آج کا کالم

کیا H1B ویزا سے امریکی پیشہ ور افراد کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے؟

رويش کمار

‘چلے جاؤ میرا ملک چھوڑ کر’. اس طرح کی پریشانیوں نے ہندوستانیوں کا پیچھا کرنا شروع کر دیا ہے. انہیں کس حد تک بڑھا چڑھا کر دیکھا جائے یا ایسے واقعات سے دہشت زدہ ہوا جائے یا صدر ٹرمپ کی یقین دہانی کے بعد کتنا مطمئن ہوا جائے، یہاں بیٹھ کر اس کی تصور کرنا ٹھیک نہیں. مگر بات ہونی چاہئے، اگر آپ کا دماغ یوپی کی نوٹنكيوں سے نہیں بھرا ہوا ہے، تو اس پر بات کر سکتے ہیں کہ جن بچوں کے انجینئر بنانے میں آپ نے لاکھوں روپے خرچ کئے، ان کے خواب پر ‘میرا ملک میرا کام’ ٹائپ کیا،اگر ان پر اس مایوس کن سیاست کا اثر پڑا تو کیا ہوگا. میڈیا کا ایسا حال آپ نے کیا ہے یا آپ کے لئے میڈیا نے اپنا کر لیا ہے، اس پر آپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں. میڈیا کی ایسی کوئی حقیقت اب  نہیں چھپی ہے۔ اگر آپ ہندوستان کی جمہوریت کے لئے اسی طرح کا میڈیا بہتر سمجھتے ہیں تو ضرور آپ نے کچھ سنجیدگی سے سوچا ہی ہوگا. کیونکہ آپ سمجھدار ہیں، آگاہ ہیں، اس بات کو لے کر مجھے کبھی شک نہیں رہا.

 بہر حال، بھارتی صنعت دنیا کے لوگ نہ یہاں کی حکومت پر سوال اٹھا سکتے ہیں، نہ امریکہ کی حکومت میں. ہر حال میں امید جتانا اور خطروں کو کم بتانا ان کی مجبوری بھی ہے اور ان کے لئے ضروری بھی ہے. آپ کو کسی بھی صنعت کار سے بات کیجئے، وہ بحران کے سب سے اوپر بیٹھا ہو گا، بات ایسے کرے گا جیسے بسنت کی ہوا چل رہی ہو، لیکن اندر ہی اندر وہ چھانٹ کرنے میں لگا رہے گا، سیلری کم کرنے کے طریقے تلاش کرتا رہے گا. جب تک بیٹھ نہیں جاتا، ڈوب نہیں جاتا تب تک وہ خطرے کو خطرہ نہیں بتاتا ہے. وہ ہر خطرے کو موقع بتاتا ہے. پھر بھی امریکہ میں جو گھٹ رہا ہے، اسے لے کر حکومت فکر مند نہ ہوتی تو سیکرٹری خارجہ امریکی انتظامیہ کے پاس اپنی بات رکھنے نہیں گئے ہوتے.

H1-B immigrant worker visa. یہ ایک طرح کی فوری خدمت ہے. 15 دن کے اندر اندر 1225 ڈالر کی فیس دے کر امریکہ کے لئے ویزا مل جاتا ہے. امریکہ نے 3 اپریل کے بعد  فوری طور پر اس  خدمت پر روک لگا دی ہے. اس ویزا کے تحت ہر سال000 85، ویزے دیے جاتے تھے. ایک اندازے کے مطابق اس کا 75 فیصد بھارتی فائدہ اٹھا لیتے ہیں. اندازے کے مطابق تین لاکھ بھارتی H1-B ویزا پر امریکہ میں کام کر رہے ہیں.

جب آپ کی بیٹی یا بیٹے کا فون آتا ہے کہ اگلے ماہ امریکہ جانا ہے تو کیسا لگتا ہے. یہی سوچتے ہوں گے کہ بڑا موقع ملا ہے، بڑی امکانات کے قریب آپ کے بچے جا رہے ہیں. جب آپ کو پتہ چلے کہ وہاں کی حکومت ایسی پالیسی بنا رہی ہے، جس سے اس کے وہاں جانے کا امکان پہلے سے کم ہو جائے تو کیسا لگے گا. وپرو، یچسییل ٹیکنالوجی، ٹاٹا، كسلٹے،سي سروسز، جیسی بڑی کمپنیاں ہر ماہ سافٹ ویئر انجینئرز کو بھیجتی ہیں. اب کہا جاتا ہے کہ اس ویزا کے سہارے بھارتی انجینئر کم پیسے پر کام کرتے ہیں، امریکی انجینئرز کو کم موقع ملتا ہے. اب یہاں ایک سوال آپ پینلسٹ سے پوچھوگا کہ کیا امریکہ بھارت کے جتنا یا بھارت کے جیسا انجینئر پیدا کرتا ہے. ایسا نہیں ہے کہ ہندوستان نے کوشش نہیں کی. میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی افسر امریکی انتظامیہ سے مل کر اپنی بات سمجھاتے رہے، انہیں امید بھی تھی لیکن ویزا پر چھ ماہ کا روک لگا کر امریکہ یہ اشارہ دے رہا ہے کہ فی الحال آپ کی پالیسی پر چلیں گے.

بھارت کی کل جی ڈی پی کا 9 فیصد آئی ٹی سیکٹر سے آتا ہے. بھارت امریکہ کے تعلقات کے درمیان یہ بزنس اہم کردار ادا کرتا ہے. انفوسس جیسی کمپنی کا نصف آمدنی امریکہ سے ملنے والے کاروائی پر انحصار کرتا ہے. یہیں پر ایک سوال بنتا ہے کہ کیا بھارتی سافٹ ویئر کمپنیوں کے لئے امریکہ کے علاوہ کوئی اور بڑا بازار ہے. اس وقت ان کو کس ملک کے سافٹ ویئر انجینئرز مل رہے ہیں ۔ اس کا ہندوستان میں انجینئرنگ کی تعلیم پڑھ رہے طالب علموں پر کیا اثر پڑے گا. ریپبلکن سنیٹر نے بل پیش کیا ہے کہ جو بھی باہر سے امریکہ آئے اسے کم از کم ایک لاکھ ڈالر کی سیلری دی جائے. یعنی سیلری اتنی زیادہ ہو کہ کمپنیاں مجبور ہو جائیں کہ وہ سستے بھارتی انجینئرز کی جگہ امریکی انجینئرز کو موقع دیں. امریکہ میں بھارتی انجینئرز کو روکنے کے لئے یا بیرونی انجینئرز کو روکنے کے لئے ایک بل بھی پیش کیا گیا ہے تاکہ کمپنیاں امریکی انجینئرز کو زیادہ ترجیح دیں. امریکہ کے محکمہ لیبر نے سافٹ ویئر کمپنی ریكل نے مقدمہ بھی کیا ہے کہ کمپنی نے سفید، هسپانك، افریقی امریکی لوگوں کو کم روزگار دی ہیں اور ایشیائی، خاص طور پر ہندوستانیوں کو زیادہ ترجیح دی ہے.

بھارتی کمپنیاں امریکیوں کو بھرتی کرنے لگیں تو بھارتی انجینئرز کا کیا ہوگا. یہ بھی ایک سوال ہے. کمپنیاں تو پھلتي-پھولتی رہ جائیں گی، مگر ان میں کام حاصل کرنے کی امید لئے جو نوجوان کالجوں میں ہیں ان کی گاڑی کہاں پھسےگي. کیا بھارتیہ سافٹ ویئر کمپنیوں نے اس طرح کا بھرتی مہم شروع کر دیا ہے کہ ہندوستانیوں کی جگہ اب امریکی عوام کو رکھا جائے. آخر خارجہ سیکرٹری اور ان کی ٹیم کی کوششوں کے بعد بھی امریکی انتظامیہ نے بھارت کا موقف کیوں نہیں سنا. بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ فوری طور پر خدمت ٹائپ والی ویزا پر چھ ماہ کی روک عارضی ہے. پرانی خامیوں کو درست کیا جا رہا ہے. مگر امریکہ نے اپنی طرف سے ایسا کچھ نہیں کہا ہے. ایسے میں بھارتی کمپنیوں کے علاوہ انجینئرز کو کیا کرنا چاہئے. کیا انہیں اس طرح کی ذہنیت کے خلاف آواز نہیں اٹھانی چاہئے. اگر انجینئر اپنے ملک میں ایسی باتوں کی حمایت کریں گے تو امریکہ کو لے کر مخالفت کہاں کریں گے. ان کا ساتھ کون دے گا. پر دنیا میں سب خاموش نہیں ہیں۔

اسی 16 فروری کو امریکہ بھر میں اميگریٹس نے اپنے آپ کو ایک دن کے لئے کام سے دور رکھا. اس احتجاج کا نام تھا "A Day Without Immigrants.” ٹرمپ حکومت کی پالیسی کی مخالفت کرنے کے لئے بیرونی ملکوں سے آئے لوگوں نے اپنی ایک دن کی تنخواہ اور مزدوری چھوڑ دی. اس مظاہرے کا مقصد امریکہ کے لوگوں کو بتانا تھا کہ ان کے ایک دن کام پر نہیں آنے کا کیا مطلب ہے. ان کی خدمات پر کیا اثر پڑے گا. اس کی حمایت میں امریکہ میں بہت سے ہوٹل ریستوران والوں نے پوسٹر بھی لگائے. نعرہ دیا کہ اميگریٹس نے امریکہ کو عظیم بنایا ہے. وہ امریکہ کو عظیم بناتے ہیں. وہ خوش کھانا بناتے ہیں. آپ کا کام کرتے ہیں. میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مظاہرے میں شامل ہونے کی وجہ سے کچھ لوگوں کی نوکریاں بھی چلی گئیں. تو یہ ذہنیت کمپنیوں میں بھی گھس گئی ہے. ‘ملک سے باہر جاؤ’ کی سیاست کا وہی سر ہے جو آپ ہندوستان میں بات بات میں پاکستان بھیج دینے کی سیاست کے شور میں سنائی دیتا رہتا ہے.

کیا بھارتیہ سافٹ ویئر کمپنیوں کو ان بزنس کے بدلے امریکہ کو کچھ نہیں دیتی ہوں گی. ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ بھارتی سافٹ ویئر کمپنیوں کے بزنس سے امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں ہے. وہاں کے انجینئرنگ کالجوں میں یہاں سے لون لے کر پڑھنے گئے طالب علموں سے کوئی فائدہ نہیں ہے. حقیقت کیا ہے. حقیقت کا کوئی کردار بھی ہے. جب یہیں نہیں ہوتی تو وہاں ہم کس طرح توقع کر سکتے ہیں؟ پھر بھی یہ جاننا ضروری ہے کہ امریکی معیشت کو ہندوستانی کمپنیاں کیا دیتی ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close