آج کا کالم

کیا میڈیا اور اپوزیشن کا 2 جی گھوٹالے میں گھال میل رہا ہے؟

رويش کمار

2 جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں 1 لاکھ 76 ہزار کروڑ کے گھوٹالے کو ثابت کرنے کے لئے کوئی پکے ثبوت نہیں ملے ہیں. اسپیشل سی بی آئی کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ بات ہضم نہیں ہو پا رہی ہے کہ جس گھوٹالے کو بھارت کی تاریخ کا سب سے بڑا گھوٹالہ بتایا گیا، اس کو ثابت کرنے کے لئے آخر سی بی آئی سات سال میں ثبوت کیوں نہیں پیش کر پائی. 2010 میں سی اے جی کی رپورٹ میں 1 لاکھ 76 ہزار کروڑ کے گھوٹالے کی بات تھی. جس کی بنیاد پر میڈیا کے تمام فورموں پر جم کر بحث ہوئی اور یہ گھوٹالہ عوام تک پہنچا. آج جب اس  کے سارے ملزم چھوٹ گئے ہیں اور کوئی ثبوت نہیں ملا ہے، یہ فیصلہ ایک جھٹکے کی طرح ہم سب کے سامنے آ کھڑا ہوا ہے. اس معاملے کے اہم ملزم اے راجا نے ڈی ایم کے پرمکھ ایم کروناندھی کو خط لکھا ہے. انہوں نے کہا ہے کہ ‘انہیں کون سزا دے گا جن کی آپ نے 80 سال کی سیاسی زندگی کو داغدار کر دیا. میں 2 جی کے فیصلے کو آپ کے قدموں میں احترام کے ساتھ پیش کرتا ہوں. آپ نے مجھے برف میں محفوظ رکھا تاکہ میں اس جنگ میں پگھل نہ جاؤں. میں آپ کے الفاظ کا انتظار کر رہا ہوں. اسپیکٹرم حملے نے ایک نظریاتی تحریک کو داغدار کر دیا. ان لوگوں کو ہتھیار مل گیا جو آپ کی حکومت کو ڈبونے کی سوچ تک نہیں سکتے تھے. کچھ لوگوں نے اس کی منصوبہ بندی کی تھی جسے سی اے جی، سی وی سی، سی بی آئی جیسے اداروں نے جنگ میں تبدیل کر دیا. دنیا کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے. شرم کی بات ہے کہ یو پی اے حکومت کو بھی پتہ نہیں چلا کہ اسے گرانے کا پلان رچا گیا ہے. 2012 ئ تک 60 کروڑ لوگوں تک موبائل کنکشن پہنچانا تھا، ہم نے 2009 میں ہی 59 کروڑ لوگوں تک کنکشن پہنچا دیا. اسپیکٹرل كارٹل کو توڑ دیا گیا تاکہ وهاٹس اپ، ٹویٹر اور فیس بک کے انقلاب کے لئے راستہ صاف ہو سکے. پریس اور میڈیا نے ریسرچ نہیں کیا اور اسپیکٹرم کے سماجی سیاق و سباق کو نہیں دیکھا.’

راجا کی کتاب کا انتظار رہے گا. سات سالوں کی تحقیقات کے بعد تمام کا بری ہو جانا ایک جھٹکے کی طرح ہے. کیا واقعی جیسا راجا کہہ رہے ہیں وہ صحیح ہو جائے گا، کیا کوئی ایسا پلان رچا گیا جس کے مطابق سی اے جی نے کام کیا، سی اے جی کی رپورٹ کو لے کر پھر میڈیا نے کام کیا. میڈیا کو بھی سی اے جی کی رپورٹ سے ہی مانّتا ملی. ونود رائے نے سی اے جی کی رپورٹ میں 1 لاکھ 76 ہزار کروڑ کے اعداد و شمار ہی نہیں دیے تھے، اس کے علاوہ بھی کئی اعداد و شمار دیئے تھے. سی اے جی نے نقصان کی چار طرح سے گنتی کی تھی. 67،364، 69،626، 57،666 اور چوتھا تجزیہ تھا 1 لاکھ 76 ہزار 645 کروڑ کا.

21 دسمبر کو بزنس ٹوڈے نے لکھا ہے کہ سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کبھی بھی 1 لاکھ 76 کروڑ کا اعداد و شمار نہیں دیا تھا. سی اے جی نے کہا تھا کہ یہ صحیح ہے کہ 2 جی اسپیکٹرم کی تقسیم میں سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا مگر کتنا نقصان پہنچا، اس پر بحث ہو سکتی ہے. اپریل 2011 میں سی بی آئی نے جب راجا کے خلاف چارج شیٹ دائر کیا تب کہا تھا کہ سرکاری خزانے کو 30984، کروڑ کا نقصان ہوا ہے. فرسٹ پوسٹ میں اس وقت سی اے جی رہے ونود رائے کا ایک انٹرویو چھپا ہے. اس وقت ان کی کتاب آئی تھی. ان سے 1 لاکھ 76 ہزار کروڑ کی گنتی کے بارے میں پوچھا گیا کہ آپ اس پر کس طرح پہنچے تو ان کا جواب تھا کہ ‘ہمارا منطق سادہ ہے،2008 میں پالیسی تھی پہلے آئیے پہلے پائیے. آپ کو ملی X رقم، 2010 میں آپ نے ہی پالیسی بدل کر نیلامی لے آئے اور آپ کو ملی Y رقم. اور Y میں سے X کمی پر ہوتا ہے 1.76 لاکھ کروڑ. ہم نے بس اتنا کیا اور کچھ نہیں، ہم نے تین اور اعداد و شمار بھی دیے تھے لیکن پبلک امیجینیشن نے 1.76 لاکھ کروڑ پکڑا، ہاں یہ بڑی رقم تھی.’

ونود رائے مانتے ہیں کہ یہ بڑی رقم تھی. کیا یہ چالاکی تھی. پھر بھی یہ بڑی رقم تھی تو اس بات کو کس طرح قبول کر لیا جائے کہ کوئی مجرم ہی نہ ہو. کیا حساب لگانے والے نے خیالی پلاؤ بنایا یا جانچ کرنے والے نے سارا پلاؤ کھا لیا. اگر جو لوگ اس پر زور دے رہے ہیں کہ گھوٹالہ ہوا تھا تو اس پر کیوں نہیں زور دے رہے ہیں کہ ملزم بری کیسے ہو گئے. کیوں ان کے خلاف ثبوت نہیں پیش کئے جا سکے. ونود رائے ابھی تک نہیں بول پائے ہیں. اس دوران میڈیا کے کردار کو لے کر بھی بحث ہو رہی ہے. آپ کو یاد دلا دیں کہ راڈیا ٹیپ کے انکشاف کے بعد میڈیا کا کردار بھی 2 جی کے لپیٹے میں آ گیا تھا. آج سب بری ہو کر کھڑے ہیں. اس گھوٹالے کا احاطہ کرنے میں میڈیا کی ایکٹیویشن نے ہندوستان کی میڈیا کو آنے والے کئی سال کے لئے تبدیل کر دیا.

اس وقت 1 لاکھ 76 ہزار کے اعداد و شمار موٹے فونٹس میں هیڈلان بن کر چھپتے تھے. لوگ اسے پڑھ کر حیرت میں پڑ جاتے تھے. آؤٹ لک اور اوپن میگزین کے کور پر 2 جی کے خلاصے  نے سنسنی پھیلا دی تھی. آؤٹ لک نے راڈیا ٹیپ چھاپ دیا. اسی کے کور پر سی اے جی ونود رائے ہیرو کی طرح چھپے تھے. ان کے لئے عنوان لگا تھا ‘دی مین ہو راكڈ دی یو پی اے’، ٹائمز آف انڈیا کی هیڈلان بنی تھی، ‘سی اے جی ڈرافٹ رپورٹ نیلس راجا رول ان اسکیم’، ٹی وی چینلز میں ڈبیٹ نے یہیں سے روانگی پکڑی. انا ہزارے کی تحریک یو پی اے کے سامنے کھڑی کر دی گئی.

سینٹر فار میڈیا کی ایک رپورٹ ہے. اس کے مطابق 2011 میں 2005 کے مقابلے ٹی وی پر بدعنوانی کے مقدمات کا کوریج 11 گنا بڑھ گیا تھا. کیا اس کے پیچھے کوئی پلاٹ تھا یا پھر میڈیا نے سی اے جی کی بات پر بھی بھروسہ کیا. میڈیا میں کئی صحافی سی اے جی کی رپورٹ سے آگے جاکر ریسرچ بھی کر رہے تھے، اور رپورٹ بھی کر رہے تھے. آج سب کے بری ہونے کے تناظر میں جنہوں نے پروپیگنڈہ کیا وہ بھی، جنہوں نے صحافت کی وہ بھی، سب ایک ہی قطار میں نظر آتے ہیں. كاروان میگزین کے هر توش سنگھ بل نے اس وقت بڑی ساہسک رپورٹنگ کی تھی. ان کا کہنا ہے کہ پورے میڈیا کو مسترد کرنا صحیح نہیں ہو گا. هرتوش سنگھ بل اس وقت اوپن پترکا میں تھے جس کے کور پر 2 جی کی خبروں کی کافی جلوہ ہوتا تھا.

هرتوش کی بات میں دم ہے کہ ساری رپورٹوں کو مسترد کرنا مشکل ہے. سی بی آئی کی جانچ میں کردار پر سوال ہونے چاہئے کہ آخر اتنے لوگ کس طرح بچ گئے، لیکن جب ثبوت ہی نہیں ملے تو پھر وہ سوال کس سے پوچھنا چاہئے، ونود رائے تو ہیں نہیں، کیا اس وقت سی اے جی کے افسر کی بات صحیح ہے کہ ان سے جبرا رپورٹ پر دستخط کروایا گیا. آر کے سنگھ اب دنیا میں نہیں ہیں. کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا ہے کہ میڈیا کو اطمینان کرنا چاہئے. میڈیا کے ذریعے ملک میں آلودہ ماحول تیار کیا گیا. دی پرنٹ ویب سائٹ پر شیکھر گپتا نے لکھا ہے کہ ‘اس وقت ٹیل كام گھوٹالہ ہوا تھا. گھوٹالہ بہت بڑا تھا مگر کوئی اس کے بارے میں جج کو بتانا بھول گیا. بڑے گھوٹالوں کی طرح یہ بھی اس طرح سے کھڑا کیا گیا تاکہ عدالت میں ٹک نہ سکے. ابھییوجن پکش کا اس معاملے میں سی بی آئی پر اتنی سیاست ہو گئی، سیاسی مفادات کی وجہ سے بڑے بڑے متھک رچ دیے گئے، تحریکوں کا سلسلہ چلا، کہ کسی نے پرواہ ہی نہیں کہ حقائق کی پڑتال بھی کی جائے. دیکھنا ہوگا کہ ان کا فوکس کیا تھا، جیل بھیجنا یا هیڈلان میں جگہ پانا. ‘

کیا سب کچھ کھیل کی طرح ہوا. سات سال سے سپریم کورٹ  نگرانی کر رہا تھا تب پھر سی بی آئی نے کس طرح ثبوت نہیں پیش کئے، کس طرح اپنا کام نہیں کیا اور سارے ملزم چھوٹ گئے یا پھر یہ ماننے کے کافی وجوہات ہیں کہ سی بی آئی جج کے سامنے ثبوت ہی نہیں پیش کر پائی. جج اوپی سینی نے لکھا ہے کہ وہ ہر روز صبح سے شام تک انتظار کرتے رہے کہ کوئی ثبوت لے کر آئے گا، کوئی آیا ہی نہیں. تو اب کیا مانا جائے، کیا عدالت کے فیصلے کو نہیں مانیں کہ کوئی گھوٹالہ نہیں ہوا یا فیصلے کے بعد بھی وہی کیا جائے تو 2010 سے 2017 تک ہوتا رہا کہ گھوٹالہ ہوا تھا. 1 لاکھ 76 ہزار کروڑ کون کھا گیا آخر. یہ کس کی جیب میں گیا. ملزمان کو بچانے والوں کی جیب میں تو نہیں گیا مگر بچانے والے کون ہے.

2 جی گھوٹالے کے کوریج نے ٹی وی کے کردار کو تبدیل کر دیا. یہ وہی دور تھا جب ٹی وی میں ڈبیٹ آئی. انا تحریک کے کوریج میں ٹی وی کے بنائے سارے فورمیٹ منہدم ہو گئے. کئی گھنٹے تک تحریک ٹی وی پر لائیو ہوتا تھا. پارلیمنٹ میں بی جے پی گھوٹالے کو لے کر حکومت پر الزام لگا رہی تھی. یو پی اے حکومت کے لوگ ملزم کی طرح ہر طرف نظر آ رہے تھے. سي ایم میڈیا لیب کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 2009 سے ٹی وی پر بدعنوانی کے كوریج کافی بڑھ گئے تھے. حکومت سے متعلق 2 جی، سي ڈبليوجي، آدرش اور بوفورس. سي ایم میڈیا کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 2 جی کو ٹائمز آف انڈیا اور ہندوستان ٹائمز نے دوسرے اخبارات کے مقابلے زیادہ کور کیا. 2 جی گھوٹالے کو ٹی وی میں انگریزی نیوز چینلز نے زیادہ کوریج دیا.

بوفورس کا حال آپ جانتے ہیں. هیڈلان ہی بنتی ہے، الزام ثابت نہیں ہوتا ہے. بامبے ہائی کورٹ نے 22 دسمبر کو آدرش گھوٹالے میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں ملزم کانگریس لیڈر اشوک چہان پر مقدمہ نہیں چلے گا. جب یہ گھوٹالہ سامنے آیا تھا تب اشوک چہان مہاراشٹر کے وزیر اعلی تھے. 2 جی گھوٹالے کے دور میں ٹی وی نے بہت کچھ بدل گیا تھا. رپورٹنگ بند ہو گئی تھی، پروچن چالو ہو گئے تھے.

اے راجا کتاب لکھ کر ان لوگوں کا خلاصہ کرنے والے ہیں جنہوں نے سازش رچی اور اسے انجام دیا، سی اے جی اور سی وی سی اداروں میں بیٹھے لوگوں نے. کیا ان کی کتاب ہی آخری رائے ہوگی یا پھر 2 جی کو لے کر هیڈلان ہی بنتی رہے گی، جھوٹ بول کر لوگوں کو ٹھگا جاتا رہے گا ۔ کیا یہ اداروں کی ذمہ داری نہیں بنتی ہے کہ اتنے بڑے گھوٹالے کو انجام تک پہنچائیں یا پھر لوگوں سے کہیں کہ کوئی اسکینڈل نہیں تھا. اس فیصلے سے بہار میں لالو یادو اتساہت ہو گئے ہیں. چارہ گھوٹالہ معاملے میں اگلے ہفتے فیصلہ آ سکتا ہے. لالو یادو کا کہنا ہے کہ امت شاہ کے معاملے میں اسپیشل کورٹ کے فیصلے کو ابھی تک چیلنج نہیں دیا گیا ہے. سی بی آئی منصفانہ طریقے سے کام نہیں کر رہی ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close