آج کا کالم

کیشلیس معاشی نظام کے لئے ہم کتنے تیار ہیں؟

رویش کمار

زمین کے نمبر ایک دشمنوں میں سے ایک ہے پلاسٹک۔ اس پلاسٹک نے پوری زمین کوکباڑ میں تبدیل کر دیا ہے۔ پلاسٹک ماحول کو کھا گیا، لیکن پلاسٹک منی کا استقبال معیشت کی نئی بہوراني کے طور پر خوب کیا جا رہا ہے۔ کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ اور کئی بار نوٹ بھی پلاسٹک کے ہوتے ہیں۔ اسی کے ساتھ كیشلیس اکانمی کی بات ہونے لگی ہے۔ مطلب سارا لین دین انٹرنیٹ کے ذریعہ ہو۔ نقدی نوٹ کم سے کم ہو جائے۔ نوٹ نبدی نے ہم سب کو معیشت کے تمام پہلوؤں کے بارے میں جاننے کا موقع بھی دیا ہے۔ جاننا چاہئے کہ نوٹ کا آپشن آ جانے سے معیشت کس طرح بدل جاتی ہے۔ اس سوال کے ساتھ سوچنا شروع کیجئے تو آپ نئے معلومات کے ذخیرے تک پہنچ سکتے ہیں۔ کیا كیشلیش ہو جانے سے معیشت کی ساری بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔ بلیک منی ختم ہو جاتا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں کرنسی نوٹ ختم تو نہیں ہوا ہے مگر اس کے چلن پر زور دیا جا رہا ہے۔

 اسی سال کے مارچ مہینے میں گارجین اخبار میں Dominic Frisby نے كیشلیش منی کو لے کر سوال اٹھاتے ہوئے مضمون لکھا تھا۔ ڈامنك کا کہنا ہے کہ كیشلیش کی بات کرنا یعنی غریبوں کے خلاف بات کرنا ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں غریبوں کو نوٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح كیشلیش کی وکالت کی جا رہی ہے، اسے سنیں گے تو لگے گا کہ کیش کا استعمال کرنے والے کریمنل ہیں، کام چور ہیں یا دہشت گرد ہیں۔ اسی کے ساتھ تنقید کے ان مضامین میں اس بات پر زور ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں بینکوں کے کردار کو سمجھنا ہوگا۔ بینک کس طرح سے بدل رہے ہیں، اسے بھی دیکھنا ہوگا۔

آپ جانتے ہیں کہ 2008 کی کساد بازاری میں بہت سے بینک دیوالیہ ہو گئے۔ لہمن برادرز، میریل لنچ، اے آئی جی، رائل بینک آف اسکاٹ لینڈ۔  تمام بینکس بحران کے شکار ہوئے اور کچھ دیوالیہ بھی۔ کچھ سال بعدسائپرس میں بھی ایسا ہی بحران آیا۔ یونان میں بھی یہی ہوا۔ اسی سال 29 جنوری کو جاپان کے مرکزی بینک نے ایسا فیصلہ لیا، جس کے بارے میں ابھی تک ہم نے بڑےپیمانے پر سنا نہیں ہے۔ جاپان کے لوگوں کو بینکوں میں اپنا پیسہ رکھنے کے لئے فیس دینی پڑتی ہے۔ ہمارے یہاں کے بینکوں کی طرح سود نہیں ملتا ہے۔ ایسا اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ كمرشيل بینک زیادہ سے زیادہ پیسہ بزنس مین کو قرضے پر دے سکیں۔ اگر پیسہ الیکٹرانک کی شکل میں رہے گا تو مرکزی بینک وہ سب کچھ پل بھر میں کر سکے گا جو ابھی نہیں کر پاتا ہے۔ کساد بازاری کی بھنک ملتے ہی سود کی شرح نگیٹو ہو جائے گی۔ یعنی آپ کو ہی بینک کو پیسے دینے ہوں گے کہ وہ آپ کا پیسہ رکھ سکے۔ نقدی نظام میں یہ چھوٹ ہوتی ہے کہ جب بھی آپ کا اعتماد کم ہو جائے گا، آپ اپناسرمایہ نقد میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ كیشلیش سوسائٹی میں یہ چھوٹ نہیں ہوگی۔ بینک آف انگلینڈ کے سابق گورنر مرون کنگ نے کہا کہ بینکنگ سسٹم میں کئی خامیاں ہیں۔ انہیں دور نہیں کیا گیا ہے ہو سکتا ہے کہ ایک بار پھر بحران آ جائے۔ یعنی بینک ڈوبنے لگے۔

 بینک کا مطلب صرف اکاؤنٹ کھولنا یا پیسے جمع کرنا نہیں ہے۔ ہم سب کو بینکوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہئے۔ کس طرح بینک غریب آدمی سے دو لاکھ وصول کرنے کے لئے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ بڑے صنعت کاروں کا، کروڑ کا قرضہ نان پروفٹ ایسیٹ بن کر پڑا رہ جاتا ہے۔ انہیں الگ الگ اکاؤنٹس میں ڈالا جاتا رہتا ہے۔ اس پورے مسئلے کوجذبات نہیں حقائق سے سمجھنا چاہئے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم اور آپ الیکٹرانک طریقے سے لین دین نہیں کرتے ہیں۔ ساری آبادی نہ کرتی ہو، مگر لاکھوں کی آبادی تو کرتی ہی ہے۔

آبادی کے چھوٹے سے ہی حصے کا اس لین دین میں بھروسہ ہے۔ اس کا بھروسہ تب بھی ختم نہیں ہوا جب حال میں ہی خبر آئی کہ 32 لاکھ ڈیبٹ کارڈ کا ڈیٹا کسی اور کے پاس چلا گیا۔ پھر ہمارے ڈیبٹ کارڈ کی سیکورٹی کو لے کر کافی سوال اٹھے تھے۔ بہت سی کہانیاں سامنے آئی تھیں کہ لوگ اپنا ہی پیسہ لینے کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ دنیا کی آدھی آبادی بینک کاری نظام میں ہی نہیں ہے، کیونکہ بینک میں اکاؤنٹ کھولنے کے لئے کئی شرائط کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ ایک تشویش یہ ظاہر کی جاتی ہے کہ كیشلیش سوسائٹی میں آپ کے ہر لین دین کے اعداد و شمار بینکوں کے پاس رہیں گے۔ آپ کیا خریدتے ہیں، کیا پسند کرتے ہیں، کس کمپنی سے خریدتے ہیں۔ بینک والا اس ڈیٹا کا کسی بھی طرح استعمال کر سکتا ہے۔ تمام قانون بنے ہیں اور بنتے ہیں، اس کے بعد بھی پوری دنیا میں اس خطرہ سے بچنےکا کوئی مکمل حل نہیں ہے۔

 كیشلیش یعنی جب نوٹ کا چلن ختم ہو جائے یا کم از کم سطح پر پہنچ جائے۔ بہت سے لوگ اس کے فوائد شمار کر رہے ہیں۔ اس سے حکومت کو زیادہ ٹیکس آئے گا کیونکہ بلیک منی ہوگا نہیں. اس رقم سے عوام کی فلاح و بہبود زیادہ ہوگی۔ فی الحال لائیو منٹ ویب سائٹ نے ایک چارٹ پیش کیا ہے، جس کے مطابق جاپان میں جی ڈی پی کا 20.66 فیصد کیش ہے۔ امریکہ میں جی ڈی پی کا 7.9 فیصد کیش ہے۔ ہندوستان میں جی ڈی پی کا 10.86 فیصد کیش ہے۔ چین میں جی ڈی پی کا 9.47 فیصد کیش ہے اور یورو زون میں جی ڈی پی کا 10.63 فیصد کیش ہے۔ یہ سب 2015 کے اعداد و شمار ہیں۔ جنوبی افریقہ، سویڈن، انگلینڈ جیسے ملک میں جی ڈی پی کا دو سے چار فیصد ہی کیش ہے۔ ظاہر ہے ہندوستان میں كیشلیش کی صورت حال اب نہیں ہے۔ لیکن پورے ہندوستان کو انٹرنیٹ سے جوڑنے کے لئے ڈیجیٹل انڈیا مہم چل رہی ہے۔ جس کا مقصد ہے کہ 2016 تک ڈھائی کروڑ لوگوں کو ڈیجیٹل خواندہ کر دیا جائے گا۔ India Live Stats، 2016 کے مطابق اس وقت ہندوستان میں 46.2 کروڑ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں یعنی آبادی کا 34.9 فیصد۔ انٹرنیٹ اینڈ موبائل ایسوسی ایشن آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق دیہات میں موبائل انٹرنیٹ تک 9 فیصد کو ہی رسائی حاصل ہے۔ شہروں میں زیادہ ہے 53 فیصد۔ ہندوستان بھلے اس کے لئے تیار نہ ہو، آنے والے دس سال میں تیار ہو بھی جائے، جو بدلنا ہے وہ تو بدل کر ہی رہے گا لیکن كیشلیش ہو جانے سے کیا ہماری اقتصادی مشکلات کچھ کم ہو جائیں گی۔

فی الحال کسانوں کے لئے خبر ہے کہ ربی فصل کی بوائی کے لئے وہ 500 کے پرانے نوٹ سے ہی بیج خرید سکتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے اس کی اجازت دے دی ہے۔ یہ بیج آپ ریاست کے زرعی یونیورسٹیوں، قومی اور سرکاری بیج کارپوریشن سے، سرکاری دکانوں سے خرید سکیں گے۔ کسانوں کو سرٹیفکیٹ دینا ہوگا۔ کسان ایک ہفتے میں بینک سے 25000 روپے نکال سکیں گے۔ لیکن کوآپریٹو بینکوں سے پرانے نوٹ تبدیل کرنےیا کیش کی کمی کی وجہ سے اپنا ہی پیسہ نکالنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

 یوپی کے فتح پور سے سندیپ كیشروانی نے رپورٹ بھیجی ہے کہ نوٹ بندی کے 13 ویں دن لوگوں کی قطار میں کمی نہیں آئی۔ فتح پور کے كشن پور قصبے کے ایس بی آئی برانچ میں لوگ پیسے نکالنے کے لئے لائن میں لگے تھے، ڈیوٹی پر تعینات سپاہی نے لاٹھیاں برسا دی۔ تین لوگوں کو چوٹ بھی آئی ہے۔ ہریانہ کے گوہانا گاؤں میں گاؤں والوں نے پنجاب نیشنل بینک کے گیٹ پر تالا لگا دیا۔ کیش نہ ملنے پر وہ ناراض تھے۔ بعد میں حالات معمول پر آ گئے۔ یوپی کے بلند شہر میں غلہ تاجر جمع ہوئے اور فیصلہ کیا کہ اناج منڈی غیر معینہ مدت کے لئے بند رہے گی، کیونکہ ان کے پاس نقد لین دین کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ وہ دہاڑی مزدوروں کو ادا نہیں کر پا رہے ہیں۔

 ایم ایس سوامناتھن نے ہمارے ساتھی پللو باگلا سے کہا کہ حکومت کو جنگی سطح پر کسانوں کے بحران کے بارے میں کچھ کرنا چاہیئے۔ چھوٹے اورمتوسط درجے کے کسان نوٹ بندی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اگر دو ہفتے کے اندر اندر نقدی کے بحران کو دور نہیں کیا گیا تو ربی کی بوائی پر بہت برا اثر پڑے گا۔

ہمارے ساتھی ہمانشو شیکھر کی رپورٹ ہے کہ دہلی میں گندم کی قیمت پھر بڑھ گئی ہے۔ غذا و خوراک کی وزارت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 8 نومبر کو دہلی کے تھوک بازار میں گندم 2130 روپے کوئنٹل فروخت ہو رہا تھا۔ 20 نومبر کو یہ 2400 روپے کوئنٹل ہو گیا یعنی 12 دنوں میں 270 روپے کوئنٹل مہنگا ہو گیا۔ اس کی وجہ سے آٹے کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ پندرہ دنوں میں آٹا 22 روپے فی کلو سے بڑھ کر 28 روپے فی کلو ہو گیا ہے۔ پندرہ دن میں 6 روپے اضافہ ہوا ہے۔

نوٹ بندی کا اثر پڑوسی ملک نیپال میں بھی پڑا ہے۔ نیپال میں کام کرنے والے کئی سارے ہندوستانی نژاد لوگ اپنے پیسے کو ہندوستانی کرنسی میں تبدیل کر کے رکھتے ہیں۔ منیش کمار کی خبر ہے کہ نیپال کے لوگ کافی پریشان ہیں۔ نیپال میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جن کے پاس ہندوستانی کرنسی میں پیسہ ہے، لیکن ان کا ہندوستان کے کسی بینک میں اکاؤنٹ نہیں ہے۔ نیپال کے سرمایہ داروں کو امید ہے کہ وزیر اعظم مودی اس کا کچھ حل نکالیں گے۔ نیپال میں 500 اور 1000 روپے کے نوٹ کا چلن 2014 میں وزیر اعظم مودی کے دورے کے بعد ہی شروع ہوا تھا۔

کئی مقامات پر انکم ٹیکس محکمہ کے چھاپے پڑنے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ بہت سے لوگوں کو نوٹس بھی دیاگیا ہے۔ ایک اخبار میں یہ بھی خبر چھپی ہے کہ انکم ٹیکس محکمہ کے پاس بڑی تعداد میں ملازم نہیں ہیں اسلئے وہ کچھ بڑے معاملات کی ہی چھان بین کر سکتے ہیں، تمام معاملات کی چھان بین کرنے میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔

نہال قدوئی کی خبر ہے کہ محکمہ انکم ٹیکس نے بی جے پی لیڈر جناردن ریڈی سےخرچیلی شادی کا حساب مانگا ہے۔ 25 نومبر تک انہیں سارا ڈٹیل دینا ہوگا۔ 16 تاریخ کو ہوئی ریڈی کی بیٹی کی شادی کے شاہی اخراجات کو لے کر کافی تنقید ہوئی تھی۔ ریڈی غیر قانونی کان کنی معاملے میں ضمانت پر باہر ہیں۔

نوٹ سے خالی معاشرہ کیا گل كھلائےگا اس پر بات کرتے ہیں۔ تقریبا 70 کروڑ ڈیبٹ کارڈ ہیں۔ ان سے جو لین دین ہوتا ہے، اس کا 92 فیصد اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے میں ہوتا ہے۔ 8 نومبر کے بعد سے بڑی تعداد میں لوگ پی ایس او مشین کا آرڈر دے رہے ہیں۔ پوائنٹ آف سیل مشین۔ کل ہند سطح تک پہنچنے میں بھلے وقت لگے لیکن اس عمل میں تیزی تو آ ہی رہی ہے۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close