آج کا کالم

کیا نجیب کی ماں کے ساتھ جے این یو کے طلباء کو جدوجہد نہیں کرنی چاہئے؟

رویش کمار

روز اخبارات میں دیکھتا ہوں کہ جے این یو کے کچھ طالب علم نجیب کے مطالبے کے ساتھ پولیس کے آگے دھرنا کئے ہوئے ہیں۔  ایسی تصاویر ہم سب کے لئے آہستہ آہستہ عام بننے لگ جاتی ہیں۔ اتنا عام کہ اب 24 دن گزر چکے ہیں اور نجیب نہیں ملا ہے۔ کبھی جے این یو میں نجیب کی حمایت میں لیڈروں کا جماوڑہ ہے، تو کبھی جنتر منتر پر تقریر تو کبھی پریس کلب میں پریس کانفرنس۔ ان تمام تصاویر میں کچھ طلبہ و طالبات نظر آتے ہیں، جنہیں کبھی پولس گھسیٹ رہی ہوتی ہے تو کبھی دوڑا رہی ہوتی ہے۔ ہم سب ایسی تصاویر سے اتنے عام ہونے لگتے ہیں کہ آخر میں نجیب کی ماں کے ساتھ پولیس کا سامنا کر رہے ان طلباء و طالبات کو ہی فالتو سمجھنے لگتے ہیں۔ کئی چینلز پر جے این یو کو بدنام کیا جانے لگتا ہے کہ پڑھنے کی جگہ پرسیاست کیوں ہو رہی ہے۔

مان لیجئے کہ آپ کے خاندان کا ایک رکن کسی یونیورسٹی میں پڑھنے جاتا ہے۔ کالج کے کیمپس میں یا کیمپس سے باہر اس کے ساتھ کچھ انہونی ہوتی ہے، تو آپ یونیورسٹی کے طالب علموں سے کیا توقع کریں گے؟ یہی کہ سارے طالب علم آپ کے خاندان کے رکن کی فکر چھوڑ اپنی کلاس میں جاتے رہیں، سنیما جاتے رہیں، کافی پینے جاتے رہیں؟ کیا آپ اس کے دوستوں سے یہی کہیں گے کہ اسے اگر کچھ ہو جائے تو بالکل تلاش مت کرنا؟ اپنی کلاس کرتے رہنا۔ میرے بچے کو جو ہونا ہو گا، وہ ہو جائے گا۔ کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کے بچے کے دوست ایسے ہوں؟ آپ ایک بار سوچیں کہ انہیں کیا کرنا چاہئے۔ کیا انہیں پولیس کے پاس بار بار نہیں جانا چاہئے؟ وائس چانسلر کے پاس نہیں جانا چاہئے؟ اگر آپ اپنے شہر سے بھاگے بھاگے اس کالج میں پہنچتے ہیں، تو باقی طالب علموں کو آپ کو آپ کے حال پر چھوڑ کلاس میں ہونا چاہئے؟ جب کوئی وائس چانسلر آپ کو دھتكار دے، پولیس والا کسی سیاسی دباؤ میں آکر آپ سے بات نہ کرے، تب بھی آپ چاہیں گے کہ اس کے دوست یا کالج کے طالب علم آپ کے ساتھ آگے نہ آئیں، خاموش رہیں اور کلاس کرتے رہیں؟

مجھے یقین ہے کہ آپ ایسا بالکل نہیں چاہیں گے۔ آپ نہیں چاہیں گے کہ کسی مصیبت میں آپ کے بچے کو اس کے دوست چھوڑ دیں اور یونیورسٹی میں سیاست کی جگہ اپنے مفاد کی آرتی اتاریں۔ میڈیا کے کچھ خوشامدی چینلز جے این یو کا نام آتے ہی اسے منفی طور پر پیش کرنے لگتے ہیں۔ نجیب کی ماں اور بہن کے ساتھ جگہ جگہ جاکر دباؤ بنانے والے طالب علموں کو سیاسی بتانے لگتے ہیں۔ بیشک وہ سیاسی ہیں۔ کیا یہ طالب علم نجیب کا پتہ لگانے میں جو دن رات نعرے بازی کر رہے ہیں، وہ غلط کر رہے ہیں؟ کیا آپ کو یقین ہے کہ نجیب کی طرح آپ کے بچے کے ساتھ ایسا نہیں ہو گا؟ ہو گا بھی تو کم سے کم آپ کے معاملے میں وائس چانسلر روز گھر آکر یقین دہانی کرائیں گے، پولیس گھر سے لے کر تھانے تھانے لے جائے گی اور تلاشی لے گی۔ یہ سوال سختی سے خود سے پوچھئے کہ یہ لڑکے جو نجیب کے لئے 24 دنوں سے جدوجہد کر رہے ہیں، کس بنیاد پر غلط کر رہے ہیں؟ کس بنیاد پر سیاست کر رہے ہیں؟

 سیاست کر رہے ہیں تو کیا وہ نجیب کے لئےمظاہرہ کر کے رہنما بننے جا رہے ہیں۔ میں جے این یو کا طالب علم نہیں ہوں۔ لیکن دو دہائی سے دیکھ رہا ہوں کہ یہاں کے طالب علم ایسے بہت سے معاملات پر مظاہرہ کرتے رہے ہیں. ان میں سے کسی کو میں نے رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی بنتے نہیں دیکھا۔ جس تناسب میں جے این یو کے طالب علم دھرنا میں حصہ لیتے ہیں، الگ الگ قومی بین الاقوامی مسائل پر اپنی بات رکھتے ہیں، اس تناسب میں دیکھیں تو ان سب کو رکن اسمبلی یا پارلیمنٹ بن جانا چاہئے تھا یا پھر وزیر اعظم بن جانا چاہئے۔ یہی جے این یو کی بڑی ناکامی ہے، لیکن یہی جے این یو کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ اس لئے نجیب کے لیے پولیس سے لوہا لے رہے طالب علموں کو سیاست کے نام پر فالتو سمجھنے کی کوشش کی مخالفت کیجئے۔ ٹھیک ہے کہ یہ طالب علم ایک سیاسی طلبہ تنظیم سےوابستہ ہو سکتے ہیں، تو بھی کیا یہ بڑی بات نہیں ہے کہ وہ طلبہ تنظیم مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔ ان کے دباؤ بنانے کے بعد بھی پولیس نجیب کو نہیں تلاش پائی ہے۔ اگر یہ نجیب کو بھول کر کلاس روم میں چلے جاتے تو کیا آپ کو یقین ہیکہ پولیس دن رات تلاش میں لگی رہتی؟

نجیب کی ماں بدایوں سے آئیں ہیں۔ ایک بیٹے مجیب کو لئے وہ 24 دنوں سے دہلی کی خاک چھان رہی ہیں۔ مجھے تو یقین ہی نہیں ہوا کہ وائس چانسلر نے انہیں خود سے بلا کر تسلی دینے کی کوشش نہیں کی ہے۔ نجیب کی بہن صدف نے بتایا کہ شروع میں تین بار وہ لوگ ہی وائس چانسلر کے پاس گئے۔ وائس چانسلر نے انہیں کبھی نہیں بلایا۔ ایک بار پریس کانفرنس کے دوران فون آیا تھا۔ اس کے علاوہ وائس چانسلر نے کبھی بھی فیملی کو بلا کر تسلی نہیں دی۔ اخبارات کی رپورٹ کو پڑھ کر تو مجھے یہی لگا تھا کہ وائس چانسلر انتہائی حساس ہوں گے۔ وہ پولیس سے مسلسل معلومات لے رہے ہوں گے اور فیملی والوں کو بتا رہے ہوں گے۔ صدف نے بہت ہی دعوے کے ساتھ یہ بات کہی ہے۔ اگر اس کی بات صحیح ہے تو شرمناک ہے۔

 بہر حال، نجیب کا یہ پہلا سال تھا۔ جولائی سے 15 اکتوبر کے درمیان اسے کتنے لوگوں سے دوستی ہوئی ہوگی؟ ظاہر ہے نجیب کے لئے پولیس کا سامنا کرنے جا رہے طالب علموں میں سے بہتوں کی نجیب سے دوستی نہیں ہو گی۔ یہ طالب علم کیا کر رہے ہیں؟ آپ یہ سوال بار بار خود سے پوچھئے۔ کیا یہ لوفر ہیں یا یہ بے حد ذمہ دار شہری ہیں؟ 24 دنوں تک ایک ایسے طالب علم کے لئے مسلسل دباؤ بنائے رکھنا، کیا آسان ہے؟ جے این یو کے طالب علموں کو ان سب کے بیچ اپنی کلاس میں بھی جانا ہوتا ہے۔  تفویض بھی پورے کرنے ہوتے ہیں اور یہ لائبریری بھی جاتے ہیں۔ یہ باتیں چینلز والے آپ کو نہیں بتائیں گے۔ لنچ اور ڈنر کے وقت وہ سیاسی باتیں کرتے ہیں۔ جو ایک ذمہ دار شہری بننے کے لیے ضروری ہے۔ یہ سب کرتے ہوئے وہ آئی اے ایس بھی بنتے ہیں اور آئی پی ایس بھی۔ پروفیسر بھی بنتے ہیں اور سماجی کارکن بھی۔ یہی چیز ہے جو آپ کو صرف جے این یو میں دیکھنے کو ملے گی۔ آج جب میں نے نجیب کی ماں سے بات کرتے ہوئے دہلی شہر میں ان کی تنہائی کو محسوس کیا تو لگا کہ ایک بات آپ سے کہہ دوں۔ نجیب کسی کا کچھ نہیں تھا. مگر نجیب کے لئے جے این یو کے جو بھی طالب علم سڑکوں پر مسلسل نکل رہے ہیں، وہ بہت اچھے ہیں۔ وہ نجیب کی ماں کے بھی وارث ہیں اور بھارت ماتا کے بھی سچے وارث ہیں۔ باقی اگر میری بات سمجھ نہ آئے تو آپ جے این یو سے نفرت کر سکتے ہیں۔ اگر ان کی غلطی یہ ہے کہ وہ کسی کے لئے لڑ رہے ہیں، تو ظاہر ہے یہ اچھی غلطی ہے۔

مترجم : شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close