کیلنڈر کی بھی اپنی تاریخ ہے!

سدھیر جین

سال کے آخری دن اس سال کا کیلنڈر دیواروں سے اتر جائے گا اور 2018 کا کیلنڈر نظر آئے گا. یہ کیلنڈر ہی ہمیں اپنا تاریخی سلسلہ محفوظ رکھنے میں مدد کرتا ہے، لیکن اس کیلنڈر کی بھی اپنی تاریخ ہے. خاص طور پر وقت کے ناپ تول کی تاریخ. دو ہزار سال کی طویل تاریخ میں کیلنڈر میں بہت سی ترمیمات کرنی پڑیں. یہ ترمیمات اس لئے کرنی پڑیں، کیونکہ بہت دھیرے دھیرے ہم یہ جان پائے کہ ہماری زمین سورج کا ایک چکر ٹھیک ٹھیک کتنے وقت میں لگاتی ہے. ویسے ایک سال کا حساب بنانے کے لئے چاند بھی کام آیا. یہ دیکھ کر کہ زمین کا ایک چکر چاند کتنے وقت میں لگاتا ہے. حالانکہ اس سے ہمیں ایک ماہ کا پیمانہ بنانے میں آسانی ہوئی. بہرحال انہی بنیادوں پر دنیا کے تمام ممالک کے اپنے اپنے کیلنڈر بنے. دنیا میں اس وقت سینکڑوں کیلنڈر موجود ہیں، جن میں ہمارے اپنے یعنی بھارتی پنچانگ بھی ہیں. لیکن فی الحال موقع انگریزی کیلنڈر کے حساب سے سال تبدیل کرنے کا ہے. سو جگہ کے لحاظ سے اس پر نظر ڈالنا موزوں ہے اور ویسے بھی روزمرہ کے استعمال کے لحاظ سے دنیا کے  زیادہ  تر سیاسی معاملات میں یہی کیلنڈر چلن میں ہے.

یہی کیلنڈر کیوں چلن میں ہے؟

کیلنڈر کو افادیت کے لحاظ سے دیکھیں تو موسم بدلنے کے وقت ناپجوكھ کیلنڈر سے ہی ہو پاتے ہیں. اس میں کوئی شک نہیں کہ کیلنڈر کی مکمل تاریخ موسموں کے سائیکل کی سمجھ ہی سے منسلک ہے. ظاہر ہے جس کیلنڈر میں سال کے ایک سائیکل کا سب سے زیادہ خالص اندازہ ہو سکتا ہے، وہی سب سے زیادہ درست ہو سکتا ہے. اس لحاظ سے دیکھیں تو یہ انگریزی کیلنڈر میں اتنی بار نظر ثانی کی گئی کہ آج ہمارے لئے زیادہ قابل اعتماد اور آسان اسی کیلنڈر کو سمجھا جا رہا ہے. اگرچہ ہم انگریزی سلطنت کی وجہ سے اس کیلنڈر کو گردش کی ایک وجہ کہتے ہوں، لیکن بات یہیں ختم کر دینا ٹھیک نہیں. اس کیلنڈر کے پاس اپنا 5500 سال کی تاریخ ہے. اس کی جڑیں رومن تہذیب کے آغاز سے ہیں اور اس کے کم سے کم دو ہزار سال کی تاریخ لکھت-پڑھت میں ہے. اس سے بھی بڑی بات یہ کہ اس كلیڈر میں بار بار ترامیم کے ذریعے اس کی کوتاہیوں اور خامیوں کو دور کرنے کے قواعد کی بھی قابل اعتماد تاریخ ہے.

گرگیرين کیلنڈر

آخری بار اس کیلنڈر کو پوپ گرگري 13 ویں نے ٹھیک کیا تھا. یہ بات 5 اکتوبر 1582 کی ہے. اس دن تک جو کیلنڈر چل رہا تھا اسے جولین کیلنڈر کہتے ہیں، جسے قبل مسیح 46 میں جولیس سیزر نے ٹھیک کیا تھا. اس کے پہلے تک جو کیلنڈر چلتا تھا وہ ویسا رومن کیلنڈر تھا جس میں سال کے صرف 304 دن ہی ہوتے تھے. ان کیلنڈر میں ماہ بھی 10 ہی تھے. آج سال کے بارہویں مہینے کو جسے ہم دسبر کہتے چلے آرہے ہیں، وہ کبھی 10 واں مہینہ تھا. رومن تعداد میں وہ ڈیکا تھا. اکتوبر ان کا آٹھواں مہینہ تھا، جو رومن تعداد آكٹا سے بنا تھا. اسی طرح سیپٹا سے ساتواں یعنی ستبمر تھا. آج یہ ماہ دو ماہ دور ہو گئے. یہ تبدیلی سال میں دو نئے ماہ جڑنے سے آئی. یہ دو ماہ تھے جولیس سیزر کے نام پر جولائی اور آگسٹس کے نام پر اگست. یہ وہ ثبوت ہیں کہ کس طرح کیلنڈر میں ترمیم سے ماہ کے نام بھی گڑبڑا گءے. بہرحال، قبل مسیح 46 میں پہلی بار یہ مانا گیا کہ زمین 365 دن اور چھ گھنٹے میں سورج کا ایک چکر لگاتی ہے. 365 دن تک تو ٹھیک تھا، لیکن یہ چھ گھنٹے کی بات بالکل درست نہیں پائی تھی. اس میں 11 منٹ کا فرق پایا گیا. ویسے یہ خامی دیکھ پانا کوئی مشکل کام نہیں رہا ہوگا. مشکل اس فرق کو ایک سال کے کیلنڈر بنانے میں دور کرنے کی رہی ہوگی. ہر چار سال میں ایک دن بڑھانے یعنی فروری کو ایک دن بڑا کرکے چھ گھنٹے سالانہ ترمیم تو نپٹ گیی، لیکن 11 منٹ کے فرق کو کیلنڈر میں نپٹانا مشکل رہا ہوگا. اسے کوئی ڈیڑھ ہزار سال کے دوران تمام سائنسدانوں کے ریسرچ کے بعد 1582 میں کافی حد تک درست کیا جا سکا.

فلکیات ایک قدیم ساینس

کیلنڈر فلکیات کا معاملہ ہے. کہتے ہیں کہ سائنس نے فطرت کے راز جاننے کے لئے ابتدائی دور میں جو تین چار شاخیں بنیں، اس میں فلکیات بھی تھی. خاص طور پر ریاضی کی ترقی فلکیاتی تشخیص کے کام کی وجہ سے ہی سمجھا جاتا ہے. مؤرخ یہ حقیقت بھی نکال کر لائے ہیں کہ زمین کے مختلف پلاٹ کے انسان نے سائنس کی ترقی میں مختلف عرصے میں آزادانہ طور پر کردار نبھايا. چونکہ کائنات کی ہلچل اور سیارے اور تاروں کی رفتار دیکھنے کے لئے ان کے سامنے یکساں مواقع تھے، سو ان کے نتیجہ میں ایک جیسے ہونے میں حیرت کی کیا بات ہے. اس طرح دنیا کے تقریبا تمام کیلنڈروں کے پاس اس کے خالص ہونے کے دلائل ہیں. لیکن برتنے کے لحاظ سے گرگیرين کیلنڈر کو آسان سمجھا گیا.

کن کن کو یاد کریں

جب یہ مان ہی لیا گیا ہے کہ علم کی شاخوں یعنی علوم میں فلکیات ایک قدیم سائنس ہے، تو اس علاقے میں قدیم سائنسدانوں کی تعداد بے شمار ہی ہوگی. ویسے یہ سائنسداں عام طور پر سنت، بابا اور مونی ہی رہے. جس طرح ہمارے لئے آپ ٓاري بھٹ اور وراه مهر اور 10 ویں صدی کے آچاریہ مہاویر ہیں، اسی طرح زمین کے دوسرے پلاٹ پر بھی سنت ہوئے. سال بدلنے کے موقع پر ان سنتوں اور سائنسدانوں کو بھی یاد کرتے چلنا چاہئے. خاص طور پر ان سائنسدانوں کو، جنہوں نے 1582 کے پہلے جولین کیلنڈر میں ترمیم کی تجویز پیش کیں.

سینٹ بیڈ اور سائنٹسٹ بیکن کی خدمات

سائنسی رجحان کے دھرماچاريہ سینٹ بیڈ پہلے ایسے سنت تھے، جنہوں نے گرگري کیلنڈر کے بڑے خادم کے طور پر سب سے پہلے ایک سال کا ٹھیک ٹھیک وقت کی مدت نکال کر بتائی اور پورے اعتماد کے ساتھ بتائی. انہوں نے ہی آٹھویں صدی میں اپنی ریسرچ سے یہ نتیجہ دیا کہ ایک سال میں 365 دن چھ گھنٹے نہیں، بلکہ 365 دن پانچ گھنٹے 48 منٹ اور کچھ سیکنڈ ہوتے ہیں. بیڑ کے پانچ سو سال بعد سائنٹسٹ راجر بیکن نے ایک سال کی مدت کو اور بھی زیادہ صحیح کرکے بتایا. یعنی سن 1582 میں جب کیلنڈر کی ترمیم کا تاریخی کام ہوا، اس میں بیڈ اور بیکن کی خدمات کو یاد کیا گیا. بہرحال 1582 میں پوپ گرگري کے نظر ثانی شدہ کیلنڈر میں 10 دن نکال دیے گئے تھے. اس سال کو 10 دن چھوٹا کر دیا گیا تھا. 5 اکتوبر کے بعد اگلی تاریخ 15 اکتوبر رکھ دی گئی تھی. اس سال کے کیلنڈر میں یہ 10 دن غائب ہیں. یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ نیا گرگري کیلنڈر تمام ممالک نے فورا ہی استعمال کرنا شروع نہیں کیا. خود انگریزی سلطنت میں ہی یہ 1752 میں چلن میں آیا. یعنی 170 سال بعد چلن میں آیا. اس تاخیر کے پیچھے مذہبی تنازعات بتائے جاتے ہیں. بہرحال سن 1752 کے ستمبر مہینے کی دوسری تاریخ سے لے کر 13 ستمبر تک کی تاریخیں نکالی گئی تھیں.

آج بھی بالکل قابل عمل نہیں ہے انگریزی کیلنڈر

گرگري کلینڈر میں ترمیم کے وقت تقریبا 11 منٹ سالانہ ترمیم تو ہو گیی، لیکن 26 سیکنڈ کا فرق پھر بھی رہ گیا. ہر سال 26 سیکنڈ کے اس فرق کی وجہ سے آج کا گرگري کیلنڈر ان چار سو 35 سال میں تین گھنٹے کی خامی دکھا رہا ہے. حساب یہ ہے کہ سن 4909 میں اس کیلنڈر میں پورے ایک دن کا فرق یا خامی ہو جائے گی. اب یہ 26 سیکنڈ سالانہ کی خامی دور کرنے کے لئے کس طرح کی ترمیم ہو سکتی ہے؟ یعنی دن، ہفتوں، مہینوں کا کس طرح حساب کریں؟ یہ کسی سائنٹسداں یا سنت کو سوجھ نہیں رہا ہے. اندازہ ہے کہ اس کام پر وہ ضرور لگے ہوں گے. نہ بھی لگے ہوں تو کوئی بڑی آفت نہیں ہے، کیونکہ اس وقت موجودہ گرگیرين کیلنڈر سے ہمارا کام بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے چل رہا ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ سدھیر جین

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ایف ڈی آئی کے نئے اعلانات کا مطلب؟

ویسے تو موجودہ حکومت کے  پاس ابھی ڈیڑھ سال کا وقت باقی ہے، لیکن اگلے ماہ وہ اپنا آخری مکمل بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے. کہتے ہیں کہ کسی حکومت کا آخری بجٹ لبھانے والے اعلانات پر مبنی ہوتا ہے. انہی اعلانوں کو وہ اگلے انتخابات میں دہراتی ہے، لیکن اس بار کے بجٹ میں حکومت کے سامنے سب سے بڑی دقت پیش  آنے کا اندیشہ یہ ہے کہ ان کاموں کو کرنے کے لئے بجٹ میں رقم کا انتظام وہ کس طرح دکھائے گی. دراصل اب تک سب کرکے دیکھ لیا، لیکن سرکاری خزانے کی حالت ابتر ہے. غیر ملکی سرمایہ کاری اور پرائویٹائزیشن  کے علاوہ متبادل ہو ہی کیا سکتا ہے. وہ تو سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ہی تھے، جو ایک بار کہہ گئے کہ پیسے درختوں پر نہیں اوگتے اور وہیں وہ یہ بات بھی درج کرا گئے کہ کفایت برتئیے. لیکن ان کی وہ بات پسند نہیں کی گئی تھی. ایک ماہر اقتصادیات کی بات کی مخالفت کی گئی تھی اور یہاں تک کہ خود ان کے مخالف ماہرین اقتصادیات نے ان کا مذاق تک اڑایا تھا. بہرحال، آج کے مشکل حالات میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے علاوہ کوئی طریقہ  کوئی نہیں سجھا پا رہا ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے