آج کا کالمخصوصیسیاست

کیا ہم اورزیادہ برے دنوں کے استقبال کی تیاری کریں؟

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آخری دنوں میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے کہنا شروع کیا تھا کہ مجھے پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جارہا ہے۔ میرے پاس وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف ان کے بھرشٹاچار کے ثبوت ہیں۔ میں جب پارلیمنٹ میں ظا ہر کروںگا تو زلزلہ آجائے گا۔ اس کے جواب میں ان سے مطالبہ کیا جانے لگا تھا کہ آپ ان ثبوتوں کو باہر کیوں نہیں ظاہر کرتے؟ تاکہ بڑا نہ سہی چھوٹا زلزلہ آجائے؟

اجلاس کے بعد ا بتدا وزیر اعظم نے گجرات میں کی اور کہا کہ لوگ مجھے پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دے رہے ہیں اس لیے میں اب عام جلسوں میں دل کی بات رکھوںگا۔ اس کے بعد راہل گاندھی نے بھی وہ پٹارہ کھول دیا اور بتایا کہ جب مودی جی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اس وقت انھوں نے برلا اور سہارا سے کروڑوں روپے لیے۔ انھوں نے برلا کی تفصیل تو نہیں بتائی لیکن سہارا سے ملنے والے پانچ اور ڈھائی کروڑ کی وہ تمام قسطیں تاریخ وار بتائیں اور کہا کہ یہ میرا الزام نہیںہے بلکہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے چھاپوں کے دوران جو ڈائریاں ملی تھیں ان میں درج ہے کہ کس کس تاریخ کو مودی جی کو یہ روپے دئے گئے۔

وزیر اعظم نے اس کا جواب ،اس کا کوئی ذکر نہیںکیا کہ راہل کا الزام کیسا ہے؟ اس کے بجائے ایک اپنے کفش برداروں کے مجمع میں راہل کے بارے میں اتنا گھٹیا انداز اختیار کیا جس سے راہل گاندھی کی کھلی اڑائی جارہی تھی۔ انھوں نے مذاق بناتے ہوئے کہا کہ بچہ کو بولنا آگیا۔ یا وہ اب بولنے کی مشق کررہے ہیں اور جیسے یہ ایسی بات ہی نہیں ہے جسے سن کر اس کا جواب دیا جائے یا اس پر غور کیا جائے؟ سپریم کورٹ کے مشہور وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت میں یہ مسئلہ پیش کردیا۔ دو ججوں کی بینچ نے یہ نہیں کہا کہ یہ بیہودہ الزام ہے بلکہ یہ کہا کہ صرف ڈائریوں میں اندراج کو ایسا ثبوت نہیں مانا جاسکتا جس کی بنیاد پر کوئی اقدام کیا جاسکے۔ اس فیصلہ کے بعد ٹی وی نے دکھایا کہ مودی اس فیصلہ کو ایسے سینے سے لگائے ہیں جیسے گولی کان کے پاس سے نکل گئی۔ اور ان کے حلقوں میں کہا جانے لگا کہ مودی جی اور دوسرے لیڈروں کو راحت مل گئی۔

1969 میں چودھری چرن سنگھ بی کے ڈی کے ٹکٹ بانٹ رہے تھے۔ دریاباد ضلع بارہ بنکی کے میونسپل بورڈ کے چیرمین بھی ا میدوار تھے ان کی حمایت ’سیاست ‘اخبار کانپور کے نمائندہ حسین قدوائی کررہے تھے اور خیال تھا کہ انہیں ٹکٹ مل جائے گا۔ میرے عزیز ترین دوست محبوب علی جو میرے اور چودھری صاحب کے تعلقات سے واقف تھے۔ ان کے سالے مشیر احمد نے ان سے کہا کہ مجھے ٹکٹ دلا دیجئے۔ بات جب میرے سامنے آئی تو میں نے یہ کہہ کر مندرج کردی کہ چیئرمین کے مقابلہ میں مشیر کو ٹکٹ کیسے دلوادوں؟ یا تو ان کی کوئی شکایت ہو یا ان پر کوئی الزام ہو؟ تین دن کے بعد وہ لوگ پھر میرے پاس آئے اور بتایا کہ ان کے اوپر ایک قتل کا مقدمہ چل چکا ہے لیکن وہ شبہ کا فائدہ اٹھا کر بری ہوگئے تھے۔

ہم نے پورا مقدمہ چودھری صاحب کے سامنے رکھ دیا اور توقع کے مطابق وہ بھڑک گئے اور کہا کہ مقدمہ کی پوری تفصیل کردو، مشیر بارہ بنکی گئے اور ایک وکیل کو لے کر پوری نقل لے آئے۔ چودھری صاحب نے دو دن کے بعد حسین قدوائی کو بلایا اور کہا کہ میں نے اس کاٹکٹ کاٹ کر مشیر کو دے دیا ہے۔ حسین صاحب بہت روئے کہ وہ بری ہوگیا تھا۔ چودھری صاحب نے کہا کہ میں وکیل ہوںشبہ کا فائدہ اسے ملتا ہے جو قاتل تو ہوتا ہے مگر عدالت کو جیسے ثبوت سزا کے لیے درکار ہوتے ہیں وہ نہیںملتے۔ چودھری چرن سنگھ اور نریندر مودی میں یہی فرق ہے۔ اگر اس جگہ پر چودھری چرن سنگھ ہوتے ا ور ان پر ۴۰ کروڑ سہارا سے لینے کی تاریخ مہینہ اور سال سب سامنے آجاتے تو وہ ایک گھنٹہ بھی اپنی کرسی پر نہ رہتے۔

کمپنی کا مخالف یا موافق ہونا الگ بات ہے۔ اور قابلیت اور اہلیت الگ بات ہے۔ یہ کون نہیںجانتا کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ دس سال وزیر اعظم رہے اور ہم بھی یہ مانتے ہیںکہ وہ ناکام وزیر اعظم رہے۔ لیکن معاشیات اور اقتصادیات میں ہندوستان میں وہ ایک مقام رکھتے ہیں۔ انہیں وزیر اعظم کی کرسی سے اترنے کے بعد شاید ہی کسی نے راجیہ سبھا میں دیکھا ہو لیکن وہ کانگریس کی شان بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ دل کا درد لے کر آئے اور مختصر تقریر میںبتا گئے کہ بڑے نوٹوںکی منسوخی کے فیصلہ سے ملک میں معاشی حالات بگڑ جائیںگے۔ یہ سب نے دیکھا کہ مودی جی اور ان کی پارٹی کو ان کا بولنا ہی نہیں ان کا آنا بھی برا لگا لیکن وہ دل کا درد نہ چھپا سکے۔ اور اب جبکہ مودی جی کی ۵۰ دن کی مہلت کو ختم ہوئے ۵۰ دن ہوگئے اور اندر یہ بھی شروع ہوگیا ہے کہ حکومت نے ریزرو بینک سے کہا تھا یا ریزروبینک نے حکومت کو مشورہ دیا تھا؟ ا یسے ایسے میں پارلیمنٹ کے باہر سابق وزیر اعظم نے پھرکہا ہے کہ ابھی اور زیادہ برے دن آنے والے ہیں۔ اس لیے کہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہی ٹوٹ گئی ہے۔ یہ وہ بات نہیں ہے جو مخالف کہتے ہیں بلکہ نومبر کی ہی ۲۰ تاریخ کے آس پاس رویش کمار غازی آباد کے ایک تاگے کے بہت بڑے کارخانے میں کھڑے تھے اور ان کی خبر سن کر آس پاس کے دوسرے مالکان آگئے۔ اس وقت ان لوگوں نے کہا تھا کہ اس فیصلہ سے ہندوستان کی صنعت کی کمر ٹوٹ گئی۔

اور یہ بات کون نہیںجانتا کہ الیکشن سے مہینوں پہلے سب سے زیادہ رونق پریسوں میں ہوتی ہے۔ ہمارے پریس کے تو لوگ اس لیے زیادہ جانتے ہیںاب یہ بھی سب جانتے ہیںکہ ہم برسوں سے پریس نہیں گئے۔ کل میاں ہارون جو پریس سنبھالے ہوئے ہیں انھوں نے ذکر کیا کہ ہندوستان ٹائمز کے ایک نمائندے آئے تھے۔ پریس کی مشینوں کے چلنے کی انھوں نے آواز سنی تو تعجب سے کہا کہ آپ کے پریس میں زندگی کے آثار نظر آئے ورنہ ہم جتنے پریسوں میں بھی گئے وہاں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ اور وجہ وہی ہے کہ کالا دھن مودی جی نے لے لیا۔ اور بتاتے بھی نہیں کہ کتنا کالا دھن آیا؟ اور وہ کون سا دھن تھا جس کا ذکر سہارا کی ڈائریوں میں ہے؟ سب سے زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ اب تو مودی حالات بدلنے کی کوئی تاریخ بتاتے ہیں اور نہ ان موٹے پیٹ والوںپر چلنے والے مقدموں کی تفصیل بتاتے ہیں جو راتوں کو بازار میں نیند کی گولی ڈھونڈا کرتے تھے اور اس کا تو ذکر ہی نہیں کرتے جو انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کہ ایسے نوٹ چھاپے ہیں جس کی نقل آسان نہیں ہے۔ اور نقل کا یہ حال ہے کہ نوٹوںکے بازار میں آنے کے ۱۵ دن کے بعد ہی ایک لڑکے اور ایک لڑکی نے امرتسر میں نقلی نوٹ بنا کر چلا دئے۔ اور اب دو شاطر پولیس کے قبضہ میں جنھوں نے ۲۶لاکھ سے زیادہ بنائے ا ور چلائے بھی۔ تو کیا فقیر جھولا لے کر جانے کی تیاری کررہا ہے؟

موبائل نمبر:9984247500

 

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close