آج کا کالم

کیا نتیش کمار ایک بار پھر ماریں گے پلٹی؟

اکھلیش شرما

کیا نتیش کمار ایک بار پھر پلٹی ماریں گے؟ یہ سوال اس لیے ہے کیونکہ بی جے پی کے ساتھ ان کی پھر سے کھٹ پٹ شروع ہو گئی ہے۔ سیٹوں کی تقسیم کو لے کر زور آزمائی ہو رہی ہے۔ ایک دوسرے پر بیانات کے تیکھے تیر چلانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اسی درمیان نتیش کمار نے لالو پرساد کو فون کر دیا۔  اس سے بی جے پی اور جے ڈی یو اتحاد کی صحت پر سوال اٹھ گئے ہیں۔

مہاراشٹر میں شیوسینا اور بہار میں جے ڈی یو، بی جے پی کا ‘بڑا بھائی’ بننا چاہتے ہیں۔ ہیں تو دونوں ہی بی جے پی کے پرانے ساتھی، لیکن بی جے پی سے زبردست تکرار بھی ہوتی رہی ہے۔ شیوسینا اور بی جے پی اسمبلی کا انتخاب الگ الگ لڑے، لیکن وہیں نتیش، لالو اور کانگریس کے ساتھ مہاگٹھ بندھن بنا کر بی جے پی کو شکست دے چکے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ تیجسوی یادو کے ساتھ نتیش کی پٹری نہیں بیٹھی اور لالو پرساد کے خاندان پر بدعنوانی کے الزامات عائد کرنے  کے بعد نتیش ڈرامائی انداز میں وہ بی جے پی کے پاس واپس آگئے۔

پر اب لوک سبھا انتخابات سر پر ہیں۔ نتیش ‘بڑا بھائی’ بن کر لوک سبھا انتخابات میں پرانا 25-15 کے پرانے فارمولے پر واپس جانا چاہتے ہیں، جس میں جے ڈی یو 25 اور بی جے پی 15 سیٹوں پر لڑتی تھی۔ لیکن بی جے پی 2014 کی یاد دلا رہی ہے جہاں نتیش کو صرف دو سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ جبکہ بی جے پی نے رام ولاس پاسوان اور اوپیندر کشواہا کے ساتھ 31 سیٹیں جیتی تھیں۔ بی جے پی سیٹنگ گیٹنگ کی بات کرتی ہے، لیکن نتیش اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کی پارٹی چاہ رہی ہے کہ سیٹوں کی تقسیم پر ابھی بات ہو جائے۔ جے ڈی یو کے سیکرٹری جنرل سنجے سنگھ کہہ چکے ہیں کہ بغیر نتیش کے بی جے پی 2019 نہیں جیت سکتی۔

کچھ دنوں پہلے اس بات پر بیان بازی ہوئی تھی کہ بہار میں نیتا کون ہے۔ جے ڈی یو کہتی ہے چاہے دہلی میں مودی ہوں لیکن بہار میں تو نتیش ہی لیڈر ہیں۔ سشیل مودی نے بیچ بچاؤ کر کہا کہ نتیش اور مودی دونوں ہی نیتا ہیں۔ اسی بیچ خبر آئی کہ کانگریس چاہتی ہے کہ نتیش پھر مہاگٹھ بندھن میں واپس آ جائیں۔ لیکن تیجسوی اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کل یہ خبر آنے کے بعد کہ لالو کو نتیش نے فون کیا، تیجسوی نے دو ٹویٹ کیے۔ پہلے میں انھوں نے پوچھا کہ یہ فون کرنے میں چار ماہ کیوں لگے اور دوسرے میں کہا کہ مہاگٹھ بندھن کے دروازے نتیش کے لیے بند ہیں۔ پر کانگریس نتیش کو دہلی اور تیجسوی کو بہار میں رہنے کا مشورہ دے رہی ہے۔ ظاہر ہے اس کے لیے نہ نتیش تیار ہوں گے اور نہ ہی تیجسوی۔

ادھر، گٹھ بندھن پر خطرے کو بھانپ کر بی جے پی کے صدر امت شاہ حرکت میں آئے ہیں۔ وہ 11 جولائی کو پٹنہ جائیں گے۔ ان کی نتیش کمار سے ملاقات ہوگی۔ اس میں 2019 کے لیے سیٹوں کی تقسیم پر بھی گفتگو ہوگی۔ لیکن اس سے پہلے سات اور آٹھ جولائی کو دہلی میں جے ڈی یو کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ ہے۔ 2013 میں جب گوا میں بی جے پی نے مودی کو پروموشنل کمیٹی کا صدر بنایا تھا تو اس کے بعد نتیش نے دہلی میں اپنی پارٹی کی مجلس عاملہ میں الگ جانے کا اشارہ کر دیا تھا۔

کیا اس بار بھی جے ڈی یو کی مجلس عاملہ سے کوئی اشارہ ملے گا۔ ویسے ایک راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ جن سیٹوں پر آر جے ڈی جیتی وہ نتیش کو دے دی جائیں۔ کچھ سیٹیں بی جے پی چھوڑے اور کچھ پاسوان اور کچھ کشواہا۔ لیکن بڑے بھائی بننے کا مقصد لے کر چل رہے نتیش کو کیا یہ منظور ہوگا؟ پر سوال یہ بھی ہے مہاگٹھ بندھن میں واپسی کر نتیش کیا حاصل کر لیں گے؟ تیجسوی کے تیور دیکھ کر نہیں لگتا کہ انہیں نتیش بطور سی ایم منظوری ہوں گے۔ تو ایسے میں نتیش کو مہاگٹھ بندھن میں واپس جاکر بھی کیا ملے گا۔ ایک راستہ تیسری قوت کے طور پر مختلف انتخاب لڑنا ہو سکتا ہے، لیکن ایسا کرنے سے پہلے کیا وہ سی ایم کی کرسی گنوانا پسند کریں گے؟

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

متعلقہ

Close