آج کا کالم

کیوں نہ فیس جم کر بڑھا دی جائے؟

جاننا بیداری نہیں ہے. لوگ استعمال کے لئے جانتے ہیں. اس لئے ان کی معلومات سیاسی شعور میں نہیں بدلتی ہے اور کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے. ٹائمز آف انڈیا میں ہمالي چھاپيا کی رپورٹ پڑھتے پڑھتے میں نیچے آئے ڈیڑھ سو سے زیادہ تبصرہ دیکھنے لگا. رپورٹ مینجمنٹ کی تعلیمی فیس مہنگی ہونے کو لے کر تھی. اکا دکا تبصرہ کو چھوڑ یہی لگا کہ آج کے نوجوانوں کو سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ فیس اضافہ کو سیاسی طور پر کس طرح تعبیر کیا جاتا ہے. یہ سب سے بہتر وقت ہے کہ حکومت یا ادارے اگلے دس سال کی فیس کا اضافہ اسی سال کر لیں. چوبیس لاکھ کی جگہ اڑتالیس لاکھ کردیں. اسے معلوم بھی نہیں ہوگا کہ کیا غلط ہوا ہے. کیا مہنگی ہوتی تعلیم کی سیاسی مخالفت کرنا صرف حاشیے کے بائیں جماعتوں کی ذمہ داری ہے؟ باقی ٹیم جو بھر بھر پیٹ ووٹ پاتے ہیں وہ ایسا تعلیمی نظام بنا کر بھی قابل قبول ہوتے جا رہے ہیں.

نوجوان طالب علموں کو سمجھنا ہوگا کہ انہیں اک چکر میں پھنسایا جا رہا ہے. ڈیڈ اور مام یا بینک لون حل نہیں ہے. سرکاری تعلیم اکیلے ضرورت پوری نہیں کر سکتی مگر یہ کہاں لکھا ہے کہ اب سرکاری ادارے کھلیں گے ہی نہیں. اگر کوئی حکومت پیشہ ورانہ انداز میں عالمی معیار کے ادارے بنا کر چلا نہیں سکتی تو نوجوان کس امید میں ان حکومتوں کا انتخاب کرتے ہیں کہ وہ ملکی حکومت کو عالمی معیار کا بنا دیں گے. کیا عالمی سطح کے ادارے صرف پرائیویٹ سیکٹر بنا سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو آئین اور حکومت کی شکل بھی بدل کر ان کا بھی پرائیویٹائیزیشن کر دیا جائے. یہ حکومتیں بھی اب نجیکاری کرنے والی ایجنسی بن کر رہ گئی ہیں. پوری دنیا میں چہرے کے تئیں سیاسی سمجھ پیدا کی جا رہی ہے اور پالیسیوں کی بحث ترقی مخالف سمجھی جانے لگی ہے.

جنوبی امریکہ کا ملک ہے چلی. یہاں نجی تعلیم کے خلاف طالب علم دس سال سے تحریک چلا رہے ہیں. وہاں دو دہائی میں ایک بھی سرکاری کالج نہیں کھلے ہیں. پرائیویٹ کالج کھل رہے ہیں. فیس اتنی مہنگی ہے کہ طالب علم قرض لینے پر مجبور ہیں. طالب علموں کی حالت مراٹھ واڑا کے کسان جیسی ہو گئی ہے. جس لیڈر کو بار بار منتخب کر رہے ہیں اسی کے خلاف تحریک بھی چلا  رہے ہیں. کبھی وہ بس پاس مفت کر دیتا ہے تو کبھی داخلہ فارم مفت کر دیتا ہے. طالب علم اسی کو ووٹ دے آتے ہیں. جب نیند ٹوٹتی ہے تو تحریک چھیڑنے لگتے ہیں.

قرض میں ڈوبے طالب علموں کی حالت جب دیکھی نہیں گئی تو ایک فنکار پاپاس پھریتاس نے طالب علموں کے قرض کی دستاویز چرا کر جلا ڈالی. پھریتاس نے عوامی اعلان بھی کر دیا ہے اور اب اسے جیل کی طویل سزا ہو گئی ہے یا ہونے والی ہے. اس نے کہا ہے کہ غریب طالب علم مجرم بننے کے خوف سے آزاد ہو جائیں. مطلب قرض نہ ادا کرنے پر بینکوں کی طرف سے جیل بھیجے جانے کے خوف سے آزاد ہو جائیں. چلی میں زوردار مظاہرہ ہو رہے ہیں لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے. جب نجیکاری ہو رہی تھی تب سب سو رہے تھے.

امریکہ میں بھی طالب علموں کے قرض کا مسئلہ برنی سینڈرس کو عوامی مقبولیت کا حامل بنا گیا مگر وہاں کا میڈیا سینڈرس کی باتوں کی مخالفت کرنے لگا. لہذا طالب علم سینڈرس کے پیچھے آکر بھی اکیلے پڑ گئے. امریکہ میں قرض معافی کی درخواستوں کا سیلاب آ گیا ہے. وہاں امریکہ انتظامیہ اربوں روپے کے قرض معاف کرتا ہے لیکن اس سال بیس ہزار طالب علموں کے قرض معاف نہیں ہوئے. تعلیم ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے. نوجوان قرض میں ڈوبے ہیں. حال میں وہاں ایک سروے آیا ہے کہ اب بیس سال کی عمر میں نوجوان اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی رہ رہا ہے کیونکہ اسے نوکری نہیں مل رہی ہے اور جسے مل رہی ہے وہ اتنا کافی نہیں ہے کہ اکیلے رہ سکیں.

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام اداروں کی فیس میں دس سے تیس فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے. چوبیس لاکھ فیس دے کر پڑھنے کے لئے یا قرض لے گا یا وہ بہت امیر ہو گا. اس سے پہلے کی تعلیم بھی اس نے قرض لے کر ہی کی ہوگی. انجینئرنگ یا کسی دوسرے سبجیکٹ کی. تو جناب ہندوستان کے پینسٹھ فیصد بغیر کام کے نوجوان جی آپ لوگ کام کے لئے پچاس پچاس لاکھ لون لینے کے لئے تیار ہیں؟ تیار تو ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟

ہندی سے ترجمہ: مضامین ڈیسک

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close