آج کا کالم

کیا قوم پرستی صحافت میں دکھنی چاہیئے؟

رویش کمار

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ نیوز چینلوں پر ہر ہفتے کسی نہ کسی بہانے ایسے مسئلے کیوں لوٹ آتے ہیں، جن کے بہانے قوم پرستی کی بحث ہونے لگتی ہے. کیا آپ نے انہی چینلوں پر سستی تعلیم، اچھی تعلیم، بیکاری، نوکری،  تحفظ صحت و زندگی، پنشن جیسے مسائل پر قوم پرست للكاریں سنی ہیں. اچانک ہماری قوم پرستی کو کیا ہو گیا ہے کہ کئی بار لگتا ہے کہ پرائم ٹائم نہیں رہے گا تو قوم پرستی بھی نہیں رہے گی. آپ نے دیکھا بھی ہوگا اور گذارش ہے کہ طرح طرح کے مذہبی چینلوں کو دوبارہ دیکھئے.

کئی قسم کے قصہ گو ملیں گے. کوئی پرسکون انداز سے سناتا ہے تو کوئی پرجوش انداز سے. انہی قصہ گو کی ایک شکل کو اوینجلسٹ کہتے ہیں. اوینجلسٹ عوامی فورم پر ایسے بولتے ہیں، کوئی ان کے بولنے کے ڈرامائی انداز سے گھبرا کر ان سے لپٹ جائے. آپ ان اوینجلسٹ جنہیں ٹیلی اوینجلسٹ کہا جاتا ہے اور چینلوں کے کئی اینكروں کے انداز سخن کا موازنہ کیجئے. اوینجلسٹ ایسے بولتے ہیں کہ دماغ سن کردیں … ماتھا جھنجھنا جائے. ٹیلی اوینجلسٹ خدا کا خوف اور رحم دکھا کر ناظرین کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لینا چاہتا ہے، اسی طرح نیوز اینکر قوم پرستی کا طوفان پیدا کرتے ہیں … کبھی کبھی خدا کا بھی کرتے ہیں. آپ جب دونوں میں یکسانیت کو سمجھ لیں گے تو جان جائیں گے کہ چینلوں پر قوم پرستی کے اوینجلسٹ آ گئے ہیں.

کشمیر کے تشدد کی کوریج کو قومی مفاد، ملکی مفاد، اتحاد، سالمیت کے نام سے پرکھا جا رہا ہے. جے این یو کے وقت بھی قوم پرستی ابھری تھی. کیرانہ میں فرضی خبر کے طور پر اسی میڈیا نے وہاں کشمیر تک پیدا کر دیا تھا. وہی میڈیا اب کشمیر میں قوم پرستی کا ڈھول پیٹ رہا ہے. کشمیر میں دہشت گردی، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ میں نکسل واد اور شمال مشرقی ہندوستان میں انتہا پسندی. ان تینوں جگہوں کی کوریج کرتے وقت ایک صحافی کی دشواری کیا ہوتی ہوگی. وہ اپنی خبروں کو کس پیمانے سے دیکھتا ہوگا. سیکورٹی فورس کے جوان بھی شہید ہوتے ہیں، عام لوگ بھی مارے جاتے ہیں اور باغی عسکریت پسند بھی مارے جاتے ہیں. اب ایک کی کوریج ہو یا تینوں کی ہو.

ایک ایسی صورت حال ہے کہ صحافی فوجیوں کے ساتھ بنکر سے رپورٹنگ کرے، جوانوں کی بندوق کس طرف ہے آپ کو وہی نظر آئے. ظاہر ہے طرفداری سکیورٹی کی ہی زیادہ ہوگی. دوسری صورت حال ہے کہ صحافی اس طرف سے کوریج کریں، جہاں سیکورٹی فورسز کی گولیاں چل رہی ہوں. لوگ سیکورٹی فورسز پر پتھر مار رہے ہوں. ایسے میں آپ کو صرف لوگ نظر آئیں گے، سیکورٹی فورس نہیں. تیسری صورت حال ہے کہ صحافی کہیں درمیان میں ہو اور دونوں طرف وقوع پذیر ہو رہے واقعات کی زیادہ سے زیادہ اطلاعات دے.

آپ بتائیں کہ ان میں سے کون سی صورت حال بہتر ہے؟ اگر دوسری اور تیسری پوزیشن بند کر دی جائے تو کیا آپ پوری تصویر جان پائیں گے. آپ کو یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ آپ جاننا کیا چاہتے ہیں. ہر طرح کی خبر یا صرف ایک طرح کی خبر. ایک طرح کی خبریں آپ کو قابل شہری بناتی ہیں یا ہر طرح کی خبریں آپ کو قابل شہری بناتی ہیں.

جیسے راجیہ سبھا میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ 1948 شہری زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 1744 کو اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے. 204 لوگوں کا ہی علاج چل رہا ہے. یہ ایک سرکاری اطلاع ہے. انڈیا ٹوڈے نے 13 جولائی کو خبر لکھی ہے کہ 105 لوگوں کی آنکھوں کو پیلیٹ گن سے نقصان پہنچا ہے. ان میں سے 90 کا آپریشن ہوا ہے، ہو سکتا ہے یہ سبھی اپنی بینائی کھو دیں. یہ اطلاعات اور حقائق وزیر داخلہ کے بیان میں نہیں تھے. کیا وزیر داخلہ کا بیان حتمی مانا جائے؟

کیا آپ ان 90 لوگوں کے بارے میں جاننا ہی نہیں چاہیں گے، جن کی آنکھوں کی روشنی جا سکتی ہے. کیا ایمس کے ڈاکٹر نے پیلیٹ گن کے استعمال نہ کرنے کی بات کہہ کر کوئی ملک مخالف کام کیا ہے. کیا میڈیا، حکومت اور آپ نے ان تمام 90 افراد کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے، کوئی ثبوت ہے. اگر میڈیا کہے کہ قوم کا معاملہ ہے، اس لیے جو وزیر داخلہ کہیں گے وہی حتمی ہے، تو کیا ایک تماشائی کے ناطے آپ نے ان 90 لوگوں کے ساتھ انصاف ہوتے دیکھا، جنہیں آپ اور حکومت دونوں اپنا ہی شہری مانتے ہیں. آپ کہیں گے کہ حملہ آور ہجوم نے پتھر چلائے. جب پتھر چلانے کی حکمت عملی کا آغاز ہوا تھا تب بھی میڈیا کے جس حصے کو دکھانا تھا اس نے دکھایا ہی تھا کہ یہ ایک نئے قسم کا خطرناک رجحان ہے.

صحافی کیا کریں؟ قوم پرستی کی جو آپ کی سمجھ ہے اس کے حساب سے رپورٹنگ کریں یا واقعہ کے ہر طرف کی بات رکھیں. اس راستے میں وہ زیادتیاں بھی کرتا ہے، بدمعاشياں بھی کرتا ہے، یہ بات ذہن میں ہے، لیکن قوم پرستی کی کون سی بندش اس پر لاگو ہو … کیا ہم اور آپ صاف ہیں. فوج اور حکومت کا موقف حتمی ہے، اس کی چھوٹ میڈیا ہر معاملے میں لینے لگے تو آپ ناظرین کا کیا ہو گا … سوچا ہے کبھی. جب یہ مسئلہ اٹھا تو راجدیپ سردیسائی نے فیس بک پر ایک پوسٹ لکھا.

1983 میں فاكلینڈ جنگ کے دوران مارگریٹ تھیچر حکومت کے رکن نے غصے میں بی بی سی کو اسٹیسلیس پیوپلز براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کہہ دیا تھا کیونکہ بی بی سی برطانوی فوج کو ہماری فوج نہیں، برطانوی فوج لکھتا تھا. ارجینٹينا کی فوج کو ان کی فوج نہیں، ارجینٹینين فوج لکھ رہا تھا. جب ارجینٹینا کا جہاز غرق آب ہوا تب مارگریٹ تھیچر نے کہا کہ صرف بی بی سی ہی پوچھے گا کہ کیوں برطانوی وزیر اعظم نے دشمن کے بیڑے کے خلاف کارروائی کی جو ہمارے جوانوں کے لیے خطرہ تھا. تب بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل جان برٹ نے وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ صحافتی ادارہ سیاسی اقتدار کی توسیع نہیں ہے. ان کی پہلی وفاداری سچائی کے تئیں ہے نہ کہ قومی ریاست کے. بدقسمتی سے ہندوستانی میڈیا دہشت گرد اور دہشت گردی کے استعمال کے وقت یہ اصول بھول جاتا ہے.

اسکرول ڈاٹ ان میں تجزیہ ہے کہ کس طرح کچھ چینل ملیٹینٹ لکھ رہے تھے. کچھ چینل ٹیرورسٹ لکھ رہے تھے. بی بی سی ہندی نے برہان وانی کو مشتبہ شدت پسند لکھا. ہم نے اور باقی چینلوں نے دہشت گرد لکھا. مشتبہ دہشت گرد یا شدت پسند نہیں. آپ کو کیا لگتا ہے، مشتبہ شدت پسند لکھنے کے پیچھے صحافت کے اپنے کچھ اصول ہوں گے یا کسی قوم کی مخالفت کرنے کی کوئی سنک ہوگی. برطانیہ میں عراق جنگ میں اس کی فوج کیوں بھیجی گئی، اس پر سات سال کی تحقیقات کے بعد چلكاٹ کمیٹی نے رپورٹ دی. اس کمیٹی نے پایا کہ اس وقت کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے ملک اور فوج سے جھوٹ بولا تھا. جھوٹے حقائق کی بنیاد پر بلیئر نے برطانوی فوج کو جنگ میں جھونک دیا. نتیجہ، عراق میں لاکھوں بے قصور شہریوں کا قتل ہوا. چلكاٹ اور لیبر پارٹی کے لیڈر كوربن نے اپنی پارٹی کے سابق وزیر اعظم کے جھوٹ کے لئے عراقی عوام سے معافی مانگی. عراق میں مارے گئے برطانوی فوجیوں کے اہل خانہ نے بلیئر کو دہشت گرد کہا. سوچئے جس صدام کو دہشت گرد بتا کر بلیئر نے برطانوی فوج کو جنگ میں جھونکا، اسی فوج کے خاندان والے 13 سال بعد بلیئر کو ہی دہشت گرد کہہ رہے تھے. جنگ میں ملک کو جھونکنے کا فیصلہ ہمیشہ متنازع رہتا ہے. یہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں کہ وزیر اعظم جو کہیں وہی سچ ہے. برطانوی میڈیا نے بلیئر کا کافی ساتھ دیا تھا. اب وہی میڈیا انہیں دہشت گرد تک لکھ رہا ہے. جیسا کہ برطانیہ کے معاملے میں ثابت ہوا. کیا اسی وجہ سے بی بی سی ہندی کا مشتبہ شدت پسند لکھنا درست نہیں ہے یا آپ کو لگتا ہے کہ سیدھے سیدھے دہشت گرد ہی لکھا جانا چاہئے. زیادہ تر ہندوستانی میڈیا دہشت گرد لکھ دیتا ہے.

مشتبہ لگائے، فیصلے سے پہلے براہ راست دہشت گرد لکھنے کا خطرہ دیکھئے. نثار 23 سال تک اس الزام میں جیل میں بند رہے کہ دہشت گرد ہیں. 23 سال بعد 31 مئی 2016 کو عدالت نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے. پوری زندگی تباہ ہو گئی. جیل سے آنے کے بعد نثار نے یہی کہا کہ میں صرف ایک زندہ لاش ہوں. نثار قوم پرست نہیں ہوتا تو اپنی جوانی کے 23 سال جیل میں چپ چاپ کیوں گزارتا. اسے دہشت گرد کہنے والے قوم پرست صحافی کہاں ہیں. کیا آپ کسی صحافی کو بغیر مشتبہ بتائے دہشت گرد کہنے کی چھوٹ دینا چاہیں گے.

شمال مشرقی ریاستوں میں عسکریت پسندی ہے. جس دن برہان مارا گیا، اسی دن سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ آیا. کورٹ گزشتہ 20 سال کے دوران 1500 مبینہ طور پر فرضی انکاؤنٹر معاملے کی تحقیقات کی سماعت کر رہا ہے. اب آپ دیکھئے اگر سیکورٹی فورسز کا سچ ہی سچ ہوتا تو پھر 20 سال بعد کسی اور سچائی کا امکان کیسے پیدا ہو جاتا ہے. عدالت نے جو کہا اس پر بھی غور کیجئے.

اگر ہماری فوجوں کو صرف اس اندیشے پر ملک کے شہریوں کو قتل کرنے کے لئے تعینات کیا جائے گا کہ وہ دشمن ہیں تو نہ صرف قانون کی حکمرانی بلکہ ہماری جمہوریت بھی سنگین خطرے میں پڑ جائے گی. اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ مارا گیا شخص عام شہری ہے یا انتہا پسند یا دہشت گرد. نہ ہی اس بات سے فرق پڑتا ہے کہ حملہ آور ایک عام آدمی ہے یا ریاست … قانون دونوں کے لئے بالکل برابر ہے اور دونوں پر یکساں طور سے لاگو ہوتا ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close