آج کا کالم

کیا وزیر اعظم مودی گری راج سنگھ ہو گئے ہیں؟

رويش کمار

"پاکستان کے ریٹائرڈ آرمی جنرل ارشد رفیق کہتے ہیں کہ سونیا گاندھی کے سیاسی سیکرٹری احمد پٹیل کو گجرات کا وزیر اعلی بنایا جانا چاہئے. پاکستان کا سینئر آرمی افسر گجرات انتخابات میں اپنا دماغ کیوں لگائے گا؟ پاکستان کا ایک ڈیلگیشن منی شنکر ایّر کے گھر ملا تھا، اگلے دن انہوں نے گجرات کے معاشرے کی توہین کی، غریبوں اور مودی کی توہین کی. کیا یہ باتیں فکر کی نہیں ہیں، سوال کھڑے نہیں کرتیں، کانگریس کو جواب دینا چاہئے. "

اخباروں میں چھپا ہے کہ بناسكانٹھا میں وزیر اعظم نے ایسا کہا ہے. وزیر اعظم اب گجرات کے سامنے احمد پٹیل کا ماضی کھڑا کر رہے ہیں. گجرات کے عوام کو خوف کے بھنور میں پھنسا کر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ بنیادی سوالات کو چھوڑ احمد پٹیل کے نام پر خوف زدہ ہو جائیں. کیوں ڈرنا چاہئے احمد پٹیل سے؟ کیا اسی استعمال کے لئے راجیہ سبھا میں احمد پٹیل کو جیتنے دیا گیا؟ احمد پٹیل بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ وزیر اعلی کے عہدے کے دعویدار نہیں ہیں، کانگریس نے بھی ایسا نہیں کہا ہے.

کیا وزیر اعظم گجرات کے عوام کو مسلمان کے نام پر ڈرا رہے ہیں؟ یہ وزیر اعظم کی جانب سے کھیلا گیا فرقہ وارانہ کارڈ ہے. کاش انہیں کوئی بتائے کہ بھارت کے عوام نے ان کا ہر شوق پورا کیا ہے، اب اسے فرقہ واریت کی آگ میں نہ دھكیلیں. کاش کوئی ان کو یاد دلائے کہ آپ نے ہی 15 اگست کو 2022 تک فرقہ واریت مٹانے کی تقریر کی ہے. کسی بھی قرارداد ورادداد کیا ہے.

بھارت میں ایک ہی مسلم وزیر اعلی ہے، محبوبہ مفتی، وہ بھی بی جے پی کی حمایت سے ہیں. اب تو ان کے بھائی بھی کابینہ میں آ گئے ہیں. کنبہ پروری؟ پھر بی جے پی اور مودی احمد پٹیل کا ماضی کیوں کھڑا کر رہے ہیں؟ تفصیل سے بتانے کی ضرورت نہیں ہے.

وزیر اعظم جانتے ہیں کہ لفظ ضروری نہیں ہیں، الفاظ کو اس طرح سجاكر کہا جائے کہ ان سے ایک تصویر بنے. انہوں نے اپنی بات اس طرح کہی ہے کہ عام عوام کے ذہن میں یہ تصویر پیدا ہو جائے کہ گجرات انتخابات میں پاکستان دخل اندازی کر رہا ہے.

انڈین ایکسپریس نے منی شنکر ایر کے گھر ہوئی رات کے کھانے کے بارے میں تفصیل سے شایع کی ہے. 6 دسمبر کو منی شنکر ایر کے گھر پر پاکستان کے سابق وزیر خارجہ قصوری کے لئے خصوصی ڈنر ہوا تھا. سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، سابق آرمی چیف دیپک کپور، سابق وزیر خارجہ کے نٹور سنگھ، سابق سفارتکار ٹي سي اے راگھون، شرت سبھروال، کے شنکر واجپئی، سلمان حیدر شامل ہوئے تھے. قصوری اننت نامی ایک تھنك ٹیك کے بلاوے پر ہندوستان آئے تھے. پاک بھارت تعلقات پر بات کرنے کے لئے.

بی بی سی ہندی پر اس ضیافت میں شامل ہونے والے صحافی پریم شنکر جھا نے لکھا ہے کہ سب کو پتہ تھا کہ بہت سے لوگ منی شنکر ایر کے یہاں مل رہے ہیں. ضیافت کے دوران گجرات انتخابات کی کوئی بحث نہیں ہوئی، نہ ہی احمد پٹیل کا ذکر ہوا. تو پھر وزیر اعظم کو کہاں سے یہ معلومات ملی ہے؟

قصوری کو یہاں آنے کا ویزا حکومت ہند نے دیا ہوگا. ویزا کیوں دیا؟ جب پتہ چلا تو قصوری کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟ کیا مودی کے راج میں اتنا آسان ہو گیا ہے کہ سرحد پار اور بمشکل چل پھر سکنے والے چند لوگ دہلی میں جمع ہوکر پٹی پلٹنے کا منصوبہ بنا لیں گےاور سبرمنیم سوامی ٹویٹ کریں گے کہ تختہ پلٹ کی منصوبہ بندی تو نہیں؟ اور اس کی منصوبہ بندی میں بھارت کے ہی سابق فوجی سربراہ اور سابق وزیر اعظم شامل ہوں گے؟ کیا ہندوستان پاکستان بن گیا ہے؟

پاکستان سے اتنی ہی نفرت ہے تو حلف برداری تقریب میں نواز شریف کو کسنے بلایا تھا، کون اچانک بغیر کسی منصوبہ بندی کے پاکستان پہنچ گیا تھا؟ جواب آپ جانتے ہیں. منموہن سنگھ تو اپنے دس سال کی مدت میں ایک بار بھی پاکستان نہیں گئے. کیا وزیر اعظم کو بھی الیکشن کمیشن کی صلاحیت پر شک ہونے لگا ہے؟ کیا انہیں بھی امریکی انتخابات کی طرح ہیک کر لئے جانے کا اندیشہ ہو رہا ہے؟ کیا انہیں بھی اب ای وی ایم پر اعتماد نہیں ہے؟ پھر تو انتخابات منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے.

وزیر اعظم کے اس بیان نے گری راج سنگھ کو خوش کر دیا ہو گا. گری راج سنگھ اگرچہ تین سال میں پروموٹ نہ ہو سکے ہوں مگر ان کا پاکستان والا جملہ ان سے پروموٹ ہوکر امت شاہ تک پہنچا اور اب امت شاہ سے پروموٹ ہوکر وزیر اعظم مودی تک پہنچ گیا ہے. 19-20 اپریل 2014، گوگل یہی تاريخ بتا رہا ہے جب گری راج سنگھ نے کہا تھا کہ جو مودی کی مخالفت کرتے ہیں، پاکستان چلے جائیں. نیو انڈیا میں مخالفین کو پاکستان سے جوڑنے کا آغاز گری راج سنگھ نے ہی کیا تھا. اس وقت دیوگھر کے ایس ڈی ایم اور ریٹرننگ افسر جیوتی شرما نے گری راج سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی. انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں. اس کا کیا ہوا، کون پوچھے. الیکشن کمیشن کا حال آپ جانتے ہیں. الیکشن کمیشن اب شیشن اور کے جے راؤ کا کمیشن نہیں رہا.

2014 کے ایک سال بعد 2015 کے انتخابات میں بہار میں امت شاہ نے کہا تھا کہ اگر مودی ہار گئے تو پاکستان میں آتش بازی ہوگی. مودی ہار بھی گئے مگر پاکستان میں آتش بازی نہیں کی گئی.

گری راج سنگھ اور امت شاہ کے بعد وزیر اعظم مودی پاکستان اور احمد پٹیل کے سہارے مسلمان کا ماضی کھڑا کر رہے ہیں. گری راج سنگھ کو مبارکباد. وہ اس معاملے میں دو طاقتور لیڈروں سے بھی سینئر ہو گئے ہیں.

دوستوں، آپ چاہیں جتنے دلائل لے آئیں مگر شک کے نام پر چل رہی یہ مسلم مخالف سیاست سب کو کھوکھلی کر دے گی. مسلمان کا ڈر دکھا کر ہندو نوجوانوں کو برباد کیا جا رہا ہے. ان سے کہا جا رہا ہے کہ روزگار مت پوچھو، پڑھائی مت پوچھو، ہسپتال مت پوچھو، بس دیکھو کوئی مسلمان وزیر اعلی نہ بن جائے. مسلسل ہندو نوجوانوں کی مجموعی ہندوستانیت کے احساس کے دو ٹکڑے کئے جا رہے ہیں. آخر فرقہ واریت کی سیاست کسے برباد کر رہی ہے؟ کسی آسمان سے نہیں، آپ ہی گھروں سے نکال کر اس سیاست کے لئے لوگ لائے جانے والے ہیں. فرقہ واریت کو انسانی بم میں تبدیل کر دے گی. نوجوانوں کو روزگار دینے سے بہتر ہے انہیں انسانی بم میں تبدیل کر دو. یہی سیاست چل رہی ہے.

اخباروں نے بھی تاثر دیا ہے کہ وزیر اعظم کا اشارہ کہ گجرات انتخابات میں پاکستان کا ہاتھ ہے. ارے بھائی گجرات بھارت میں ہیں، برما میں نہیں ہے. وزیر اعظم واقعی کچھ بھی بولنے لگے ہیں. انہیں لگتا ہے کہ لوگوں نے اچھا اسپیکر مان لیا ہے تاکہ وہ کچھ بھی بول سکتے ہیں.

محترم وزیر اعظم مودی، آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ کیا وزیر اعظم جی آپ گجرات الیکشن ہار رہے ہیں؟ کیا آپ گری راج سنگھ ہو گئے ہیں؟

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close