آج کا کالم

کیا کیش لیس نہیں ہو سکتے انتخابات؟

رویش کمار

ایک پریکٹس کیجئے۔ آنکھوں کو بند کیجئے اور تصور  کیجئے کہ کالا دھن،  غیر اعلانیہ جائیداد کے نشانات کیا کیا ہیں؟ دیگر نشانیوں کے علاوہ آپ کولیڈران، ان کی پارٹی، ہیلی كاپٹر، بے تہاشا اشتہارات،  انتخابات سے پہلے کی رات شراب اور نوٹوں کی تقسیم، ریلیوں میں چلنے کے لئے دو سو سے لے کر پانچ سو کے نوٹ وغیره کی تصاویر تیرنے لگیں گی۔ کالے دھن کے تمام اڈوں میں ایک اڈہ ہماری سیاست بھی ہے۔ اس پورا کرنے کے لئے نہ جانے کتنے قوانین بنے، جو بھی بنے آدھے ادھورے بنے، جنہیں بنانے کی بات ہوئی، انہیں ٹال دیا گی۔۔

لوگوں نے جب پوچھنا شروع کر دیا کہ راتوں رات کیش لیس ہونے کے لئے غریب عوام پر اتنا دباؤ ڈالا جا رہا ہے تو سیاسی جماعتیں کیوں نہیں کیش لیس ہو جاتی ہیں۔ کیوں نہیں کہہ دیتے ہیں کہ اب کسی سے دس روپیہ بھی کیش نہیں لیں گے، صرف پے ٹي ایم، موبی کوئک یا ایس بی آئی بڈی سے چندہ لیں گے۔ کیا گلی گلی گھوم کر دکانداروں کو کیش لیس لین دین سکھانے کی ميڈيائی رسم ادا کرنے والے رہنما وزیر بھی اعلان کر سکتے ہیں کہ وہ اگلے انتخابات میں کیش لیس انتخابات لڑیں گے۔ ای-والٹ  سے ہی چندہ لیں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ نوٹ بندی سے غریب عوام خوش ہے کیونکہ امیروں کی نیند اڑ گئی ہے۔ چین کی نیند سونے والی اسی غریب عوام کو معلوم ہے کہ امیروں کی اس فہرست میں سیاسی جماعت، ایم پی، ایم ایل اے بھی آتے ہیں۔ وہ ان لیڈران کی تاریخ جانتی ہے جو جیتنے سے پہلے پیدل ہوتے ہیں، جیتنے کے بعد بے شمار جائیداد کے مالک ہو جاتے ہیں۔ کیا عوام کو آٹھ نومبر کے بعد ہوئی تمام ریلیوں میں دکھائی دے رہا ہے کہ وہ پہلے سے سادہ ہو گئی ہیں۔ کیا اسے اب نہیں سنائی دیتا کہ کسی ریلی میں دو سو، پانچ سو دے کر لوگ نہیں لائے جا رہے ہیں۔ اگلے سال پانچ ریاستوں میں انتخابات ہوں گے۔ غریب عوام انتخابات سے پہلے کی راتوں کو جاگ کر دیکھے گی جب کوئی لیڈر نوٹ اور شراب بانٹنے نہیں آئے گا۔ ویسے اس معاملے میں بھی بدنام غریب ہی  کوکیا جاتا ہے۔ اسے تو دس پانچ ہی بانٹا جاتا ہے، بڑے بڑے مقامی لیڈران، سرپنچ، وزیر تو راتوں رات لاکھوں میں بك كر بھاجپائی سے کانگریسی اور کانگریسی سے بھاجپائی ہو جاتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کا مالی نظم و نسق کس طرح شفاف ہو؟  کئی سال سے اس پر بحث چل رہی ہے مگر کئی سال سے بحث چل کر دم توڑ دیتی ہے۔ نوٹ بندی اور کیش لیس کی طرح چندے کو لے کر راتوں رات فیصلے کا اعلان کیوں نہیں ہو سکتا ہے؟ کچھ کمی رہ جائے گی تو نئے قوانین اور بن جائیں گے۔

چندوں کے معاملے میں کسی سیاسی پارٹی کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ اس موضوع پر مسلسل تحقیق کرنے والی اور عوام کو بیدار کرنے والی تنظیم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم اے ڈی آر کی ویب سائٹ پر جا کر دیکھئے۔ ان کی تحقیق کی بنیاد پر دی وائر میں ویشالی راوت اور ہیمنت سنگھ نے ایک مضمون لکھا ہے۔ اے ڈی آر نے 2004 سے 2012 کے درمیان چھ قومی پارٹیوں  کے چندے کے حساب کا مطالعہ کیا ہے. کسی نے نہیں بتایا کہ 75 فیصد چندہ کہاں سے آیا ہے؟ آپ جانتے ہیں کہ 20000 سے زیادہ کا چندہ ہونے پر ہی پارٹیوں کو تفصیل دینی ہوتی ہے مگر اے ڈی آر کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں بھی سیاسی پارٹی پین نمبر سے لے کر چیک نمبر کی صحیح صحیح معلومات نہیں دیتی ہیں۔ اپنے چندے کا 80 فیصد حصہ 20000 کی رقم سے نیچے دکھا دیتے ہیں تاکہ تفصیل نہ بتانی پڑے۔

اے ڈی آر کے مطابق صحیح رپورٹ نہ دینے پر سیاسی پارٹیوں کے خلاف سزا یا سخت کاروائی  کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ جبکہ آپ اگر انکم ٹیکس ریٹرن میں معلومات غلط دے دیں تو مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو بتانا چاہئے کہ سیاسی جماعتیں آئٹم وائزاخراجات کا حساب دیتے ہیں یا مجموعی طور پر۔ اگر حساب دیتے ہیں تو کیا ان کے پاس ریلیوں کے اخراجات کو لے کر دیے گئے اعداد و شمار کی کوئی تفصیلات ہے؟ هیلی كاپٹر کی کوئی تفصیلات ہے۔ جس سے پتہ چلے کہ ہمارے لیڈر کتنا خرچہ کرتے ہیں۔ ایک ہی هیلی كاپٹر کتنے پیسے میں بی جے پی کے لیڈر کو لے جاتا ہے اور کتنے پیسے میں کانگریس کے لیڈر کو؟

کیا کانگریس بی جے پی نے تب سوچا تھا جب اس سال ایک قانون میں تبدیلی کر اپنے لئے غیر ملکی کمپنیوں سے چندہ لینے کی چھوٹ کا راستہ بنا لیا۔ جبکہ دہلی ہائی کورٹ نے بی جے پی اور کانگریس کو لندن واقع کمپنی ویدانتا سے چندہ لینے کے معاملے میں قصوروار مانا تھا اور کارروائی کا حکم دیا تھا۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ چھ قومی سیاسی پارٹی وقت پر انکم ٹیکس ریٹرن نہیں بھرتی ہیں۔ اس معاملے میں اے ڈی آر کی ریسرچ کہتی ہے کہ بی جے پی، کانگریس، این سی پی تمام مجرم ہیں۔ جب عام عوام کے ریٹرن کی اسکروٹنی ہوتی ہے تو سیاسی جماعتوں کےریٹرن کی اسکروٹنی کس قانون کے تحت منع ہے؟ 2012-13 اور 2014-15میں بی جے پی نے بتایا ہی نہیں کہ چندہ کیسے کیسے ملا. کانگریس نے 2013-14 میں پین نمبر ہی نہیں بتایا۔

اس وقت ہر پارٹی چندے کو لے کر بحث کی بات کر رہی ہے۔  ایک موضوع زیر بحث ہے کہ انتخابات کے اخراجات کے لئے اسٹیٹ فنڈ ہو۔ کسی نے اسے نیشنل فنڈ کہا ہے تو کسی نے اسے پبلک فنڈ کہا ہے۔ اسٹیٹ فنڈ کا خیال اچھا ہے۔ لیکن اسے لے کر کئی سوال اب پوچھے جانے چاہئے۔

اسٹیٹ فنڈ سے نیشنل پارٹی کو کتنا ملے گا، علاقائی پارٹی کو کتنا ملے گا، نئی پارٹی کو کتنا ملے گا؟ کیا سب کو برابر ملے گا یا الگ الگ ملے گا؟ بہت سے امیدواروں کے چھ چھ سو کروڑ کی جائیداد کے معاملے ہوتے ہیں، ان کا خرچہ پبلک فنڈ سے کیوں اٹھایا جانا چاہئے؟ غریب امیدوار کا خرچہ حکومت اٹھائے یہ بات تو سمجھ آتی ہے لیکن کسی امیدوار کی حیثیت ہزار کروڑ کی ہے تو اس کا انتخابی خرچہ ہندوستان کی غریب عوام کیوں اٹھائے؟ ایک اعداد و شمار کے مطابق موجودہ لوک سبھا میں 543 میں سے 449 ممبران پارلیمنٹ کے پاس ایک کروڑ یا اس سے زیادہ کی ملکیت ہے۔ جس پارٹی کے سب سے زیادہ کروڑ پتی امیدوار ہوں کیوں نہ اسے کم چندہ دیا جائے؟ اس سے سیاست میں غریبوں کو آگے آنے کا موقع ملے گا۔ آپ کے اینکر کو لگتا ہے کہ یہ آئیڈیا عوام کے پیسے سے امیر اور شاہی گھرانوں کے امیدواروں کی مدد کرنا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ آپ کا اینکر کوئی خاص نہیں ہے. اس کی کیا ضمانت ہے کہ اسٹیٹ فنڈ سے بزنس گھرانوں پر سیاسی جماعتوں کا انحصار کم ہو جائے گا۔ ایک دلیل  ہے کہ جب تک سیاست سے جرائم نہیں مٹےگا تب تک اسٹیٹ فنڈ کا خیال کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیوں پبلک کے پیسے سے کسی دبنگ یا مافیا کے انتخابات کو فنڈ کیا جانا چاہئے؟ اب امیدواروں کے اخراجات کی ایک رینج طے ہے۔ تمام ناكےبنديوں کے بعد بھی کمیشن جانتا ہے اور سمجھتا ہے کہ بہت سے امیدوار حد سے زیادہ خرچہ کرتے ہیں۔ جب یہی نافذ نہیں ہو سکا تو اسٹیٹ فنڈ سے ہم کیا حاصل کرنے والے ہیں؟

انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ ہے۔ 21 اپریل 2014 کو لوک سبھا انتخابات کے لئے یوپی کے ہردوئی میں وزیر اعظم نریندر مودی ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے. وہاں انہوں نے فوجداری مقدمات والے ارکان پارلیمنٹ کے بارے میں ایک عہد کیا تھا۔ اگر اس کی یاد دلائی جائے اور وہ پہل کر دیں تو 2019 سے پہلے مجرمانہ الزامات والے کئی ممبران پارلیمنٹ کی لوک سبھا سے وداعی ہو سکتی ہے۔ کئی ممبران پارلیمنٹ الزامات سے بری بھی ہو سکتے ہیں. وزیر اعظم نے ایک نعرہ دیا تھا۔ مجرموں سے پارلیمنٹ کو آزاد کرو۔

اے ڈی آر کے اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی کے 98 ممبران پارلیمنٹ نے اپنے حلف نامے میں مجرمانہ معاملات کا ذکر کیا ہے. شیوسینا کے 18 ممبران پارلیمنٹ میں سے 15 نے مجرمانہ مقدمات کا ذکر کیا ہے۔ کانگریس کے 44 میں سے 8 ایم پی ایسے ہیں۔ نوٹ بندی کا ایک اچھا اثر تو ہے کہ سیاسی جماعتوں کی ساکھ بھی پبلک کی نگاہ میں آ گئی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close