آج کا کالم

کیا لگتا ہے آپ کو، یوپی میں کون جیتے گا!

یوپی میں کون جیت رہا ہے، اس سوال کے داگتے ہی پھننے خاں بن کر گھوم رہے صحافیوں کے پاؤں تھم جاتے ہیں . طویل گہری سانس لینے لگتے ہیں . ان کے چہرے پر پہلا اظہار تو یہی آتا ہے کہ دو منٹ دیجئے، نتیجہ بتاتا ہوں لیکن دو منٹ گزر جانے کے بعد چہرے کے تاثرات بدل جاتا ہے. وہ اس سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ پہلا نام کس کا لیں . بی جے پی کا کہنا چاہتے ہیں ، مگر ایس پی بولنا چاہئے. ایس پی بولنا چاہتے ہیں لیکن کہیں بی جے پی جیت گئی تو. بی ایس پی کو لے کر تمام رلیكس رہتے ہیں . ہاتھی انتخابی نشان والی پارٹی کو سیاہ هورس بتا کر چاروں طرف فخر انداز سے گردن گھماتے ہیں کہ دیکھا، ہم نے بتا دیا. لیکن پوچھنے والا انتظار کرتا رہ جاتا ہے کہ صحافی محترم فاتح کا نام کب بتائیں گے. ہندی میں پوچھے گئے سوالوں کے جواب انگریزی نکلنے لگتے ہیں. ڈارک هورس، فرنٹ رنر، سنگل لارجیسٹ، ہنگ اسمبلی.

صحافیوں سے لوگ امید کرتے ہیں کہ انہیں سب پتہ چلے گا. صحافی بھی لوگوں کو اس غلط فہمی میں رکھنا چاہتے ہیں کہ اسے ہی سب پتہ ہے. نہ جانتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی جواب دینے لگتے ہیں کہ کون جیتے گا. کئی بار لگتا ہے کہ یوپی میں صحافی بھی الیکشن لڑ رہے ہیں . ویسے ہر انتخابات میں وہ الیکشن لڑتے ہیں . آپ سے کیا چھپانا، میں بھی پوچھنے لگا ہوں کہ یوپی میں کون جیت رہا ہے. جس سے ظاہر ہوتا ہے وہ میں اگلے کو بتا دیتا ہوں جو مجھ سے پوچھتا ہے. اگر کسی نے کہا کہ بی جے پی تو بی جے پی کی غزلیں دیتا ہوں . پھر دوسرا فون آتا ہے تو ایس پی سن کر ایس پی کی غزلیں دیتا ہوں . پھر لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ کو کیا لگتا ہے. بس اس سوال کے آتے ہی سنجیدگی اور ساکھ کو وجرپات ہو جاتا ہے. ‘کون جیت رہا ہے’ سے زیادہ اخلاقی دباؤ اس سوال کا ہوتا ہے کہ آپ کو کیا لگتا ہے.

یوپی میں تمہیں کیا لگتا ہے’، اس سوال کے پوچھے جاتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اکیلے ہمیں ہیں جو بتا سکتے ہیں کہ یوپی میں کون جیت رہا ہے. ساری ساکھ داؤ پر لگ جاتی ہے. تم ہی پر بھروسہ ہے. تم نہیں بولوگے تو کون بولے گا. بس مدرايے تبدیل لگتی ہیں . مدرايے دیکھ کر لوگ قریب آ جاتے ہیں . گھیر لیتے ہیں . مکمل حراستی. لگتا ہے۔ کاش اتردھيان ہونے کے فن آتی تو لوگوں کو وہیں چھوڑ کر وی ایم مشین میں گھس جاتا اور نتیجہ بتا دیتا.

سب چپ ہیں کہ یوپی انتخابات کا نتیجہ بتانے کا وقت آ گیا ہے. اب صحافی محترم اعلان کرنے ہی والے ہیں . صاحب جی بیچینی کہ اب کیا بتائیں . نہ کہو تو لوگ سمجھیں گے کہ بیوقوف صحافی ہے، اسے کچھ نہیں آتا. کی غزلیں دے بیٹا، یہی وقت ہے رسک لینے کا. چار ہی تو امکانات ہیں ، اسی میں سے کسی ایک پر ٹک تو کرنا ہے. تبھی توجہ آتا ہے کہ غلط نکلا تب! کوئی نہیں اتنی بار اتنے سروے، تو چینل غلط نکلے ہیں تو کیا ہوا.

یوپی کے چودہ کروڑ ووٹروں کو سجدہ. ان کی وجہ سے ملک کے چودہ بڑے صحافی بحران میں آ گئے ہیں . دہلی والے صحافی لکھنؤ والوں کو کوس رہے ہیں ، لکھنؤ والے دہلی والوں کو. وہ پہلے بی جے پی کو جتاتے ہیں . کچھ لوگ سیف چلنے کے لئے بی جے پی کو سب سے بڑی پارٹی بتاتے ہیں . پھر اس میں بی ایس پی اور تھوڑی سی آر ایل ڈی طور بی جے پی کی حکومت بنوا رہے ہیں . کچھ لوگ بی جے پی کی حمایت سے بی ایس پی کی حکومت بنواتے ہیں . تبھی سوال آتا ہے کہ بہن جی تو ہر اجتماع میں بول رہی ہیں کہ بی جے پی سے مل کر حکومت ہی نہیں بنایگي چاہے اپوزیشن میں کیوں نہ بیٹھنا پڑے. بس یہیں سے جواب پلٹ جاتا ہے.

اب سب سے آگے بی ایس پی چلنے لگتی ہے. محترم لوگ بہن جی کی حکومت بنوانے لگ جاتے ہیں لیکن یہاں بھی دعوی کرکے پیچھے ہٹ جاتے ہیں . حکومت سے سب سے بڑی پارٹی پر آتے ہیں اور سب سے بڑی پارٹی سے تیسرے نمبر کی پارٹی پر آ جاتے ہیں . مایاوتی کو مسترد کر خاموش ہو جاتے ہیں . کہیں جیت گئیں تو!

اب بچتا ہے گٹھ بندھن. اکھلیش اور راہل کی جوڑی سب سے آگے بتائی جانے لگتی ہے. ان حکومت بناتے بناتے ایس پی کو بھی سب سے بڑی پارٹی بتائی جاتی ہے. پھر کہنے لگتے ہیں کہ ہندو پولرائزیشن ہو گیا ہے اس لئے سماج وادی پارٹی کی ویسی لہر نہیں ہے. اکھلیش کو راہل کے ساتھ نہیں جانا تھا. ایس پی کے پاس غیر یادو ووٹر نہیں ہے. پھر کوئی کہتا ہے کہ مگر اکھلیش سے کوئی ناراض نہیں ملا. سب کہتے ہیں کہ کام کیا. جب تک یہ بات یاد رہتی ہے، اکھلیش جیت رہے ہوتے ہیں . اس بھولتے ہی اکھلیش پچھڑنے لگتے ہیں .

مطلب نتیجہ سختی سے بات دس صفحات کا جائزہ آ جاتی ہے. اس دباؤ میں صحافی اب قلم توڑنے لگے ہیں . پانچ سے لے کر پندرہ فیکٹر گنانے لگ جا رہے ہیں . جاٹ اور جاٹو بی جے پی سے مائنس لیکن ہندو بی جے پی میں پلس. بی ایس پی کا جاٹو کے علاوہ لیکن انتہائی پسماندہ مائنس. نوٹبدي سے بی جے پی کو فائدہ لیکن بنیا سماج ناراض. مسلمان ووٹ بکھر گیا تو بی جے پی کو فائدہ. مسلمان بی ایس پی کی طرف کم گیا تو ایس پی کو فائدہ مگر ایس پی کو ہندو ووٹ نہیں ملا.

سمپل بات ہے. چودہ کروڑ ووٹر اس طرح سے ووٹ کرتا گے کیا. ایسا کرتے کرتے صحافی اب اتنے کشیدگی میں آگئے ہیں کہ ایک دوسرے کو ہی چیلنج کرنے لگے ہیں . ان تمام پھیكٹرو پر اپنا ٹریکٹر چلاتے ہوئے صحافی یوپی انتخابات کی کوریج کی ہل چلا کرنے لگتے ہیں . مٹی كوڑتے ہیں اور پھر برابر کرنے لگتے ہیں . اس لیے سات مرحلے کے اس طویل انتخابات کو اگر کوئی سوال سات سال جتنا لمبا لگ رہا ہے تو وہ یہ کہ یوپی میں کون جیتے گا. کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یوپی میں کون جیتے گا؟ کیا خیال ہے آپ کا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close