آج کا کالم

کیا قیدیوں کو سرنڈر کرایا جا سکتا تھا؟

رویش کمار

بھوپال سینٹرل جیل ISO سے تصدیق شدہ ہے۔ جیل کی ویب سائٹ پر یہ معلومات فلیش کرتی رہتی ہے۔  ISOتصدیق شدہ جیل سے آٹھ قیدی، وہ بھی جن پر دہشت گردی کے کیس کے مقدمے چل رہے ہوں وہ اس جیل سے بھاگ جاتے ہیں۔ فرار سے پہلے یہ ہیڈ کانسٹیبل رما شنکر کو اسٹیل کی نکیلی پلیٹیوں اور چممچوں سے مار دیتے ہیں۔

 پلیٹ اور چمچ سے مارنے پر موت ہو سکتی ہے لیکن اتنی تیزی سے تو نہیں ہوئی ہوگی جتنی تیزی سے گولی بندوق سے ہو جاتی ہے۔ ان آٹھ قیدیوں نے رما شنکر یادو کو کہاں دبوچا، رما شنکر کے ساتھ ایک گارڈ بھی زخمی ہوا ہے۔ جب دو سپاہیوں پر حملہ ہو رہا ہو گا تو کیا جیل میں کسی کی نظر ان پر نہیں پڑی ہوگی۔ چاقو، چمچ اور پلیٹوں سے کیا اتنا بڑا حملہ ہو سکتا ہے۔ رما شنکر یادو یوپی کے بلیا کے راجاپور کے ہلدي گاؤں کے رہنے والے تھے۔ 9 دسمبر کو ان کی بیٹی کی شادی ہونے والی تھی۔ یادو جی کے دونوں ہی بیٹے فوج میں ہیں۔ رما شنکر یادو کے قتل کی وجوہات کا پتہ لگنا بھی بہت ضروری ہے۔

 یہ تمام قیدی کالعدم تنظیم سیمی کے رکن تھے۔ ان کے خلاف الگ الگ ریاستوں کی الگ الگ عدالتوں میں بینک لوٹ سے لے کر بم دھماکوں کے الزامات میں کیس چل رہے تھے۔ دہشت گردی کے معاملے میں جن کی تلاش مرکز اور ریاست کی تمام سیکورٹی ایجنسیاں کر رہی تھیں.۔ اس کیس میں جو آٹھ قیدی فرار ہوئے ان میں سے تین قیدی اکتوبر 2013 میں مدھیہ پردیش کی كھانڈوا جیل سے بھی بھاگ چکے تھے۔

 حیدرآباد سے ہماری ساتھی اوما سدھیر نے بتایا کہ كھانڈوا سے بھاگے سات قیدیوں میں سے ایک نے سرینڈر کر دیا اور ایک گرفتار کر لیا گیا تھا۔ باقی پانچ ملزم طویل مدت تک غائب رہے اور اس دوران شدید قسم کی مجرمانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے۔ اپریل 2015 میں تلنگانہ پولیس نے ان پانچ فرار مجرموں میں سے دو کو مار گرایا۔ تب تلنگانہ پولس نے ہلاک شدہ دو لوگوں کو گروپ کا لیڈر بتایا تھا. تلنگانہ کے کریم نگر کی ایک بینک ڈکیتی کے بعد وہاں کی سی سی ٹی وی میں یہ دکھ گئے۔ کریم نگر کی ڈکیتی فروری 2014 میں ہوئی تھی۔ اس کے تین ماہ بعد مئی 2014 میں بنگلور،گوہاٹی ٹرین میں دھماکہ ہوتا ہے۔ دو ماہ بعد 10 جولائی 2014 کو پونے کے فاارس خانا میں ہوئے بم دھماکے میں انہیں ملزم بنایا جاتا ہے. چنئی اور ہریانہ میں بھی ہوئے ایک بم دھماکے میں ان میں سے کچھ کا نام آیا تھا۔ فروری 2016 میں تلنگانہ کی پولس نے انہیں اڑیسہ کے راؤركیلا سے پکڑا۔ جس گھر سے پکڑا وہاں یہ چار لوگ تھے اور ان کے ساتھ ایک بوڑھی عورت بھی تھی۔

 ظاہر ہے ان کا ریکارڈ ایسا تھا کہ انہیں بھوپال کے مرکزی جیل کے عام بیرک میں نہیں رکھا گیا ہوگا۔ آئی جی بھوپال کا کہنا ہے کہ ان سب کو الگ الگ بیرکوں میں رکھا گیا تھا جو الگ الگ سیکٹرس میں ہیں۔ دو سیکٹر میں تین تین تھے اور ایک میں دو تھے۔ اگر پولس کی یہ بات صحیح ہے کہ تین الگ الگ بیرکوں کے سیل میں بند یہ دہشت گرد ایک ساتھ ایک وقت میں دروازے توڑ کر باہر آئے یا چابی سے کھول کر۔

الگ الگ سیل کے دروازے توڑتے وقت کسی نے نہیں دیکھا۔ کیا رما شنکر یادو کے پاس چابی تھی۔ مختلف جیلوں میں تعینات حکام نے نام نہ بتائے جانے کی شرط پر بتایا کہ چابی واچ ڈاگ کے پاس نہیں ہونی چاہئے. جیلر کے پاس ہوتی ہے. تین تین بیرکوں کے سیل سے باہر آنا، پھر بیرک سے آنا آسان نہیں ہے. سیل میں بھی دروازہ ہوتا ہے اور بیرک میں بھی دروازہ ہوتا ہے. سیل اور بیرک کے بلاکس کے درمیان قیدیوں کو دو دروازے توڑنے پڑے ہوں گے. تب بھی جیل کے اندر تعینات سکیورٹی کو خبر نہیں ہوئی۔ رما شنکر یادو کہاں تعینات تھے اور ان کا سامنا ان مجرموں سے کہاں ہوتا ہے۔ یہ جانچ کا موضوع ہے۔ اگر یہ بیرک سے نکل بھی بھاگے تو 16 سے 21 فٹ اونچی دیوار کیا صرف چادروں اور کمبلوں کے سہارے پھاندي جا سکتی ہے؟ جب یہ ان کے سہارے دیوار پھاند رہے تھے تب جیل کی بیرونی دیوار کے کونے پر بنے واچ ٹاور پر تعینات مسلح سیکورٹی کیا کر رہی تھی. ایک سوال یہ بھی ہے کہ سینٹرل جیل کی دیوار پر بجلی کی تار ہوتی ہے. کیا اس وقت بجلی کی تار کام نہیں کر رہی تھی یا انہوں نے تار کاٹ دی۔

 مدھیہ پردیش حکومت نے جیل سپرiٹنڈنٹ، ڈی آئی جی جیل، اے ڈی جی جیل کو معطل کر دیا ہے۔ سابق پولس سربراہ اس معاملے کی تحقیقات کریں گے۔ این آئی اے بھی جانچ کرے گی. یہ سبھی فرار قیدی کے مار دیے جانے کی خبر کو لے کر بھی سوال اٹھبے لگے ہیں۔ اب دو طرح کے ویڈیوز آئے ہیں۔ پولس کہہ رہی ہے کہ ان کی سچائ کی ابھی انکوائری ہونی ہے، ایک ویڈیو میں ایک گولی چلانے کے بعد ایک پولیس اہلکار انکار کر دیتا ہے کیونکہ ویڈیو ریکارڈنگ ہو رہی ہے۔ ایک اور ویڈیو آیا ہے جس کا آڈیو انکاؤنٹر کی تھیوری کو مشکوک کرتا ہے۔ اس ویڈیو کی بھی سچائی کی تصدیق ہونی ہے۔

 جب پانچ ہاتھ ہلا کر سرینڈر کرنا چاہتے تھے تو گولی کیوں ماری گئی. اس ویڈیو سے نہیں لگتا کہ پانچ لوگ پولس پر حملہ کرنا چاہتے ہیں. سوال ابھی اٹھ ہی رہے تھے کہ ان دو ویڈیوز نے معاملے کو اور بھی مشکوک بنا دیا ہے۔ بھاگے ہوئے مجرم دہشت گرد معاملے میں ملزم ضرور ہیں لیکن ان کے فرار کا طریقہ اور انکاؤنٹر کے یہ ویڈیوز کئی سوال جوڑ دیتے ہیں۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ کا بیان انکاؤنٹر کے ٹھیک بعد کا ہے۔ تب تک ویڈیو سامنے نہیں آیا تھا۔

 سوال تب اٹھا جب ریاست کے وزیر داخلہ نے این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فرار قیدیوں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ ان کے پاس چاقو اور پلیٹس تھے، جن کی مدد سے وہ قتل کرنے اور فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

 یہ کہا جا رہا ہے کہ  یہ واقعہ اس وقت ہوا جب ڈیوٹی کا تبادلہ ہو رہا تھا۔ تب تو جیل میں اضافی احتیاط ہونی چاہئے تھی۔ ایک لمحے کے لئے مان بھی لیں تو کیا سب اتنے لاپرواہ تھے، ڈیوٹی تبدیل کرنے کے وقت کہ آٹھ قیدی فرار ہو گئے۔ ڈیوٹی کے تبادلہ کے وقت کیا بیرکوں یا سیل کے تالے بھی کھولے جاتے ہیں، جموں کشمیر کے اڑی میں بھی یہی بات آئی تھی کہ یونٹ کی تبدیلی کے درمیان دہشت گردوں نے فائدہ اٹھاکر حملہ کر دیا۔ ضرورت ہے کہ ہم سرحد سے لے کر جیل کے اندر تک ڈیوٹی اور یونٹ کے تبادلہ کے وقت خاص طور پر محتاط رہیں۔ بہر حال جیل سے فرار کے بعد ان کے پاس ہتھیار کہاں سے آ گئے، کیونکہ پولس کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس پر گولی چلائی۔

 آئی جی یوگیش چودھدری کا کہنا ہے کہ سیمی کارکن کے پاس سے چار دیسی بندوق اور تین تیز دھار والے ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ لیکن ایک ویڈیو میں سنائی دیتا ہے کہ تین بھاگ رہے ہیں اور پانچ کھڑے ہوکر بات کرنے کا اشارہ کر رہے ہیں۔ سوال یہ بھی ہیکہ اگر پولس کا دعوی صحیح ہے تو ان کے پاس فرار کے چند گھنٹے کے اندر اندر اتنے ہتھیار وہ بھی بندوق کیسے آ گئے۔ اگر کسی گروہ نے ان کی مدد کی ہے تو وہ کہاں تھے۔ کیا وہ ہتھیار دے کر لاپتہ ہو گئے۔ یہ بھی تحقیقات کا موضوع ہونا چاہئے۔ کانگریس کے دگ وجے سنگھ نے اس واقعہ پر سوال اٹھایا ہے۔ کانگریس کے جیوتی را دتیہ سندھیا نے اس واقعہ پر ریاستی پولس کو شاباشی دی ہے۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close