آج کا کالم

کیا RTI میں غلط معلومات بھی دی جا رہی ہیں؟

رويش کمار

معلومات آپ کو بدل دیتی ہے. غلط معلومات سے آپ فسادی بن جاتے ہیں جیسے آپ نے دیکھا کہ اتراکھنڈ کے اگستيمنی میں کیسے لوگ غلط اطلاع کی وجہ فسادی بن گئے اور دکانوں کو جلا آئے. اگر انہوں نے حق اطلاع کے تحت صحیح جاننے کا دعوی کیا ہوتا، کوشش کی ہوتی تو وہ مجرم بننے سے بچ سکتے تھے اور کسی کی دکانیں نہیں جلتیں. مشکل یہ ہے کہ معلومات کا بازار ہی افواہوں اور فیک نیوز سے بھر گیا ہے. آئینی عہدوں پر بیٹھے لیڈر جھوٹ بول کر اطلاع جیسے مقدس عنصر کو آلودہ کر رہے ہیں. ہر طرح کی معلومات مشکوک ہے.

اس بیچ ایک قانون ہے ’حق معلومات‘ کا قانون. جس کا استعمال آپ کو بدل دیتا ہے. آپ کے اکثر پوچھے گئے سوال کے جواب میں انتظامیہ کے اندر اندر ہلچل پیدا ہو جاتی ہے اور آپ صرف ایک کوشش سے جمہوریت میں پہرے دار بن جاتے ہیں. حق معلومات کا مکمل ماڈل ہی اس پر بیسڈ ہے کہ جمہوریت کے چوکیدار آپ بنیں نہ کہ کوئی اور بنے. ہزاروں قسم کے اداروں کی نگرانی کوئی ایک چوکیدار سے نہیں ہو سکتی ہے۔ انتخابات میں چل سکتا ہے جیسے کہ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ دہلی میں چوکیدار ہیں۔ ایسی باتیں کہہ دی جاتی ہیں مگر روزمرہ کی جمہوریت کی چوکیداری تبھی ہوتی ہے جب عوام جاننے کے حق کو لے کر محتاط رہتی ہے. ایک ادارے سے چوک ہوتی ہے تو کوئی نیرَو مودی فرار ہو جاتا ہے.

جس بازار سے یعنی نیوز چینلز اور اخبارات سے آپ معلومات خریدتے ہیں، اس سے ملنے والی معلومات سچ اور قابل اعتماد ہے یا نہیں، اسے لے کر محتاط رہا کیجیے اور جن سرکاری اداروں سے آپ اتھارٹی کے تحت معلومات مانگ سکتے ہیں، اسے بھی لے کر محتاط رہیے. بھارت میں حق معلومات کا قانون 15 جون 2005 کو پاس ہوا تھا. وہ دن تاریخی تھا. اس کے پہلے یہ قانون مختلف شکلوں میں کچھ ریاستوں میں موجود تھا. راجستھان میں یہ قانون عوام کے درمیان سے نکل کر آیا ہے. اس تجرباتی سفر کو ایک کتاب میں تالیف کیا گیا ہے.

‘THE RTI Story’، اسے لکھا ہے ارونا رائے نے۔ مگر وہ اس کی اکیلی مصنفہ نہیں ہیں. شاید وہ ہزاروں لوگ ہیں جنہوں نے سخت دھوپ میں کھڑے ہوکر ہفتوں دھرنا دیا، جن سنوائی میں حصہ لیا اور انفارمیشن کی اہمیت کو سمجھا، وہ سب کے سب لوگ اس کتاب کو لکھ رہے ہیں یا ان سب کی کہانی اس کتاب میں لکھی جا رہی ہے. حکومت سے معلومات مانگی جا سکتی ہے، یہ خیال ہی نیا تھا. ابھی تک لوگ حکومت سے روٹی کپڑا اور مکان مانگ رہے تھے، مگر کچھ کرنے کے خیال سے سات سال کی آئی اے ایس کی نوکری چھوڑ کر ارونا رائے، ایئر مارشل کے بیٹے نکھل ڈے امریکہ میں اسكالرلشپ چھوڑ کر آتے ہیں اور ایک گاؤں میں اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں. دیوڈنگري اس کا نام ہے. شنکر سنگھ، انشي ان سے جڑتے ہیں. ان سب کے ذہن میں ایک بے چینی تھی، کچھ قابل قدر کارنامہ کرنا ہے، اپنے لئے نہیں، ایسا کچھ جو لوگوں کی زندگی بدل دے.

ان کی زندگی کا سفر بہت سے لوگوں کے سفر میں بدل جاتا ہے. ہندوستان کو ایک انقلابی قانون ملتا ہے، حق معلومات کا قانون. ساتھ ہی ایک ایسی عوام کا تصور کرنے والا قانون جس کے بارے میں ابھی تک سوچا نہیں گیا تھا. ہمارے ناظرین میں سے جس نے بھی زندگی میں کبھی حق معلومات کے قانون کا استعمال کیا ہے، وہ اس کتاب کا مصنف بھی ہے اور قاری بھی ہے. وہ بھی اس کے مصنف ہیں جو حق معلومات کے استعمال کرنے کی وجہ مار دیے گئے ہیں. وہ حق معلومات کے شہید ہیں. آپ جانتے ہیں کہ میں جب کتاب کا نام لیتا ہوں، دام بھی بتاتا ہوں اور ناشر کا نام بھی بتاتا ہوں. اسے چھاپا ہے رولی بکس پبلشنگ نے اور قیمت ہے 495 روپے. یہ کتاب انگریزی میں ہے اور جلد ہی راج کمل اشاعتی ادارے سے ہندی میں آ رہی ہے.

ایک منٹ کے لئے اس کتاب سے ہٹ کر ایک سوال پر غور کیجئے. فیک نیوز کے اس دور میں جب میڈیا کا بڑا حصہ گودی اور غلام میڈیا ہو گیا ہے، اگر آپ کے پاس حق معلومات کا قانون نہیں ہوتا تو کیا ہوتا. اس سوال پر آپ سنجیدگی سے غور کیجیے. اگر یہ قانون نہیں ہوتا، اس کے بعد آپ حکومت کے دعووں کو پرکھنے کے لئے، صحیح یا غلط ثابت کرنے کے لئے کہاں سے معلومات لاتے. اندھیرا کتنا گھنا ہوتا.

آپ کا ہی ڈیٹا چرا کر، آپ کو جھوٹ پروسنے کا ایک ہتھکنڈا تیار ہو گیا ہے. آر ٹی آئی ایک دیے کی طرح ہے، کم از کم آپ معلومات مانگ کر دیکھ تو سکتے ہیں کہ اندھیرا کتنا گھنا ہے. جھوٹ کتنا ہے اور سچ کتنا ہے. کیا حق معلومات جعلی نیوز سے بچا سکتا ہے. جب چاروں طرف جھوٹ ہو اور پریس کا بھی بھروسہ نہ ہو، حق اطلاع آخری حق ہے، جاننے کا. آپ  پیسے دے کر صحیح معلومات خرید سکتے ہیں، یہ بھرم اب ٹوٹ گیا ہے.

بھارت میں بھی اور دنیا میں بھی. میں نہیں جانتا کہ آپ کی جدوجہد بھرے سفر میں اس قانون سے وابستہ لوگوں نے اس دن کا تصور کیا تھا یا نہیں مگر اس کتاب کو جتنا بھی پڑھ سکا ہوں، یہی لگا کہ حکومتیں جھوٹ کا پلندہ ہوتی ہیں. حق معلومات سے ہی آپ صحیح جان سکتے ہیں. یہ ایسا قانون ہے جو اندر بیٹھے افسران کو بھی مضبوطی دیتا ہے، وہ جو ایماندار ہیں اور جو پریشان ملازم ہیں، ان کے لئے بھی یہ سہارا ہے. ہر کوئی اس قانون کا اپنے اپنے حساب سے استعمال کر رہا ہے.

اس کتاب کو پڑھتے ہوئے آپ جان پائیں گے کہ کس طرح سارا کھیل صحیح معلومات کا ہے. آپ تک سرکاری ریکارڈ کی معلومات نہ پہنچے، اسی پینترے بازی کے تحت ہم سب کچلے جا رہے ہیں. پيارجي ایک سرپنچ کا قصہ ہے اس میں. پنچایت کی سیٹ ریزرو ہوئی تو متاثر کن قوموں نے ایک حکمت عملی بنائی. وہاں میگھوال جو ایک دلت ذات ہے، اس کی تعداد زیادہ ہے، اس کے کسی کو سرپنچ بننے سے روکنے کے لئے دو چار گھر والے کھٹیک سماج میں کسی کی تلاش ہوتی ہے. پیار جی سورت میں مٹی کا تیل بیچ رہے تھے، وہاں سے بلایا جاتا ہے کہ ہم تمہیں سرپنچ بنائیں گے. وہ آتے ہیں اور سرپنچ کا الیکشن جیت جاتے ہیں اور ٹھاکر ذات کے ہاتھ میں کھیلنے لگتے ہیں. جلد ہی پیار جی سمجھ جاتے ہیں کہ ان سے غلط کرایا جا رہا ہے. وہ مزدور کسان تنظیم کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے گاؤں میں جن سنوائی ہو.

ایک سرپنچ اپنے ہی خلاف جن سنوائی کا مطالبہ کرتا ہے. تاکہ وہ اس سے آزاد ہو سکے. کئی بار آپ خود سے آزاد نہیں ہو پاتے ہیں، تو دوسروں کی مدد لیتے ہیں. سارا کھیل سامنے جاتا ہے جو اس کے بعد سے جانچ ہوتی ہے. یہ ہے صحیح معلومات کا اثر. ورنہ تو ان کے گاؤں میں بی پی ایل خاندانوں کی فہرست میں اعلی ذات کے لوگ اپنا نام جوڑ کر سرکاری اسکیموں کا فائدہ لے رہے تھے. جن کے لئے منصوبہ بندی کی تھی انہیں تو مل ہی نہیں رہی تھی. ایسے واقعات سے یہ کتاب بھری ہوئی ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close