آج کا کالم

کیا کروڑپتی کے لیے نیشن صرف ایک سروس پروواڈر ہوتا ہے؟

کیا كروڑپتيوں کا کوئی نیشن نہیں ہوتا ہے؟ تو کیا قوم صرف اس بھیڑ کے لئے ہے جو غریب ہے، ناسمجھ اور جو اپنے دلائل کے تئیں کم، جذبات کے تئیں زیادہ وقف ہوتی ہے؟ ضرور ان سب باتوں پر کافی کچھ سوچا اور لکھا گیا ہوگا۔ کیونکہ قوم پرستی کے فحش سے لے کر شہادت تک کے تمام پہلوؤں پر لکھا ہی گیا ہے. بزنس اسٹینڈرڈ اخبار میں سديپ توڈی کی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ 2016 کے سال میں 6000 کروڑ پتی ہندوستان چھوڑ کر چلے گئے. یہ وہی سال تھا جب قوم پرستی کو لے کر بھارت میں کھپت عروج پر تھی. اس داویداريو کے پیچھے اقتدار حکومت میں بیٹھے لوگ اپنی ناکامی چھپانے کا کھیل کھیل رہے تھے. جس سال ٹی وی پر ہر شہید کے گھر تک کیمرے جایا کرتے تھے. جس سال معاوضہ دینے کی دوڑ تھی، کہ اس قربانی کے آگے کچھ بھی نہیں، اسی سال 6000 لوگ بھارت چھوڑنے کی تیاری کر رہے تھے. امریکہ، کینیڈا، سعودی عرب، برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک کو اپنا ملک بنا رہے تھے.

ملازمتوں اور تعلیم کے سلسلے میں بھارتی دنیا بھر کے ممالک میں تو جاتے ہی رہتے ہیں۔ مگر یہ اعداد و شمار ان کا ہے جنہوں نے اپنی ڈومی سائل تبدیل کرلی یعنی اب ان ممالک میں بسنے کا حق حاصل کر لیا. 2014 میں بھی 6000 کروڑپتی ہندوستانیوں نے ملک چھوڑ دیا. 2015 میں تعداد کم ہو گئی. صرف 4000 کروڑ پتی ہندوستانیوں نے ملک چھوڑا. جس ادارے نے یہ رپورٹ نکالی ہے اس کا نام ہے نیو ورلڈ ہیلتھ. اس ریسرچ سربراہ کا کہنا ہے کہ بھارت میں 264000 کروڑ پتی ہیں، (انگریزی کروڑپتی کی جگہ ملے نير لکھا ہے) اس کے تناسب میں تو کم ہی گئے ہیں، مگر جیسے ہی ہندوستان میں حالات اچھے ہوں گے، یہاں معیار زندگی بہتر ہو گا، یہ لوگ واپس بھی لگیں گے. رپورٹ سے لگتا نہیں کہ دوسرے ملک میں بسنے والے ہندوستانیوں کی رائے لی گئی ہے.

مواقع کی تلاش میں زمین پر کہیں بھی جانا، یہ ہندوستانی نہیں بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے. بھلے ہی اس حق کو قانون تسلیم نہ دیتا ہو مگر امکانات جہاں بھی بلاتی ہیں، وہاں جانا چاہئے. پھر بھی ملک چھوڑنے کی بات سن کر ہی لگتا ہے کہ اندر اندر بہت سارے درخت اكھڑكر گر گئے ہیں. اپنے ذہن سے جڑوں کو اکھاڑ لینا آسان نہیں ہوتا ہوگا. کیا پیسہ آنے پر لوگ اتنے منطقی ہو جاتے ہیں کہ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ قوم اور قوم پرستی ایک آخر تصور ہے. اس پڑھ کر عجیب لگا کہ وسدھو كٹبكم کے نعرے کی تشہیر پر کروڑوں پھونک دینے والے بھارت کو دنیا کے لوگ اپنا اپنا ملک چھوڑتے وقت بہت پسند نہیں کرتے ہیں. وہ فرانس سے بوریا بستر باندھتے ہیں تو آسٹریلیا چلے جاتے ہیں. 2016 کے سال میں فرانس سے سب سے زیادہ 12000 كروڑپتيوں نے اپنا ملک چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہاں کی فضا خراب ہونے لگی تھی. مسلمانوں اور پناہ گزینوں کے تئیں نفرت کی سیاست ہونے لگی تھی. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشیدگی بڑھی تو فرانس سے زیادہ کروڑ پتی اپنا ملک چھوڑ دیں گے.

سیاسی کشیدگی کے علاوہ صحت اور تعلیم کی خصوصیات کی وجہ سے بھی لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں . اس سے پڑھ کر یہی لگا کہ ان لوگوں کے لیے متحدہ بیوکوف جذباتیت کا کوئی جغرافیائی علاقہ نہیں ہے. قومیت صرف ایک سروس پروواڈر ہے. سروس پروواڈر کا مطلب وہ قوم جو کسی بھی ملک کے شہری کو بہتر سہولیات دیتا ہو. بھارت میں بہتر سودھاو کے بارے میں کوئی حکومت ریفرنڈم نہ ہی کرائے تو بہتر ہے. جو بھی قوم، رہنے، کھانے، رہنے کے لیے بہتر شہر اور سوشل سیکورٹی ہوگی لوگ وہیں جائیں گے. اگر قوم ایک سروس پروواڈ ہے تو پھر ہر قوم میں جمہوری نظام میں میئر کے عہدے کے لیے وزیر اعلی سے اوپر کر دینا چاہئے. ہمارے ملک میں میئر کچھ بھی نہیں ہوتا ہے. اگر ہندوستان کو بہتر سروس پروواڈر  ہونا ہے تو اسے اپنے میئر کو وزیر اعلی سے بہتر حقوق اور وسائل دینے ہوں گے. ویسے بھی آپ وزیر اعظم اور وزرائے اعلی کے نام سے چلنے والی اسکیموں کو غور سے دیکھئے. یہ تمام سروس پروواڈر والی اسکیمیں ہیں. سروس دینے کا کام وزیر اعظم یا وزیر اعلی کا نہیں ہونا چاہئے، میئر کا ہونا چاہئے. وزیر اعظم اور وزیر اعلی کا کام نظام بنانے کا ہونا چاہئے.

قوم پرستی کو تمام پہلووں سے دیکھنے کے بعد بھی جذبات کا جغرافیہ آپ اندر اندر ایک دوسرا ملک بنا دیتے ہیں. جو لوگ جذبات کے جغرافیائی علاقے سے آزاد ہو جاتے ہیں، وہ قوم اور قوم پرستی کی سرحدوں سے بھی آزاد ہو جاتے ہیں. کسی دوسرے ملک میں بسنا صرف اقتصادی عمل نہیں ہے. منطق کی فتح کے عمل ہے. جذباتی آزادی کا اعلان ہے. انسان پیدا ہوتے ہی طوق میں بدھتا جاتا ہے. جو لوگ اپنا سامان باندھ کر چلنے کی ہمت رکھتے ہیں، وہی آزاد ہوتے ہیں . زندگی میں ملک چھوڑنا چاہئے. اسے اس طرح بھی کہہ سکتا ہوں کہ ایک زندگی میں ایک سے زیادہ ملک کا تجربہ ہونا ہی چاہئے. دنیا میں بہت کم لوگ ایسا فیصلہ کر پاتے ہیں. 2016 میں مختلف ممالک کے 28000 كروڑپتيوں نے اپنا ملک چھوڑا ہے.

یقینی طور پر یہ لوگ غدار نہیں ہے. عجیب بات یہ ہے کہ انہی لوگوں کے طور پر قوم پرستی کی دکان بھی چلتی ہے. فرانس یا برطانیہ چھوڑ کر جانے والوں کا تو پتہ نہیں، مگر انڈیا چھوڑ کر جانے والوں کی حرکتیں دیکھیں. انڈیا کو یاد کرنا اپنے آپ میں بازار بھی ہے. فلمیں آپ اورسيذ بزنس کو بھی بڑھا چڑھا کر بولتی ہیں. جن لوگوں نے بہتر امکانات اور سوشل سیکورٹی کے لیے پیدا ہوئے ملک کی جگہ دوسرے ملک میں جاکر بسنے کا فیصلہ لیا ہے، انہوں نے قوم پرستی کے چنگل میں پھنس کر ووٹ بن رہے لوگوں کو ایک پیغام دیا ہے. تم لوگ کرو ماركاٹ، ہم ذرا نیوزی لینڈ بستے ہیں ، فن جاتے ہیں . آپ دنیا مت دیکھو، ہم دنیا دیکھ کر آتے ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close