کیا ہے امیروں کی دنیا کا مطلب؟

سچن کمار جین

فوربس میگزین ہمیں ہر سال بتاتا ہے کہ دنیا میں ارب پتی گروپ اور افراد کون ہیں … میگزین کی تازہ رپورٹ کے مطابق آج دنیا میں جو امیرترین 10 افراد ہیں، ان میں سے آٹھ ارب پتی ایسے ہیں، جنہیں امیری وراثت میں نہیں ملی. وہ روایتی امیر گھرانوں سے جڑے ہوئے لوگ نہیں ہیں. فوربس کے مطابق ان آٹھ افراد نے خود ہی اپنے آپ کو اتنا امیر بنایا ہے. دنیا کے ان سر فہرست 10 افراد کی عمر 32 سے 85 سال کے درمیان ہے. فیس بک کے مارک زكربرگ 32 سال کی عمر میں 46.5 ارب ڈالر (3.1 لاکھ کروڑ روپے) کے مالک ہیں تو 85 سال کے وارن بفے 60.8 ارب ڈالر (4.07 لاکھ کروڑ روپے) کے مالک ہیں. دنیا کے 10 سرفہرست امیر افراد کی ملکیت 508 ارب ڈالر (تقریبا 34 لاکھ کروڑ روپے) کے برابر ہے. ذرا سوچئے، صرف 10 لوگوں کے پاس 508 ارب ڈالر یا 34 لاکھ کروڑ روپے کی املاک ہونے کا مطلب کیا ہے …؟

فوربس کی 30 ویں سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں کل 1810 ایسے لوگ ہیں جو ڈالر ارب پتی ہیں، یعنی جن کے پاس ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی املاک ہیں. ڈالر ارب پتی ہندوستان کے روپے والے ارب پتی سے 67 گنا زیادہ جائیداد رکھتا ہے. ان 1810 ارب پتیوں کے پاس 6480 ارب ڈالر کی املاک ہیں. روپے میں لکھیں تو – 434160000000000 روپے. اگر ترقی کا مطلب کچھ لوگوں کے ہاتھ میں پراپرٹی-جائیداد کا کنٹرول جانا ہے، تو یہ ترقی بہت خطرناک ہے.

کیا یہ عدم مساوات صرف ہندوستان تک محدود ہے …؟ جواب ہے – نہیں، لیکن اس میں بہت اتار چڑھاو ہیں. سال 2000 میں امریکہ میں سب سے امیر ایک فیصد لوگوں اور باقی 99 فیصد آبادی کی جائیداد میں 62 گنا کا فرق تھا. برازیل میں 65 گنا، مصر میں 47 گنا، سویڈن میں 49 اور سوئٹزرلینڈ میں 53 گنا کا فرق تھا. ہم چین اور جاپان کا بہت ذکر کر رہے ہیں؛ وہاں یہ فرق بہت کم تھا. چین میں 23 اور جاپان میں 25 گنا کا فرق تھا. سب سے امیر 10 فیصد اور باقی 90 فیصد آبادی میں یہ فرق کم ہوکر صرف نو گنا رہ گیا.

دنیا کے ممالک کے درمیان فرق نہ صرف نا برابری دکھاتا ہے، بلکہ ہمیں یہ احساس بھی کرواتا ہے کہ سرمایہ کس طرح اقتدار اور طاقت کے ذریعہ امتیاز کھڑا کرتا ہے. سال 2000 میں ہندوستان میں فی بالغ جائیداد 2036 ڈالر تھی. برازیل کی 7887 ڈالر، چین کی 5672 ڈالر، جاپان کی 1.92 لاکھ، سویڈن کی 1.26 لاکھ، سوئٹزرلینڈ کی 2.33 لاکھ اور امریکہ کی 2.1 ملین ڈالر تھی. یعنی ہندوستان اور امریکہ کی فی کس جائیداد میں 100 گنا کا فرق صاف دکھتا ہے.

آبادی اور املاک کا تناسب – اب ذرا یہ بھی دیکھئے … ہندوستان میں دنیا کے 15.5 فیصد بالغ رہتے ہیں، لیکن ہندوستان کے پاس دنیا کی صرف ایک فیصد ملکیت ہے. چین میں 22.3 فیصد بالغ رہتے ہیں، پر دنیا کی جائیداد میں ان کی حصہ داری چار فیصد ہے. اس کے ٹھیک الٹ جاپان میں دنیا کے 2.7 فیصد بالغ ہیں، پر جائیداد میں حصہ داری 16.5 فیصد ہے. امریکہ میں 5.6 فیصد بالغ رہتے ہیں، پر دنیا کی تقریبا 37 فیصد جائیداد امریکہ کے پاس ہے.

21 ویں صدی، اقتصادی ترقی اور نابرابری …

گزشتہ ڈھائی دہائی میں پوری دنیا میں اقتصادی لبرل ازم، گلوبلائزیشن کی آندھی سی چلائی گئی. دلیل تھی، اس سے غربت اور عدم مساوات کو مٹایا جا سکے گا. یہ مان لیا گیا کہ اشیاء، خدمات اور وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے ہی اقتصادی ترقی ہو سکے گی. اس فکر سے انسانی اقدار کا کیا حشر ہوا، یہ تو الگ بحث کا موضوع ہے، لیکن ہم اسی موضوع پر نظر ڈالتے ہیں جو ہماری اقتصادی پالیسیوں کی جھوٹی بنیاد بنا تھا – نا برابری کا دور ختم.

سال 2000 میں ہندوستان کی کل جائیداد کے 37 فیصد حصے پر ایک فیصد بالغان کا کنٹرول تھا. سال 2005 میں یہ حصہ بڑھ کر 43 فیصد، سال 2010 میں 48.6 فیصد اور سال 2014 میں 49 فیصد ہو گیا. سال 2015 میں یہ سفر برقرار رہا اور آج 53 فیصد جائیداد ان کے ہاتھ میں ہے. اسی طرح ہندوستان کے 10 فیصد بڑے لوگ سال 2000 میں 66 فیصد جائیداد رکھتے تھے. یہ 2005 میں بڑھ کر 70.1 فیصد، 2010 میں 73.8 فیصد، سال 2014 میں بڑھ کر 74 فیصد اور پھر سال 2015 میں 76.3 فیصد ہو گیا.

امیرترین ایک فیصد افراد کی املاک کی قیمت 75000 ڈالر سے بڑھ کر 2.28 لاکھ ڈالر ہو گئی، باقی بچی 99 فیصد جائیداد کی قیمت 772 ڈالر سے بڑھ کر 1300 ڈالر ہی ہو پائی.

اب سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ان 14 سالوں میں ایک فیصد بمقابلہ 99 فیصد کی ملکیت کے درمیان کا فرق سال 2000 کے 58 گنا سے بڑھ کر 2005 میں 75 گنا، سال 2010 میں 94 گنا اور سال 2014 میں 95 گنا ہو گیا. اسی طرح 10 فیصد بمقابلہ 90 فیصد بالغ آبادی کے درمیان کا فرق 17 گنا سے بڑھ کر سال 2014 میں 26 گنا ہو گیا.

عالمی تناظر میں برازیل میں ایک فیصد بمقابلہ 99 فیصد کے درمیان کا فرق 65 گنا سے بڑھ کر 83 گنا، چین میں 23 گنا سے بڑھ کر 59 گنا ہو گیا.

صرف ان معلومات پر نظر ڈالیے … سال 2000 سے 2014 کے درمیان ہندوستان میں فی بالغ جائیداد میں 2609 ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ امریکہ میں 1.39 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا. اصل میں ہم جس ملک اور جس ترقی کے تانے بانے کو اپنانے کی بیوقوفی کر رہے ہیں، وہ ایک کھوکھلی سطح پر بنا ہوا منصوبہ ہے. اقتصادی منافع کمانے کی اس خواہش کی وجہ سے امریکہ جیسے ملک ہی ہندوستان کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں. وہ ہندوستان جیسے ممالک کے قدرتی اور انسانی وسائل کا استحصال کرتے ہیں اور ہندوستان انہیں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے، کیونکہ وہ اس الجھن میں ہے کہ جائیداد کی قیمت بڑھ رہی ہے اور وہ مالی طور پر خوش حال ہو رہا ہے. سچ یہ نہیں ہے. ڈیڑھ دہائی میں ہندوستان کی ایک قومی شکل میں جائیداد 2441 ارب ڈالر بڑھی، جبکہ امریکہ کی 40767 ارب ڈالر بڑھی. سب سے بڑی دشواری یہ ہے کہ ‘تیزرفتار اقتصادی ترقی کی شرح اور سب سے تیز بڑھتی ہوئی معیشت کا نشہ پلا کر’ ہندوستان کو ایک نیٹ ورک میں پھنسا دیا گیا ہے.

ہمیں یہ ماننا ہی پڑے گا کہ امیر لوگوں کی جائیداد کئی وجوہات (زیادہ مواقع، جائیداد کی زیادہ قیمت، وسائل پر ہر طرح کا کنٹرول، سیاست اور پالیسیوں کو متاثر کرنے کی طاقت وغیرہ) سے بڑھتی جاتی ہے. اس کے برعکس غریب طبقوں کی جائیداد بہت کم رفتاری سے بڑھتی ہے، کیونکہ انہیں اپنے وسائل کا استعمال اپنی زندگی کو محفوظ کرنے کے لئے ہی کرتے رہنا پڑتا ہے. جس طرح سے ہماری حکومتیں اپنے آئینی عوامی فلاح وبہبود کے کردار سے پیچھے ہٹ رہی ہیں، اس سے یہ طے ہے کہ یہ فرق اور بڑھتے جانے والا ہے، کیونکہ 90 فیصد آبادی کو اب اپنے ہر وسائل کو آخری قطرہ تک نچوڑ لینا ہوگا، تاکہ وہ تھوڑے دن اور زیادہ زندہ رہ سکیں.



⋆ سچن جین

سچن جین
سچن جین تحقیقی مضمون نگار اور سماجی کارکن ہیں.