آج کا کالم

کیرالہ: سرخ اور بھگوا پرچم باہم  دست و گریباں

ڈاکٹر سلیم  خان

نئی سرکار کی تریمورتی میں درمیانی شیر نریندر مودی ہے اور دائیں بائیں جیٹلی اور شاہ ہیں۔ مودی بہت زیادہ  بولتے ہیں، جیٹلی بہت کم  بولتے  ہیں مگر شاہ کیا بولتے ہیں وہ خود بھی نہیں جانتے۔ شاہ جی پورا ہندوستان گھومتے ہیں مودی ساری دنیا کی سیر فرماتے ہیں لیکن جیٹلی دہلی سے باہر نہیں جاتے۔ نوٹ بندی کے سبب جب لوگ قطار میں دم توڑ رہے تھے تب بھی ملک کا یہ وزیر خزانہ گھوڑے بیچ کر سورہا تھا۔ دہلی یونیورسٹی کے اس سابق  اے بی وی پی رہنما کو کبھی جے این یو میں جاکر یہ دیکھنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ نجیب احمد اچانک کہاں غائب ہوگیا؟ سپریم کورٹ کے اس بے حس وکیل نے کبھی یہ پتہ لگانے کی کوشش نہیں کی کنھیا کمار پر عدالت کے اندر کس نے حملہ کیا؟ اس سال فروری میں جب اے بی وی پی کے غنڈوں نے دہلی یونیورسٹی کے شمالی کیمپس پر حملہ کیا تب بھی جیٹلی کا کہیں اتہ پتہ نہیں تھا  لیکن اچانک کیرالہ کے اندر آرایس ایس  کارکنراجیش ایڈاواکوڈ کے قتل نے اسے خوابِ خرگوش سے بیدار کردیا اور وہ ہزاروں میل دور مقتول کے پسماندگان تعزیت کرنے کے لیے پہنچ  گیا۔

  ارون جیٹلی نے کیرالہ میں  ایک غیر معمولی  تقریر کی  کاش کہ وہ  خطاب بلا تفریق مذہب وملت ہر ظالم کے خلاف اور ہر مظلوم کی حمایت میں ہوتا لیکن ہائے افسوس کہ بھید بھاو نے سارا کیا کرایا چوپٹ کر دیا۔ جیٹلی نے کہا اگربی جے پی حکومت والی ریاست میں ایسا ہوتا تو ایوارڈ لوٹائے جاتے۔  یہ بات درست ہے, لیکن ای راجیش کے قتل  پر ایوارڈ لوٹانے سے سنگھیوں کو کون  روک رہا ہے ؟ لالچ ان کے پیروں کی زنجیر بنی ہوئی ہے یا  ان کے پاس لوٹانے کے لیے  ایوارڈ ہی نہیں ہے۔ اس نااہل سنگھ پریوار کو دنگا فساد اور سیاسی جوڑ توڑ کے سوا آتا ہی کیا ہے اور ان حرکتوں پر کوئی اعزاز نہیں دیا جاتا لیکن ایک سوال یہ بھی ہے  کہ اگر راجیش کا تعلق سنگھ پریوار سے نہ ہوتا تو کیا وہ اس کے اہل خانہ سے ملنے جاتے؟ اس طرح کی صورتحال میں جب کوئی مارا جاتا ہے تو بی جے پی والوں کا ردعمل مختلف قسم کا ہوتا ہے۔ کوئی تو قتل کا انکار کردیتا ہےتو کوئی  کہتا ہے کہ یہ عام سا مجرمانہ واقعہ ہے ۔کسی کے نزدیک یہ نظم و نسق کا معاملہ ہوتا تو کوئی اسے صوبائی حکومت کی ذمہ داری قرار دے کر اپنا دامن جھاڑ لیتا ہے۔ کوئی اعدادو شمار کی مدد سے یہ ثابت کرنے کی سعی کرتا ہے کہ اس طرح واقعات کانگریس کے زمانے میں زیادہ ہوتے تھے۔  یہ لوگ خود تو نہیں جاتے لیکن اگر کسی اور جماعت کا  رہنما ازراہِ ہمدردی چلا جائے تو اسے اقلیتوں کی منہ بھرائی  قرار دے کر اکثریتی طبقہ کو اس کے خلاف بھڑکاتے ہیں  مگر جب خود پر آتی ہے تو بنگال کی طرح  فوراً مرکزی حکومت فوج روانہ کردیتی ہے۔ جیٹلی جی اپنے پریوار کے دفاع کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ وہ کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ پورے ملک کے وزیرخزانہ ہیں اور ان کی تنخواہ اور عیش و عشرت سارے عوام  کی مرہونِ منت ہے۔

جیٹلی نےکہا کہ سیاسی کارکنوں پرحملےکےکئی معاملات سامنے آئے ہیں اورروزانہ ہورہے ہیں ۔ یہی حال تو گئو رکشکوں کے حملوں کا بھی ہے بلکہ ان کی تعداد سیاسی قتل سے تجاوز کرتی ہے اور اس کا شکار ایسے بے قصور ہوتے ہیں جن کا کوئی سیاسی مفاد بھی نہیں ہوتا۔ جیٹلی نے جب ریاست میں خوف اوردہشت کے ماحول کا ذکر کیا تو ہنسی آگئی اس لیے کہ  فی الحال ملک بھر میں پائے جانے والے ڈر کے ماحول پر ساری دنیا تنقید کررہی ہے۔ارون  جیٹلی نےفرمایا ’’تشدد کیلئےسماج میں کوئی جگہ نہیں ہے، ہمیں اسکی مذمت کرنی چاہئے۔ میری ریاستی حکومت سےاپیل ہے کہ صوبے کی ترقی کے لئے ریاست میں امن برقراررکھے‘‘۔ یہی گزارش تو اس ملک کے مسلمان اور دلت  مرکزی حکومت سے کرتے ہیں  کہ  تشدد کی ملک میں جگہ نہیں ہے اور ترقی و خوشحالی کی خاطروہ نظم و نسق  قائم رکھے۔  جیٹلی جی نےکہا  جب بھی  بایاں محاذ برسرِ اقتدار آتا ہے صوبے کے اندر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہےمگر وہ بھول گئے کہ بہار کے اندر بی جے پی اقتدار میں شامل ہوتے ہی تشدد کا واقعہ رونما ہوگیا۔  راجیش کے ساتھ ہمدردی کا جتاتے ہوئے جیٹلی بولے کہ جس طرح کا زخم اس کو لگا ہے اسے دیکھ دہشت گرد بھی شرمندہ ہوگئے ہوں گے تو کیا  جھارکھنڈ میں محمد مظلوم اور 12 سالہ عنایت اللہ کی لاشوں کو  پیڑ سے لٹکتادیکھ کر  دہشت گرد رنجیدہ ہوئے  ہوں  گے۔  راجیش کی لاش پر زخموں کی تعداد گننے والے جیٹلی کو چاہیے تھا کہ وہ حافظ جنید کے زخم بھی گنتے اس لیے کہ اس کی ویڈیوان کو بھی واٹس ایپ پر ملی ہوگی۔

 جیٹلی جی نے یاد دلایا کہ حکومت عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے منتخب کی جاتی ہیں  اور اس کو یہ یقینی بنانا چاہیےکہ تشدد کا ماحول  پروان نہ چڑھے ۔ کاش کے جیٹلی جی کو حکومت کی اس ذمہ داری کا احساس راجیش کے قتل سے پہلے ہوتا اور مرکز اور صوبائی بی جے پی سرکاریں اپنے اس فرض منصبی کو  ادا کرتیں تو نہ جانے کتنے بے قصور لوگوں کی جان بچ جاتی اور ملک گئو دہشت کے عفریت سے محفوظ ہوجاتا۔ کیرالہ کے تشدد کا رونا رونے والے بی جے پی رہنما کو اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھنا چاہیے۔  کیرالہ کے اندر سیاسی قتل و غارتگری کےسرکاری  اعداو شمار چونکانے والے ہیں ۔ 1991 سے لے کر اب تک ایک کننور ضلع میں 45 سی پی ایم اور 42 آرایس ایس کے کارکنان کا قتل ہوچکا ہے۔ 2006 سے لے کر اب تک ریاست گیر سطح پر سی پی ایم کے 50 اور آرایس ایس کے 44 کارکنوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔  فروری 2016 سے لے کر اب تک تازہ صورتحال یہ ہے کہ سی پی ایم کے 4 اور آرایس ایس کے 10 لوگوں کا قتل ہوا۔ اس لیے جیٹلی جی نے صوبائی حکومت کو تلقین کی کہ  وہ اپنے کارکنان کو قابو میں رکھے تاکہ  سیاسی مخالفین پر حملے نہ ہوں ۔ جیٹلی جی کو چاہیے کہ وہ یہ مشورہ یوگی جی کو بھی دیں جن کے اقتدار میں آتے ہی دو ماہ کے اندر 729 قتل اور 803 عصمت ریزی کی وارداتیں ہوئیں جن میں کتنے ترشول دھاری  اور کتنے رومیو اسکواڈ کے لوگ  ملوث تھے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

جیٹلی کی آمد سے قبل  کیرالہ کے اندر سی پی ایم کے مارے جانے والے 21 افراد کےرشتہ داروں نے راج بھون کےباہر مظاہرہ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا  کہ جیٹلی انکے گھروں کا دورہ کرکے ان کی فریا د بھی سنیں ۔ سیپی ایمکیترووننتپورماکائی کےسیکریٹریانناورناگپّن نے اس الزام کی تردید کہ سیپی ایم تشدد میں ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 29 جولائی کوہونے والے آرایس ایس عہدیدار راجیش کے قتل میں سیپی ایم کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ وہ آپسی دشمنی کا شاخسانہ ہے۔ ناگپّن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ جیٹلی کو سیپی ایم کے ان کارکنوں کےگھربھیجانا چاہئے جنکا سیاسی قتل ہواہے لیکن سنگھ پریوار کے لوگوں سے اس طرح کی کشادہ دلی کی توقع کرنا فضول ہے۔ تقدیر سے پورے  ملک کا اقتدار توان کے ہاتھ آگیا لیکن  وہ اپنے آپ کو مٹھی بھر زعفرانیوں کا رہنما خیال کرتے ہیں۔  وہی یرقانی  بھکت اس سرکار پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے  جیٹلی نے اس دورے سے اپنے ہی پیر پر کلہاڑی چلائی ہے۔

ارون جیٹلی نے اپنے کارکنان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ’’اس طرح کے تشددسے نہ تو ہمارا نظریہ دبے گا اور نہ ہمارے کارکن خوفزدہ ہوں گے‘‘ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ  ملک بھر میں سنگھ کے دہشت گرد اقتدار کے  آتے ہی  بے خوف ہوجاتے  ہیں  اور جب سرکار چلی جاتی ہے تو دبک کر بیٹھ جاتے ہیں  ۔ اس لیے جیٹلی کا یہ  کھوکھلا دعویٰ ہے کہ اس سے سنگھی کارکنان کے عزم و استقلال میں اضافہ ہوگا ۔ وہ اپنے مخالفین کا اور زور وشور سے مقابلہ کریں گے بعید ازقیاس ہے۔  جیٹلی نے کہا کہ  ہمارے خلاف تشدد کرنے والے یاد رکھیں کہ ہماری تنظیم ، ہماری سیاسی جماعت اور ہماری ہمدرد تنظیمیں اس طرح کے حملوں کے باوجود کئی نسلوں تک قائم رہی ہیں ۔ ہندو احیاء  پرستوں کی تاریخ جیٹلی کے اس بیان کی تائید نہیں کرتی۔  یہ لوگ اقتدار ملنے کے بعد ہی شیر بنتے ہیں ورنہ تو ان کی نانی مرجاتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close