آج کا کالم

کیا وزیر اعظم مودی عوام کو بہکانے کے لیے جھوٹ بھی بول دیتے ہیں؟

اگر انتخابی جیت میں ان کے جھوٹ کا اتنا بڑا رول ہے، توان کے  ہر جھوٹ کو ڈائمنڈ قرار دے دینا چاہیے، پھر ان ہیروں کا ایک کڑا بنا لینا چاہیے اور  پھر اس کڑے کو قومی علامت قرار دے دینا چاہیے۔

رويش کمار

 حقائق کو کس طرح توڑا مروڑا جاتا ہے، آپ وزیر اعظم سے سیکھ سکتے ہیں۔ میں انہیں سراسر جھوٹ کہتا ہوں کیونکہ یہ خاص انداز میں ڈیزائن کیے جاتے ہیں اور پھر ریلیوں میں بولے جاتے ہیں۔ گجرات انتخابات کے وقت منی شنکر ایّر کے گھر کی بیٹھک والا بیان بھی اسی زمرے کا تھا، جسے لے کر بعد میں راجیہ سبھا میں چپ چاپ معافی مانگی گئی تھی۔ 1948 کے واقعہ کا ذکر کر رہے ہیں، تو ظاہر ہے ٹیم نے سارے حقا ئق نکال کر دیے ہی ہوں گے، پھر ان حقائق کی بنیاد پر ایک جھوٹ بنایا گیا ہوگا۔ کرناٹک کے كلبرگی میں وزیر اعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل كے ایم كری اپّا اور جنرل کے تھميا کی کانگریس حکومت نے توہین کی تھی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ جنرل تھميا کی قیادت میں ہم نے 1948 کی جنگ جیتی تھی۔ جس آدمی نے کشمیر کو بچایا اس کا، وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور وزیر دفاع کرشن مینن نے توہین کی۔ کیا توہین کی، کس طرح توہین کی، اس پر کچھ نہیں کہا۔

1947-48 کی جنگ میں بھارتی فوج کے جنرل سر فرانسس بوچر تھے، نہ کہ جنرل تھميا۔ جنگ کے دوران جنرل تھميا کشمیر میں فوج کے آپریشن کی قیادت کر رہے تھے۔ 1957 میں آرمی چیف بنے۔ 1959 میں جنرل تھميا آرمی چیف تھے، تب چین کی فوجی گول بندی کو لے کر وزیر دفاع کرشن مینن نے ان کی رائے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد جنرل تھميا نے استعفی کی پیشکش کر دی، جسے وزیر اعظم نہرو نے مسترد کر دیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو معلوم ہے کہ ان کی ان باتوں کو میڈیا رپورٹ کرے گا۔ کچھ ویب سائٹ پر صحیح بات چھپ بھی جائے گی، تو کیا فرق پڑے گا، مگر کرناٹک کی عوام تو ان باتوں سے بہک جائے گی۔ کیا اس بات پر غور نہیں کرنا چاہیے کہ بھارت کے وزیر اعظم عوام کو بہکانے کے لیے جھوٹ بھی بول دیتے ہیں؟

مسلسل تنقید ہو رہی ہے کہ BJP نے بیل لاری کے ریڈی برادران کے خاندان کے سات اراکین کو ٹکٹ دیا ہے۔ کوئی انہیں اسٹیج پر بلاتا ہے تو کوئی انہیں دور رکھتا ہے۔ امت شاہ ریڈی برادران سے کنارہ کرتے ہیں، ریڈی برادران BJP کی تشہیر کر رہے ہیں۔ یدی یورپا Indian Express سے کہتے ہیں کہ امت شاہ کا فیصلہ تھا۔ اب وزیر اعظم بیل لاری گئے۔ ریڈی برادران کے خلاف غیر قانونی کام کے بہت سے معاملات چل رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی تنقید بھی ہو رہی تھی اس بات کو لے۔ جس مہم کی شروعات ‘نہ کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا’ سے ہوئی تھی، وہی وزیر اعظم ابھی ریڈی برادران کا دفاع کر رہے ہیں۔

بیل لاری جاکر وہ اپنی تقریری فن (؟) کا استعمال کرتے ہیں۔ بات کو کس طرح گھماتے ہیں، آپ خود دیکھیے۔ کہتے ہیں کہ کانگریس نے بیل لاری کی توہین کی ہے۔ کانگریس کہتی ہے کہ بیل لاری میں چور اور لٹیرے رہتے ہیں۔ جبکہ 14 ویں سے 17 ویں صدی کے درمیان وجئے نگرم سلطنت کے وقت ‘گڈ گورنیس’ تھی۔ بھلا ہو وزیر اعظم کا، جنہوں نے وجئے نگرم کے عظیم دور کو BJP حکومت کا دور نہیں کہا۔ مگر کس چالاکی اور خوبی سے انہوں نے بیل لاری کے ریڈی برادران کا دفاع کیا۔ وہ بیل لاری کی عوام کی توہین کے بہانے ریڈی برادران کا کھلے عام دفاع کر گئے۔ تالیاں۔ پہلی بار وزیر اعظم نے ریڈی برادران کو کلین چٹ دے دی ہے۔ ابھی CBI بھی خاموش ہی رہے گی۔

ہر الیکشن میں وزیر اعظم جھوٹ کی نایاب مثال پیش کرتے ہیں۔ ابھی تک کے کسی بھی وزیر اعظم نے جھوٹ کو لے کرایسی تخلیقیت  کا استعمال نہیں کیا ہے۔ اگر انتخابی جیت میں ان کے جھوٹ کا اتنا بڑا رول ہے، توان کے  ہر جھوٹ کو ڈائمنڈ قرار دے دینا چاہیے، پھر ان ہیروں کا ایک کڑا بنا لینا چاہیے اور  پھر اس کڑے کو قومی علامت قرار دے دینا چاہیے۔ آپ ہی فیصلہ کریں کہ کیا وزیر اعظم کو اس طرح کی باتیں کرنی چاہیے؟

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close