آج کا کالم

کیا ہم مادری زبان میں پڑھنے، پڑھانے کو تیار ہیں؟

رویش کمار

جب بھی ہم یہ سنتے پڑھتے ہیں کہ پڑھائی ہندی یا مادری زبان میں ہوتی ہے، ہم ڈر کیوں جاتے ہیں۔ کیا ہمارے ملک میں لوگ مادری زبان میں نہیں پڑھ رہے ہیں۔ اگر آپ سرکاری اسکولوں کی توسیع دیکھیں گے اور غریبوں کی تعلیم تک رسائی کا اندازہ لگائیں گے تو ابھی بھی کروڑوں بچے اپنی اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسی دہلی شہر میں 12 بنگالی میڈیم اسکول ہیں اور 13 اردو میڈیم کے۔ تعداد بھلے نا کافی ہو مگر ہندی، انگریزی کے علاوہ اس شہر میں کنڑ، تیلگو، بنگلہ اور اردو کے اسکول چلتے ہیں- یہ اس لئے بتا رہا ہوں کہ ہندوستان میں مادری زبان میں تعلیم حاصل ہوتی ہے۔ ان کی حالت کیا ہے، یہ ایک مختلف بحث کا موضوع ہے۔

 اب آپ سے پوچھا جائے کہ آپ اپنے بچے کو ہندوستانی زبان میں پڑھانا چاہتے ہیں یا انگریزی میڈیم کے اسکول میں تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟ بغیر کسی وهاٹس ایپ سے متاثر ہوئے۔ اس سوال کا جواب دیجیئے گا۔ کیا آپ اپنے بچے کو انگریزی میڈیم اسکول سے نام كٹاكر ہندی میڈیم میں یا بنگلہ میڈیم میں بھیجنے کے لئے تیار ہوں گے۔ یہ سوال میرا ہے نہ کہ کسی حکومت نے بھیجا ہے۔ 8 اکتوبر 2015 کو ٹائمز آف انڈیا کی ریما ناگراجن کی رپورٹ شائع ہوئی تھی کہ 09-2008 میں دہلی کے 9 اضلاع میں سے صرف دو اضلاع میں انگریزی میڈیم طالب علموں کی تعداد ہندی میڈیم طالب علموں سے زیادہ تھی. پانچ سال کے اندر اندر پوری دہلی میں یہ صورت حال بدل جاتی ہے۔ 2013-14 میں چھ اضلاع میں انگریزی میڈیم کے طالب علموں کی تعداد ہندی میڈیم کے طالب علموں سے زیادہ ہو گئی. پانچ سال کے اندر اندر ہندی میڈیم طالب علموں کی تعداد میں 1 لاکھ چالیس ہزار کی کمی آ گئی۔

 مطلب انگلش میڈیم اسکولوں کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھا ہے۔ کیا لوگوں نے اپنے بچوں کو انگلش میڈیم میں اس لئے ڈالا کیونکہ ہندی میڈیم اسکول خراب تھے یا پھر انگریزی کی ضرورت کی وجہ سے وہ ہندی یا مادری زبان سے دور گئے. یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں مادری زبان میں تعلیم دینے کی وکالت ہوتی رہتی ہے. دانشوران اس کو بہتر مانتے رہتے ہیں۔ جمعہ کے انڈین ایکسپریس میں اشوتوش بھاردواج کی خبر شائع ہوئی کہ آر ایس ایس سے وابستہ ایک ٹرسٹ شکشا سنسکرتی اتتھان نیاس نے انسانی وسائل کی وزارت کے سامنے تجویز پیش کی ہے کہ تمام سطح پر سے انگریزی کی اجارہ داری ختم کی جائے. تمام اسکولوں میں کلاس پانچ تک مادری زبان لازمی ہو. ہر ریاست میں اس زبان کی یونیورسٹی قائم کی جائے جس میں مینجمنٹ، انجینئرنگ، میڈیکل کی پڑھائی وہاں کی زبان میں ہو. آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم وغیرہ انگریزی میڈیم کے اداروں میں بھی ہندوستانی زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے کی بلا تاخیر سہولیات دی جائیں- اسکولوں میں کسی بھی سطح پر غیر ملکی زبانوں کو لازمی قرارنہ دیا جائے. سہ لسانی پالیسی کا جائزہ لے کر نئی زبان کی پالیسی پر غور ہو۔

شکشا سنسکرتی اتتھان نیاس ٹرسٹ کے سربراہ دینا ناتھ بترا ہیں. اسی سال اگست میں اكونومك ٹائمز کی پراچی ورما کی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ انگریزی میڈیم کی وجہ سے بہت سے طالب علم پہلے ہی سال میں فیل ہو جا رہے ہیں اور انہیں انسٹی ٹیوٹ سے نکال دیا جا رہا ہے ۔

چھ آئی آئی ٹی میں تقریبا 1 فیصد طالب علم پہلے سال میں انگریزی کی وجہ سے نکال دیئے جاتے ہیں. آئی آئی ٹی کانپور کے 3000 طالب علموں میں سے 30 طالب علموں کو نکالا گیا. آئی آئی ٹی دہلی کے 850 طالب علموں میں سے 12 کو نکالا گیا –

 فیصد کے حساب سے زبان کی وجہ سے نکالے گئے طالب علموں کی تعداد تو کم ہے لیکن اتنے بڑے ادارے سے کوئی انگریزی کی وجہ سے باہر ہو جائے تو اس کی زبان ہی نہیں سماجی پس منظر بھی دیکھنا چاہئے- آپ جانتے ہیں کہ انسانی وسائل کی وزارت نئی تعلیمی پالیسی پر مشورہ کر رہی ہے. شکشا سنسکرتی اتتھان نیاس ٹرسٹ نے صرف مشورہ دیا ہے- وہ ابھی حکومت کی پالیسی نہیں بنی ہے- یہ واضح رہنا چاہئے. ہمارے ساتھی اکھلیش شرما نے بی جے پی کے ذرائع سے بتایا ہے کہ ہم ملک کو پیچھے نہیں لے جا سکتے ہیں۔ جنوبی ہند کی ریاستوں کے بھی سوالات ہیں. ہندوستان عالمی سطح پر مقابلہ کر رہا ہے. ایسے میں انگریزی کے بغیر کام نہیں چلتا ہے- انٹرنیٹ کی وجہ سے گلوبل ولیج بن گیا ہے۔ انگریزی عالمی زبان ہے-

 2014 میں مودی حکومت آنے کے ساتھ ہندی اور سنسکرت کو لے کر ایک خاص قسم کی سرگرمی نظر آئی لیکن ابھی تک حکومت نے وسیع سطح پر ایسا کچھ ٹھوس نہیں کیا ہے جس سے لگے کہ وہ انگریزی ختم کر ہندی یا ہندوستانی زبانوں کی حوصلہ افزائی کرنے جا رہی ہے۔ زبان کے سوال پر تو بی جے پی کیمرے پر بات کر سکتی تھی مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ ذرائع کو ہر وقت کیمرہ اچھا ہی لگے۔ 2005 میں یشپال کمیٹی نے نیشنل كریكلم فریم ورک میں کہا تھا کہ اسکولوں میں تعلیم کا میڈیم گھر میں بولی جانے والی زبان ہی ہو۔ یشپال کمیٹی نے مدر ٹنگ سے پہلے ہوم لینگویج اور فرسٹ لینگویج کا استعمال کیا ہے. کمیٹی نے کہا تھا کہ اسکول پرائمری سطح پر ہوم لینگویج میں ضرور تعلیم دیں-

 یشپال کمیٹی نے انگریزی کی اہمیت کو مسترد نہیں کیا. اس اختیار کو قبول کیا ہے لیکن شکشا سنسکرتی اتتھان نیاس ٹرسٹ کی طرح انگریزی کی اجارہ داری کو ختم کرنے کی بات نہیں کی ہے. 2005 کے نیشنل كریكلم فریم ورک میں کہا گیا ہے کہ انگریزی شروع کرنے کی سطح کا معاملہ سیاسی ہے، نہ کہ اس کے پیچھے کوئی تعلیمی یا افادیت کا مسئلہ ہے- انگریزی کو كریكلم یعنی نصاب میں کس سطح سے پڑھایا جائے اس بارے میں عوام کی رائے کا احترام کرنا ہوگا، اس یقین دہانی کے ساتھ کہ ہم اس نظام کو اور زیادہ نیچے نہ لے جائیں جو فیل رہا ہے۔

 اس کے علاوہ آر ایس ایس سے منسلک ادارے کی تجویز ہے کہ ہر یونیورسٹی دس گاؤں کو گود لے اور تعلیمی ادارے ایک بستی یا گاؤں گود لیں۔ وزیر اعظم نے بھی ممبران پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ مثالی گرام منصوبہ بندی کے تحت گاؤں گود لیں- سارے گاؤں گود لے لیے جائیں گے تو باقی ایجنسیاں کیا کریں گی. پنچایت سے لے کر ضلع کی ایجینسياں تک کیا ایسا نہیں کر پا رہی ہیں جس کی وجہ سے دیہات کو گود دیا جا رہا ہے ، ایک اور مسئلہ ہے اس تجویز میں کہ ریسرچ کی اشاعت زیادہ سے زیادہ ہندوستانی زبانوں میں ہو. انگریزی میں شائع ریسرچ کا ایک ہندوستانی زبان میں ترجمہ لازمی ہو. تحقیقی کام کو قومی ضرورتوں سے جوڑا جائے۔ تحقیق کو قومی ضرورت سے کیسے جوڑا جائے گا. ہم اس پر بھی بات کریں گے. کیا شاعری یا کہانی میں ہونے والی تحقیق کو قومی ضرورت مانیں گے، تحقیق میں قومی ضرورت کس طرح فٹ کریں گے، کیا کوئی قومی ضرورت کمیشن ہوگا، کیا اس وقت ضروری موضوعات پر تحقیق نہیں ہوتے ہیں. یہ کہتے ہوئے اس بات کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے کہ اس وقت تمام یونیورسٹیوں میں خاص طور پر ریاستوں میں غیر ضروری موضوعات پر بھی پی ایچ ڈی ہوتی ہے. بہر حال کیا آپ انگریزی کی اجارہ داری سے نجات حاصل کرنے کے لئے تیار ہیں. پھر سےبتادیں کہ یہ مشورہ دیا گیا ہے، حکومت نےابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

مترجم : شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close