آج کا کالم

کیشلیس ہو جانے سے ٹیکس چوری بند نہیں ہوتی ہے!

رویش کمار

امریکہ میں 30 سے 32 لاکھ کروڑ کی سالانہ ٹیکس چوری ہوتی ہے۔ جس طرح سے ہندوستان میں انکم ٹیکس محکمہ ہے اسی طرح سے امریکہ کے انٹرنل ریونیو سروس کی ایک رپورٹ اسی سال اپریل میں شائع ہوئی ہے. اس رپورٹ کے مطابق 2008 سے 2010 کے درمیان ہر سال اوسطا 458 ارب ڈالر کی ٹیکس چوری ہوئی ہے. اگر میں نے اس کا ہندوستانی کرنسی میں صحیح حساب لگایا ہے تو امریکہ میں 30 سے 32 لاکھ کروڑ روپے سالانہ ٹیکس چوری ہو جاتی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس تناظر میں اہم ہے کیونکہ ہندوستان میں نوٹ بندی کے بعد سے كیشلیس نظام کا ایسا پرچار کیا جا رہا ہے جیسے یہ ہینگ کی گولی ہے جو معیشت کی بدہضمیوں  کو دور کر دے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں ٹیکس کی چوری ختم ہو جائے گی یا کم از کم ہو جائے گی لیکن امریکہ میں کہاں کم ہو گئی۔ کہاں بند ہو گئی ہے۔

 فرانس کی پارلیمنٹ کی رپورٹ ہے کہ ہر سال 40 سے 60 ارب یورو کی ٹیکس چوری ہوتی ہے۔ 60 ارب یورو کو ہندوستانی کرنسی میں بدلیں گے تو یہ چار لاکھ کروڑ هوتی ہے۔ وہاں کا ٹیکس محکمہ 60 ارب یورو کی ٹیکس چوری میں سے 10 سے 12 ارب یورو ہی وصول پاتاہے. یعنی 30 سے 50 ارب یورو کی ٹیکس چوری وہاں بھی ہو ہی جاتی ہے۔ برطانیہ میں ہر سال 16 ارب یورو کی ٹیكس چوری ہوتی ہے۔ ہندوستانی کرنسی میں 11 ہزار کروڑ کی چوری۔ جاپان کی نیشنل ٹیکس ایجنسی نے اس سال کی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سال 13.8 ارب "ین” کی ٹیکس چوری ہوئی ہے۔ بھارتی کرنسی میں 850 کروڑ کی ٹیکس چوری ہوتی ہے۔ 1974 کے بعد وہاں اس سال سب سے کم ٹیکس چوری ہوئی ہے۔

مان لیجئے کہ پوری آبادی الیکٹرانک طریقے سے لین دین کرتی ہے تو بھی اس بات کی ضمانت کون ماہر اقتصادیات دے رہا ہے کہ ان تمام لین دین کی نگرانی حکومتیں کر لیں گی۔ کیا یہ ان کے لئے ممکن ہو جائے گا۔ اگر ایسا ہے تو حکومت تمام بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات کر لے۔ ہمارے بینک تو الیکٹرانک ہیں نہ۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ بینکوں میں ابھی بھی لوگوں کے بہت سے نام سے اکاؤنٹ کھلے ہیں۔ بینک اپنے گاہکوں سے شناختی کارڈ مانگتا ہے تب بھی بینکوں میں اکاؤنٹ کھول کر بلیک منی رکھا ہی جاتا ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس تمام شہروں کے کچھ بڑے خریداروں یا بزنس مین کے یہاں چھاپے ڈال کر لوگوں میں الجھن پیدا کرتا ہے، حکومت سب کو پکڑ رہی ہے۔ کیا آپ یہ بات آسانی سے مان لیں گے کہ ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی کے پاس بلیک منی نہیں ہے۔ کیا تمام پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ یا ممبران اسمبلی کے یہاں چھاپے کی خبر آپ نے سنی ہے۔

 دنیا میں آپ کہیں بھی ٹیکس چوروں کا فیصد دیکھیں گے کہ زیادہ تر بڑی کمپنیاں ٹیکس چوری کرتی ہیں۔ آپ انہیں چور کہیں گے تو وہ آپ کے سامنے کئی طرح کے تكنيكی ناموں والے بہی كھاتے رکھ دیں گی۔ لیکن کوئی کسان دو لاکھ کا لون نہ چکا پائے تو اس کے لئے ایسے ناموں والے بہی كھاتے نہیں ہوتے۔ اسے یا تو چور بننے کے خوف سے نہر میں کود کر جان دینی پڑتی ہے یا زمین گروی رکھنی پڑتی ہے۔ کیا ان کے لئے آپ نے سنا ہے کہ کوئی ٹربیونل ہے۔ 2015 میں Independent Commission for the Reform of International Corporate Taxation (ICRIT) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بین الاقوامی کارپوریٹ ٹیکس نظام بیکار ہو چکا ہے۔

 اب بتائیے، جس طرح ہم ہونا چاہتے ہیں، اسے ہی بیکار اور فضول کہا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ سرچ کے دوران برطانیہ کے اخبار گارجین میں اس رپورٹ کا ذکر ملا ہے۔ اتنے حقائق ہیں اور رپورٹ ہیں کہ آپ کو ہر معلومات کو شک کے ساتھ دیکھنا چاہئے۔ اس رپورٹ کا کہنا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں جس مقدار میں ٹیکس چوری کرتی ہیں اس کا بوجھ آخر میں عام ٹیکس دہندگان پر پڑتا ہے۔ کیونکہ حکومتیں ان کا تو کچھ بگاڑ نہیں سکتی ہیں۔ ایک دو چھاپے مار کر اپنے قصیدے پڑھتی رہتی ہیں۔ ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ٹیکس لوٹ کی وجہ سے حکومتیں غربت دور کرنے یا عوامی فلاحی بہبود کے پروگراموں پر خرچ کم کر دیتی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پوری دنیا میں ٹیکس نظام ایسا ہے کہ ایک ملک کا امیر دوسرے ملک میں اپنا پیسہ لے جاکر رکھ دے گا۔ اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے۔ اسی سال انڈین ایکسپریس نے پناما پیپرس پر کئی ہفتوں کی رپورٹ شائع کی کہ کس طرح یہاں کے بڑے بڑے لوگ فرضی کمپنی اور اسٹاک کے ذریعہ بیرون ملک میں اپنا پیسہ رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت جانچ واچ کا اعلان کرتی ہے مگر اس رفتار سے کام کرتی ہے کہ آخری نتیجہ آتے آتے آپ سب کچھ بھول چکے ہوں گے۔ نوٹ بندی کے سلسلے میں سبھی نعرہ بازی کر رہے ہیں۔ کالا دھن ختم جائے گا۔ ٹیکس چوری بند ہو جائے گی. کیا ہندوستان میں نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ٹیکس چوری بند ہو جائے گی؟ اس یقین کی بنیاد کیا ہے؟ کیا امریکہ میں 30 لاکھ کروڑ روپے کی ٹیکس چوری غریب اور عام آدمی کرتا ہے۔ وہاں بھی بڑی کمپنیاں ٹیکس چوری کرتی ہیں۔ جان بوجھ کر کرتی ہیں تاکہ ٹیکس عدالتوں میں طویل معاملہ چلے اور پھر عدالت کے باہر کچھ لےدے کر سلجھا لیا جائے.

 امریکہ میں 70 فیصد لوگوں کے پاس ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ ہیں۔ آخر امریکہ جیسے انتہائی ترقی یافتہ ملک میں 30 فیصد لوگوں کے پاس کارڈ کیوں نہیں ہے۔ ظاہر ہے وہ غریب ہوں گے۔ ان کے پاس بینک میں رکھنے کے لئے رقم نہیں ہوگی. بینکس بھی سب کا اکاؤنٹ نہیں کھولتے ہیں۔ غریب لوگوں کو امریکہ کیا ہندوستان میں بھی کمپنیاں کریڈٹ کارڈ نہیں دیتی ہیں۔ امریکہ میں بھی دہاڑی مزدور ہوتے ہیں جو نقد میں کماتے ہیں۔ وہاں کیوں نہیں اسے پوری طرح ختم کر دیا گیا جو ہندوستان میں کچھ لوگ اسے قوم پرستی میں لپیٹ کر دھمکی بھرے لہجے میں بتا رہے ہیں کہ یہ اقتصادی تکلیفوں سے نجات کا بہترین راستہ ہے۔ گارجین اخبار میں كیشلیس معیشت پر اقتصادی صحافی Dominic Frisby کا ایک تنقیدی مضمون پڑھا۔ اس میں انہوں نے کہا ہے کہ كیشلیس کا نعرہ دراصل غریبوں کے خلاف جنگ کا نعرہ ہے۔ غریبی کے خلاف نہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ جس طرح سے اس کی وکالت کی جا رہی ہے، ان نعروں کو سنیں گے تو لگے گا کہ نقد پیسوں کا استعمال والے لوگ مجرم ہیں۔ دہشت گرد ہیں۔ ٹیکس چور ہیں۔

نوٹ بندی نے ہمیں اپنی اقتصادی سمجھ میں توسیع کرنے کا سنہری موقع دیاہے۔ ہمیں نعروں کو علم نہیں سمجھنا چاہئے۔ کسی بات کو حتمی طور پر قبول کرنے کی جگہ، تمام طرح کی معلومات کو اکٹھاکریئے۔ طرح طرح کے سوال پوچھيئے۔ فیصلہ درست ہے یا نہیں ہے، اس کے چکر میں کیوں پڑے ہیں۔ فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس کے اچھے برے اثر کو جاننا چاہیئے اور اس کے بہانے اپنی سمجھ میں توسیع کرنی چاہئے. ہم سب جانتے ہیں کہ سیاسی ریلیوں میں لوگ کس طرح لائے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے اب لیڈر انہیں ہزار پانچ سو کا چیک دے کر تو نہیں لائیں گے۔ لیڈر ہی کہتے ہیں کہ ان کی ریلی میں پیسے دے کر لوگ لائے گئے تھے۔ اب ایسی ریلی میں اگر کوئی کالا دھن کے ختم ہونے کا اعلان کرے تو پیسے لے کر آئی بھیڑ تالی تو بجا دے گی لیکن جس اصلیت کو وہ جانتی ہے، اس سے آنکھیں کس طرح چرا سکتی ہے۔ ایک کام ہو سکتا ہے کہ جس ریلی میں کالا دھن کے ختم ہونے کا اعلان ہو، اس میں کہا جائے کہ یہاں آئی عوام کو پیسے دے کر نہیں لایا گیا ہے۔ اس ریلی کے انعقاد میں اتنا پیسہ خرچ ہوا ہے، کرسی سے لے کر مائیک کے لئے اتنا اتنا کرایہ دینا پڑا ہے، ان ان لوگوں نے ریلی کے لئے چندہ دیا ہے۔

 بہتر ہے کہ نوٹ بندی کے کئے جا رہے دعووں کو چھوڑ ہم سوالات پر غور کریں۔ ہر جواب ہماری اقتصادی سمجھداری میں اضافہ کرے گا۔ ہم صحافی بھی اتنے قابل نہیں ہے کہ معیشت کے ان باریک سوالوں کو دعوے کے ساتھ رکھ سکیں۔ میں نے کوئی حتمی بات نہیں کی ہے۔ آپ بھی حتمی بات جاننے کی لالچ چھوڑ دیں، نئی باتیں جاننے کی بیچینيوں کو وسعت دیں۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close