آج کا کالم

گائے: مودی، گاندھی اور گولوالکر

ڈاکٹر سلیم خان

گئو ماتا کے رکشک فی الحال  مانوتا کے بھکشک بنے ہوئے ہیں ۔ عوام اس درندگی کے خلاف احتجاج کی خاطر سڑکوں پر اترنے کے لیے مجبور ہوگئے ہیں ۔ اس کا ایک اثر تو یہ ہوا کہ گینڈے کی کھال والے پردھان سیوک کے کان پر جوں رینگی اور اس نے گاندھی جی کے سابرمتی آشرم جاکر اس تشدد پرچند سوالات کئے ۔  انہوں نے پوچھا کیا گائے کے نام پر ہمیں کسی انسان کو مارنے کا حق مل جاتا ہے؟ کیا یہ گئو بھکتی ہے؟ کیا یہ گئورکشا ہے؟ ہم کیسے آپے سے باہر ہو رہے ہیں ؟ گائے کے نام پر انسان کو ماردیں گے؟ سچ تو یہ ہے کہ ان سوالات کا جواب ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے  مگرحیرت ہے کہ مودی جی نہیں جانتے؟ اور ان کو یہ بھی نہیں پتہ کہ وزیر اعظم  کا کام سوالات کرنا نہیں بلکہ جواب دینا ہے۔ قوم سوال کررہی ہے کہ اس دہشت گردی کو روکنے کے لیے ان کی سرکار کیا کررہی ہے اور کیا کرے گی ؟ اس بنیادی  سوال کا جواب انہوں نے نہیں دیا مگر ظلم و سفاکی کا مظاہرہ کرنے والےجانتے ہیں کہ یہ حکومت یاتو کوئی اقدام کرے گی ہی نہیں اور اگر دکھاوے کیلئے کچھ کرتی بھی ہے تو آگے چل کرعدالتی داؤں پیچ کی مدد سے مجرموں کو  چھوڑ دیاجائیگا ورنہ ان واقعات میں اس تیزی کے ساتھ اضافہ کی کوئی اور وجہ  نہیں ہے ۔

گئو بھکتوں پر تنقید کا ناٹک کرنے کے لیے وزیراعظم نے گاندھی جی کے سابرمتی آشرم کی صد سالہ برسی کے موقع کا انتخاب کیا اور کہا کہ گائے کے نام ہونے والا تشدد گاندھی جی اور ونوبا بھاوے کا راستہ نہیں ہوسکتا۔ مودی جی نے یہ تو بتا دیا کہ  تشددگاندھی جی کاآدرش نہیں ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ آخر گاندھی جی کاموقف کیاہے؟ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں ایک تو یہ کہ خود انہیں بھی پتہ نہ ہو اس لیے کہ جس آرایس ایس کی گود میں  ان کی پرورش ہوئی ہے وہاں تو گاندھی جی مغضوب ہوا کرتے تھے۔ وہ  توسیاسی ابن الوقتی ہے جس نےگاندھی کو  مودی کا محبوب بنا دیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ گائے کے متعلق گاندھی جی کے خیالات سے عوام کو روشناس کرانا مودی جی کے سیاسی مفاد میں نہ ہو۔  خیر وجہ جو بھی ہو چونکہ مودی جی خود گائے کو سابرمتی آشرم لے گئے اس لیے وہاں سے گئو رکشا کے متعلق  گاندھی جی  کے افکار و نظریات کو برآمد کرنا لازمی ہے۔

گاندھی جی کی تقریروں اور تحریروں پر مشتمل سرکاری انسائیکلوپیڈیا کی 88 ویں جلد میں 25 جولائی  1947 کو ان کا بیان کردہ ایک  خطبہ درج ہے ۔ اس میں گاندھی جی نے اعتراف کیا  کہ مستقبل کے صدر راجندر پرشاد کو گئوکشی پر پابندی لگانے کے لیے ہزاروں درخواستیں موصول ہوئیں مگر ان کا واضح جواب  نہیں دیا گیا۔ اس تبصرے کے بعد گاندھی جی نے صاف انداز میں فرمایا ”اس ہندوستان میں گئو کشی پر پابندی لگانے والا کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا ۔ اس میں شک نہیں کہ ہندووں کے لیے گائے ذبح کرنا ممنوع ہے۔ میں عرصۂ دراز سے گائے کی خدمت کا عہد کئے ہوئے ہوں لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میرا مذہب دوسرے ہندوستانیوں کا بھی دین ہو۔ یہ تو ان ہندوستانیوں پر جبر ہوگا جو ہندو نہیں ہیں”۔ حیرت کی بات یہ ہے  کہ خود گاندھی جی کی جنم بھومی گجرات میں بی جے پی سرکار نے گئوکشی پر عمر قید کی سزا تجویز کردی  ہے اور اسی صوبے کا  رہنے والاوزیراعظم گاندھی جی کی تعلیمات کو پامال کرنے کے بعد ان کی بھکتی کا ڈھونگ رچاتا  ہے ۔

گاندھی جی کے شاگرد خاص مدن موہن مالویہ نے  اپنے گرو کی تائید میں کہا تھا کہ ” ہم علی الاعلان یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ کسی کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کی جائیگی۔ ہم اپنی مذہبی تقاریر میں قرآنی آیات پڑھتے ہیں لیکن کیا مجھے کوئی ایسی آیت پڑھنے پر مجبور کرسکتا ہے جو میں پڑھنا نہیں چاہتا؟ میں کس طرح کسی کو گائے ذبح کرنے سے  بالجبرروک سکتا ہوں جب تک کہ وہ خود اس کو ترک نہ کردے؟ ایسا نہیں ہے کہ ہندوستان میں صرف ہندو رہتے ہیں۔ یہاں پر مسلمان،  پارسی، عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی رہتے ہیں۔ یہ خیال غلط ہے کہ ہندوستان اب ہندووں کی سرزمین بن گیا ہے۔ ہندوستان ان تمام لوگوں کا ملک ہے جو یہاں رہتے بستے ہیں”۔ اس واضح  موقف کے باوجود ہندوتووادیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی سعی کریں لیکن ایسا کرتے ہوئے انہیں کم ازکم گاندھی جی کی آڑ میں  چھپنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح کی منافقت کا مظاہرہ بزدل اور فریبی لوگ کرتےہیں ۔مودی جی اور ان کے بھکتوں کو چاہیے کہ وہ یا تو گاندھی جی تعلیمات کو پڑھیں اور اس پر عمل کریں یا کم ازکم ان کے نام کا استحصال نہ کریں۔

 گاندھی جی رضاکارانہ تبدیلی کے قائل تھے اور زور زبردستی کی مخالفت کرتے تھے۔ 1921کے اندر انہوں نے نہایت واضح الفاظ میں ‘ہندو ہوشیار رہیں’ کے عنوان پر ایک مضمون میں  لکھا تھا ”تشدد کی مدد سے گئورکشا ہندو مت کو شیطانیت میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔ گائے کے تحفظ کی اہمیت دینا ہندو دھرم کی  بنیاد کو اکھاڑ پھینکنا ہے‘۔ گاندھی جی نے مذکورہ تحریر میں یہ بھی لکھا’ جیسا کہ ایک مسلمان دوست نے لکھا ہے کہ بڑے کا گوشت جس کی اسلام میں صرف اجازت ہےمسلمانوں پر فرض ہوجائیگی اگر ہندو اس پر پابندی لگاتے ہیں ”۔  1928 میں گاندھی جی نے ایک  بیماربچھڑے کوجسے ڈاکٹر نے جواب دے دیا تھا  اپنے آشرم میں ذبح کروایا  اور اسے تکلیف سے نجات دلانے کو دھرم قرار دیا۔  مودی جی کو چاہیے کہ وہ گاندھی جی کے نام  پرعوام کو گمراہ کرنے کے بجائے ان تعلیمات کو جانیں اور اس پر عمل کریں ۔

مودی دراصل  گاندھی کی نہیں بلکہ سنگھ پریوار کے نقش ِ قدم پرگامزن ہیں ۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ ایوان پارلیمان پر پہلا حملہ گائے کے تحفظ کو لے کر ہوا تھا جب جن سنگھ کی قیادت میں نومبر 1966 کو سادھو سنتوں نے ترشول اور بھالوں کے ساتھ ہلہّ بول دیا تھا ۔ سنگھ پریوار دراصل گاندھی کا نہیں بلکہ ان کے قاتل گوڈسے کا دلدادہ ہے۔ لیکن اس معاملے میں سابق  ہندو ہردئےسمراٹ  اور ناتھورام گوڈسے کے روحانی پیشوا ویروکرم  ساورکر کے خیالات بھی سنگھ پریوار سے مختلف ہیں۔ ساورکر کی کتاب وگیان نشٹا نبندھ میں انہوں ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ” گائے کو پالو،  نہ  کہ پوجو”۔ ساورکر گائے کو مقدس نہیں سمجھتے تھے اور اس کی افادیت کی بابت بھی مشکوک تھے۔ ان کے خیال میں کتوں اور گھوڑوں نے انسانیت کی زیادہ خدمت کی ہے بلکہ انہوں نے آگے بڑھ کر یہ بھی کہہ دیا کہ اگر ہندو گائے کی عبادت نہ کرتے تو مسلمان انہیں شکست نہیں دے پاتے اس لیے کہ جب ہندو فوج حملہ کرتی تو مسلمان گائے کو ڈھال بنالیتے تھے۔

ساورکر کے خیال میں  گائے کی پرستش اس کے بہترین استعمال میں رکاوٹ ہے۔ وہ لکھتے ہیں  کہ گائے کی عبادت انسانیت کو اس کے مقام  بلندسے گرادیتی ہے۔ خدا سے بڑا ہے اور اس کے بعد انسان ہے جانور اس کے نیچے ہیں۔ گائے  عقل سے عاری نہایت احمق مویشی ہے۔ وہ اپنے ہی فضلہ میں بیٹھ جاتی ہے اور اسے دم سے اپنی پیٹھ پر پھیلا دیتی ہے ۔ ساورکر سوال کرتے ہیں  صفائی و طہارت کے بنیادی تصور سے نابلد جانور مقدس کیسے ہو سکتا ہے۔ گائے کو مقدس سمجھنے والے امبیڈکر جیسوں کے سائے سے بھی دور بھاگتے ہیں کیا یہ انسانیت کی توہین نہیں ہے؟ ساورکر کے خیال میں گائے، براہمن اور مندر کو بچانے کی حماقت نے ملک کو تباہ کیا ہے۔ اتفاق سے بی جے پی انہیں بنیادوں پر اقتدار کی راہ ہموار کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار اگر کوئی مسلمان یا اشتراکی دانشور کرتا تو نہ جانے کیا ہو جاتا لیکن سنگھ پریوار کے لوگ ایک جانب وکرم ساورکر کی تصویر ایوان پارلیمان میں لگا کر اس کو پھول مالا پہناتے ہیں اور دوسری جانب اس کے خیالات سے سرمو انحراف کرتے ہیں ۔

گئو کشی کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کی حقیقت کو جاننے کے لیے گاندھی یا ساورکر کے افکار نہیں بلکہ آریس ایس کے دوسرے سنگھ چالک گرو گولوالکر کے  نظریات  سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ مودی جی اپنے اصلی گرو کا نام اس لیے نہیں لیتے کہ اس میں سیاسی فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ امول ڈیری قائم کرکے سفید انقلاب لانے والے  ورگھیز کورین کے سامنے گولوالکر نے اعتراف کیا تھا کہ گئوکشی تحریک  کا مذہب سے کوئی سروکارنہیں ہے بلکہ یہ خالص سیاسی مسئلہ ہے۔ وہ اس کی بنیاد پر ہندووں کو متحد کرکے اپنی سیاسی دوکان چمکانا چاہتے ہیں اور یہی سچائی ہے۔  گئو کشی سے متعلق 60 کی دہائی میں چلائی جانے والی تحریک کے بعد اندراگاندھی نے جو کمیشن قائم کیا تھا اس میں پوری کے شنکرآچاریہ کے ساتھ گولوالکر بھی شامل تھے۔ اس کمیشن کی سماعت کے دوران ایک صاحب یہ کہنے پر ہنگامہ ہوگیا کہ اگر ہم گائے  نہیں کھاتے تو گائے ہمیں کھا جائیگی۔ اس وقت یہ بات ناقابلِ فہم تھی کہ گھاس کھانے والی  گائے انسانوں کو کیسے کھا سکتی ہے؟ لیکن گائے کے نام پر ہونے والی حالیہ درندگی نے اس اندیشے کو سچ ثابت کردیا ہے۔

 اس کمیشن میں خلیات پر تحقیق کرنے والے قومی مرکز کے سربراہ سے پشپا بھارگو  سے گولوالکر نے سوال کیا کہ جسم کے اندر گوشت اور دودھ کیسے بنتا ہے؟ بھارگو نے کہا اس کے بننے کا عمل بالکل یکساں ہے۔ اس پر گولوالکر بولے تب پھر آپ گوشت کھانے کر بجائے دودھ کیوں نہیں پیتے ۔ اس پر  بھارگو نے پلٹ کر سوال کیا کہ اسی منطق کے مطابق یہ بتائیں کہ آپ دودھ تو پیتے ہیں (مگراسی عمل سے بننے والا) گوشت کیوں نہیں کھاتے؟ یہ سن کر گولوالکر آپے سے باہر ہوگئے اور بڑی مشکل سے شنکر آچاریہ نے انہیں سمجھایا۔  گولوالکر تو بھینس کے ذبیحہ کی بھی مخالفت کرتے تھے جبکہ ان کے چیلوں کی  حکومت نے ہندوستان کو دنیا میں سب سے زیادہ بھینسوں کا گوشت درآمد کرنے والا ملک بنادیا ہے۔ یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟ بھارگو کے مطابق قدیم ہندو صحیفوں میں گئو کشی کے ممنوع ہونے کاسرے سے  کوئی تذکرہ ہی نہیں ہے اس لیے اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گولوالکر گائے کی مدد سے ہندو سماج کو متحد کرنا چاہتے تھے لیکن اونا میں جب دلتوں پر حملہ کرنے والوں میں سے دو براہمن ، ایک شتری اور ایک اوبی سی تھا اس طرح گائے نے دلتوں اور ہندووں کی دیگر ذاتوں کے درمیان ایسی دراڑ ڈال دی جس کو دلت صدر بھی پاٹ نہیں سکتا۔

گئو کشی پر بی جے پی کا پاکھنڈ اس طرح بے نقاب ہوگیا کہ جب سابرمتی آشرم میں وزیر اعظم نریندر مودی فرما رہے تھے کہ گئو بھکتی  کے  نام پر انسانوں کا قتل قبول نہیں ۔ گائے کے نام پر تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے نیز مہاتما گاندھی آج زندہ  ہوتے تو اس کے خلاف ہوتے۔  اس وقت  گجرات کے کچھ ضلع میں 65  گائیں اور بچھڑے سسک سسک کر دم توڑ رہے تھے ۔ راپر تعلقہ  سے جب یہ خبر آئی تو یہ کہہ کر اس کی پردہ پوشی کی گئی کہ ان مویشیوں کی موت سیلاب کے سبب ہوئی  لیکن پوسٹ مارٹم نے ثابت کردیا کہ بھاری بارش و سیلاب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اس کی وجہ ’سايناڈ‘ نامی زہر ہے۔ سوال یہ ہے کہ گائے کے ذبیحہ پر عمر قید کی سزا دینے والی گئو بھکت سرکار یہ پتہ کیوں نہیں لگاتی کہ یہ قتل عام کس نے کیا؟ یہ سانحہ بابائے قوم گاندھی  کے اس  خیال  کی تائید کرتا ہےکہ  گائےمسلمانوں کی بہ نسبت ہندووں کے تشدد کا زیادہ شکار ہوتی ہے۔ مسلمان گائے کوذبح کرتے ہیں مگر جو ہندو گائے کو آسٹریلیا جیسے ممالک میں برآمد کردیتے ہیں جہاں  انہیں ذبح کردیا جاتا ہے برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جو لوگ گئو کشی کے خلاف ہیں وہ گائے کے نر بچے کوبے رحمی سے مار دیتے ہیں اور گائے کو روزآنہ دودھ دینے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ گئوشالاوں کے بارے میں ینگ انڈیا میں گاندھی جی 1927 میں لکھا  کہ ”یہاں گائے کو پناہ دینے کے بجائے اسے گائے کی قتل گاہ بنا دیا گیا ہے۔ اس میں قتل کا طریقہ بھوکا ماردینا ہے” ۔

گاندھی جی خوابوں کے مطابق ملک کی تعمیر کا خواب دکھا کر ووٹ حاصل  کرنے والے مودی جی اگر اس بابت سنجیدہ ہوں تو جان لیں کہ  28 جولائی 1947  کو شائع ہونے والے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق گاندھی نے ایک تقریر میں کہا تھا انہیں گئو کشی پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرنے والے کئی فون موصول ہوئے، لیکن یہ ناممکن ہے۔ اس لیے کہ گائےکا تحفظ صرف  ہندووں سے منسلک ہے۔ ہندوستان صرف ہندووں کی سرزمین نہیں ہے بلکہ مسلمانوں، پارسیوں، سکھوں، عیسائیوں، یہودیوں اور ان تمام لوگوں کا ملک ہے جوہندوستان کے دعویدار ہیں ۔ ۰۰۰۰۰۰جس طرح شریعت کو غیر مسلمین پر نہیں نافذ کیا جاسکتا اسی طرح ہندو قانون کو بھی غیر ہندووں پر نہیں تھوپا جاسکتا ہے”۔  وزیر اعظم کو چاہیے کہ گاندھی جی کا نام لیں تو ان تعلیمات پر عملدرآمد کریں یا سابرمتی کے بجائے ناگپور میں سنگھ کے دفتر سے اپنے من کی بات نشر فرمائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close