آج کا کالم

کیسے ہیں ہمارے بینکوں میں کام کاج کے حالات؟

رويش کمار

مترجم: محمد اسعد فلاحی

ایک سوال آپ خود سے کیجئے. 24 سال کی عمر میں بھگت سنگھ کے نام کا نوجوان پھانسی پر چڑھ گیا. کیا اس لئے کہ 2018 کے سال میں اس کے ہندوستان میں لاکھوں کی تعداد میں بینکر اور ان میں بھی خواتین بینکر خود کو کہیں کہ وہ غلام ہیں. وہ جھوٹ کی بنیاد پر کھڑے اعداد و شمار کو دنیا سے کب تک بچائے رکھیں گے، کبھی نہ کبھی یہ اعداد و شمار کی چھت انہی کے سر پر گرنے والی ہے. گر ہی رہی ہے. 23 سال کے بھگت سنگھ کی بات اس لئے کر رہا ہوں کہ تناؤ اور ذلت کی وجہ سے 23 سال کا ایک بینکر ہسپتال میں داخل ہو گیا. یہ کوئی ایک دن کا قصہ نہیں ہے، روز کا ہے.

بینکوں کی دنیا کی زبان کے اپنے الفاظ ہیں. وہ ٹرانسفر کو trf کہتے ہیں، اٹل پنشن یوجنا کو اے پي وائی کہتے ہیں. ٹی ایم ٹی کا مطلب ہوا ٹاپ مینجمنٹ ٹاک. ایسے ہی ایک بینک کے ٹی ایم ٹی میں کہا گیا کہ این ڈی ٹی وی نہ دیکھیں. بینکوں کے چیيرمین اور ریجنل منیجروں کو کیوں ایسا لگتا ہے کہ وہ لوگوں کی پسند کو بھی کنٹرول کر لیں گے. ایک نہ ایک دن لیدر کی کرسی اور اس پر رکھا سفید تولیہ چھوٹ جاتا ہے. ستیہ نارائن بابا کی کتھا سے نجات نہیں ملتی ہے، وہاں بھی بابا دیکھتے ہیں کہ ان کے پیچھے جھوٹ کا انبار کتنا بڑا ہے. لہذا ٹی ایم ٹی کیجیے ٹاپ مینجمنٹ ٹاک کیجیے، این ڈی ٹی وی بھی مت دیکھئے لیکن 13 لاکھ لوگوں کی زندگی جس جھوٹ کو جی رہی تھی، وہ باہر آ چکی ہے. حقیقت تو ایک دن باہر آجاتی ہے. سچ نہیں آئے گا تو ایک دن بینکروں کے چہرے کی اداسياں باہر آجائیں گی، ان کے جسم کی بیماریوں سے سچ باہر آجائے گا. کوئی ضروری نہیں کہ آپ حقیقت کے سہارے ہی سچ تک پہنچیں، چہرے کی جھرریاں بھی اپنے آپ میں حقائق بن جاتی ہیں. ہماری باتوں میں وزن نہیں ہوتا تو ایسے حکم نہ نکالے جاتے. تمام چیف مینیجر / برانچ منیجر کو یہ حکم بھیجا گیا ہے. اس میں سبجیکٹ میں این ڈی ٹی وی انڈیا کا پروگرام لکھا ہے. لکھا ہے کہ كنفرم کریں کہ خواتین اور مردوں کے لئے الگ الگ ٹوائلیٹ کا بندوبست کر دیا گیا ہے یا نہیں. یہ ساری معلومات 7 مارچ کی شام انتظامی ہیڈکوارٹر تک پہنچ جانی چاہئے.

اس کا مطلب ہے مجھ تک لوگ صحیح معلومات پہنچا رہے ہیں. سنڈیکیٹ بینک نے بھی 8 مارچ کو اپنے دفاتر میں حکم جاری کیا ہے کہ گاہکوں کے بیٹھنے کا مناسب نظم کیا جائے، صاف ستھرا ماحول رہے اور صاف ستھرا ٹوائلیٹ ہو. اس طرح کے حکم بہت سے بینکوں نے جاری کئے تب جب بینکوں کے اندر اندر سے تصاویر چل کر آنے لگیں کہ دیکھئے ہماری حالت یہ ہے. یہ نہ سمجھیں کہ یہ سب دفتروں کی عام شکایات ہیں. سینکڑوں لوگوں سے بات کرنے کے بعد یہ پیٹرن سمجھ آیا ہے کہ برانچ کی سطح کے منیجروں سے کس طرح کا سلوک ہو رہا ہے. کس طرح فرضی طور پر اٹل انشورنس یوجنا بکوائی جا رہی ہے تاکہ وہ اعداد و شمار میں بدل جائے اور کامیابی کا دعوی کر لیا جائے. یہی حال کرنسی لون کا بھی ہے. صرف تردید کر دینے سے سچ نہیں ڈھک جاتا ہے. 8 مارچ کو ہم نے بینکوں میں غلامی پر چوتھا مضمون لکھا. اس  مضمون میں شمالی بہار دیہی بینک کے ایک حکم کا ذکر کیا. آپ اس حکم کو دیکھئے. زبان دیکھئے. ایسا لگتا ہے کہ بینک کے مینیجروں کو شکنجے سے باندھ کر کسی غلام کی طرح ہیرے کی کان میں لے جایا جا رہا ہے.

ہیڈ آفس کی طرف سے تمام اہلکاروں کے لئے وقفے میں نہیں جانے دینے کا حکم دیا گیا ہے. آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اگر کوئی کارکن بیمار ہوتا ہے اور طبی وقفے میں روانگی کرتا ہے تو وہ ہیڈ کوارٹر میں ہی رہ کر اپنا علاج کروائیں گے اور متعلقہ کاپی علاقائی دفتر پر منتقل کریں گے. دوسری صورت میں آپ کو طبی رخصت کی منظوری نہیں دی جائے گی ساتھ ہی آپ کو بلا معاوضہ کیا جائے گا.

بلا معاوضہ کرنا یعنی سیلری نہیں دی جائے گی. اس حکم میں یہ لکھا ہے کہ آپ کا جہاں برانچ ہے اس جگہ سے باہر نہیں جا سکتے. مطلب یہ ہوا کہ مظفرپور کے برانچ میں کسی کو ہارٹ اٹیک آیا، لیوَر میں کوئی تکلیف ہوئی تو وہ ضلع سے باہر پٹنہ تک علاج کے لئے نہیں جا سکتے ہیں. کیا اس طرح کے احکامات جاری کیے جا سکتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے خوفناک خوفناک احکامات جاری کیے گئے ہیں جو انسانی حقوق کے براہ راست خلاف ہیں. ہماری زندگی کے بنیادی حقوق کی خلاف ہیں. آئین پڑھتے تو پتہ چلتا کہ حکم دینے والے افسر کو ہی جیل بھیج دینا چاہئے تھا. مگر جب ہم نے لکھا اور بولا تو چند گھنٹے میں نیا کمانڈ ٹائپ ہو گیا. پہلا حکم 5 مارچ. نیا والا حکم 8 مارچ کا ہے. اس میں لکھا ہے،’مذکورہ خط میں جزوی ترمیم کرتے ہوئے تمام شاخوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر کوئی افسر یا اہلکار طبی وقفے میں ہیڈ کوارٹر میں روانگی کرتے ہیں تو اس کی اطلاع  قابل عہدیدار کو دے کر اجازت لینا یقینی بنائیں گے.’

بینکوں میں کسی کو چھٹی آسانی سے نہیں ملتی ہے. شمالی بہار کے دیہی بینک کا بھی کافی مسئلہ ہے. عام طور پر ہم ایسے بینک کے بارے میں کم جانتے ہیں مگر ان بینکوں میں گاہکوں کی کوئی کمی نہیں رہتی ہے. ان کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے. عام طور پر دیہی بینک ویسی جگہوں پر ہوتے ہیں جہاں پر سرکاری یا پرائیویٹ بینک نہیں پہنچ پاتے ہیں. ہم آج اس کے ایک برانچ کا حال بتانا چاہتے ہیں. مشرقی چمپارن کے ایک گاؤں میں ایک بینک ہے جہاں ہزاروں لوگ سیڑھیاں چڑھ کر روز آتے ہیں. اس چھوٹے سے کمرے میں اس کی برانچ چل رہی ہے جس کے پاس 12000، اکاؤنٹ ہولڈر ہیں اور ملازم صرف دو ہیں. بینک کے اندر اندر بہت دنوں سے کوئی ٹوئیلیٹ نہیں تھا. اب جاکر چھت پر ٹوائلیٹ بننا شروع ہوا ہے. چوکی پر فائلیں رکھی ہوئی ہیں. یہاں پتہ چلا کہ دیہی علاقے کی وجہ سے یہاں پر انٹرنیٹ کمزور ہوتا ہے. اسپیڈ کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے فائل اپ لوڈ کرنے میں انہیں کافی دقت آتی ہے. تھوکنے کے لئے تو ساری دنیا ہے مگر بینک کے کسٹمر بینک کی دیوار کو ہی تھوکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں. یہ بینک کے تھوک کا مرکز ہے. اسی کے اوپر آگ بجھانے کا آلہ رکھا ہے.

اسی شمالی بہار دیہی بینک کا حکم تھا کہ بیمار پڑ جائیں گے تو ضلع سے باہر علاج کے لئے نہیں جا سکیں گے، اب نئے حکم میں اس کا ذکر نہیں ہے. 24 گھنٹے سے کم وقت میں حکم کی زبان بدل گئی. اگر کیبل والوں نے پرائم ٹائم کے وقت آواز غائب کر دینا، پروگرام ہی بند کر دینا، اس طرح کا کام نہ کیا ہوتا تو زیادہ لوگوں تک پہنچ کر بینکوں کے اندر اندر کی زندگی پر تیزی سے اثر ہو سکتا تھا. آپ نے دیکھا کہ کس طرح ایک مضمون لکھنے سے، صحیح سوال اٹھانے سے حکم کی زبان تبدیل کی جا سکتی  ہے. پہلے حکم میں صاف کہا گیا ہے کہ آپ اپنے علاقہ سے باہر نہیں جا سکتے، اب کے حکم میں یہ غائب ہے اور کہا گیا ہے کہ اجازت لے کر جا سکتے ہیں. اسی لیے کہتا ہوں کہ جس طرح ناظرین نے تین ماہ تک ایک فلم پر بحث دیکھی ہے اگر دو ماہ تک میرے ساتھ بینکوں پر یہ سیریز دیکھ لیں تو بینکروں کی زندگیوں میں خوشیاں لوٹ آئیں گی اور بہت سارے سرکاری جھوٹ کی پول کھل جائے گی. یوم خواتین پرخواتین بینکروں کی داستان پر مردوں نے بھی اچھی رائے کا اظہار کیا ہے. کئی لوگوں نے میسیج کیا ہے کہ ایک ایک بات صحیح ہے.

ایک خاتون نے اپنی زندگی کا حال لکھا ہے، آپ بھی پڑھیں .. ‘رويش جی، ہماری شادی کو سات سال ہو گئے، سات سال میں ہمارا تبادلہ سات جگہوں پر ہوا ہے. وہ بھی کبھی ایک ریاست میں نہیں ہوا. مختلف ریاستوں میں ہوا. میں چھتیس گڑھ میں کام کرتی ہوں تو شوہر کا تبادلہ بنگال میں ہو جاتا ہے. شادی کے سات سال ہو گئے مگر ہم دونوں ساتھ نہیں رہے. ٹرانسفر کا حکم ملنے کے آٹھ دن کے اندر اندر شفٹ ہونا پڑتا ہے. شفٹ ہونے کا خرچہ بھی ہمیں ہی اٹھانا پڑتا ہے. کئی بار ایک لاکھ تک خرچ ہو جاتا ہے. بینک دینے میں تاخیر کرتا ہے اور دیتے وقت بھی 40-50 ہزار کاٹ لیتا ہے. یوم خواتین پر آپ نے تکلیف بتائی اچھا لگا. خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. ٹارگیٹ دور کرنے کے لئے گھر خاندان سے دور رہنا پڑتا ہے. ہماری تو کوئی زندگی ہی نہیں ہے. آپ کو کتنا اور کیا کیا بتائیں. ‘

ہم کافی کچھ جان گئے ہیں. بینک کے ملازمین نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ بینک کا کام نہیں کرنا چاہتے ہیں. وہ کام تو کر ہی رہے ہیں. آج کل سی بی ایس ائ کے سوالوں کا بھی ٹھیکہ انہی کے سر پر ہے. صبح آٹھ بجے آتے اور رات کے آٹھ بجے جاتے ہیں. یہ رٹین عام ہے اور اسی طرح کام کے بعد بھی ٹارگیٹ اور ٹرانسفر کی دھمکی اور کشیدگی. میاں بیوی کو ساتھ یا نزدیک پوسٹنگ کے احکامات ہیں، حکومت کا حکم ہے مگر لاگو نہیں ہوتا ہے. عورت بینکروں کو چائلڈ کیئر رخصت آخر کس سازش کے تحت نہیں دی گئی. جبکہ مرکزی حکومت کے تمام محکموں میں ماں بننے کے بعد خواتین کو چائلڈ کیئر رخصت ملتی ہے. بینک سیریز کا یہ 11 واں ایپی سوڈ ہے. اب تک تو کم از کم بچہ کی دیکھ بھال کی رخصتی کا اعلان ہو جانا چاہئے تھا. کاش کہ ہمارے پاس اعداد و شمار ہوتے تو پتہ چلتا کہ کتنی خواتین نے ٹارگیٹ اور ٹرانسفر کے عذاب سے بچنے کے لئے پروموشن نہیں لیا ہے. یہ تو خواتین بینکروں کے ساتھ کیا جانے والا جرم ہے. ہماری سیریز کے بعد ایک خاتون نے بتایا کہ پالیسی کو بیچنے کے لئے ان سے سجنے سںورنے کے لئے کہا گیا. یقین ہے کہ یہ سب سرکاری بینکوں کے اندر اندر ہو رہا ہے. اور ہم ٹی وی پر دکھا رہے ہیں کہ ایک عورت لڑاکو طیارہ اڑا رہی ہے. اس کے لئے مبارک باد لیکن ان لاکھوں خواتین کا کیا جو بینکوں کے اندر اندر گھٹن کی زندگی جی رہی ہیں. جن کے خواب اڑان نہیں بھر پا رہے ہیں. بینک سیریز کے 9 ویں شمارے میں ہم نے یونائیٹیڈ بینک آف انڈیا کے حکم کا ذکر کیا تھا. اس میں کہا گیا تھا کہ برانچ منیجر، ڈپٹی منیجر کی سیلری روک دی جائے گی، AC اور جنریٹر ہٹا لیا جائے گا، میڈیکل بل ادا نہیں کیا جائے گا.

آل انڈیا بینک افسران ایسوسی ایشن نے اس کی سخت مذمت کی. یونائٹیڈ بینک آف انڈیا نے اپنا وہ حکم واپس لے لیا ہے. بینک کا این پی اے ہوگا تو سیلری برانچ منیجر کی بند ہو گی یا چیئرمینوں کی ہوگی. سمپل سوال ہے. کیا ایسا بھی حکم جاری ہو سکتا ہے کہ سیلری نہیں دی جائے گی. کیا بینکوں کے اندر اندر جو کام کرتے ہیں ان کے بنیادی حقوق کچھ بھی نہیں ہیں.

بینکروں کی سیلری نہیں بڑھ رہی ہے. آئی ڈي بي آئی والے تو 2012 سے انتظار کر رہے ہیں. باقی بینکروں کا کہنا ہے کہ 20 سے 24000 کی سیلری میں دہلی کیا چھوٹے شہر میں بھی رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے. اس کے لئے بینکر ابھی بولنے لگے ہیں. 21 مارچ کو جنتر منتر پر بینکروں کا ایک گروپ جمع ہونے والا ہے. ان پوسٹروں کی زبان اور تیور میں تبدیلی آنے لگا ہے. انہیں سیلری بہت کم مل رہی ہے. وہ صرف سیلری کا اضافہ نہیں چاہتے بلکہ مرکزی ملازمین کی برابری چاہتے ہیں. دونوں میں کافی فرق ہے.

کچھ بینکوں میں بینکر نے ایک بیج لگا لیا ہے کہ میں بینکر ہوں لیکن میری سیلری کم ہے. لوگ آہستہ آہستہ اپنا چہرہ پوسٹر پر ڈالنے لگے ہیں. جب چہرہ باہر آئے گا تو ایک دن سچ بھی آ جائے گا. حکومتیں اپنے ملازمین کو سوشل میڈیا پر بولنے نہیں دیتی ہیں. وزیر ہی بولتے رہتے ہیں. معاملہ ڈسپلن کا نہیں ہے، ہر ملازم اپنا دائرہ جانتا ہے، معاملہ یہ ہے کہ جھوٹ کہیں باہر نہ آ جائے.

تبادلے کی کہانی تو ایسی ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان 1400 کلومیٹر کا فاصلہ ہے. کام میں صرف سیلری ہی سب کچھ نہیں ہوتی. اس کے ساتھ کام کا ماحول بھی اہم ہوتا. ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ سارے بینک میں اس کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں. اس تکلیف کی وجہ ہے مس سیلنگ، كراس سیلنگ. دھوکے سے انشورنس بیچنا، بغیر معلومات کے انشورنس بیچنا. آج ہی ایک شریف آدمی نے لکھا کہ اس کے اکاؤنٹ سے 500 روپے کٹ گئے اور انشورنس ہو گیا. بینک گیا تو اسی سے کہا گیا کہ آپ کی درخواست دیجئے. اس طرح کے تجربے سے نہ جانے کتنے لوگ گزرے ہوں گے. حالت یہ ہو گئی ہے کہ بینکر کے ماں باپ، اور اب ان کے بچے بھی خط لکھ رہے ہیں یا ان سے لکھوایا جا رہا ہے تاکہ کچھ تو اثر ہو.

میں قریب قریب دو سال سے بزنس اخبارات میں بینک پر شائع ہونے والی ہر خبر کو ایک بار دیکھ لیتا ہوں. اس کا ہندی ترجمہ کرکے اپنے ہندی کے قارئین کے لئے آپ کے بلاگ یا فیس بک کے صفحے پر باقاعدگی سے لکھتا ہوں. سارے مضمون کی طرف سے بڑی بڑی باتوں کا پتہ چلتا ہے مگر بینک کے اندر اندر کی زندگی اتنی مشکل ہو چکی ہے اس کا پتہ نہیں چلتا ہے. ممکن ہے چھپا بھی ہو اور مجھ سے چھوٹ گیا ہو لیکن آپ بھی گوگل کرکے دیکھئے گا کہ چھپا تھا یا نہیں. اس سیریز کی وجہ سے لوگوں نے اتنی معلومات دی ہے جتنی میں نے زندگی بھر میں حاصل نہیں کر سکتا تھا.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close