آج کا کالم

کیا کہتا ہے کرناٹک؟

کرناٹک نے ثابت کیا کہ اگر کانگریس مختلف ریاستوں میں بی جے پی مخالف پارٹیوں سے اتحاد کرتی ہے تو بھی بی جے پی کو شکست دی جا سکتی ہے۔

منورنجن بھارتی

(منورنجن بھارتی NDTV انڈیا میں ‘سینئر ایكذكيوٹو ایڈیٹر- پولیٹکل نیوز’ ہیں۔)

كرناٹك میں پانچ سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہوئے ہیں، جن میں سے چار سیٹوں پر کانگریس جے ڈی یو اتحاد نے جیت درج کی ہے۔ کرناٹک میں اسمبلی کی دو سیٹوں کے لیے انتخابات ہوئے، جس میں جام کنڈی سیٹ کو کانگریس کے نياماگوڑا نے قریب 40 ہزار ووٹوں سے جیت لیا۔ جبکہ رامنگرم کی سیٹ کو وزیر اعلی کی بیوی انیتا كماراسوامی نے ایک لاکھ ووٹوں کے جیتا۔ یہاں بی جے پی کے ساتھ ایک عجیب حادثہ ہو گیا تھا۔ بی جے پی کے امیدوار نے پولنگ کے تین دن پہلے کانگریس میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا، جس سے بی جے پی کے پاس ہاتھ ملنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں رہ گیا تھا۔ وہیں بیلّاری کی لوک سبھا سیٹ پر کانگریس نے ڈھائی لاکھ ووٹوں سے جیت حاصل کرلی، جبکہ جے ڈی ایس کے شِورامے گوڑا نے مانڈيا کی سیٹ تقریبا سوا تین لاکھ ووٹوں سے جیتی ہے۔  بی جے پی کو صرف ایک ہی جگہ کام یابی ملی وہ ہے شموگا، جہاں یدی یورپا کی سیٹ سے ان کے بیٹے راگھویندر نے 50 ہزار ووٹوں سے جیت درج کی۔

یہاں پر بیلاّری لوک سبھا سیٹ کا ذکر کرنا ضروری ہے، کیوں کہ 2004 سے لے کر ابھی تک یہ سیٹ بی جے پی کے قبضے میں رہی اور سب سے زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ ایک ضمنی انتخاب میں بی جے پی یہ سیٹ ہار جاتی ہے۔ وہ بھی تب جب 7-8 ماہ بعد دوبارہ لوک سبھا کے انتخابات ہونے والے ہوں۔ ویسے بیلّاری کی سیٹ سے سونیا گاندھی بھی جیت چکی ہیں 1999 میں۔ مگر یہ سیٹ اس کے بعد کانگریس کے ہاتھ سے نکل گئی۔ دراصل بیلّاری جانا جاتا ہے ریڈی برادران کے لیے، خاص طور پر جناردن ریڈی اور ان کے دو بھائی كروناكر اور سوم شیكھر ریڈی کے لیے۔ یہ کھنن مافیا کے طور پر جانے جاتے ہیں، جن کے پاس بے شمار جائیداد ہے۔ ایک وقت میں جناردن ریڈی نے 43 کروڑ کا سونا اور ہیرے سے جڑا تاج تروپتی میں بھگوان کو چڑھایا تھا۔ یہ ہمیشہ سے بی جے پی کے حمایتی رہے ہیں۔ وہ تصویر لوگوں کو اب بھی یاد ہے جس میں سشما سوراج نے جناردن ریڈی اور ان کے بھائی کے سر پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔

خیر، ان تمام چیزوں کے علاوہ بیلّاری کا انتخاب اس لیے اہم ہے کہ کرناٹک میں کانگریس اور جےڈي ایس اتحاد کو لے کر مختلف طرح کی باتیں کہی جاتی رہی ہیں۔ یہاں تک کہا گیا کہ یہ حکومت 2019 تک چل نہیں پائے گی یہ بھی کہا گیا کہ صرف یدی یورپا ہی کرناٹک کو اچھی حکومت دے سکتے ہیں۔ مگر اس جیت نے تمام قیاس آرائیوں پر پانی پھیر دیا۔

کرناٹک نے یہ ثابت کر دیا کہ ضروری نہیں ہے کہ انتخابات کے لیے کوئی ملک گیر اتحاد ہو۔ کرناٹک نے ثابت کیا کہ اگر کانگریس مختلف ریاستوں میں بی جے پی مخالف پارٹیوں سے اتحاد کرتی ہے تو بھی بی جے پی کو شکست دی جا سکتی ہے۔ جیسے کرناٹک میں جےڈي ایس، تمل ناڈو میں ڈی ایم کے، آندھرا میں تیلگدیشم، بہار میں آر جے ڈی، اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی، اگر یہ سماكرن بھی تیار کر لیے جائیں تو 2019 میں بی جے پی کو كڑی ٹکر دی جا سکتی ہے۔

راجستھان، مدھیہ پردیش، گجرات، ہریانہ، ہماچل اور اتراکھنڈ میں کانگریس اور بی جے پی کی سیدھی ٹکر ہے، مگر بی جے پی کی دقت ہے کہ وہ ان ریاستوں میں ایڑی چوٹی کا زور لگا جا چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے کرناٹک کے اس ضمنی انتخاب کی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے۔ اس نے ایک راستہ دکھایا ہے کہ کس طرح ایک بڑی اور ایک چھوٹی ٹیم مل کر جیت کا راستہ بنا سکتے ہیں۔ بس ساتھ رہنے کی ضرورت ہے اور 2019 کے لیے ایک نئی حکومت کے لیے دلی دور نہیں ہے۔

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close