آج کا کالم

کیا مودی کی وجہ سے ہارتا ہے اپوزیشن؟

رويش کمار

مسائل کو بھلے نہ جگہ مل رہی ہو مگر ہار جیت کے حساب سے ہی میونسپل انتخابات کو میڈیا میں کافی اہمیت ملنے لگی ہے. بی جے پی نے پنچایت، ضلع پریشد، میونسپلٹی اور میونسپل انتخابات کو سیاسی طور پر اہم بنا دیا ہے. ان انتخابات کی سیاسی تلاش یا دوبارہ تلاش کا کام بی جے پی نے کیا ہے. بی جے پی پوری طاقت جھونک دیتی ہے، قومی صدر سے لے کر ایم پی وزیر تک ان انتخابات میں منادی کرتے ہیں . اس کے ذریعہ بی جے پی بڑی تعداد میں اپنے کارکنوں کی سیاسی منصب کو برقرار رکھتی ہے. کارکنوں کو بھی لگتا ہے کہ کونسلر بن جاؤ، کل ممبر اسمبلی بھی بن جائیں گے. اس طرح کارکنوں کی فوج کو کھپانے کا یا فعال رکھنے کا بی جے پی نے ایک بڑا ہی اچھا طریقہ نکالا ہے. اس حکمت عملی نے بی جے پی کو نیم فوجی دستے کی طرح بنا دیا ہے، جس کا ٹرک کسی نئے لوکیشن پر جانے کے لئے ہمیشہ تیار رہتا ہے.

ایم سی ڈی چناؤ کے كوریج کا جو سوروپ نے میڈیا میں دیکھا وہ بی جے پی کی وجہ سے ہی ہے. چند ہندی اور انگریزی اخبار ہی میونسپل کی خبریں باقاعدگی سے احاطہ کرتے ہیں . چینلز میں تو نہ کے برابر ہی ایم سی ڈی کو جاننے والے رپورٹر ہوں گے. اس کے بعد بھی پہلی بار نیوز چینلوں نے ایم سی ڈی کے انتخابات اور نتائج کو لوک سبھا کی طرح احاطہ کیا ہے. آپ  یاد کیجیے کب 800 کروڑ سے بھی کم بجٹ والے ایم سی ڈی کے انتخابات کو چینلز پر اتنی جگہ ملی ہے. ایم سی ڈی کے اس انتخاب سے پہلے میڈیا میں برهن ممبئی میونسپل انتخابات کو ہی اہمیت دی جاتی تھی. 30-40 ہزار کروڑ کے بجٹ کی وجہ سے اور شیوسینا کے کنٹرول کی وجہ سے. بی ایم سی کنٹرول کے ذریعہ وہ ہندوستان کی واحد پارٹی ہے جو قومی سطح پر اپنی اہمیت برقرار رکھتی ہے. اب بھی بہت سے ٹیم بلدیاتی انتخابات کو اہمیت ہی نہیں دیتے ہیں . بی جے پی نے بلدیاتی انتخابات کے لیے ہائی پروفائل بنا دیا ہے. جو ہونا بھی چاہیے تھا.

ایم سی ڈی کے انتخابات میں بی جے پی 2007، 2012 کے بعد مسلسل تیسری بار جیتی ہے. کانگریس 2012 کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم ہو گئی ہے. 30 وارڈ میں ہی کامیابی ملی. پہلی بار الیکشن لڑ رہی عام آدمی پارٹی کو 48 وارڈ میں کامیابی حاصل ہویی ہے. بی جے پی نے 181 وارڈ میں کامیابی حاصل کی ہے. شمالی ایم سی ڈی کے 104 میں سے 64 وارڈ میں بی جے پی کامیاب رہی ہے. جنوبی ایم سی ڈی کے 104 میں سے 70 وارڈ میں بی جے پی جیتی ہے. مشرقی ایم سی ڈی کے 64 وارڈ میں سے 48 وارڈ میں بی جے پی جیتی ہے. تین کارپوریشنوں میں بی جے پی کو اکثریت حاصل ہے.

آج بہت سے چینلز پر ایم سی ڈی کے نتائج کے تجزیہ کے دوران، لنگر، رپورٹر اور ماہرین کے سوالات میں دو سوال بنیادی طور پر تھے. آپ چاہیں تو یو ٹیوب پر جاکر دوبارہ دیکھ بھی سکتے ہیں اور آپ نے دیکھا ہی ہوگا. بی جے پی نے دس سال میں کچھ نہیں کیا، کرپشن اور گندگی رہی، پھر بھی کرور طریقے سے جیت گئی. بی جے پی نے ناراضگی سے بچنے کے لئے اپنے تمام کونسلرز کے ٹکٹ کاٹ دیئے. ترجمان کے جواب بھی سنيےگا. شاید ہی کسی نے کہا ہو گا کہ ہمارے دس سال کے کام پر ووٹ ملا ہے. سب نے وزیر اعظم مودی کا نام لیا. اینكرو اور ماہرین نے بار بار کہا کہ بی جے پی نے 153 کونسلرز کے ٹکٹ کاٹ دیئے. امید کرتا ہوں کہ انتخابات کے دوران بھی بدعنوانی اور گندگی کے سوالوں کو جگہ ملی ہوگی. جب خود ہی نہیں کیا تو دوسروں سے کیا توقع.

153 کونسلرز کے ٹکٹ کاٹ دینے کی حکمت عملی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے. جس بحث نہیں ہوئی یا کم ہوئی. ایسی کون سی پارٹی ہے جو 153 کونسلرز کے ٹکٹ کاٹ دے اور بغاوت نہ ہو. ٹکٹ کٹنے والے چند کونسلر نے ہی بغاوت کی، باقی پرسکون ہی رہے. اس کے بعد بھی پارٹی نے 21 لیڈروں کو بغاوت کے جرم میں نکال دیا. اس لحاظ سے دیکھیں گے تو آج کے وقت میں ایسا کرنے کی ہمت کسی بھی پارٹی میں نہیں ہے. اگر کوئی ٹیم ٹکٹ کاٹ بھی دے تو اسی لمحے وہ دوسری جماعت کی رکنیت لیتے نظر آئیں گے. مگر بی جے پی کے 100 سے زائد کونسلر ٹکٹ کٹنے کے بعد بھی پارٹی کے لئے کام کرتے رہے. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک تنظیم کے طور پر بی جے پی کتنی فعال ہے اور اس کا کتنا کنٹرول ہے. لیکن انتخابات شرح الیکشن جیتنے والی پارٹی کے قومی صدر کہاں تھے، جب اتنی بڑی جیت مل رہی تھی.

امت شاہ اس بنگال میں لوٹ گئے ہیں جہاں گزشتہ سال ہوئے اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی کو فتح نہیں ملی. 2016 شروع ہوتے ہی نیتا جی کی تمام فائلوں عوامی ہونے لگی تھیں ، ٹی وی اینكرو نے نیتا جی پر خوب بحث کی، لیکن بی جے پی کو سیٹ ملی 3. اتنی بڑی شکست کے ایک سال کے اندر امت شاہ بنگال لوٹ گئے ہیں . نكسلباري میں پارٹی کارکن کے گھر کھانے ہیں . امت شاہ کے پاس جیت کا جشن منانے اور دہلی میں رہنے کے کئی وجوہات ہوں گے، مگر وہ وہاں پد یاترا کر رہے ہیں . امت شاہ اگلے سال بنگال کے مقامی بلدیاتی انتخابات کی تیاری میں لگ گئے ہیں . 11 مارچ کو یوپی اسمبلی میں بی جے پی کو تاریخی کامیابی ملی لیکن اس دس دن بعد میڈیا میں میں نے ایک خبر دیکھی کہ امت شاہ 21 مارچ تمل ناڈو کے كويبٹور جائیں گے، آر ایس ایس کے ایک اجلاس میں حصہ لینے کے لئے. 2016 میں تمل ناڈو اسمبلی میں بی جے پی کو زیرو سیٹ ملی تھی، ووٹ فیصد تھا 2.8 فیصد. اس کے بعد بھی امت شاہ اور ان کی بی جے پی وہاں بھڑي ہوئی ہے.

کیا آپ موجودہ وقت میں کسی بھی پارٹی کے صدر کے بارے میں جانتے ہیں جو بڑی جیت کے بعد بھی وہاں چلا جاتا ہے جہاں اس کی بڑی شکست ملی ہوتی ہے. امت شاہ کی جگہ اگر کوئی دوسرا صدر ہوتا تو کئی ماہ تک دہلی سے ہی نہیں نکلتا. یہ درست ہے کہ آج کی میڈیا میں بی جے پی کا ہی طرف رہتا ہے اسی کے رنگ میں سوال ہوتے ہیں ، اپوزیشن کا مذاق اڑایا جاتا ہے لیکن ہار کا سبب اپوزیشن کا آلسی بھی ہے. انتخابات کس طرح لڑا جا رہا ہے، لڑنے پر پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے ان سب باتوں سے بھارت کے عوام کو کوئی تکلیف نہیں ہے.

اب بات عام آدمی پارٹی کی. آج جب مخالف اور ناقد صرف اتنی توقع کر رہے تھے کہ اپنی ہار قبول کر لے، مگر آپ نے ايلیكٹرونك ووٹنگ مشین میں خرابی پر اپنا یقین برقرار رکھا. سروے سے لے کر تمام صحافیوں نے کہا تھا کہ آپ ایم سی ڈی ہارے گی. پنجاب ہارنے پر آپ نے یہی تو کہا تھا کہ صحافی بھی آپ کے جیتنے کی بات کر رہے تھے. عام آدمی پارٹی کی رکن اسمبلی الکا لامبا نے ودھايكي سے استعفی دے دیا ہے اور آپ کے علاقے میں ہار کی ذمہ داری لی ہے. الکا کا کہنا ہے کہ شکست کے اور بھی وجہ تھے جو زمین پر دکھائی دے رہے تھے. کنوینر دلیپ پانڈے نے بھی استعفی دے دیا ہے. اسی طرح سے کانگریس کے ریاستی صدر اجے ماکن نے بھی شکست کے بعد استعفی دے دیا. انچارج پی سی چاکو نے بھی استعفی دے دیا ہے. اگر استعفی دینے والے کسی کا نام چھوٹ گیا ہو تو میں کان پکڑ کر معافی مانگتا ہوں .

ابھی پرابلم یہ ہے کہ جن پر ان استعفوں کے قبول کرنے کی ذمہ داری ہے، ان سے بھی تو استعفی مانگا جا رہا ہے. میری رائے میں ہر پارٹی میں ایک استعفی سیکرٹری ہونا چاہئے جس کے پاس صدر سے لے کر رکن اسمبلی تک کا استعفی قبول کرنے کا پاور ہو. ایم سی ڈی چناؤ میں عام آدمی پارٹی کے علاوہ ایک اور پارٹی پہلی بار حصہ لے رہی تھی، جو اسی سے نکلی ہوئی ہے، سوراج انڈیا. 117 خواتین کو ٹکٹ دیا، ماحول کو ایشو بنایا. دہلی کے عوام نے ثابت کر دیا کہ اس کے صرف نیکی نہیں چاہئے. صبح سے خبری اروند کیجریوال کے غرور پر پی ایچ ڈی کر رہے تھے، اگر انہیں عاجزی کی اتنی ہی طلب تھی تو یوگیندر یادو کا ٹویٹ دیکھنا چاہئے تھا، اور دہلی سے پوچھ سکتے تھے کہ یوگیندر جی کی عاجزی میں ایسی کیا کمی تھی جو ایک بھی سیٹ نہیں ملی.  صبح ان کا ٹویٹ آیا کہ ایم سی ڈی کی گنتی شروع ہو رہی ہے. میں صفر توقعات کے ساتھ شروع کر رہا ہوں . اس کے علاوہ جو بھی آئے گا وہ بونس گے. سیاست میں ایسی زبان اب کہاں بچی ہے لیکن ایسی زبان سے بھی ووٹ نہیں ملا، پھر بھی آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بھارت کی سیاست میں شرافت نہیں بچی ہے. نتائج آنے کے بعد سوراج انڈیا کے یوگیندر یادو نے ایک اور ٹویٹ کیا، توقع کے مطابق سوراج انڈیا کو کوئی سیٹ نہیں ملی. ابھی تک ووٹ شیئر کے نمبر نہیں آئے ہیں ، پر امید سے کم لگ رہا ہے. ہمیں بھی حوصلہ بر قرار رکھنے کی ضرورت ہے.

آخر میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی ٹویٹس میں بھی عاجزی کی جھلک ملی. میں بی جے پی کو تینوں ایم سی ڈی میں فتح پر مبارک باد دیتا ہوں ، میری حکومت دہلی کی بہتری کے لئے ایم سی ڈی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے.

مسائل پر انتخاب ہوا یا نہیں ، اب اس پر بات کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے. یہ جیت ان 46 فیصد لوگوں کی بھی ہے، جنہوں نے ووٹ نہیں ڈالے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی 

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close