیں. وہ بھی مستقل نہیں ہے. کنٹریکٹ کی ملازمت ہے اور سیلری ہے 8800 روپے. آٹھویں کی قابلیت چاہئے مگر ایم اے کئے ہوئے طالب علموں نے بھی درخواست کی ہے. ایسا کیوں ہیں. ایسا اس لئے ہے کیونکہ شہروں میں بھی روزگار نہیں ہے. شہری ماہر اقتصادیات روز بول رہے ہیں کہ لوگوں کو کھیتی سے ہٹا کر شہروں میں بھیجنا ہو گا کیونکہ کاشت 70 فیصد لوگوں کے بوجھ نہیں اٹھا سکتی. جیسے شہروں میں روزگار چپے چپے پر موجود ہے. شہروں میں روزگار نہیں ہے، اسی وجہ سے 70 فیصد لوگ زراعت پر منحصر ہے. اسے ایسے بھی دیکھا جا سکتا ہے، مگر بات بنانے میں ہم استاد ہو چکے ہیں. ہریانہ میں کم از کم مزدوری کی دو قیمتیں ہیں. 318 روپے اور 406 روپے. ان دونوں کے حساب سے بھی چپراسی کو کم از کم مزدوری سے کم تنخواہ کی تشہیر نکل رہا ہے وہ بھی یونیورسٹی میں. آپ سوچ سکتے ہیں کہ کم از کم مزدوری کا بھی کیا حال ہے اور روزگار کا بھی. غنیمت ہے کہ اس ملک میں روزگار مسئلہ نہیں بنتا اس کے لئے ہم مذہبی اور نسلی مسائل کا شکر ادا چاہئے.

ابھی آتے ہیں مہاراشٹر کی جانب. پیر کی رات مہاراشٹر حکومت کے وزراء کے گروپ اور کسان رہنماؤں کے درمیان بات چیت ہوئی کہ قرض معافی کی شرائط کیا ہوں گی. کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس بات چیت کا نتیجہ نہیں نکلا. ان کا الزام ہے کہ حکومت وعدے سے مکر رہی ہے. ریاستی حکومت نے اس کی تجویز میں کہا کہ ریاست میں 2013 سے 2016 کے درمیان خشک رہا تو 30 جون 2016 تک جو قرض لیا گیا ہے اس میں سے صرف ایک لاکھ معاف کیا جائے گا. جن کسانوں کے پاس گاڑی ہے، جو انکم ٹیکس بھرتے ہیں، جن کے خاندان میں کوئی سرکاری ملازم ہے، ان کا قرض معاف نہیں کرے گا. کسان لیڈر جس گیسٹ ہاؤس میں بات چیت کر رہے تھے، وہیں پر نعرے بازی کرنے لگے اور حکومت کی تجویز کی کاپیاں جلانے لگے.

مہاراشٹر اور پنجاب نے قرض معافی کا اعلان تو کر دیا، مگر اتنی شرائط لگا دی گئیں ہیں کہ اس معافی کا کوئی خاص مطلب نہیں رہ جاتا ہے. ظاہر ہے لیڈر انتخابات میں کچھ کہتے ہیں، انتخابات کے بعد کچھ اور کرتے ہیں. اس سال 18 مئی کے ٹائمز آف انڈیا میں پرینکا کاکوڈکر کی ایک رپورٹ شائع ہویی، جس کے مطابق مہاراشٹر میں جنوری سے لے کر اپریل تک 852 کسانوں نے خود کشی کی ہے. ہر دن سات کسانوں نے خود کشی کی ہے. 409 خود کشیاں ودربھ میں ہوئی ہیں. 2016 میں اسی دوران 1023 کسانوں نے خود کشی کی تھی. چار ماہ میں 852 کسان خودکشی کر لی، کیا آپ کو ایسی خبریں مشغول کرتی ہیں. 3 مئی، 2017 کو سپریم کورٹ میں حکومت نے حلف نامہ دیا ہے کہ کافی کوششوں کے بعد بھی زراعت میں 2013 سے ہر سال اوسطا 12000، سے زیادہ کسانوں نے خود کشی کی ہے.

مدھیہ پردیش میں بھی ہر سال اوسطا 1290 کسان خودکشی کر رہے ہیں. منگل کے انڈین ایکسپریس میں اجے ویر جاکھڑ نے لکھا ہے کہ 2015 میں کسانوں کی خود کشی میں 42 فیصد کا اضافہ ہوا تھا. یہی نہیں زمین مرد کسان کے نام ہوتی ہے مگر عورت کسانوں کی خود کشی کے لیے ان اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا جاتا. خواتین کسانوں کے حالات پر تو بحث نہیں ہوتی ہے.

4 اپریل 2017 کو ہندوستان ٹائمز میں دیویندر شرما نے ایک مضمون لکھا ہے. اس میں انہوں نے پارلیمنٹ کی لوكلیكھا کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پبلک سیکٹر بینک کا این پی اے چھ لاکھ 80 ہزار کروڑ کا ہے. اس میں 70 فیصد ڈیفالٹر صنعتکار ہیں. صرف ایک فیصد کسان ہیں.

آپ سوچیں چار لاکھ کے قرضے والا کسان خود کشی کر لیتا ہے، یہاں پچاس پچاس ہزار کروڑ کا ڈیفالٹر صنعت بینک حکام کے ساتھ میٹنگ کر رہے ہیں. کسان کو بینک سے کتنا وقت ملتا ہے اور ایک صنعت کو اسی کا حساب نکالا جانا چاہئے. مگر کسانوں کی واحد مسئلہ لون نہیں ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close