آج کا کالم

کیا ہم بغیر نقدی کے کچھ وقت رہ سکتے ہیں ؟

راکیش کمار مالویہ

ایسے دور میں، جب کہ تمام طرح کی سرجری ملک میں چل رہی ہیں، یہ بات کرنا کہ ‘کیا ہم کچھ وقت  بغیر نقدی کے رہ سکتے ہیںَ؟ ااٹپٹي لگ سکتی ہے۔ اگرچہ یہ اتنی اٹپٹي ہے نہیں، جتنی آج کے دور میں بنا دی گئی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ہمارے  سماج میں روایتی طور پر ایسا ہوتا چلا آیا ہے۔ آج جب 500 اور 1000 روپے کے موجودہ نوٹ بند کرنے پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ تبھی اچانک مجھے وہ سب حالات ایک ایک کرکے یاد آنے لگے، جب نقدی کے بغیر کام چل جایا کرتا تھا۔

 ایسے نظام میں لین دین صرف نقدی اور سامانوں تک مرکوز نہیں ہوتا تھا۔   اس کے پیچھے رشتے ناطے اور ایک دوسرے کی خیر خبر بھی ہوا کرتی تھی۔ ترقی کی موٹربوٹ پر سوار جی ڈی پی کے زمانے میں اسے آپ  قدامت پرستی بھی قرار دے سکتے ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پلاسٹک منی سے لے کر آن لائن لین دین کے ایک پل میں تباہ و برباد ہو سکنے والے نظم و نسق(جیسا ہم نے گزشتہ دنوں ایس بی آئی کارڈ کے حوالے سے دیکھ بھی لیا) کے پیچھے اندھی دوڑ لگاتے ہوئے ہم وقت سے کچھ زیادہ ہی تیزی سے بھاگ رہے ہیں۔ اس میں ہم یہ بھی نہیں دیکھتے کہ کون دوڑ پا رہا ہے اور کون نہیں ؟ کون پیچھے چھوٹ گیا ہے اور کون اوندھے منہ گر پڑا ہے؟

اسے آپ مارکیٹ مخالف (اور بہت سے لوگ اسے ترقی مخالف بھی مانیں گے) سوچ بھی کہہ سکتے ہیں. یہ سوچ مارکیٹ کو اتنا ہی فائدہ پہنچاتی ہے، جس سے وہ زندہ رہے۔ اس سوچ میں ہو سکتا ہے کہ چمچماتی زندگی میسر نہ ہو، لیکن یہ ضرور ہے کہ زندگی بچی رہتی ہے، وہ مشین نہیں ہو جاتی۔ جیسی آج کل ہو گئی ہے۔

 گزشتہ دنوں مشہور تنقید نگار وجے بہادر سنگھ کی ادبی خدمات کے 50 برس پورے ہونے پر ان کی زندگی پر مبنی ایک کتاب ہاتھ لگی۔ اس میں شامل ایک خط بہت دلچسپ لگا، اس کے بعد یہ سوچ اور بھی گہری ہو گئی۔ مننا یعنی ‘ستپوڑا کے گھنے جنگل’ نظم کے لکھنے والے بھواني پرساد مشرا نے ایک خط میں  وجےبہادر سنگھ کو لکھا ہے کہ ‘ہمیں دولت جمع کرنےکی دوڑ میں شامل نہیں ہونا  ہے۔  تھوڑی معاشی تنگی آدمی کو آدمی بنائے رکھنے میں مدد کرتی ہے۔  بے انتہا دولت اور خوشحالی انسان کو کھا جاتی ہے۔ ان دونوں سے بچنا بچانا دانشوروں کا طرز عمل رہا ہے، ہماری عوامی کوشش اس سمت میں ہونے چاہئے۔

آج ہمارا سماج کیا ایسا سوچ پارہا ہے؟ آج امیر بننے کی بات سب سے زیادہ ہوتی ہے اور انسان بننے کی سب سےکم۔  یہ کچھ کچھ ایسا ہی ہے، جیسے تعلیم کا آخری مقصد نوکری حاصل کرنا اور نوکری پا کر امیر بن جانا ہو گیا ہے۔ اس پورے دور کے سارے ایجنڈوں میں انسانیت کا غائب ہو جانا خطرناک اشارہ ہے۔ میں اسے کوئی سازش نہیں کہوں گا، لیکن آپ ایسا ہوتا ہوا محسوس کر ہی رہے ہوں گے۔ اب تو نئی نسل کو ایسی سمجھ دینے والی نسل بھی نہیں بچی۔ سمجھ دے بھی دیں تو ویسا ماحول بھی نہیں ہے۔ اسی لئے جب یہ سوال آتا ہے کہ ‘کیا ہم نقدی کے بغیر کچھ وقت رہ سکتے ہیں’ تو بیچیني کی حالت بن جاتی ہے۔

معاشرے سے ایسا نظام تقریبا غائب ہے، جہاں کچھ وقت بغیر نقدی کے بھی کام چل جایا کرتا تھا۔ اس پورے نظام نے مارکیٹ کو غلامی میں ایسا جکڑا ہے کہ اس کا آزاد ہونا تقریبا مشکل ہے۔ آخر کیوں کچھ کاغذی کرنسیوں کے ایک دو دن بند ہونے سے اتنا شور مچ رہا ہے؟

 یاد کیجئے اس نظام  کو جب کچھ دن، چند ماہ، پورے سال بھر ایک ہی طریقہ کار چل جایا کرتا تھا۔ وہ بڑھئی، دھوبی، نائی، لوہار، پنڈت، کسان سب کی ضروریات کو پورا کر دیا کرتے تھے، اگرچہ اس کے اپنی خوبی یا خامی پریم چند کی کہانیاں کی طرح سامنے آتے رہے ہیں، لیکن وہاں کی انسانیت کا پیمانہ اور آج کے ڈیجیٹل انسانیت کے پیمانوں میں جو فرق دکھائی دیتا ہے، اس کو  آپ اس دور میں صاف محسوس کر سکتے ہیں۔ آپ گاؤں جا کر اپنے بٹوے کو طاق پر رکھ کر سکون سے یہاں وہاں گھوم سکتے ہیں، لیکن شہر کا ماحول ایک لمحہ بھی مجھے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا، لیکن ہوا تو الٹا ہے۔ گاؤں بھی اب گاؤں کہاں، شہر بننے پر آمادہ ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

راکیش کمار مالویہ

مضمون نگار این ایف آئی کے فیلو اور معروف سماجی تجزیہ نگار ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close